Bismillah

659

۳تا۹محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۴تا۲۰ستمبر۲۰۱۸ء

فلسطین لہولہو (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 644 - Mudassir Jamal Taunsavi - Falastine Lahu Lahu

فلسطین لہولہو

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 644)

ایک جانب اہل اسلام کو رمضان کی آمد کی خوشی ہے اور دوسری جانب عین انہی دِنوں میں امریکہ نے اسرائیل کی خوشنودی کے لیے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا جو فیصلہ کیا اورپھر اس کی پاداش میں درجنوں فلسطینیوں کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا اور سینکڑوں فلسطینیوں کو زخم خوردہ بنادیا گیا، یہ واقعہ نہایت ہی افسوس ناک اور عبرت انگیز ہے۔

اطلاعات کے مطابق بروز سوموار 14 مئی 2018ء کو فلسطین پر صہیونی ریاست کے قیام کے 70 برس پورے ہونے پر اہل فلسطین کو ایک بار پھرعالمی دہشت گردوں نے خون میں نہلا دیا، درجنوں فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔منظم ریاستی تشدد اور دہشت گردی کے باوجود نہتے فلسطینیوں نے غزہ کی مشرقی سرحد پر تاریخ ساز ملین مارچ کرکے پوری دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ فلسطینی قوم نے امریکیوں اور صہیونیوں کے نام نہاد امن منصوبے’’ صدی کی ڈیل ‘‘کو زمین میں دفن کردیا ہے۔ فلسطینیوں کا سرحد کی طرف پرامن مارچ اقوام متحدہ کی قرارداد کے عین مطابق ہے جس میں فلسطینیوں کو 70 برس قبل ان کے آبائی علاقوں میں واپس جانے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔

غزہ کی پٹی میں 30 مارچ 2018ء کو یوم الارض کے موقع پر پرامن انقلاب کا ایک نیا آغاز کیا گیا۔ فلسطینی اس انقلاب کو عظیم الشان واپسی مارچ کا نام دیتے ہیں۔ اس دوران اسرائیلی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 50 فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔تفصیلات کے مطابق فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں حق واپسی کے لیے پرامن احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کا وحشیانہ تشدد جارہی ہے جس کے نتیجے میں مزید متعدد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں جس کے بعد گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران شہداء کی تعداد 60 ہوگئی ہے اور قریبا تین ہزار کے قریب زخمی ہیں۔

مظاہروں کے دوران فلسطینیوں نے ٹائر جلائے اور اسرائیلی فوجیوں کی زیادتیوں کے جواب میں ان پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم پھینکے جبکہ فوجی نشانے بازوں نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔اطلاعات کے مطابق سوموار کو لاکھوں فلسطینی غزہ کی مشرقی سرحد پر جمع ہوئے اور حق واپسی مارچ شروع کیا۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر آتشیں گولیاں چلائیں۔ کم سے کم 58 فلسطینیوں کی شہادتوں کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ 2800 زخمی ہیں۔زخمیوں میں 225 بچے، 80 خواتین،12 صحافی، 17 طبی امدادی کارکن شامل ہیں۔54 کی حالت انتہائی خطرناک،76 کی خطرناک اور 1300 کو درمیانے درجے کے زخم آئے ہیں۔90 فلسطینیوں کو سر اور گردن میں گولیاں ماری گئیں جب کہ 192 فلسطینی مظاہرین کے جسم کے بالائی حصے کو نشانہ بنایا گیا۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے پرامن فلسطینی مظاہرین کے خلاف قابض اسرائیلی فوج کی وحشیانہ ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ترکی میں فلسطینیوں سے یکجہتی کے لیے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ایک تقریب سے خطاب میں ترک صدر نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں نہتے فلسطینی مظاہرین کا اجتماعی قتل عام کیا ہے۔ اہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے صہیونی ریاست کے مجرمانہ طرز عمل کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتیہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی میں آج منگل سے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے تین روزہ سوگ منایا جائیگا۔ترک صدر نے کہا کہ ان کا ملک اور حکومت فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ جمعہ کو ترکی کے شہر استنبول میں مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے عظیم الشان مظاہر کیا جائے گا۔

غزہ کے علاقے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی تازہ ترین وحشیانہ کارروائی نے سفاکی اور بربریت کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔  جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھی اپنی بربریت کا نشانہ بنا رہا ہے۔ عالم یہ ہے کہ سڑکوں اور گلی کوچوں میں ہر طرف لاشیں بکھری پڑی ہیں۔اسپتالوں میں دواؤں کا کال پڑا ہوا ہے اور سیکڑوں زخمی علاج کے انتظار میں پڑے ہوئے بری طرح تڑپ رہے ہیں۔ دوسری جانب ہزاروں کی تعداد میں متاثرین کے نقل مکانی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔  افسوس کہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس بھی صیہونی ریاست کے قبضے میں چلا گیا اور اس کے نتیجے میں جنگ اس عظیم الشان خطے کا مقدر بن گئی۔

انبیائے کرام کی سرزمین فلسطین پر عیار و مکار صیہونیوں کے غاصبانہ قبضے کی کہانی بہت پرانی اور کافی طویل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنی محبوب قوم بنایا تھا لیکن جب اس نے نافرمانی کی انتہا کردی تو اس پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہونا شروع ہوگیا اور نتیجتاً یہ قوم تا قیامت راندہ درگاہ قرار دے دی گئی۔ احادیث مبارکہ میں اس قوم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ عمر بھر دھکے کھاتی رہے گی۔ تاریخ عالم نے اس بات کو سچ ثابت کرکے دکھادیا۔

اسرائیل کی دیدہ دلیری اور جارحیت و بربریت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کون نہیں جانتا کہ امن عالم کا سب سے بڑا اور کھلا ہوا دشمن اسرائیل ہی ہے۔ اسرائیل ہی دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو اقوام متحدہ کو خاطر میں نہیں لاتا اور اس کی ہدایات اور قراردادوں کی سب سے زیادہ اور کھلم کھلا خلاف ورزیاں بھی کرتا ہے۔ سچ پوچھیے تو اس نے امن عالم کو یرغمال بنارکھا ہے اور فلسطینیوں کو اپنے بے انتہا ظلم و ستم اور جارحیت و بربریت کا نشانہ بنا رکھا ہے اور اس سلسلے میں امریکہ اور دیگر بھی متعدد کفریہ ممالک پوری طرح اس کی پشت پناہی کررہے ہیں۔

عالمی میڈیا پر یہودیوں کا کنٹرول ہونے کے سبب اسرائیلی جارحیت پر ایک عرصہ دراز سے پردہ پڑا رہا مگر اب صورتحال رفتہ رفتہ تبدیل ہو رہی ہے اور اصل حقائق دنیا کے سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔نام نہاد سپرپاور امریکا پر بھی یہودی لابی کو زبردست غلبہ حاصل ہے اور امریکی سیاست اور معیشت پر اس کے اثرات بڑے گہرے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے چوتھی مرتبہ برہنہ جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔ یہودی لابی اتنی مضبوط ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز تھوڑی دیر کے بعد دب جاتی ہے۔

مگر سب سے زیادہ دُکھ اس بات کا ہے کہ فلسطین کے موقف کو سب سے زیادہ نقصان عرب ریاستوں کی بے حسی کی وجہ سے پہنچ رہا ہے اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ہوجائیں۔

اسلام کے حکم جہاد بارے زیادہ سے زیادہ شعور بیدار کیا جائے، امت مسلمہ میں جہاد کی روح پھونکی جائے، مجاہدین کو منظم اور مضبوط کیا جائے، جہاد کو پس پشت ڈالنے کے بجائے اسے اپنے ایک اہم ترین فرض کے طور پر دیکھا جائے۔ اور ہر سطح پر دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کیاجائے۔

عالمی قوتوں کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ خاموش تماشائی نہ بنی رہیں اور اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہیں۔ اگر اب بھی ایسا نہ ہوا تو وہ دن دور نہیں جب خود ان کا ضمیر ہی ان کے وجود کو ختم کر ڈالے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online