Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

بھارتی فوج نے جعلی مقابلے میں8 کشمیری شہیدکردیئے

(شمارہ 597)

بھارتی فوج نے جعلی مقابلے میں8 کشمیری شہیدکردیئے

قابض فورسز کی مظاہرین پر اندھا دھند آنسو گیس کی شیلنگ، کئی گولے گھروں میں گرنے سے آگ بھڑک اٹھی،  41 گھر اور دکانیں جل کر خاکستر،20 کروڑ کا نقصان،جھڑپ میں 2فوجی واصل جہنم،5زخمی
2 نوجوانوں کو سوپور ،4 کو ضلع بانڈی پور کے علاقے سنبل میں جعلی مقابلے میں شہید کیا گیا، قابض فورسز کا  فوجی کیمپ پر گھسنے کا الزام عائد،2 بزرگ شہری کنٹرول لائن کے قریبی علاقے میںفائرنگ کا نشانہ بنے
سبزار بھٹ کی شہادت کے بعد مزید 8 کشمیریوں کی شہادت سے وادی میں کشیدگی میں اضافہ،ترال مارچ روکنے کے لئے کرفیو نافذ، فورسز اور مظاہرین نے شدید جھڑپیں، وحشیانہ شیلنگ سے سینکڑوں زخمی
مجاہدین کا قاضی گنڈ علاقے میں فوجی کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ ،2 اہلکار ہلاک،5 شدید زخمی،میرواعظ اور یاسین ملک پھر گرفتار، سید علی گیلانی سمیت رہنما نظربند ،نماز جمعہ کی ادائیگی سے بھی روک دیا گیا
برہان وانی کے جانشین اور دیگر شہریوں کی شہادت کے خلاف وادی بھر میں مسلسل ہڑتالوں اور مظاہروں کا سلسلہ دوسرے ہفتے میں داخل،مظاہرین کا پاکستانی پرچم اٹھائے سڑکوں پر مارچ،بھارت مخالف نعرے
ریلیف نہ ملنے  سے لوگ فاقوں پرمجبور،ادویات نہ بچوں کیلئے دودھ میسر،زمینی،مواصلاتی رابطہ،انٹرنیٹ سروس منقطع،مقبوضہ وادی میں مودی سرکار نے مزید 600اضافی فوجی کمپنیاں تعینات کرنیکا حکم دیدیا

سرینگر(نیٹ نیوز) مقبوضہ کشمیر بھارتی فورسز نے تازہ ریاستی دہشت گردی میںجعلی مقابلے کے دوران  8 کشمیریوں کو شہید کردیا جبکہ مجاہدین سے جھڑپ میں 2 فوجی واصل جہنم جبکہ 5 شدید زخمی ہوگئے، دوسری طرف تحریک آزادی دبانے کے لئے بھارت کے اوچھے ہتھکنڈے جاری، مسلسل کرفیو سے نظام زندگی درہم برہم ہوگیا، برہان وانی کے جانشین اور مزید 8 کشمیریوں کی شہادتوں کے بعد وادی بھر میں مظاہروں اور احتجاج میں تیزی  اور کشیدگی میں اضافہ ہوگیا، مظاہرین اور فورسز میں جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری، قابض فورسز نے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ اورشیلنگ کردی  اس دوران کئی مارٹر شیل گھروں میں جاگر جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی  اور 41 گھروں اور دکانوں کو جلا کر راکھ کر دیا،آتشزدگی کے نتیجے میں 20 کروڑ سے زائد نقصان ہوا، ترال مارچ روکنے کے لئے مودی سرکار نے میرواعظ اور یاسین ملک کو گرفتار جبکہ سید علی گیلانی سمیت اہم رہنماؤں کو نظر بند کردیا، قابض فوجیوں نے حریت رہنماؤں کو نماز جمعہ بھی ادا  کرنے کی اجازت نہیں دی۔برہان وانی کے جانشین اور دیگر شہریوں کی شہادت کے خلاف وادی بھر میں مسلسل ہڑتالوں اور مظاہروں کا سلسلہ دوسرے ہفتے میں داخل،مظاہرین کا پاکستانی پرچم اٹھائے سڑکوں پر مارچ،بھارت مخالف نعرے، مسلسل کرفیو کے باعث ریلیف نہ ملنے  سے لوگ فاقوں پرمجبور،ادویات نہ بچوں کیلئے  دودھ میسر،زمینی،مواصلاتی رابطہ،انٹرنیٹ سروس منقطع،مقبوضہ وادی میں مودی سرکار نے مزید 600اضافی فوجی کمپنیاں تعینات کرنیکا حکم دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق قابض فوج نے ضلع بانڈی پور  کے علاقے سنبل میں جعلی مقابلے میں 4 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا، قابض فوج نے دعویٰ کیا کہ شہید ہونے والے چاروں نوجوان فدائی حملہ آور تھے جنہوں نے فوجی کیمپ میں گھسنے کی کوشش کی،مسلح افراد نے فوجی کیمپ پر گرنیڈ پھینکے اور فائرنگ بھی کی۔ ذرائع کے مطابق شہید ہونے والے کشمیری نوجوان عام شہری  ہیں جو کسی بھی قسم کی جنگجو کارروائیوں میں ملوث نہیں تھے۔چاروں نوجوان سنبل کیمپ کے قریب سے گزر رہے تھے کہ حواس باختہ بھارتی فوج نے انہیں مجاہد سمجھ کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے، واقعہ کے بعد وادی میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ادھرمقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو کی وجہ سے لوگوں کو اشیائے خوردونو ش ، ادویات ، بچوں کا دودھ اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے لوگوں کوکرفیو کے دوران ریلیف کی فراہمی کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں اور انتظامیہ مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور سرکاری اداروں کی افادیت مکمل طورپر ختم ہو چکی ہے۔ چار روز سے جاری کرفیو کی وجہ سے بیشترعلاقوں میں غذائی اجناس کی قلت ، ادویات اور دودھ کی عدم دستیابی نے سنگین رخ اختیار کرلیا ہے اور فاقہ کشی تک نوبت پہنچ گئی ہے۔انتظامیہ نے وادی کشمیر کے چند علاقوں میں کرفیو میں نرمی کی آڑ میں وادی کے دوسرے علاقوں کو بھارتی پولیس اورفورسز کی چھاؤنیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے سخت غیر معمولی اقدامات کئے گئے ہیں اورگلی کوچوں اورعام شاہراؤں پربھارتی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور لوگوں کا اپنے گھروں سے باہر نکلنا نا ممکن بنا دیا گیا ہے۔ بیماروں کو حیات بٰخش دوائیاں نہیں مل پا رہی ہیں ،نو زائیدہ اور چھوٹے بچے دودھ کیلئے ترس رہے ہیں جبکہ لوگوں کو ضروریات زندگی کی چیزیں نہ ملنے کی وجہ سے شدیدمشکلات کا سامنا کرنا ہے۔ ادھروادی کشمیر کازمینی اورمواصلاتی رابطہ مسلسل منقطع ہے۔سرینگر جموں ہائی وے ،مغل روڑاورلیہہ شاہراہ کوبھی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے جبکہ پوری وادی میں موبائل فون ا ورانٹرنیٹ سروسز پربھی مسلسل قدغن جاری ہے۔سو پور میں بھارتی فوج کے ہاتھوں دو کشمیری نوجوانوں کی شہادت نے کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے اور لوگ ایک بار پھر سراپا احتجاج ہیں،اس دوران مظاہروں اور جھڑپوں میں مزید16افراد زخمی ہو گئے۔سرینگر شہر سمیت سوپور، انت ناگ،پلوامہ،کپواڑہ،ترال،بانڈی پورہ،بانہال،پہلگام اور دیگر علاقوں میںگزشتہ روز سوپور کے علاقے نتھی پورہ میں براٹھ کلاں اور بومئی کے دو نوجوانوں کی شہادت پر لوگوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔اس دوران لوگوں نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مساجد کے باہر اکٹھے ہو کر احتجاج کیا اور بھارتی فورسز کے خلاف جلوس نکالے۔اس دوران مظاہرین نے قابض فورسز کے کیمپوں اور گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جس پر قابض فورسز نے گیس اور لاٹھی چارج کا بے دریغ استعمال کیا۔ بعض مقامات پر پیلٹ گنوں کا بھی استعمال کیا جس کی زد میں آکر 16 افراد زخمی ہوئے جبکہ متعدد کو پتھراؤ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا،سب سے زیادہ حالات ترال اور سوپور میں خراب ہوئے جہاں لوگوں نے قابض فورسز کو ناکوں چنے چبوائے اور شدید پتھراؤ کیا۔بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقے میں دو بزرگ شہریوں کو گولی مار کر شہید کر دیا ، کئی علاقوں میں کرفیو کے باوجود کشمیریوں نے مظاہرے کئے۔ بھارتی فورسز نے ہڑتال کی اپیل علی گیلانی،میرواعظ عمرفاروق اوریاسین ملک پرمشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کی تھی۔ علی گیلانی،میرواعظ گھروں میں نظر بند جبکہ یاسین ملک کو سنٹرل جیل سری نگر منتقل کر دیا گیا ہے۔ جموں وکشمیر پیپلز لیگ کے چیرمین مختار احمد وازہ کو گرفتار کر لیا گیا ایڈوکیٹ شاہدا لاسلام، انجینئر ہلال احمد وار اور درجنوں حریت عہدیدارں اور کارکنوں کو گھروں اور تھانوں میں قید ہیں۔ادھر بھارتی وزارت داخلہ نے مقبوضہ کشمیر میں 600اضافی پیرا ملٹری کمپنیوں کو تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے۔علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کے علاقے قاضی گنڈ علاقے میںمجاہدین نے بھارتی فوج کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 2 فوجی ہلاک 5 شدید زخمی ہو گئے۔ فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے بتایا: 5فوجی زخمی ہیں جن میں 2کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔مقبوضہ کشمیر میں سبزار احمد بھٹ و دیگر کشمیریوں کی شہادت کے خلاف مسلسل ساتویں روز ہزاروں افراد نے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے، سڑکوں پر نکل کر پاکستانی پرچم لہرائے اور ہڑتال کی گئی جس سے سری نگر سمیت دیگر علاقوں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ جموں کے کشتواڑ ضلع میں بھی ہڑتال اور مظاہرے کئے گئے۔بڈگام، سری نگر، ترال، کپواڑہ، بانڈی پورہ، شوپیاں ، اسلام آباد (اننت ناگ)، سوپور، بارہمولہ، گاندربل، کلگام اور دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی فوج اور سی آرپی ایف سے ہونے والی جھڑپوں میں متعدد کشمیری زخمی ہوئے ہیں۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online