بھارت،انتہا پسند ہندوؤں کے مسلمانوںپر حملے، 250 دکانیں بند کروا دیں

(شمارہ 689)

بھارت،انتہا پسند ہندوؤں  کے مسلمانوںپر حملے، 250 دکانیں بند کروا دیں

بھارتی شہروں گڑگاؤں اورغازی آباد میں ہندوسینا کے غنڈوںکے حملے،مسلمان دکانداروں گھروں کے چولہے ٹھنڈے

نئی دہلی (نیٹ  نیوز) مودی نے انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ دیدی، بھارتی شہر گڑگاؤں میں ہندوسینا کے غنڈوں نے مسلمانوں کی گوشت کی دکانوں پر حملہ، ڈھائی سو افراد کا کاروبار بند کرا دیا، علاقے میں شدید کشیدگی کے باوجود انتظامیہ نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی۔تفصیلات کے مطابق بھارت میں اقلیتوں پر ظلم عروج پر پہنچ گیا، نئی دہلی کے قریب شہر گڑگاؤں میں ہندو سینا کے کارکنوں نے مسلمانوں کی گوشت کی دکانیں  زبردستی بند کرا دیں، انتہا پسندوں کے سامنے انتظامیہ بے بس نظر آئی، تنظیم کے لیڈر نے ڈھٹائی سے اپنی کارروائی کو تسلیم بھی کیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق انتہاپسندوں نے 250 سے زیادہ دکانیں بند کرائیں۔ اس دوران ہندو سینا کے غنڈوں نے کچھ دکانداروں پر تشدد بھی کیا ان کو گالیاں بھی دیں۔تنظیم کے لیڈر کا کہنا ہے ایسا وہ ہر سال ہندو میلے نورتی کے موقع پر کرتے ہیں۔ اس موقع پر بھارتی پولیس بے بس نظر آئی اور انتہا پسند اپنی من مانی کرتے رہے۔ادھر اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں ایم ایل اے، نند کشور گوجر نے زبردستی مسلمانوں کی گوشت کی دکانیں بند کروا دیں۔ کاروبار بند ہونے سے ان کے گھروں کے چولہے بند ہو کر رہ گئے۔