Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

قرآن کی جہادی بہاریں (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 641 - Mudassir Jamal Taunsavi - Quran ki Jihadi Baharein

قرآن کی جہادی بہاریں

سالانہ دورات تفسیر آیات جہاد کی روئیدار

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 641)

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو جن مقاصد کے لیے مبعوث فرمایا، اُن میں خود قتال کرنا اور ایمان والوں کو جہادو قتال پر اُبھارنا بھی شامل ہے۔ یہ عمل کارِ نبوت ہے، اوربے شمار خوبیوں سے پُر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی ایسا حکم نہیں دیتے جو فوائد سے خالی ہو۔ اس میں امت کی دینی زندگی کا سامان ہے اور اس سے ان کی ایمانی زندگی وابستہ ہے۔

قرآن کریم نے صاف صاف کہہ دیا ہے:

’’تم پر قتال فرض کیا گیا ہے جو تمہیں ناگوار گزرتا ہے،ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو، اور وہ تمہارے لیے بھلائی ہو اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرواور وہ تمہارے لیے بُری ہو، اور اللہ جانتے ہیں تم نہیں جانتے‘‘ (البقرۃ)

یہ آیت مبارکہ چار باتوں کو صاف صاف بتا رہی ہے:

جہاد وقتال اِ س امت پر ’’فرض‘‘ ہے۔

جہاد و قتال بظاہر ایک ناگوار اور ناپسندیدہ عمل ہے۔

جہاد و قتال میں اللہ تعالیٰ نے بھلائی ہی بھلائی رکھی ہے۔

جہاد و قتال سے جان کَترانے میں نقصان ہی نقصان ہے۔

اب خود بتائیے کہ کیا ایسے اہم عمل کے بارے میں مسلمانوں کو قرآنی تعلیمات فراہم کرنا ضروری نہیں ہوجاتا؟ کیا یہ تعلیمات فراہم کرنا اہل علم کی ذمہ داری نہیں ہے؟ اگر ان دونوں کا جواب ’’ہاں‘‘ میں ہے تو اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دورات تفسیر آیات جہاد منعقد کیے جاتے ہیں۔

٭…٭…٭

قرآن کریم بتلاتا ہے کہ وہ منافقین جنہیں جہاد کی ضرورت اور اہمیت سمجھ نہیں آتی اور وہ جہاد سے دور بھاگتے ہیں، تو انہیں چاہیے کہ وہ قرآن کریم میں تدبر کریں، قرآن کریم جہاد کے بارے میں نہایت ہی صاف تعلیمات فراہم کرتا ہے اور اس کے فوائد سے آگاہ کرتا ہے۔ اگر منافقین لوگ قرآن کریم میں غور کرتے تو جہاد سے دور نہ ہوتے۔ ہاں اگر قرآن کریم میں غور ہی نہ کریں یا ان کے نفاق کے سبب ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہوتو پھر الگ بات ہے۔ ایسے میں وہ اپنی قسمت پر روئیں کہ کس طرح اسے برباد کر بیٹھے ہیں۔

الغرض قرآن کریم نے جہاد سمجھنے کے لیے قرآن سمجھنے اور اس میں تدبر کرنے کی دعوت دی ہے۔ سورۃ النساء ، پانچویں پارے میں یہ حقیقت موجود ہے۔ اس لیے مسلمانوں کی ذمہ داری بنتی ہے وہ جہاد سمجھنے کے لیے قرآن کریم سے اپنا تعلق مضبوط بنائیں، جہاد سمجھنے کے لیے قرآن میں غور و فکر کریں، جہاد سمجھنے کے لیے قرآن کریم میں تدبر کریں، اگر دِلوں پر مہر نہ لگ چکی ہو اور انسان قرآن میں غور و فکر کرلے تو اسے جہاد سمجھ آجائے گا۔ بس یہ باتیں ہیں:

دلوں کے دروازے بند نہ کیے جائیں

قرآن کریم میں غور و فکر کر لیا جائے

ایسے میں قرآنی دعوت اور قرآن کا جہادی پیغام عام نہ کیا جائے تو اور کیا کیا جائے؟

قرآن کریم بند دِلوں کے دروازے کھولتا ہے، اب جو مسلمان ایسے حلقات میں شرکت کرے گا جہاں یہ قرآنی تعلیمات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہوں تو دونوں فوائد حاصل ہوں گے:

دل کے بند دروازے بھی کھلیں گے۔ ان شاء اللہ

جہاد بھی سمجھ آئے گا۔ ان شاء اللہ

اسی قرآنی نور کا فیض پھیلانے اور قرآن سے تعلق مضبوط بنانے کے لیے یہ دورات تفسیر آیات جہاد کا سلسلہ ہے۔ جو اس سے جڑے گا، وہ ان فوائد سے ضرور بہرہ ور ہوگا۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

اب دو اہم سوال اور ان کے جواب دیکھ لیجیے:

سوال:جہاد فی سبیل اﷲ کے موضوع پر سینکڑوں آیات کو پڑھ کر ایک مسلمان کو کیا کرنا چاہئے؟

جواب: ان تمام آیات…کو پڑھ کر ایک سچے مسلمان کو تین کام کرنے چاہئیں۔

(۱) اگر خدانخواستہ دل میںجہاد کے بارے میں کوئی شکوک وشبہات ہوں تو ان سے فوراً توبہ کرنی چاہئے کیونکہ یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ جہاد ایک قطعی فریضہ ہے اور فرض کا انکار کرنا کفرہے اسی طرح اگرکسی اور کام کو ابھی تک جہاد فی سبیل اﷲ سمجھتے رہے اور اصل جہاد فی سبیل اﷲ یعنی قتال وغیرہ کو دین کا حصہ نہیں سمجھتے تھے تو ان آیات کو پڑھ کر اپنی سابقہ گمراہی والی سوچ پر استغفارکرنا چاہئے اور جہاد فی سبیل اﷲ اور قتال فی سبیل اﷲ کو دین کا ایک فریضہ سمجھنا چاہئے اور اس سلسلے میں جو فضول شکوک دل میں ہوں ان کو نکال دینا چاہئے اور انشاء اﷲ ان آیات کو پڑھ کر دل سے وہ تمام شکوک وشبہات خود ہی دُھل جائیں گے جو کفار نے مسلمانوں کو جہاد سے دور رکھنے اور انہیں اپنا غلام بنائے رکھنے کے لئے پھیلادیئے ہیں۔

(۲) ایک سچے مسلمان کے لئے لازم ہے کہ وہ جب ان آیات کو پڑھے یاسنے تو پھر حضرات صحابہ کرامؓ کی طرح اپنی جان ومال ہتھیلی پر رکھ کر میدان جہاد کی طرف یوں دیوانہ وار نکلے جس طرح  ایک بچہ ماں کی گود کی طرف لپکتاہے ۔ وہ ان میدانوں کی طرف دوڑ پڑے جہاںاﷲ کی رضا اِس  کااستقبال کرتی ہے اس کی جان ومال کا خریدار خود اﷲتعالیٰ ہے اوروہ اس کی جان ومال کو جنت کے بدلے خریدتا ہے اور جنت کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ جو اس سے محروم رہا وہ تباہ وبرباد ہوگیا۔قرآن مجید کی یہ آیات پکار پکار کر مسلمانوں کو کہہ رہی ہیں کہ اے اپنی اولاد اور مال کی خاطر جہاد سے منہ موڑنے والو! اے موت کے ڈر سے گھروں میں چپک جانے والو! تم بڑی غلطی پر ہو یہ چیزیں جن کی خاطر تم جہاد سے دور ہو تم سے عنقریب چھین لی جائیں گی اور جن چیزوں کی تمہیں حقیقت میں ضرورت ہے وہ جہاد میں تمہیں مل سکتی ہیں اٹھواور دیر نہ کرواﷲ کی رضا سے بڑی کوئی دولت نہیں شہادت سے بڑی کوئی لذت نہیں، جہاد سے بڑی کوئی عزت نہیں اور جنت سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔ جہاد میں تمہارا فائدہ ہی فائدہ ہے اور جہاد چھوڑنے سے تمہیں سوائے ذلت اور بربادی کے اور کچھ نہیں ملے گا۔آج جب مسلمانوں کے جہاد چھوڑنے کی وجہ سے پوری دنیا پر کافر اپنی حکومت کااعلان کررہے ہیں اور جو بھی اﷲکی اس زمین پر اسلام کے نفاذ کا نام لیتاہے اسے دنیا کا سب سے بڑا مجرم سمجھا جاتاہے آج جب کہ ہماری لاکھوں مربع میل زمین کافروں کے قبضے میں ہے آج جب کہ ہزاروں مسلمان کافروں کی جیلوں میں سسک رہے ہیں قرآن مجید کی یہ آیات ہم سب مسلمانوں کی زندگیوں پر ایک سوالیہ نشان ہیں کاش !مسلمان انہیں سمجھیں اور کفر کی طاقت سے مرعوب ہونے کی بجائے اﷲ کی عظمت وقوت پر نظر رکھ کر جہاد کے فریضے کو زندہ کریں تو انہیں معلوم ہوجائے کہ خودکو دنیا کی سپرپاور کہنے والے مکڑی کے جالے جتنا مضبوط گھر بھی نہیں رکھتے ۔

(۳) وہ مسلمان جنہیں جہاد میں جانا نصیب نہیںہوا وہ ان آیات کو پڑھ کر اپنی محرومی ، کم نصیبی، کم ہمتی پر خوب روئیں اور اس قدر روئیں کہ اﷲتعالیٰ کی رحمت متوجہ ہو جائے اور وہ بھی جہاد کے کسی شعبے میں قبول کرلئے جائیں۔ ایسے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ مجاہدین کی خوب عزت واکرام کریں اور ان کے قدموں کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ سمجھیں اور انہیں رشک کی نگاہوں سے دیکھیں اور اﷲتعالیٰ سے مسلسل دعاء کریں کہ وہ انہیں بھی جہاد کے لئے قبول فرمائے لیکن اگرکوئی مسلمان نہ تو خود جہاد کرتاہے اورنہ جہاد کی تیاری کرتاہے اور نہ اس کے دل میں جہاد کا شوق اورنہ اس کی نیت ہے اور نہ وہ اپنی محرومی پر اﷲکے حضور روتا اور گڑگڑاتا ہے تو ایسے لوگوں کے لئے دعاء ہی کی جاسکتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان کی حالت پر رحم فرمائے اور انہیں بھی اس عظیم فریضے کی سمجھ عطاء فرمائے۔

سوال نمبر: جو مسلمان اﷲ کے فضل وکرم سے جہاد میں مشغول ہیں انہیں ان آیات کو پڑھ کر کیاکرنا چاہئے؟

جواب: جو مسلمان جہاد کے عظیم عمل میں مشغول ہیں انہیں تو خاص طور پر ان آیات کو بار بار پڑھتے رہنا چاہئے اور انہیں تین کام کرنے چاہئیں۔

(۱) وہ اﷲتعالیٰ کا شکر اداء کریں کہ اس نے محض اپنے فضل وکرم سے انہیں اتنے عظیم عمل کی توفیق عطاء فرمائی اور دعا ء کریں کہ رب ذوالجلال انہیں اس پر استقامت عطاء فرمائے۔ اور انہیں ہرگز تکبر نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ آیات بتلاتی ہیں کہ ان کا جہاد میں نکلنا اور دشمن کے سامنے بہادری سے لڑنا خود ان کا کمال نہیں ہے بلکہ یہ اﷲتعالیٰ کا فضل اور اس کی نصرت ہے اس لئے مجاہد کو پلک جھپکنے کے برابر بھی اپنی ذات اور اپنے نفس پر نظر نہیں کرنی چاہئے کیونکہ وہ دنیا بھر کے کفر کا تو درکنار اپنے نفس کی شرارتوں اور شیطان کا بھی خود مقابلہ نہیں کرسکتا بلکہ اس کی نظر صرف اور صرف اﷲتعالیٰ پر ہونی چاہئے کیونکہ اﷲ کی نصرت سے ہی وہ دنیا بھر کے کفر کا مقابلہ کرسکتاہے اور جہاد کے مشکل عمل میں ڈٹا رہ سکتاہے جب مجاہد کی نظر اﷲ پر ہوگی تو وہ کسی بھی مسلمان کو حقیر نہیں سمجھے گا۔

(۲) مجاہدین کو چاہئے کہ قرآن مجید کی ان آیات کو پڑھ کر اپنے آپ کو اور اپنے جہاد کو قرآنی احکامات کے مطابق بنائیں۔ کیونکہ جہاد اﷲکاحکم ہے اور اسے ادا بھی اﷲ کے احکامات کی روشنی میں کیا جاسکتاہے۔

(۳) اگر قرآن مجید کی یہ آیات پڑھ کر مجاہدین کو احساس ہو کہ انہوں نے بعض قرآنی احکامات پر ابھی تک دانستہ یا غیر دانستہ طور پر عمل نہیں کیا تو فوراً استغفار کریں اور آئندہ ان احکامات پر پوری پابندی سے عمل کریں ۔ اپنی ماضی کی غلطیوں سے دل برداشتہ ہوکر جہاد کو نہ چھوڑبیٹھیں بلکہ ایک نئے عزم اور نئے ولولے کے ساتھ قرآن مجید کے احکامات کی روشنی میں جہاد کے مبارک عمل کو جاری رکھیں۔(تعلیم الجہاد)

٭…٭…٭

اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعودازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اکابر اہل علم کی حوصلہ افزائی اور توثیق سے دورات تفسیر کا یہ سلسلہ شروع فرمایا اور اب اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے یہ سلسلہ بڑھتا چلا جارہا ہے اور اس کا فیض چہار جانب اپنی بہاریں دِ کھارہا ہے۔

اس سال 54مقامات پر ان دورات کا انعقاد ہوا ہے۔ اکثر مقامات پر یہ دورات کا سلسلہ مکمل ہوچکا ہے اور ایک دو جگہ باقی ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ یہ پورا سلسلہ قبول ہو اور جو باقی ہے وہ خیر و عافیت سے پایہ تکمیل کو پہنچے۔ آمین

اب اس سال کے دورات کی اجمالی روئیدار ملاحظہ کیجیے:

چنانچہ اکتیس مارچ والے مرحلے میں درج ذیل مقامات پر دورات تفسیر اور ان کی کارگزاری اس طرح ہے:

جھنگ:شرکاء کی تعداد ۲۰۰ بیان، مولانا ابو جندل حسان صاحب ،دعا، مولانا عبدالرحیم صاحب

ڈسکہ/سیالکوٹ:شرکاء کی تعداد۱۱۵(۷۵ مرد/ ۴۰ خواتین) مولانا ابو جندل حسان صاحب ،دعا، مولانا عبدالرحیم صاحب

بھمبر شرکاء کی تعداد ۵۰،بیان دعا، مفتی رویس خان ایوبی صاحب

جبکہ سات اپریل والے مرحلے کی تفصیل کچھ یوں ہے:

وہاڑی…شرکاء کی تعداد ۱۷۰(۱۲۰ مرد/۵۰ خواتین) بیان، مولانا مجاہد عباس، دعا، مفتی عبید الرحمن صاحب (دار لبیان)

پشاور…شرکاء کی تعداد ۱۱۳،بیان و دعا مولانا عزیز الرحمن صاحب

بٹ خیلہ… شرکاء کی تعداد ،۱۵۰۰ بیان بھائی علی محمد صاحب ،مولانا حبیب الحق صاحب ، دعاء مولانا اسرار عمر صاحب

اوکاڑہ…شرکاء کی تعداد،۲۱۰(۱۱۰مرد،۱۰۰ خواتین) بیان و دعا…مولانا سرفراز صاحب

پاکپتن شریف…شرکاء کی تعداد ۶۲(۳۰ مرد،۳۲ خواتین)بیان،مولانا محمد سرفرازصاحب ،دعا مولانا عبدالستار صاحب

خانیوال…شرکاء کی تعداد ۱۱۰،بیان مولانا سرفراز صاحب ،دعا مولانا مقصود حصاروی صاحب

صادق آباد…شرکاء کی تعداد،۴۹۵( ۳۹۰ مرد…۱۰۵ خواتین) مولانا شاہد چیمہ صاحب، دعا۔ قاری محمد صادق صاحب

سرگودھا…شرکاء تعداد…۴۵ مولانا شاہد چیمہ صاحب،دعا مولانا عتیق الرحمن صاحب

لاڑکانہ …شرکاء کی تعداد ۵۰۰،بیان و دعا، مولانا عطاء اللہ کاشف صاحب

نواب شاہ…شرکاء کی تعداد ۴۵۰، بیان و دعا، مولانا محمد الیاس قاسمی صاحب

کوٹلی…شرکاء کی تعداد ۱۰۰ زائد،بیان  مولانا عبدالستار صاحب، بھائی محمد اشفاق صاحب ، دعا مفتی عبید الرحمن (تربیہ)

بہاولنگر… شرکاء کی تعداد ۱۰۰ سے زائد بیان بھائی مظہر صاحب،دعا مفتی رفیق صاحب

مظفر آباد …شرکاء کی تعداد ۱۱۰،بیان بھائی مظہر صاحب ۔دعا مفتی اصغر خان صاحب

 لہڑی…شرکاء کی تعداد ،۴۳۰( ۲۴۰ مرد / ۱۹۰ خواتین) بیان و دعا… مولانا عبدالباسط صاحب

اور 14اپریل والے مرحلے کی تفصیل درج ذیل ہے:

مردان… شرکاء کی تعداد ۔۶۰۰،بیان  مولانا گلاب شاہ صاحب، بھائی علی محمد و بھائی بخت زیب،دعا مولانا گلاب شاہ صاحب

تیمر گرہ…شرکاء کی تعداد ،3000 بیان مولانا عزیز الرحمن صاحب، مولانا اسرار عمر صاحب، دعا مولانا اسرار عمر صاحب

 ہنگو…شرکاء کی تعداد ،300 سے زائد ، بیان مولانا شعیب بخاری صاحب، دعا، مولانا ابراہیم صاحب

کوئٹہ…شرکاء کی تعداد 495 (300 مرد /195 خواتین)بیان، مولانا محمدامین صاحب، مولانا ضیاء الرحمن صاحب ،دعا، مفتی خلیل اللہ صاحب

اور اس سلسلے میں 21اپریل سے شروع ہونے والے سب سے بڑے مرحلے میں جو دورات تفسیر پڑھائے گئے ان کی تفصیلات اس طرح ہیں:

کراچی صوبہ سیدنا ابو عبیدہؓ…شرکاء کی تعداد: 1300(500 مرد،خواتین800)۔ مدرس حضرت مولانا مفتی عبدالرؤف اصغر صاحب

کراچی صوبہ سیدنا علی المرتضیٰ ؓ… شرکاء کی تعداد: 860(320مرد،خواتین،640)مدرس حضرت مولانا طلحہ السیف صاحب

راولاکوٹ…شرکاء کی تعداد:135۔ مدرس حضرت مولانا محمد عمار صاحب

مرکز شریف بہاولپور…شرکاء کی تعداد: 128  مدرس حضرت مولانا مدثر جمال تونسوی

ٹنڈومحمد خان…شرکاء کی تعداد :410 (320 مرد،خواتین 90)۔ مدرس مولانا قاری محمد صادق صاحب

دیر بالا…شرکاء کی تعداد:235۔ مدرس مولانا محمد عبداللہ صاحب

لاہور…شرکاء کی تعداد:130۔ مدرس مولانا عطاء اللہ کاشف صاحب

صوابی…شرکاء کی تعداد:120۔ مدرس مولانا گلاب شاہ صاحب

اسلام آباد… شرکاء کی تعداد:115(مرد 70،خواتین،45)۔ مدرس مولانا محمد امداد اللہ صاحب

قصور…شرکاء کی تعداد: 105 (50 مرد ، 55خواتین) مدرس مولانا ظہوراحمد صاحب

نوشہرہ…شرکاء کی تعداد100(مرد64،36 خواتین) مدرس مولانا عمر رحمان صاحب

فیصل آباد…شرکاء کی تعداد:80(49مرد ، 31 خواتین)۔ مدرس مولانا مفتی رفیق احمد صاحب

گوجرانوالہ…( خواتین) شرکاء کی تعداد:68۔ مدرس مفتی محمد عبید الرحمن صاحب(شعبہ دارالبیان)

چھترپلین…شرکاء کی تعداد:50 ۔ مدرس مفتی محمد اشتیاق صاحب

مانسہرہ…شرکاء کی تعداد:64۔ مدرس مفتی محمد اسماعیل صاحب

 کرک… شرکاء کی تعداد 40۔ مدرس مولانا ابراہیم شاہ صاحب

خیبر ایجنسی…شرکاء کی تعداد:30۔ مدرس مولانا کلیم اللہ صاحب

لسبیلہ…شرکاء کی تعداد:60۔ مدرس مولانا قاری عبدالباسط صاحب

خضدار…شرکاء کی تعداد:42 (20 خواتین ،مرد22) مدرس مولانا محمد یوسف محمدی صاحب

دالبندین…شرکاء کی تعداد: 46 (مرد 31 ، خواتین15) مدرس مولانا محمد سرفراز صاحب

ایبٹ آباد…شرکاء کی تعداد:25۔ مدرس مفتی عبدالرحمن شاہ صاحب

ڈجی جی خان…شرکاء کی تعداد:48۔ مدرس مولانا محمد حسنین معاویہ صاحب

ڈی آئی خان… شرکاء کی تعداد:38مرد 27خواتین۔ مدرس مولانا محمد رفیق صاحب

پنو عاقل…شرکاء کی تعداد:70۔ مدرس مولانا مفتی خلیل اللہ صاحب

قلات…شرکاء کی تعداد:16۔ مدرس مولانا ضیاء الرحمن صاحب

بنوں…شرکاء کی تعداد: 60۔ مدرس مولانا محمد عارف صاحب

ہری پور… شرکاء کی تعداد:25 مدرس مفتی عبیدالرحمن صاحب(شعبہ تربیہ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online