فدائی یلغار میں10 امریکی واصل جہنم،بادغیس میں گھمسان کی جنگ

(شمارہ 689)

فدائی یلغار میں10 امریکی واصل جہنم،بادغیس میں گھمسان کی جنگ

بمبارنے بارود سے بھری کار فوجی قافلے سے ٹکرادی،ضلع بالا مرغاب اور ضلع آب کماری کا سقوط ہو گیا،بھاری مقدار میں اسلحہ غنیمت علاقے سے نقل مکانی شروع،طالبان کی بادغیس کے مرکز کی جانب پیش قدمی
غیرملکی فوجی آپریشن کے بعد اڈے کے اندر جارہے تھے،حکام نے4ہلاکتوں کی تصدیق کر دی۔لوگرمیں ڈرون حملے سے6 شہید،قندہار،ہلمند میں چوکیاں فتح، 13 ہلاک،غزنی میں فوجی گاڑی پر حملہ،3 ہلاک
 غزنی ضلع گیرو کے مٹھاخان کے علاقے میںڈرون حملے میں گاڑی تباہ،لوگر میں دھماکے سے ضلعی سکیورٹی کمانڈر ہلاک،طالبان بڑا حملے میں 600فوجی گھیر لئے، ننگرہار میں منی بس پر بم حملے میں 5 فوجی زخمی
ہلمند میںہلکے بھاری ہتھیاروںسے حملے،کاپیسامیںوسیع علاقہ، 20 چوکیاں فتح،فراہ میں کاروان پر حملے میں 4 ٹینک تباہ، 14 اہلکار ہلاک،طالبان سے مذاکرات کیلئے افغان حکومت نے 22 رکنی ٹیم تشکیل دیدی

کابل(نیٹ نیوز)امارت اسلامی میں طالبان کے اتحادیوں پر وسیع حملے،10 امریکیوں سمیت 65 اتحادی ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے، بادغیس کے 2اضلاع پر طالبان نے کنٹرول حاصل کرلیا، سینکڑوں فوجیوںنے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے، بگرام ایئر بیس کے گیٹ پر فدائی نے بارود سے بھری گاڑی قافلے سے ٹکرادی جس کے نتیجے میں10 امریکی فوجی واصل جہنم جبکہ 2 ٹینک اور گاڑیاں تباہ ہوگئیں،ہلمند اور دائے کنڈی میں شہری آبادی پر امریکی بمباری سے 10بے گناہ افغان شہری شہیدہوگئے،ہلمند میںہلکے بھاری ہتھیاروںسے حملے،کاپیسامیںوسیع علاقہ، 20 چوکیاں فتح،فراہ میں کاروان پر حملے میں 4 ٹینک تباہ، 14 اہلکار ہلاک،طالبان سے مذاکرات کیلئے افغان حکومت نے 22 رکنی ٹیم تشکیل دیدی۔ تفصیلات کے مطابق  افغانستان کے صوبہ پروان میں بگرام ایئر بیس کے گیٹ پرطالبان حملے میں 10امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔غیرملکی فوجی آپریشن کے بعد اڈے کے اندر جارہے تھے کہ فدائی بمبار نے بارود سے بھری کار فوجی قافلے سے ٹکرا دی۔ دھماکے سے 2 ٹینک اور متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ افغان حکام نے3 فوجیوں اور ایک کنٹریکٹر کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔دریں اثنا لوگرمیں پنچایت پر امریکی ڈرون حملے سے6 دیہاتی شہید ہوگئے جبکہ بادغیس میں طالبان اورافغان فوج کے درمیان پیرکوپانچویں روزبھی گھمسان  کی لڑائی جاری رہی۔اس دوران5 کمانڈوزسمیت مزید12 افغان فوجی ہلاک ہو گئے۔ جنگ کے دوران 250 فوجی ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ بالامرغاب کی اہم پوزیشنوں پرطالبان کا قبضہ برقرار ہے۔ افغانستان کے صوبہ پروان کے ضلع بگرام میں واقع امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے کے ایک داخلی دروازے پرکار بم دھماکے سے 10امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ذرائع کے مطابق طالبان نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ افغانستان میں کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ حملہ کر سکتے ہیں۔دریں اثنا لوگر میں امریکی ڈرون حملے سے 6 بیگناہ دیہاتی شہید ہو گئے۔طالبان نے صوبہ بادغیس کے 2اضلاع پر قبضہ کر لیا۔ضلع بالا مرغاب اور ضلع آب کماری کا سقوط ہو گیاجبکہ طالبان بادغیس کے مرکز کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔سینکڑوں فوجیوں نے طالبان کیسامنے ہتھیار ڈال دیئے جبکہ لوگر،غزنی اور ننگرہار میں امریکی فوج کی کارروائیوں میں 5شہید ہو گئے۔ صوبہ بادغیس کے 2اضلاع بالا مرغاب اور آب کماری پر قبضہ کر لیا۔ بادغیس کے صوبائی اسمبلی کیرکن ناصر نظری نے 2 اضلاع پر طالبان قبضے کی تصدیق کر لی ہے انہوں نے افغان میڈیا کو بتایا کہ طالبان نے ضلعی مراکز،پولیس ہیڈکوارٹرزا ور فوجی مراکز پر قبضہ کر لیا ہے۔طالبان نے پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے ایک اور محاذ گرم کر دیا ہے۔ ایک اور فوجی اڈے میں سینکڑوں افغان فوجیوں کا محاصرہ کر لیا ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ 50 فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے جبکہ ایک کمانڈر سمیت کئی فوجی فرار ہو گئے۔مختلف صوبوں میں طالبان کے حملوں میں41فوجی ہلاک متعدد زخمی ہوئے،20ٹینک وگاڑیاں تباہ کر دی گئیں۔متعدد فوجی طالبان سے جا ملے ، افغان فوج کی گولہ باری سے ایک شہری شہید جبکہ سا ت زخمی ہو گئے۔فغانستان کے صوبہ پک تیا ضلع سمکنی میں عام آبادی کو نشانہ بنایاگیا۔افغان فوجوں نے مرکز سے حکوم زئی کے علاقے کو مارٹر گولوں کا نشانہ بنایاجس کے نتیجے میں ضلع جانی خیل کے مرکز میں اجلاس میں شرکت کیلئے جانے والے عمائدین میں سے ایک شہید جبکہ سات زخمی ہوگئے جبکہ باگرام میں طالبان نے امریکی ایئر بیس پر میزائل داغے۔امریکی فوجی ایئربیس پر طالبان نے صوبہ پروان ضلع باگرام میں میزائل سے حملہ کیاتاہم حملے میں جانی و مالی نقصانات کے بارے میں معلومات نہ مل سکیں۔اسی طرح طالبان نے افغان فوج کے کاروان پر حملہ کر دیا جس میں گیارہ ٹینک و گاڑیاں تباہ جبکہ 25اہلکار ہلاک و زخمی ہو گئے۔ صوبہ غزنی ضلع شل گر کے چیغارو اور یرگٹو کے علاقوں کابل قندہار قومی شاہراہ پر طالبان نے کابل سے قندہار جانے والے کاروان پر حملہ کیا جو مغرب تک جاری رہا جس کے نتیجے میں 9 اہلکار ہلاک جبکہ 12 زخمی ہو گئے۔تین فوجی ٹینک اور ایک عملہ کی گاڑی بھی تباہ ہوگئی۔ غزنی شہر کے جباروال کے علاقے میں طالبان کے حملے میں ایک فوجی رینجر گاڑی تباہ ہوگئی جبکہ اس میں سوار 3 اہلکار لقمہ اجل بن گئے۔صوبہ بغ لان ضلع پل خمری کے ڈنڈشہاب الدین کے علاقے خلازئی کے مقام پرطالبان نے کاروان پر اسی نوعیت کا حملہ کیاجس میں چار سپلائی گاڑیاں تباہ ہوگئیں جبکہ ضلع مرکزی بغ لان کے شہرجدید بازار میں طالبان نے انٹیلی جنس سروس اہلکار جمعہ الدین کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔اسی طرح طالبان نے صوبہ لغمان میں فوجی کو مارڈالا جبکہ صوبہ پروان ایک فوجی طالبان سے مل گیا۔ادھرافغانستان نے طالبان سے مذاکرات کیلیے 22 رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے جو 14 اور 15 اپریل کو قطر میں ہونے والے امن مذاکرات میں حصہ لے گی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان حکومت نے امن مذاکرات کے لیے عبدالسلام رحیمی کی سربراہی میں 22 اراکین پر مشتمل مذاکراتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ مذاکراتی ٹیم 14 اور 15 اپریل کو قطر میں طالبان نمائندوں سے مذاکرات کرے گی۔علاوہ ازیں بلخ مرکز پر لیزرگن حملے میں تین جنگجو ہلاک ہو گئے۔طالبان نے صوبہ بلخ ضلع نہرشاہی میں حملہ کیا۔ جوزجان میں چوکی پر حملے میں 6 جنگجو ہلاک و زخمی ہو گئے۔طالبان نے ضلعی مرکز کی دفاعی چوکی پر حملہ کیاجس میں دو شرپسند ہلاک جبکہ چار زخمی ہوگئے۔پک تیا میں فوجیوں پر حملے میں دو ہلاک جبکہ ایک فوجی نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔طالبان نے صوبہ پک تیا کے صدرمقام گردیز شہر میں حملہ کیا جبکہ ضلع احمدخیل میں ایک فوجی طالبان سے آملا۔دریں اثناء افغان فوجوں نے سویلین آبادی کو مارٹر گولوں کا نشانہ بنایاجس سے ایک راہ گیر زخمی ہوگیا۔دوسری جانب ضلع احمدخیل کے سکندر خیل کے رہائشی کابل انتظامیہ کے سیکورٹی نجیب اللہ طالبان کے ساتھ مل گیا۔ دریں اثنا صوبہ بغلان کے ترجمان جاوید بشارت نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت میں ایک کلینک پر بم حملے کے نتیجے میں ڈاکٹر ہلاک اور 18 شہری زخمیوں ہوگئے جن میں 2 بچے اور خاتون شامل ہے۔ مشرقی صوبے ننگرہار میں منی بس پر بم حملے کے نتیجے میں بھی 5 افراد زخمی ہوئے۔ شیروازہ کے علاقے میں افغان فوجوں اورطالبان کا سامنا ہواجس میں ایک گاڑی تباہ ہونے کے علاوہ ایک فوجی ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے۔ذرائع کے مطابق جوابی فائرنگ سے ایک طالبان جنگجو بھی شہید ہوگیا۔ اسی طرح مقامی جنگجوؤں پر طالبان نے صوبہ بغ لان ضلع نہرین میں حملہ کیا۔ قوبی کے علاقے میں حملے میں کمانڈر بشیر کو تین محافظوں سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا اوران کی گاڑی اور اسلحہ قبضے میں لے لیا۔