Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

شیرخوار بچی، خاتون سمیت 16 شہید،درجنوں فلسطینی گرفتار

(شمارہ 693)

شیرخوار بچی، خاتون سمیت 16 شہید،درجنوں فلسطینی گرفتار

صہیونی  فورسز نے غزہ میں پر امن مظاہرین کو براہ راست نشانہ بنایا،حماس کے ٹھکانوں پر بھی بمباری ،جواب میں حماس نے اسرائیل پر 600 راکٹ داغے،4 یہودی ہلاک، کئی گاڑیوں کونقصان
4 نوجوانوں کی شہادت ،خواتین بچوں سمیت درجنوں فلسطینیوں کے زخمی ہونے کے بعد حماس نے راکٹوں کی برسات کردی، اسرائیل میں کھلبلی مچ گئی،بھگدڑ سے اسرائیلی بچہ کچلا گیا،رملہ سے 17 نوجوان گرفتار
 اسرائیلی فورسز نے بمباری کے لئے ڈرون استعمال کئے،غزہ میں شہدا 43 ہوگئے۔مصر کی ثالثی پر جنگ بندی معاہدہ طے ، مغربی کنارے اور بیت المقدس میں گھر گھر تلاشی کی کارروائیاں، گھروں میں توڑ پھوڑ
صہیونی ریاست نے ظلم کا نیا طریقہ اپنا لیا، شہید فلسطینیوں کی لاشیں قبضے میں لے کر دیدار کیلئے400 ڈالر فیس جمع کرانے کا حکم،قابض صہیونی فوج نے مغربی کنارے سے 17فلسطینی اغوا کر لئے، شدید احتجاج
 اسرائیل اور حماس میں محاذ آرائی شدید،غزہ پٹی سے ملحقہ سرحدی گزرگاہ کو بندکرنے کا اسرائیلی اعلان، البریجہ مہاجر کیمپ پر فضائی حملہ،1967ء  سے  50 ہزار بچے اسرائیلی عقوبت خانوں میں ڈالے گئے، رپورٹ

مقبوضہ بیت المقدس(نیٹ  نیوز)فلسطینی میں دہشت گرد اسرائیلی فورسز نے مظالم کی انتہا کردی، بمباری اور مظاہرین پر براہ راست فائرنگ سے شیر خوار بچی، خاتون سمیت 16 فلسطینی شہید کردیئے جبکہ متعدد زخمی، کریک ڈاؤن کے درون درجنوں نوجوانوں کو گرفتار کرلیا،بمباری اور فائرنگ کے جواب میں حماس نے راکٹوں حملوں کی برسات کردی، صہیونی خوفزدہ ہوگئی، 4 یہودی واصل جہنم جبکہ متعدد زخمی ہوگئے، گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں،، اسرائیل میں کھلبلی مچ گئی،بھگدڑ سے اسرائیلی بچہ کچلا گیا،رملہ سے 17 نوجوان گرفتار،سرائیلی فورسز نے بمباری کے لئے ڈرون استعمال کئے،غزہ میں شہدا 43 ہوگئے،مصر کی ثالثی پر جنگ بندی معاہدہ طے ، مغربی کنارے اور بیت المقدس میں گھر گھر تلاشی کی کارروائیاں، گھروں میں توڑ پھوڑ ، اسرائیل اور حماس میں محاذ آرائی شدید،غزہ پٹی سے ملحقہ سرحدی گزرگاہ کو بندکرنے کا اسرائیلی اعلان، البریجہ مہاجر کیمپ پر فضائی حملہ،ایک رپورٹر کے مطابق 1967ء  سے  50 ہزار بچے اسرائیلی عقوبت خانوں میں ڈالے گئے۔ تفصیلات کے مطابق صہیونی فوج کے ہاتھوں 4 نوجوانوں کی شہادت اورخواتین بچوں سمیت درجنوں فلسطینیوں کے زخمی ہونے کے بعد حماس نے راکٹوں کی برسات کردی جس پر اسرائیل میں کھلبلی مچ گئی۔ دارالحکومت تل ابیب سمیت اسدود، عسقلان اور غزہ کی پٹی سے متصل صہیونی آبادیوں  میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا گیا۔ مغربی میڈیا کے مطابق غزہ سے کم از کم 90 راکٹ اور میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم یہودیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔بھگدڑ سے ایک اسرائیلی بچہ کچل کر زخمی ہوا۔قابض فوج نے لڑاکاطیاروں سے شہری آبادی پر بمباری کرکے ایک اور فلسطینی شہید اور متعدد کو زخمی کردیا۔ 22سالہ عماد نصیر بیت حنون میں شہید ہوا۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ انہوں نے حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور گولے داغنے کا مرکز تباہ کردیا ہے۔بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ حماس کی جانب سے داغے گئے بیشتر فضا میں ہی ناکارہ بنادیئے گئے۔فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے بمباری کے لئے ڈرون استعمال کئے۔قبل ازیں جمعہ کے روز غزہ پٹی پر اپنے گھروں کو واپسی مہم کے 57 ویں مارچ کے دوران قابض اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر اندھا دھند گولیاں برسادیں جس کے نتیجے میں 31 سالہ رمزی اور 19 سالہ رائد خلیل ابوذر موقع پر ہی شہید ہوگئے، بعد ازاں بمباری میں مزید دو فلسطینی نوجوان 33 عبداللہ ابراہیم ابو ملوح، اور 29 سالہ اعلا البوبالی شہید ہوئے۔ادھر فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی  خاتون اور ایک 14 ماہ کی بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئی۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق قابض اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی پر مظاہرین پر فائرنگ سے زخمی ہونے والی حاملہ خاتون اور ایک 14 ماہ کی بچی زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے آج خالق حقیقی سے جا ملے۔ادھر غزہ پر وحشیانہ اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 43 ہو گئی جبکہ مصر کی ثالثی پر پیر سے جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا ہے۔غزہ کے اقصیٰ اسپتال اور دیگر ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق البریجہ مہاجر کیمپ پراسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں 2 فلسطینی شہید ہوئے۔غزہ کے مغربی حصے میں شاتی مہاجر کیمپ پر فضائی حملے میں 3فلسطینی شہید ہوئے۔سیز فائر کے بعد غزہ سے اسرائیل پر راکٹ داغنے کا سلسلہ رک گیا ہے۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعہ سے 600 سے زیادہ راکٹ داغے گئے جس کے نتیجے میں 4 اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ مصری حکام نے فائر بندی کی تصدیق کی ہے۔ادھر صہیونی فوج نے فلسطینیوں کو شہید کرنے اور ان کی لاشیں قبضے میں لینے کے بعد ان کے دیدار پر اہل خانہ کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا اور ان سے 400 ڈالر فیس وصول کی جانے لگی۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوج نے غرب اردن کے شہر قلقیلیہ کے سیریا قصبے میں ایک ۱فلسطینی نوجوان عمر یونس کو گولیاں مار کر شدید زخمی ہوکر شہید ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق صہیونی فوج نے عمر یونس کو شہید کیا‘ دیدار کیلئے بھائی کو فیس کے ساتھ ٹیکس بطور چالان جمع کرانے کا حکم دیا۔علاوہ ازیں قابض صہیونی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے دوران درجنوں  فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ غرب اردن اور القدس میں تلاشی کے دوران درجنوں فلسطینیوں کو حراست میںلیا گیا۔ ان میں اسرائیلی فوج کوسیکیورٹی فورسز اور یہودی آبادکاروں پرحملوں میں ملوث فلسطینی بھی شامل ہیں۔غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں میں العین پناہ گزین کیمپ میں تلاشی کے دوران سابق اسیرحاتم شاہین کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے علاوہ اسی شہرکے مشرق میںتقوع کے علاقے میں کارروائی کے دوران دو نوجوانوں ناجی محمود اور مجاھد یوسف طقاطقہ کو گرفتارکیا گیا۔ بیت فجار سے سابق اسیر قصی خالد ابو سالم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔وسطی شہررام اللہ سے سلواد کے مقام سے عزام واصل اور اسامہ اسلیم حراست میں لیا۔ جب کہ مغربی رام اللہ سے سابق اسیراسلام دار صالح موسی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ادھر اسرائیلی جنگی طیاروں کی غزہ میں بمباری کے نتیجے میں خاتون اور بچوں‘ حماس کمانڈر الخودری سمیت 4 افراد شہید اور 40 زخمی ہو گئے۔ غزہ کے علاقوں میں تیسرے روز بھی اسرائیل کی جانب سے شیلنگ اور بمباری کا سلسلہ جاری ہے‘ اسرائیلی حملوں کی شدت سے غزہ کی عمارتیں لرز گئیں۔فلسطینی امور اسیران کے شعبہ تحقیق و مطالعہ کے چیئرمین عبدالناصر فراونہ نے برسلز میں فلسطینی بچوں کے اسرائیلی زندانوںمیں قید کیے جانے کے حوالے سے کانفرنس کے موقع پر رپورٹ پیش کردی،ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ 1967ء کی جنگ کے بعد اسرائیل نے 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں جیلوں میں قید کیا، 16 ہزار 655 فلسطینی بچے 2000ء  میں شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ کے بعد گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالے گئے۔ دوسری جانب یورپی یونین نے اسرائیل پر راکٹ حملوں کو فوری طورپر روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور مصر اور اقوام متحدہ کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے کے لئے ان کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ یورپی یونین کی خاتون ترجمان ماجاکوسیجانک نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ سے اسرائیل پر داغے جانیوالے راکٹ حملوں کا سلسلہ ہر صورت رکنا چاہیے ، اس خطرناک صورتحال کے پیش نظر کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے تاکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکے۔ادھرقابض صہیونی فوج نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں کاروائیوں کے دوران 17فلسطینی شہری اغوا کر لیے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صہیونی فوج نے الخلیل میں بیت عمار قصبے پر دھاوا بول دیا اور تین فلسطینی شہری اغوا کر لیے جن کی شناخت احمد صابرہ اور حماد ابو میریا کے ناموں سے ہوئی جو دونوں سابق قیدی ہیں اور کرم ابو سارہ جو فلسطینی سکیورٹی آفیسر ہے۔رام اللہ میں قابض صہیونی فوج نے محمد الوداع اور مہدی کارجا کو صفا گائوں میں انکے گھروں سے اغوا کیا۔اسرائیلی فوجیوں نے رام اللہ کے مغرب میں شقبا شہر میں اسیر ابراہیم المصری کے گھر پر ہلہ بولا اور توڑ پھوڑ کی۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor