Bismillah

582

 ۲۶جمادی الاولیٰ تا ۲جمادی الثانی۱۴۳۸ھ    ۲۴فروری تا ۲ مارچ۲۰۱۷ء

مولانا محمدمسعودازہر سے متعلق قرار داد منظور کروا کے چھوڑیںگے(انڈیا کی ہرزہ سرائی)

(شمارہ 576)

مولانا محمدمسعودازہر سے متعلق قرار داد منظور کروا کے چھوڑیںگے(انڈیا کی ہرزہ سرائی)

چین واضح کرے کہ وہ دنیا کے ساتھ ہے یا دہشت گردوں کے ساتھ، انڈین وزیر داخلہ اور خارجہ کے اپنی خفت مٹانے کے لئے مشترکہ بیانات
کشمیر کی تحریک بنیادی انسانی حقوق کی تحریک ہے اس پر دہشت گردی کا اطلاق تکنیکی غلطی ہے،بھارت آج تک اس حوالے سے ٹھوس ثبوت نہیں دے سکا
ہندوستان اپنی داخلی خارجی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے ، علیحدگی کی تحریکیں مضبوط بنیادوں پر اُستوار ہوتی ہیں، چین کا مودی سرکار کو جواب

(القلم نیٹ نیوز)مولانا مسعود ازہر کے خلاف چین کی جانب سے قرارد ویٹو ہونے پر بھارت کے انگ انگ میں آگ لگی ہے ،بھارت نے ایک مرتبہ پھر ہرزئی سرائی کی کہ وہ مولانا مسعود ازہر کے خلاف قرارداد منظور کروا کر ہی دم لے گا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کو چین کی جانب سے ویٹو کئے جانے پر ہندوستان کی تلملاہٹ ختم ہونے پر نہیں آ رہی۔چین کی جانب سے اس قرارداد کو تیسری بار تیکنکلی بنیادوں پر رد کرنے پر انڈین سرکاری اہلکار مسلسل اس کے خلاف ہرزہ سرائی میں مشغول ہیں۔ ہندوستانی وزارت داخلہ اور خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں اسے چین کی طرف سے ’’دہشت گردی‘‘ کی سرپرستی کے مترادف قرار دیا ہے جبکہ چین نے جواب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ کشمیر کی تحریک کی حیثیت بین الاقوامی قوانین کے نفاذ اور بنیادی انسانی حقوق کی معطلی جیسے اقدامات کے ذریعے اسے فوجی علاقے کا مرتبہ بھی دے رکھا ہے لہٰذا وہاں ہونے والی کارروائیوں کو دہشت گردی کے زمرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازیں ہندوستان آج تک اپنے الزامات کے حوالے سے ٹھوس ثبوت بھی مہیا نہیں کر سکا جن کی بنیاد پر اس کے حق میں فیصلہ کیا جا سکے۔ اس کے برعکس ہندوستان کی طرف سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور کشمیر ی عوام کے حق خود ارادیت کو ظالمانہ انداز میں دبانے میں جیسے جرائم ثبوتوں کے محتاج نہیں رہے ،ہر ایک جانتا ہے۔ ایسے میں ہندوستان کی یہ کوشش دراصل کشمیر کی تحریک کو متنازعہ بنانے کی سازش ہے،انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بارہا کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے مسلمانوں پر مظالم کی نشاندہی کرچکی ہیں۔ واضح رہے کہ چین اور ہندوستان کے مابین بھی ہماچل پردیش کے ایک بڑے علاقے  کی ملکیت کا تنازع موجود ہے اور اس پر ان کی جنگ بھی ہو چکی ہے اور انڈیا نے چین مخالف بدھ اسٹیٹ کا جلا وطن دارالحکومت بھی اسی ریاست میں قائم کر رکھا ہے جو تنازعے کی بڑی وجہ ہے۔ دونوں کے درمیان پانی کی تقسیم بھی ایک بڑا متنازعہ ایشو ہے۔ ہندوستان نے بعض سابقہ چینی سفارتکاروں کے حوالے سے یہ بات شدومد سے مشہور کی کہ انہوں نے ویٹو کے ایسے استعمال پر اپنی حکومت پر تنقید کی ہے جبکہ چین نے اسے بے بنیاد خبر اور میڈیا سٹنٹ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online