Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

نقل مکانی کے دوران ہزاروں روہنگیا خواتین لاپتہ

(شمارہ 610)

نقل مکانی کے دوران ہزاروں روہنگیا خواتین لاپتہ

لاوارث ہوجانے والے سینکڑوں بچوں کی حفاظت مسئلہ بن گئی،بنگلہ دیشی کیمپوں میں کچرے پر کھیلتے دکھائی دیتے ہیں، پتے کھا کر بھوک مٹانے پر مجبور ،بھوک اور بیماریوں سے 26 افراد جاں بحق
بیشتر برمی فوج کے حملوں میں اغوا،بنگلہ دیش کے بالوخالی کیمپ پہنچنے والے ہر دوسرے خاندان کے افراد بچھڑ چکے،لٹے پٹے قافلے اپنے پیاروں کے لئے تڑپ رہے ہیں، ریڈ کراس نے تحقیقات شروع کر دیں
 راتھوڈانگ میں 21 دیہات اور3 کیمپوں کو فوج اور بودھ انتہاپسند صفحہ ہستی سے مٹا چکے ،جنوبی راتھو ڈانگ کے بچ جانیوالے5 دیہات بھی نذر آتش کرنیکی دھمکی،8 ہزار مسلمانوں کی زندگیاں خطرے میںہیں
 5لاکھ متاثرین کیلئے قائم 3ہسپتال طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے ناکافی،ہڈی ٹوٹنے ،کان کا پردہ پھٹنے اور دل کے امراض کا علاج میسر نہیں، گنجائش سے زائد مریض داخل، سماجی تنظیموں کو بھی ادویات کی قلت کا سامنا
 2 لاکھ 30 ہزار روہنگیا شیر خوار بچے بھوک سے بلک رہے ہیں،یونیسف،لوگ گڑھوں کا پانی پینے پر مجبور، ‘بارش میں بھیگنے اور گندگی کے باعث وبائی امراض تیزی سے پھیلنے،موت کے سائے منڈلانے لگے

کاکس بازار ،ینگون(نیٹ نیوز)اقوام عالم کی بے حسی کے باعث روہنگیا مسلمانوں کے مسائل میں دن بدن اضافے ہونے لگا، جیانگ بانگ میں 200 مساجد اور مدارس نذر آتش ،نقل مکانی کے دوران ہزاروں روہنگیا خواتین لاپتہ،بیشتر برمی فوج کے حملوں میں اغوا،بنگلہ دیش میں پناہ گزینوں کی تعداد 5لاکھ سے متجاوز ،لاوارث ہوجانے والے سینکڑوں بچوں کی حفاظت مسئلہ بن گئی،بنگلہ دیشی کیمپوں میں کچرے پر کھیلتے دکھائی دیتے ہیں، پتے کھا کر بھوک مٹانے پر مجبور ،بھوک اور بیماریوں سے 26 افراد جاں بحق، 5لاکھ متاثرین کیلئے قائم 3ہسپتال طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے ناکافی،ہڈی ٹوٹنے ،کان کا پردہ پھٹنے اور دل کے امراض کا علاج میسر نہیں، گنجائش سے زائد مریض داخل، سماجی تنظیموں کو بھی ادویات کی قلت کا سامنا، 2یونیسیف کے مطابق  لاکھ 30 ہزار روہنگیا شیر خوار بچے بھوک سے بلک رہے ہیں،لوگ گڑھوں کا پانی پینے پر مجبور، ‘بارش میں بھیگنے اور گندگی کے باعث وبائی امراض تیزی سے پھیلنے،موت کے سائے منڈلانے لگے، راتھوڈانگ میں 21 دیہات اور3 کیمپوں کو فوج اور بودھ انتہاپسند صفحہ ہستی سے مٹا چکے ،جنوبی راتھو ڈانگ کے بچ جانیوالے5 دیہات بھی نذر آتش کرنیکی دھمکی،8 ہزار مسلمانوں کی زندگیاں خطرے میںہیں۔ تفصیلات کے مطابق  روہنگیا سے بنگلا دیش نقل مکانی کرنے کے دوران ہزاروں خواتین اور بچیوں کے لاپتہ ہونے کا انکشاف   ہوا ہے،بنگلا دیش میں بالوخالی کیمپ میں پہنچنے والے لٹے پٹے کافلے اپنے پیاروں کے لیئے تڑپ رہے ہیں، کاکس بازار کے جنگل میں قائم ہونے والے چوتھے کیمپ کو بالوخالی کا نام دیا گیا ہے ‘ ان کیمپوں میں زیادہ تر افراد فریندم کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں برمی فوج اور بدھ مت کو ماننے والی بدھ مت کی انتہا پسند تنظیموں نے نقل مکانی پر مجبور کردیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کے دوران برمی فوجیوں اور انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے خواتین کو اغوا کرلیا گیا ہو۔معلوم ہوا ہے کہ بیشتر افراد حملوں کے دوران غائب ہوئے اور ان کا کہیں کوئی سراغ نہیں ملا۔ذرائع کاکہنا ہے کہ بدھ مت اکثریتی علاقوں میں سرچ آپریشن کی ضرورت ہے تاکہ اغوا کی گئی خواتین کو باحفاظت بازیاب کرایا جاسکے۔فریندم اور کیندم میں برما فوجی آپریشن کے دوران درجنوں خواتین کی عصمت دری کی گئی اور انہیں زندہ جلادیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ روہنگیا سے ہجرت کرنے پر مجبور درجنوں افراد اپنے خاندان کے لاپتہ افراد کے لئے کبھی اس کیمپ تو کبھی اس کیمپ کے چکر کاٹ رہے کہ کس طرح ان کے بچھڑے پیارے مل جائیں۔ریڈ کراس کے نمائندے کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کا سراغ لگانا ریڈ کراس کی پہلی ترجیح ہے اس سلسلے میں مختلف ملکوں میں نمائندوں کو ٹاسک بھی دے دیا گیا ہے کہ برمی آبادیوں میں رابطہ کرکے لاپتہ افراد کا ڈیٹا اکھٹا کیا جائے تاکہ ان کی بازیابی کے حوالے سے اقدامات کئے جاسکیں ‘ بنگلادیش کیمپ میں بھی متاثرین سے انکے لاپتہ افراد کا ڈیٹا جمع کیا جارہا ہے تاکہ ان کا سراغ لگایا جائے کہ وہ رخائن اور کاکس بازار کے درمیان کہاں غائب ہوگئے یا کردیئے گئے۔ادھر رخائن کے علاقے جنوبی راتھو ڈانگ میں محصور8 ہزار روہنگیا مسلمانوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ بودھ دہشت گردوں کی جانب سے محاصرے کے باعث 5 دیہات میں کھانے پینے کی اشیا ختم ہو چکی ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق برما کے صوبے رخائن کے علاقے راتھوڈانگ میں 21 دیہات اور3 کیمپوں کو برمی فوج اور بودھ انتہاپسند صفحہ ہستی سے مٹا چکے ہیں اور وہاں کے تقریبا28 ہزار مکین ہجرت کر کے بنگلہ دیش جا چکے ہیں۔اس علاقے میں 5 دیہات ابھی تک حملوں سے محفوظ رہے ہیں جن کی آبادی8 ہزار سے زائد ہے۔سمندر کے قریب واقع ان دیہات کے مکین بھی محفوظ مقام پر منتقل ہونا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس کشتیاں نہیں ہیں۔اطلاعات کے مطابق بودھ دہشت گردوں نے ان دیہات کا محاصرہ کر رکھا ہے اور نذر آتش کرنے کی دھمکی دے دی ہے جبکہ خوراک کا ذخیرہ ختم ہونے سے لوگ فاقوں پر مجبور ہیں۔ 5لاکھ متاثرین کے لئے قائم 3اسپتال طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے ناکافی ہیں۔ 11کیمپوں میں موجود درجنوں موبائل اسپتال اور کلینکس محض ڈائریا اور بخار جیسی بیماریوں کا علاج کررہی ہیں،ہڈی ٹوٹنے ،کان کا پردہ پھٹنے اور دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیئے اسپتال سہولیات نہ ہونے سے مسائل بڑھ گئے ۔مہاجرین کا ریکارڈ جمع کرنے والے محکمہ امیگریشن کے ذرائع سے حاصل معلومات کے مطابق لیراہ کیمپ میں 40ہزار ، ،تمبوروبارڈر کیمپ میں 40ہزار،خترور گاؤں25یزار،پلونگ خالی کیمپ میں ساڑھے 4ہزار ،اونگی گاؤں ساڑھے 5ہزار ،ٹبکناف شفوڈیا میں 25ہزار اور ٹیکناف سفارتگ کیمپ میں 15ہزار روہنگیا متاثرین آچکے ہیں۔ہسپتالوں میں سہولیات ناکافی ہیں  اور لوگ گڑھوں کا پانی پینے پر مجبور ہیں۔میانمار کی ریاست اراکان سے نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش کے کتو پالنگ کیمپ پہنچنے والے 63 سالہ عالم دین مولانا دل محمد نے مسلم اکثریتی علاقے جیانگ بانگ کی تباہی کا منظر کھینچا ‘دل دہلادینے والی تفصیلات میں انہوں نے  بتایا کہ وہ جیانگ بانگ نامی علاقے میں مکین ہیں،مذکورہ علاقے میں جامعہ اسلامیہ خدام الاسلام کے نام سے دینی درسگاہ قائم تھی جہاں وہ گزشتہ کئی سال سے درس وتدریس کے شعبہ سے وابستہ تھے۔ 25 اگست کو سرکاری سرپرستی میں کیئے گئے حملے میں وہاں قائم تمام گھروں کو آگ لگادی گئی جبکہ علاقے میں موجود 2 سو سے زائد مساجد و مدارس کو بھی جلایا گیا ، زیادہ تر شہادتیں مسلمانوں کو زندہ جلانے اور ذبح کرنے کے باعث ہوئی ہیں جبکہ 5 سو سے زائد افراد فوج کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کی زد میں آکر شہید ہوئے۔بنگلہ دیش کی حکومت نے میانمار سے آنے والے چار لاکھ روہنگیا مسلمان اقلیت کو پناہ دینے کے لیے ایک جامع منصوبے کا اعلان کیا ہے۔حکام کے مطابق بنگلہ دیش میں امدادی ادارے فوج کے تعاون سے آئندہ دس روز میں نیا کیمپ بنائیں گے، جس میں 14 ہزار عارضی پناہ گاہیں تعمیر کی جائیں گی۔روہنگیا اقلیت کے پرانے کیمپ کے ساتھ بننے والے اس نئے کیمپ میں 14 ہزار رہائش گاہوں میں سے ہر ایک یونٹ میں چھ خاندان رہائش پذیر ہوں گے۔ رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے دیہات پر برمی فوج اور دہشت گرد بودھ گروپوں کے وحشیانہ حملوں کے بعد بنگلہ دیش پہنچنے والے سیکڑوں لاوارث بچوں کی حفاظت مسئلہ بن گئی۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ پریشان ہے۔ سیکڑوں بچے ماں باپ یا رشتے داروں کے بغیر کٹھن سفر طے کرکے بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔اقوام متحدہ کے امدادی ادارے بنگلہ دیشی کیمپوں میں ان بچوں کو ریکارڈ جمع کررہے ہیں، جو ننگے پاؤں کچرے کے ڈھیروں پر کھیلتے ہوئے پائے گئے۔ان میں لڑکیاں بھی شامل ہیں

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online