Bismillah

651

۲۷شوال المکرم تا۳ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۳تا۱۹جولائی۲۰۱۸ء

سراپا عبادت عمل (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 642 - Mudassir Jamal Taunsavi - Sarapa Ibadat Amal

سراپا عبادت عمل

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 642)

جہاد سراپا عبادت ہے

جہاد سراپا اطاعت ہے

جہاد سراپا نیکی ہے

جہاد ایمان ہے

جہاد افضل عمل ہے

جہاد سراپا سعادت ہے

جہاد سراپا رحمت ہے

جہاد سراپا خیر ہے

جہاد جنت دِلانے والی تجارت ہے

جہاد جہنم سے نجات کا پروانہ ہے

جہاد جنت کے بلند درجات کا نام ہے

جہاد سراپا شعوراور بندگی ہے

جہاد محض لڑائی نہیں، عبادت والی لڑائی ہے

کم ظرف اور کم عقل ہیں وہ لوگ جو جہاد کو تہذیب اور شعورکے خلاف سمجھتے ہیں، یہ وہ اندھے لوگ ہیں جن کے نزدیک دن او ررات میں کوئی فرق نہیں ہوتا، کیوں کہ اندھے کو دن میں بھی کچھ نہیں دِکھتا جس طرح کہ رات میں کچھ نہیں دِکھتا۔ ہاں جو لوگ بینا ہوتے ہیں، وہ دن اور رات کا فرق سمجھتے ہیں۔

دیکھتے نہیں ہو کیا کہ ایک بکری وہ ہے کہ مسلمان نے قربانی کے دن اللہ کا نام لے کر جس کا خون بہایا ہے اور دوسری بکری وہ ہے کہ کسی مشرک نے اس کی گردن کاٹی ہے ، مگر کیا یہ دونوں جانور برابر ہیں؟ کیا دونوں کا حکم یکساں ہے؟ کیا گردن کاٹنے والے دونوں فرد ایک پلڑے میں تولے جائیں گے؟ اور دونوں کو ایک ہی کردار کا حامل قرار دیا جائے گا؟ اگر کوئی دل کا اندھا اور راہِ ہدایت سے بھٹکا ہوا ہے تو اس کی بات الگ ہے کہ وہ دونوں کو یکساں کہہ سکتا ہے مگر جسے اللہ تعالیٰ نے عقل سلیم عطاء کی ہو اور وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا بھی مدعی ہو تو وہ جانتا ہے اور مانتا ہے کہ دونوں میں بہت فرق ہے، بظاہر دونوں جگہ ایک جانور کا خون ہی بہایا گیا ہے، اور بظاہر دونوں جگہ اس جانور کا گوشت انسان ہی کھائیں گے مگر ایک جگہ یہ عمل محض عبادت نہیں بلکہ اعلیٰ درجے کی عبادت ہے، اور اس عبادت کو سرانجام دینے والے کو اس جانور کے جسم پر موجود ہر ہربال کے بدلے میں نیکیاں ملی ہیں، جب کہ دوسری جگہ اس شخص کااپنا عمل بھی بے کار ہے،اور جانور بھی مُردارہے۔

اسی طرح جہاد اور دیگر لڑائیوں میں فرق ہوتا ہے۔ بظاہر دونوں طرف لڑنے والے انسان ہی ہوتے ہیں، اور دونوں اَطراف کے انسان مرتے بھی ہیں اور زخمی بھی ہوتے ہیں، مگر دونوں اَطراف کے انسان رب تعالیٰ کے ہاں یکساں ہرگز ہرگز نہیں ہوتے۔

مجاہد کا عمل خالصتاً عبادت ہے،اور سراپا سعادت ہے۔ سورہ توبہ بتلاتی ہے کہ :

مجاہد کی پیاس

مجاہد کو پہنچنے والی تھکاوٹ

مجاہد کو لگنے والی بھوک

مجاہد کا ہر ہر قدم

مجاہدکا دشمن سے کچھ بھی چھیننا

مجاہد کا تھوڑا یا زیادہ مال خرچ کرنا

 مجاہد کا کسی بھی وادی کے سفر کو طئے کرنا

یہ سب کچھ اس کے نامۂ اَعمال میں ’’نیک عمل‘‘ کے طور پر لکھ دیاجاتا ہے۔

سورۃ النساء میں بھی سمجھایا گیا :

مفہوم: ’’اگر تم درد اُٹھاتے ہو تو وہ (کافر) بھی درد اُٹھاتے ہیں جس طرح تم اُٹھاتے ہو اور (فرق یہ ہے کہ) تم اللہ تعالیٰ سے جو اُمید رکھتے ہو ، وہ کافر اس اُمید سے محروم ہوتے ہیں‘‘

اسی لیے قرآن کریم نے ایک نہیں دو مقامات پر جہاد سمجھاتے ہوئے ، اور جہاد کے خلاف منافقین کے وسوسوں کا جواب دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ اگر منافق لوگ قرآن کریم میں غور و فکر کرتے تو انہیں جہاد ضرور سمجھ آ جاتا اور جہاد کی اہمیت سے ان کے سامنے واضح ہوجاتی ہے مگر معلوم ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یا پھر ان کے دِلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ سورۃ النساء میں بھی یہ بات موجود ہے اور سورۃ محمد میں بھی۔ اس سے سمجھ لینا چاہیے کہ جسے جہاد کی اہمیت و ضرورت اور فضیلت سمجھ نہیں آ رہی وہ یا تو قرآن کریم کے غور و تدبر سے ہی محروم ہے اور اگر وہ قرآن کریم سے بظاہر وابستہ ہے تو پھر اس کی  کسی نہ کسی بدعملی اور بدعقیدگی کی نحوست کی وجہ سے اُس کے دل پر تالہ پڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ  پیغامِ ہدایت  اس کے دل میں جگہ نہیں پا رہا ۔

قرآن کریم کی سورتیں اور آیتیں اس بات سے بھری ہوئی ہیں کہ منافق کا سب سے بڑا مسئلہ جہاد ہوتا ہے، اُسے سب سے زیادہ تکلیف جہاد سے ہوتی ہے، اُس کے سب سے زیادہ اعتراضات جہاد پر ہوتے ہیں، اور اس کا سبب قرآن کریم میں غور نہ کرنا اور دلوں پر نفاق کی مہر لگنا ہے۔

اس کے برعکس خوش بخت ہیں وہ مسلمان جو جہاد کو سمجھتے ہیں، جو جہاد سے محبت رکھتے ہیں، جو جہاد کا شوق رکھتے ہیں، جو جہاد سے وابستہ ہوتے ہیں، جو دن اور رات کو یکساں اندھیرا نہیں سمجھتے ، جو کسی مومن کی ذبح کی ہوئی بکری اور کسی مشرک کی کاٹی ہوئی بکری کو ایک نظر سے نہیں دیکھتے۔

سعادت مند ہیں وہ مسلمان جو اس عہد کو نبھاتے ہیں:

’’بے شک اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے اُن کی جانوں اور اُن کے مالوں کو جنت کے بدلے میں خرید لیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہیں، پھر قتل کرتے بھی اور قتل ہوتے بھی ہیں‘‘ (سورۃ التوبہ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online