Bismillah

663

۱تا۷صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۲تا۱۸اکتوبر۲۰۱۸ء

صوفی ازم اور جہاد (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 639 - Mudassir Jamal Taunsavi - v

صوفی ازم اور جہاد

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 639)

صوفی اُس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی تمام خواہشات نفسانیہ کو بالکل ترک کرکے اپنی تمام چاہتوں کو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولﷺ کی پیروی میں فنا کردے۔ جو ظاہر و باطن میں اللہ تعالیٰ اوراُس کے رسولﷺ کا فرماں بردار بن جائے اور اُس کی یہ فرماں برداری کسی نفسانی خواہش اور نفسانی مفاد پر مبنی نہ ہو بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی ہی اس کا مطلوب ہو۔

اللہ تعالیٰ کے سچے دوست ، سچے ولی اور سچے صوفی کی ایک علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ ’’جہاد‘‘ کا بہت بڑا شیدائی ہوتا ہے اور کیوں نہ ہو کہ ولی اور صوفی بنتا ہی تب ہے جب وہ پوری طرح نبی کریمﷺ کا پیروکار ہو اور نبی کریمﷺ کی شان یہ ہے کہ آپ ﷺ نے خود فرمایا:

’’بُعِثْتُ بِالسَّیْفْ‘‘ (مسند احمد)

مجھے تلوار کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے

آپﷺ کے ناموں میں جہاد کی گونج موجود ہے۔

نبی الملحمۃ، نبی السیف، رسول الملاحم، صاحب الجہاد

بڑی جنگ والے نبی، تلوار والے نبی، بڑی جنگوں والے نبی اور جہاد والے نبی

جب خاتم النبیین ، سرورکونین ﷺ کی یہ شان ہے تو یقینا جو بھی آپ کا سچا روحانی وارث ہوگا اس میں بھی جہاد کی یہ شان اسی طرح نمایاں ہو کر جھلکتی ہوگی۔

اس امت کے جو لوگ یہود ونصاریٰ کی پیروی کرتے ہیں وہ مختلف انداز سے کرتے ہیں۔ کچھ اُن کی ظاہری پیروی کرتے ہیں، دنیاوی معاملات میں ان جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں، اپنی تہذیب اور ثقافت اور چال ڈھال میں ان جیسا بننے کی تگ و دو کرتے ہیں جب کہ کچھ لوگ دینی معاملات میں ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔

چنانچہ جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنے انبیاء کرام اوران کے سچے وارثین کو تعلیمات کو ایک مدت گزر جانے کے بعد بگاڑ دیا اور اپنی بدعملیوں کو اپنے اکابر پاک باز بندوں کی طرف منسوب کرنے لگے کچھ ایسا ہی اس امت کے بہت سے لوگ حضرات صوفیاء کرام کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کی تعلیمات کو بگاڑنا، ان کی تعلیمات کو چھپانا، اپنی بدعملیوں کو ان کی طرف منسوب کرنااور پھر جس طرح یہود ونصاریٰ اپنی تحریف شدہ تعلیمات کو اصل تعلیمات باورکراتے ہیںاسی طرح صوفی ازم کے نام پر جو فتنہ کھڑا کرنے کی مدت سے کوشش ہورہی ہے تو اس فتنے کے کرتا دھرتا بھی تحریف شدہ تعلیمات کو حقیقی تعلیمات باورکرانا چاہتے ہیں ۔

مگر اللہ تعالیٰ کا دین محفوظ ہے اور محفوظ رہے گا اوراس دین کی حفاظت کرنے والوں کو سیرت و کردار کوبھی اللہ تعالیٰ محفوظ رکھتے ہیں تاکہ ہر آنے والی نسل کے لیے ایک نمونہ و مثال موجود رہے۔

ایسے ہی ایک سچی ولی اور مجاہد صوفی شیخ الاسلام حاجی محمد نوشہ قادری بھی ہیں۔

ان کی پیدائش سنہ 959ھ میں اور وفات سنہ 1064ھ میں ہوئی۔ پاکستان کے ضلع گجرات ایک علاقہ ’’ساہن پال‘‘ سے ان کا تعلق تھا اور وہیں ان کے اوران کے متعلقین کے مزارات موجود ہیں۔

آپ اپنے وقت کے جلیل القدر صاحب علم اور صوفی تھے۔ نامور محقق ملا عبد الحکیم سیالکوٹی رحمہ اللہ تعالیٰ آپ کے فیض یافتہ تھے، اوریاد رہے کہ ملا عبدالحکیم سیالکوٹیؒ ہی وہ فرد ہیں جنہوں نے حضرت شیخ احمد سرہندیؒ کو سب سے پہلے مجدد الف ثانی کا لقب دیا اور پھر یہ لقب ان کی شخصیت پر ایسا فٹ بیٹھا کہ آج تک بہت سے لوگ انہیں اصل نام سے زیادہ اسی لقب سے پہچانتے ہیں۔

سید محمد نوشہ قادری رحمہ اللہ تعالیٰ کی ایک سوانح انہی کے خاندان کے ایک فرد نے لکھی ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے کہ انہوںنے اس میں بہت سے وہ باتیں واشگاف اور صاف صاف لکھی ہیں جنہیں دیگر کئی سوانح نگاروں نے اوجھل کردیا تھا۔

اس سوانح میں جو چیز سب سے زیادہ حیرت انگیز ہے وہ ان بزرگوں کی جہاد سے والہانہ محبت ہے۔

ان کے شعری کلام میں بھی جہاد کی پُرزور دعوت موجود ہے اور خود عملی طور پر بھی وہ ایک جری اور دلیر مجاہد تھے۔

آپ کے سوانح نگار نے لکھا ہے کہ:

آپ فنونِ جنگ کے ماہر اور مردِ مجاہد تھے۔ ایک مرتبہ ڈاکوؤں نے اس علاقہ پر تاخت و تاراج کیا۔ لوگ تاب مقاومت نہ لاسکے، آپ نے اکیلے مقابلہ کیا اوران کو بھگا دیا۔

آپ نے جہاد کے متعلق اپنے رسالہ ‘‘جنگ پروان‘‘ میں لکھا ہے:

کلمہ آکھو مومنو! ایہو ہے اسلام

جنگ کرو نال کافراں تاں پائیو آرام

اے ایمان والو! کلمہ پڑھو کہ یہی اسلام کی بنیاد ہے اور کافروں سے جنگ کروکہ اسی سے تمہیں دائمی آرام ملے گا۔

جسنوں حب محمدی تسدا ایہ نشان

بغض رکھے نال کافراں جنگ دا کر سامان

جو نبی کریمﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کی دو علامتیں ہیں: ایک یہ کہ وہ کافروں سے بغض رکھے اور ان کے سے جنگ کی تیاری کے لیے ہتھیار تیار رکھے

دویا جنگ کماوناں کسب نہ کرنا ہور

کَھسنا مال کفار دا، کر اسلام دا زور

شغل کرے ہتھیار دا عمل کماوے جنگ

ڈرے نہ راجا، رانیوں، دھاڑا کرے نسنگ

اور دوسری علامت یہ ہے کہ وہ جہاد کے ذریعے ہی اپنی روزی حاصل کرتا ہے ، کسی اور دنیوی کام میں ہی مشغول ہو کر نہیں رہ جاتا ، اس لیے وہ کافروںسے جہاد کرکے مال غنیمت حاصل کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسلام کو غلبہ دِلاتا ہے۔

اس کی مشغولیت ہتھیار تیار کرنا اور اس کا عمل جہاد

 ہوتا ہے، وہ نہ راجاؤوںسے ڈرتا ہے اور نہ ہی رانیوں سے۔ بلکہ وہ تو خود شیر کی دھاڑتا ہے(اور دشمنوں کو خوف زدہ کرتا ہے)

داڑھی مُچھاں پگڑی گھوڑا تے ہتھیار

آکھے نوشہ قادری ایہ مَرداں دا سنگار

ایک مسلمان مرد کا سنگار اور زیب وزینت تو اس سے ہے کہ اس کی داڑھی اور موچھیں ہوں اور اس کے پاس بہترین گھوڑا اور بہترین ہتھیار ہوں۔

ان اَشعار میں غور کیجیے کہ شاہ نوشہ قادری رحمہ اللہ تعالیٰ اسلام کے بعد بس جہاد ہی جہاد کی ترغیب دے رہے ہیں اور کمال تو یہ کامل مسلمان کی علامت میں گھوڑے اور ہتھیار کو بار بار بتا رہے ہیں۔ در حقیقت اس لیے کہ ایک طرف قرآن کریم میں صاف صاف حکم ہے:

اور تم ان کے مقابلے کے لیے جتنی تیاری کر سکتے ہو کر لو(الانفال)

اور دوسری جانب سورۃ العادیات میں گھوڑوں کی قسمیں موجود ہیں اور اللہ کے نبیﷺ کاارشاد موجود ہے کہ:

گھوڑے کی پیشانی میں اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے خیر رکھ دی ہے۔ یعنی اجر بھی اور غنیمت بھی (الحدیث)

اس کے علاوہ چند اشعار مزید ملاحظہ کیجیے:

غازی ولی خدائدا حضرت فرمایا

اوہ بہشتی ہوئیا جیں جنگ کمایا

اول کلمہ فرض ہے پھر جنگ کماون

جنہاں جنگ کمائیا سے بہشتیں جاون

نوشہ کلمہ آکھئے تے چنگ کمائیے

کلمہ تے ہتھیار نال نِت نِت منہ لائیے

اے مجاہدو اوراے ولیو! اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جو بھی شخص جہاد کرے گا وہ جنت کَما لے گے۔ ہمارے دین میں پہلے نمبر کلمہ طیبہ کا ہے اور پھر جہاد کرنا ۔ چنانچہ جو مسلمان بھی جہاد کرے گا تو وہ بہت سی جنتیں حاصل کرلے گا۔

اے نوشہ! کلمہ پڑھ اور جہاد کراور تیرا کوئی بھی دن نہ تو کلمہ سے خالی جائے اور نہ ہی جہاد سے۔

جہادسے عاری صوفی ازم کا فتنہ برپاکیے جانے کے اس زمانے میں ضروری ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو حقیقی صوفیت اور سچے صوفیاء کرام سے روشناس کرائیں۔ اسی مقصد کے لیے ایک سچے اور نامور صوفی کی سوانح میں سے جہاد کا یہ کچھ حصہ دِکھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہاد کی سمجھ نصیب فرمائے، جہاد سے مضبوط تعلق اور والہانہ محبت نصیب فرمائے اور جہاد کے خلاف ہر قسم کے فتنے سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online