Bismillah

640

۳تا۹شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۰تا۲۶اپریل۲۰۱۸ء

پُرنور ، اِیمان افروز اِجتماع (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 637 - Mudassir Jamal Taunsavi - pur noor iman afroz ijtema

پُرنور ، اِیمان افروز اِجتماع

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 637)

(جامعۃ الصابرؒ کے سالانہ اجتماع و ختم بخاری کی روئیدار)

جامعۃ الصابرؒ کا سالانہ اجتماع بعنوان ختم بخاری شریف و تقریب دستاربندی، جمعہ کی مبارک و روشن شب بتاریخ ۲۲مارچ جامع مسجد سبحان اللہ میں منعقد ہوا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایک دینی تقریب میں جو روحانیت،دینی تربیت، دینی شوق اور ایمانی کیفیات محسوس ہونی چاہئیں وہ سب اس پُرنور اجتماع میں محسوس کی گئیں اور اہل دل ، اہل علم، اہل جہاد، اہل عزیمت کے وجود کی برکات پورے اجتماع کو اپنے فیض کے رنگ میں رنگتی رہیں۔

ایک طرف مسجد سبحان اللہ میں تقریب کے لیے خوبصورت اسٹیج تیار کیا گیا تھا، جس کے پس منظر میں ایک خوبصورت پینا فلیکس آویزاں تھاجس پر حرم مکی اور حرم نبوی کی خوبصورت تصاویر کے ساتھ جامع مسجد سبحان اللہ کی تصویر بھی موجود تھی جو تمام شرکاء کو ان کے دینی مراکز کی یاد دلا رہی تھیں، پینا فلیکس کی پیشانی پر وہ مشہور حدیث شریف درج تھی جس میں احادیث نبویہ سننے، یاد رکھنے اور اُنہیں آگے پہنچانے کی ترغیب دی گئی ہے، اور ساتھ ہی اوپر ایک جانب جامعہ کے بانی و سابق مہتمم محترم اباجی الحاج اللہ بخش صابررحمہ اللہ تعالیٰ کا نام نامی اور دوسری جانب جامعہ میں جاری نسبتوں کے روحِ رواں امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعودازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کا نام نامی جگمگا رہا تھا جو تمام شرکاء کو ان تمام دینی نسبتوں کی یاد دِلا رہا تھا جن سے یہ شخصیات سے وابستہ ہیں۔ اور ان نسبتوں کا خلاصہ ہے: دین کی خاطر انتھک محنت اور بے لوث قربانی۔

اس کے علاوہ جامع مسجد سبحان اللہ کے صحن میں بنے ہوئے تین اطراف کے دروازے اور ان پر موجود گنبد کے ساتھ بھی خوبصورت پینافلیکس سجائے گئے تھے جن میں سے بعض میں شرکاء اجتماع کے لیے دینی ترغیبات درج تھیں اور بعض پر فضلائے جامعہ کے لیے تبریکی کلمات درج تھے۔

اسٹیج اور جامع مسجد سبحان اللہ کے در و دیوار کی خوبصورتی اور سجاوٹ و بناوٹ کے کام میں جامعہ کے اساتذہ میں سے مولانا محمد عبد الرحمن خان صاحب، مولانا محمد ضیاء اللہ آصف صاحب، مفتی عبیدالرحمن صاحب، مولانا عابدالرحمن صاحب اور المرابطون کے منتظم مولانا جمال الدین صاحب اور ان کے معاون جامعہ کے طلبہ کرام کی کاوشیں یقینا قابل داد تھیں اور ہر دیکھنے والا ان کی کاوشوں کو سراہ رہا تھا۔

دوسری جانب اجتماع کے مہمان شرکاء کے لیے کھانے کا مکمل اور باعزت انتظام سنبھالنے میں جامعہ کے اساتذہ کرام مولانا محمد رفیق صاحب، مولانا مفتی رفیق احمد صاحب ، مفتی محمد اکرم صاحب اوران کے معاون طلبہ کرام نے کوئی کسرنہ چھوڑی اور ہر ممکن کوشش کی کہ مہمان حضرات کواس بارے میں کسی قسم کی تکلیف اور شکایت کا موقع نہ ملے اور الحمد للہ کہ ان حضرات کی کاوشوں سے یہ مرحلہ بھی بخیر و خوبی مکمل ہوا اور مہمان حضرات کو کسی قسم کی بدمزگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

اجتماع کے لیے آنے والے معزز مہمانوں اور خصوصاً علمائے کرام کے استقبال کے لیے باقاعدہ ایک استقبالیہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں جامعہ کے اساتذہ میں سے مولانا حسین احمد مدنی صاحب اور مولانا حضور احمد صاحب اوران کے ساتھ چند معاون طلبہ شامل تھے، اور ان حضرات نے اپنی اس خدمت کو بخوبی نبھایا اور علمائے کرام کے لیے اسٹیج کے پاس جو کرسیاں رکھی گئیں وہاں تک انہیں پہنچاتے اور اعزاز و اکرام کے ساتھ بٹھاتے رہے۔

الحمد للہ کہ اجتماع میں بہاولپور شہر کے کافی علمائے کرام نے تشریف لاکر تشکر کا موقع فراہم کیا۔ ان علمائے کرام میں خصوصاً جامعہ صدیقیہ کے مہتمم حضرت مولانا قاری محمد یاسین صدیقی صاحب،نہڑ والی سے پیر مولانا حبیب اللہ شاہ صاحب، جامعہ مدنیہ کے استاذ و مفتی مولانا مفتی محمد یوسف صاحب،جامعہ مدنیہ ہی کے استاد مولانا قاری امین صاحب،جامعہ امدادیہ کے استاد مفتی انعام الرحمن صاحب، مولاناحافظ محمد یوسف صاحب شاہدرہ، مولانا محمد بلال صاحب شیخ الحدیث جامعہ عباسیہ اور دیگر بھی متعدد علمائے کرام شامل ہیں۔

اجتماع کی تقریب بعد از مغرب سے شروع ہوئی۔ مغرب کے بعد نقابت کا منصب جامعہ کے استاذ مولانا آصف ظہور صاحب نے سنبھالا، تقریب کا آغاز قرآن کریم کی تلاوت سے ہوا، جامعہ کے متعدد طلبہ کرام نے تلاوت فرمائی، تلاوت کے بعد مولانا محمد رمضان صاحب اور بعض دیگر حضرات نے نعت و نظم کے کلام سے سامعین کی سماعتوں کو لطف اندوز کیا۔ایک طالب علم نے ولولہ انگیز تقریر بھی پیش کی جس سے سامعین نے طلبہ کی تقریری صلاحیتوں کی عمدگی کا اندازہ لگایا۔ اس طرح یہ ابتدائی مرحلہ عشاء کی نماز تک مکمل ہوگیا۔

عشاء کی نماز کے بعد اجتماع کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ اس مرحلے میں اسٹیج پر نقابت کی ذمہ داری المرابطون کے ناظم اعلیٰ مولانا قطب الدین صاحب نے سنبھالی اور مولانا آصف ظہور صاحب اُن کے معاون کے طور پر ان کے ساتھ موجود رہے۔ اسٹیج اور اس کے آس پاس موجود علمائے کرام کے اعزاز و اکرام اور خدمت کے لیے جامعہ کے استاذ مولانا ہارون اقبال صاحب اوران کے معاون طلبہ تھے اور اس طرح معزز علمائے کرام کی دل و جان اورپوری تندہی سے خدمت سرانجام دی جاتی رہی۔

دوسری نشست کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ تلاوت کے بعد جامعہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا قاری محمد صادق صاحب نے درس قرآن کے عنوان سے سورۃ و الشمس کا ترجمہ و تفسیر بیان فرمایا اور اس میں یہ واضح فرمایا کہ اس سورت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان تزکیہ نفس کر لے تو کامیابی ملے گی اور اگر تزکیہ نفس نہ کیابلکہ اپنے نفس کوگناہوں کی دلدل میں دھنسا دیا تو پھر ہلاکت اور بربادی میں وہ خود ہی گرجاتا ہے، اور یہ ایسی حقیقت ہے سورۃ والشمس میں اس بات کو پکا کرنے کے لیے اس سے پہلے کئی قسمیں کھائی گئی ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی بات بغیر قسم کے بھی پکی ہی ہوتی ہے مگر ہم انسانوں پر شفقت اور ہمارے مزاج کی رعایت رکھتے ہوئے کہ لوگ قسمیہ بات کو ضرور قبول کرلیتے ہیں تو شاید میرے بندے بھی میری یہ بات قبول کرلیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے نفوس کا تزکیہ کرنے کی کوشش کریں اور علم دین اور اعمال صالحہ کا اہتمام کریں تاکہ نفس پاک ہو اور کامیابی کی راہ آسان ہو۔

درس قرآن کے بعد نعت و نظم کے کلام سے سامعین کے دلوں کو گرمایا اور ولولوں کو جگایا گیا۔ نعت و نظم پیش کرنے میں مولانا محمد رمضان صاحب اور مولوی ضیاء اللہ سابق طالب علم جامعہ ہذا شریک رہے۔

اس کے بعد اس اجتماع کے مہمان خصوصی شیخ الحدیث و شیخ التفسیر حضرت مولانا منظور احمد نعمانی صاحب مدیر مدرسہ احیاء العلوم ظاہر پیررحیم یار خان کو بخاری شریف کے آخری درس کے لیے مسند حدیث پر بلایاگیا۔ طلبہ دورہ حدیث ان کے سامنے قطار میں بیٹھے اور حضرت نعمانی صاحب کا پُراثر، نورانی اور ایمان افروز علمی و ذوقی درس حدیث ہوا۔ جامعہ کے طالب علم مولوی محمد شعیب نے بخاری شریف کی پہلی حدیث اور مولوی محمد رضی اللہ سیالکوٹی نے بخاری شریف کی آخری حدیث کی قراء ت کی ۔ حضرت نعمانی صاحب نے بخاری شریف کا درس دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ حدیث شریف کی یہ مجلس بہت ہی مبارک مجلس ہے، ہماری نسبت اور ہمارا علمی نسب حضرت آقا مدنی ﷺ تک پہنچتا ہے اور ہم انہی کے شاگرد کہلاسکتے ہیں جب کہ انگریزی تعلیم و نصاب پڑھنے والے اگر غور کریں تو انہیں اندازہ ہوگا کہ وہ اس نسبت سے محروم ہیں کہ ان کا علمی نسب اور علمی نسبت ’’لارڈ میکالے‘‘ جیسے انگریزیوں سے جاملتا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس بات کا مقصد یہ نہیں کہ ضرورت کے لیے بھی انگریزی تعلیم حاصل نہ کی جائے بلکہ مقصد یہ ہے کہ دونوں تعلیمات اور نصابات کے فرق کو سمجھا جائے اور پھر اسی فرق کے مطابق ہر نصاب اور تعلیم کو اہمیت دی جائے کیونکہ آج کل اکثر لوگ برعکس کررہے ہیں جس تعلیم کی اہمیت زیادہ ہے اسے پس پشت ڈال رہے ہیں اور جو فقط ضرورت کی چیزہے اسے اپنا مقصود بنارہے ہیں۔

دوران درس آپ نے اپنی نظم ’’کیف القاری فی درس البخاری‘‘ کے چند ایمان افروز اشعار بھی سنائے۔ چند ایک آپ بھی ملاحظہ کیجیے:

آؤ یارو مل کے سب اُس یار کی باتیں کریں

مکی، مدنی، احمدِ مختار کی باتیں کریں

رات دن جاری زباں پہ ہو حدیثِ مصطفی

میٹھی میٹھی ، سچی سچی، پیار کی باتیں کریں

مصطفی کے نور سے دل ہو منور تاابد

اس پیارے نور سے اَنوار کی باتیں کریں

آپ کے اَقوال، احوال وصفات جملہ ہم

حسنِ صورت، سیرت و کردار کی باتیں کریں

عشق کا جرعہ پیا ہے تو نے اے منظور اب

تا ابد اب تا ابد، دلدار کی باتیں کریں

الغرض علمی نکات اور وجد انگیز اشعار کے ساتھ پُرکیف انداز میں یہ درس بخاری شریف ہوا اور سب سامعین بخوبی ان معارف سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ یاد رہے کہ حضرت نعمانی حفظہ اللہ ، حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے ہیں اوران کے علوم ومعارف کے امین بھی ہیں۔

درس بخاری شریف کے بعد مولانا قطب الدین صاحب نے جماعت کے تمام شعبہ جات کا اجمالی اور شعبۂ مدارس کا تفصیلی تعارف پیش کیا، جس سے پتہ چلا کہ اس وقت جماعت کے زیر انتظام دو درجن کے قریب دینی مدارس قرآن وسنت کی تعلیم کی نشر و اشاعت اور ترویج میں مصروف عمل ہیں۔

شعبہ مدارس کے تعارف کے بعد اس اجتماع میں ’’مجلس ذکر‘‘ قائم ہوئی۔ اس مجلس ذکر میں: حضرت امیر المجاہدین مولانا محمد مسعودازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کی ایک مجلس ذکر کی ریکارڈنگ کی آڈیوچلائی گئی اور یوں اس اجتماع کی پوری مجلس بھی اُس مجلس ذکر کا حصہ بن گئی اور کم و بیش دس منٹ تک پورے اجتماع پر ’’اللہ ھو‘‘ کے ذکر و فکر کا نور برستا رہا۔ الحمد للہ۔

مجلس ذکر کے بعد اس اجتماع کے دوسرے مہمان خصوصی معروف جہادی رہنما حضرت مولانا مفتی عبد الرؤف اصغرصاحب حفظہ اللہ تعالیٰ بیان کے لیے تشریف لائے اور انہوں نے قرآن کریم کی عظمت اور دینی مدارس کی اہمیت وضرورت پر بے لاگ انداز میں ولولہ انگیز خطاب فرمایاجس سے وہ بہت سے پروپیگنڈے ہوا ہوتے چلے گئے جو دینی مدارس کے خلاف بلند کیے جاتے ہیں، وہ بہت سے شکوک وشبہاب بھی خاک ہوگئے جو دینی مدارس کے خلاف پھیلائے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں جہاں حاملین قرآن کی عظمت بیان کی وہیں اُن لوگوں کو بھی آئینہ دکھلایا جو مسلمانوں کے ٹھیکیدار بنتے ہیں مگر قرآن کریم کی ایک چھوٹی سورت مبارکہ بھی پڑھنے اور سنانے سے قاصر ہوتے ہیں۔ انہوںنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہمیں قرآن کریم کی نسبت عطاء فرمائی اور اسی نسبت کے لیے ہمیں جمع کیا، ہم یہاں نہ تو کسی سیاسی ایجنڈے کے تحت جمع ہوئے ہیں، نہ کسی کو حکومت گرانے یا بچانے کے لیے جمع ہوئے ہیں، نہ یہاں کوئی اور دنیاوی نام و نمود کا مقصد ہے بلکہ فقط قرآن کریم اور سنت نبویہ کا علم حاصل کرنے والے طلبہ کے اعزاز و تکریم کے لیے جمع ہوئے ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ ان طلبہ علم کے اعزاز و تکریم کے لیے تو فرشتوں کو بھی پابند کیاجاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ علم بہت اونچی اور عظمت والی نسبت ہے اس علم کو لے کر دنیا داروں اور ظالم حکمرانوں کے سامنے گردن مت جھکاؤ ورنہ یہ اس علم کی ناقدری ہوگی ، بلکہ اپنے آپ کو ہمیشہ سربلند رکھو، دنیا مدارس دینیہ کو ختم کرنا چاہتی ہے مگر وہ ناکام و نامراد ہوگی بس شرط یہ ہے کہ ہم مدارس والے اپنی نسبت سے جڑے رہیں اور اس نسبت کو کبھی بھی حقیر مت سمجھیں۔

حضرت مفتی صاحب کے ایمان افروز بیان کے بعد جامعہ کے طالب علم محمد معوذ نے پروفیسر انور جمیل صاحب کی لکھی ہوئی الوداعی نظم پڑھی اور اس کے بعد جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا طلحہ السیف صاحب نے آخری نصیحت افروز کلمات ارشاد فرمائے ۔ ان کی نصیحت کا خلاصہ یہ تھا کہ ہماری نسبت صفہ اور اصحاب صفہ سے اور ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے کردار میں ان کی نسبت کی جھلک ہے یا نہیں؟ اصحاب صفہ حصول علم کے علاوہ اوقات میں تیر اندازی بھی کیا کرتے تھے، گھڑ سواری کا مقابلہ بھی ہوتا تھا، نیزہ بازی کی مشقیں بھی کی جاتی تھیں، تو کیا ہم نے ان کی ان نسبتوں کی لاج رکھی ہے؟ ہمیں سوچنا چاہئے کہ اگر آج کا طالب علم ان چیزوں کے بجائے کبھی کرکٹ کے مقابلوں میں تو کبھی فٹ بال کے مقابلوں وغیرہ میں مقابلہ بازی کررہا ہے تو کیا وہ اصحاب صفہ کی نسبت سنبھال رہا ہے یاغیروں کے دامن میں گر رہا ہے؟ اس لیے ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے جامعۃ الصابر سے علم حاصل کرنے والے طالب علم علم بھی وہی لیں جو اصحاب صفہ نے لیا اور عمل و کردار بھی وہی اپنائیں جو اصحاب صفہ کا تھا، اور یہی ایک دینی مدرسے کا حقیقی اور اصلی کردار ہے۔ آج گرد وغبار ہے جس نے کئی مدارس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اوروہ ان نسبتوں سے دور بھاگ رہے ہیں اور دوسری نسبتوں کے ٹائٹل سجا کر دنیا کی نظروں میں مقبول ہونے کی کوشش کررہے ہیں مگر یہ بادل چھٹ جائیں گے اور دینی مدارس کا حقیقی کردار روشن ہوکر رہے گا اور اس میں صف اول میں جگہ پانے والوں میںا ن شاء اللہ جامعۃ الصابر کے طلبہ و فضلا کا نام ضرور نظر آئے گا۔

مولانا طلحہ السیف صاحب کے چشم کشا بیان کے بعد دستار بندی و رومال پوشی کا سلسلہ شروع ہوا۔ سب سے پہلے حفظ قرآن کریم کی تکمیل کرنے والے طلبہ کی رومال پوشی کی گئی اور انہیں ایک ایک قرآن کریم ہدیہ دیا گیا۔ دوسرے نمبر پر درجہ تجوید کے فضلاء کی رومال پوشی گئی، بعد ازاں دراسات دینیہ کے طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا، اسی طرح سال بھر اسباق میں مکمل حاضری دینے والے صاحب ترتیب طلبہ کو بھی نقد انعام سے نوازا گیا اور آخرمیں دورہ حدیث سے فراغت پانے والے طلبہ کرام کی دستاربندی کی گئی اور اس دستاربندی میں ان کے تمام اساتذہ حدیث شیخ الحدیث مولانا قاری محمد صادق صاحب، شیخ الحدیث مولانا سید محمد عبدالرحمن شاہ صاحب، مولانا مفتی محفوظ احمد صاحب، جامعہ کے مہتمم مولانا طلحہ السیف صاحب، مولانا حسین احمد مدنی صاحب، مولانا محمدرفیق صاحب، مولانا محمد اسماعیل صاحب، مولانا حضور احمد صاحب اور راقم السطور شامل رہے۔ جبکہ دیگر طلبہ کو انعامات دینے اوران کی رومال پوشی کرنے میں معروف جہادی رہنما مولانا مفتی عبد الرؤف اصغرصاحب، شعبہ ہدایت کے ناظم مولانا نظام الدین صاحب، مجلس شوریٰ کے اراکین میں سے مولانا مجاہد عباس صاحب، مولانا ابوجندل شفیق صاحب، اور مولانا مفتی عبیدالرحمن صاحب شامل تھے۔

جامع مسجد سبحان اللہ کے وسیع و عریض صحن میں منعقدیہ پُرنور اجتماع جمعہ کی رات تقریباً ایک بجے مفتی محفوظ احمد صاحب کی دعاء کے ساتھ اختتام پذیرہوا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس اجتماع کوقبول فرمائے اور اس کے تمام شرکاء کو، تمام منتظمین کو، تمام خیرخواہوں کواور تمام معاونین کو مغفرت اور رحمت نصیب فرمائے۔ جامعۃ الصابر کا یہ گلشن ہمیشہ آباد وشاد رہے اور جامع مسجد سبحان اللہ میں علمی، دینی اور جہادی رونقیں ہمیشہ روشن رہیں۔آمین برحمتک یا ارحم الراحمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online