Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

فضلائے مدارس کے نام (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 638 - Mudassir Jamal Taunsavi - Fuzla-e-Madaris k naam

فضلائے مدارس کے نام

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 638)

اِن دنوں دینی مدارس کے تعلیمی سال کے اختتامی دن چل رہے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند اوراس کے اردگردموجود مدارس میں پڑھائے جانے والے درس نظامی کا آغاز عموماً ماہ رمضان کے بعد شوال کے مہینے میں ہوتا ہے اور اختتام رجب کے اور شعبان میں ہوتا ہے۔ چنانچہ اس سال بھی سالانہ امتحانات کے کچھ دن رجب سے ہیں اور باقی چند دن شعبان سے ہیں۔

ہمارے مدارس میں عالم دین کا نصاب پڑھنے والوں کا آخری تعلیمی سال ’’دورہ حدیث شریف‘‘ کہلاتا ہے۔ اس کے ساتھ اس دینی تعلیم کا ایک بنیادی اور اساسی مرحلہ پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔

چنانچہ معمول کے مطابق اس سال بھی بلامبالغہ سینکڑوں طلبہ کرام ’’درس نظامی‘‘ کے عالم و فاضل نصاب کی تکمیل کرنے والوں میں شامل ہیں، اور اب ان کی زندگی میں ایک نیا موڑ آنے والا ہے۔ اب تک وہ طالب علم تھے، اب انہیں معاشرہ اوران کے متعلقین ایک عالم دین کی نظر سے دیکھیں گے،اب تک ان پر کوئی ذمہ داری نہیں تھی مگر اب انہیں قدم قدم پر کئی ذمہ داریوں کا سامنے کرنا پڑے گا، بلکہ بہت سے وہ معاملات جنہیں پہلے وہ سرسری سمجھ کر نظر انداز کردیتے تھے، اب جب انہی معاملات کو دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ وہ بھی ایک بڑی اور بھاری ذمہ داری کا بوجھ ہیں۔

میرے عزیز طالب علم بھائیو

پہلی بات تو یہ ذہن نشین رہے کہ درس نظامی کے بعد بے شک ’’عالم‘‘ کا لقب آپ کے ساتھ جڑ جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس درس نظامی کی تکمیل کا مطلب فقط یہ ہے کہ اب آپ کے ہاتھ میں وہ چابی دیدی گئی ہے جس سے آپ علمی خزانوں پر پڑے تالے کھول کر علم کے گھر میں داخل ہوسکتے ہیں۔ گویا درس نظامی نے آپ کے کو عالم نہیں بنایا بلکہ علم والے گھر میں داخل ہونے کا پروانہ تھمایا ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ اب علم کی تہہ تک اُترنے کی کوشش کرنے کا وقت شروع ہواہے۔

اب اس علم کے دو بنیادی تقاضے ہیں:

ایک تو یہ اس علمی اساس کو مضبوط بنانے اور اپنا علم پکا کرنے کے لیے علمی کتابوں میں براہ راست غوطہ زنی شروع کرو ، مثال سے بات سمجھو کہ اب تک تم نے مثلاً علم تفسیر میں صرف جلالین شریف اور بیضاوی شریف کا کچھ حصہ پڑھا ہوگا مگر اب ضرورت ہوگی کہ تفسیر کی بنیادی کتب کی طرف براہ راست رجوع کرو، اپنی علمی استعداد کو کام میں لاؤ اور اس علم کی بنیادی کتابوں پر تفصیلی نظر ڈالو اور اس علم کو اپنے اندر رچا بسا لو۔ اب ایسا نہ ہو کہ وہی تفسیر جلالین اور بیضاوی کو بھی کبھی ہاتھ نہ لگاؤ بلکہ اب تو ان کے علاوہ تفسیر طبری، تفسیر ماتریدی، تفسیرابن کثیر، تفسیر قرطبی وغیرہ وغیرہ تک رسائی کا سامان پیدا کرو اور اسی طرح دوسرے تمام اہم علوم کے ساتھ اپنے ربط و تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کا پلان بناؤ اور اس پر صبر واستقامت سے قائم رہو۔

دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ اب تک آپ نے دین کا جو اساسی اور بنیادی علم حاصل کیا ہے۔ اسے اپنے عمل میں زندہ کرو۔ اب تک آپ کا علم بھی اور عمل بھی مدرسہ کی چار دیواری تک محدود تھا۔ وہاں آپ کے ارد گرد افرد تھے بھی تھوڑے اور جتنے تھے وہ اکثر آپ کے ہی ہم نوا اور ہم مزاج تھے۔ مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔

بلکہ درس نظامی کی تکمیل کے بعد جب آپ نئی زندگی میں قدم رکھیں گے تو آپ گویا کہ ایک باغ سے نکل کر ایک وسیع و عریض اور خوفناک جنگل میں داخل ہوچکے ہوں گے۔ جہاں آپ خود کو ایسے ماحول میں پائیں گے جس میں صبح و شام اتنے افراد سے آپ کو واسطہ پڑے گا کہ شاید مدرسہ کی زندگی میں پورے سال اتنے افراد سے واسطہ نہیں پڑا ہوگا اور پھر جتنے لوگوں سے آپ کو واسطہ پڑے گا وہ اکثر و بیشتر نہ صرف تمہارے ہم مزاج و ہم نوا نہیں ہوں گے بلکہ وہ آپس میں بھی کثیر اختلافات رکھتے ہوں گے۔ یقینا اس صورت حال میں تم پر ذہنی دباؤ بڑھ سکتا ہے مگر تمہیں اس صورت حال میں گھبرانا بالکل نہیں اور نہ ہی کم ہمتی یا احساس کمتری میں مبتلا ہونا ہے۔ بلکہ اپنے علم کی روشنی میں اپنا کردار سنوارنا ہے، تاکہ آپ خود اپنے ضمیر کی ملامت کا شکار نہ ہوں اور دوسری جانب اپنے علم کی روشنی میں اور اپنے اخلاق کے ذریعے سب سے اس طرح پیش آنا ہے کہ ایک مسلمان کی شان جس میں جھلکتی ہو:

’’مسلمان تو وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘

اگر تمہیں کسی عالم سے واسطہ پڑے تو تم اس سے استفادہ کرنے والے بنو

اگر تمہیں کوئی جاہل ملے تو اسے نرمی اور سمجھداری سے علم کی بات سمجھانے والے بنو

اگر تمہیں کوئی اپنے برابر کا ملے تو اس سے مذاکرہ کرنے والے بنو

اگر تمہیں کوئی ہم مزاج و ہم نوا ملے تو اس سے اپنے معاملات میں مشاورت کرنے والے اور اسے اپنا رفیق بنانے والے بنو

اگر تمہیں کوئی مخالف ملے تو اس سے دشمنی اور عداوت کے ساتھ ملنے کے بجائے عفو وصفح کرنے والے بنو

اگر کوئی تم سے سیکھنے آئے تو اسے خیر خواہی سے سکھاؤ

اگر کوئی تم سے بحث کرنے پر آئے تو اس کے ساتھ تم بھی اُلجھنے والے مت بنو

الغرض کہ اپنی آنکھیں کھول کر زندگی گزارنے والے بنو

آنکھیں بند رکھ کر ہر اچھی بری اور ہر چھوٹی بڑی بات کے پیچھے لگنے والے مت بنو…لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیںکہ حسن ظن کو اپنی زندگی سے باہر نکال پھینکو، بلکہ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ حسن ظن کا معاملہ اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھو…البتہ جہاں معاملہ مشکوک ہوتو بھی ان سے بدگمانی نہ رکھوبس اتنا کرو کہ اس معاملے سے عملی طور پر خود کو دور رکھو ۔

٭…٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online