Bismillah

627

۱تا۷جمادی الاولیٰ۱۴۳۹ھ   بمطابق ۱۹تا۲۵جنوری۲۰۱۸ء

ترال میں جیش کے مجاہد عمر خطاب جام شہادت نوش کرگئے

(شمارہ 623)

ترال میں جیش کے مجاہد عمر خطاب جام شہادت نوش کرگئے

مجاہدین جیش اور انڈین آرمی کے درمیان آخری اطلاعات تک بٹہ مرن کے علاقے میں کئی گھنٹوں سے جھڑپ جاری تھی،دشمن کا بھاری مقدار میں جانی و مالی نقصان،جعلی مقابلوں میں مزید 5 کشمیری  شہید،میتیں دینے سے فورسز کا انکار
ضلع پلوامہ کے علاقے لام کے جنگل میں کبھی کبھار استعمال ہونیوالی مجاہدین کی ہائیڈمیں قابض فورسز فورسز نے اطلاع پر مائن لگادی جو مجاہد عمر خطاب کا پاؤں آنے سے پھٹ گئی جس سے وہ موقع پر شہید ہوگئے
مجاہد عمر خطاب کے دیگر ساتھی بحفاظت وہا ں سے نکل گئے،شہید مشاہد خان عرف عمرنے طویل عرصہ تک کشمیر کے محاذ پر جہادی خدمات انجام دیں،بھارتی فوج نے ٹیکسی ڈرائیور کو شہید کردیا، مسجد سے لاش برآمد
انڈین فورسز کی  شوپیاں میں 10دیہاتوں کا محاصرہ کر کے گھر گھر تلاشی ، اطلاع ملتے ہی  بڑی تعداد میں لوگ گھروں سے نکل آئے،قابض فورسز پر شدید پتھراؤ ،مظاہرین کومنتشر کرنے کیلئے آرمی کی وحشیانہ شیلنگ
بھارتی فورسز نے حریت قیادت کا مارچ روک دیا،کئی مقامات پر فوج اورشہریوں میں شدید جھڑپیں ، انٹرنیٹ سروس معطل ،مقبوضہ کشمیر میں برف باری اور بارش کے باوجودبدترین کریک ڈاؤن،درجنوں گرفتار

سرینگر(نیٹ نیوز) ترال میں جیش محمدﷺ کے مجاہد عمر خطاب جام شہادت نوش کرگئے جبکہ شوپیاں کے علاقے بٹہ مرن کے علاقے میں قابض فورسز اور مجاہدین جیش کے درمیان طویل ترین خونزیز جھڑپ میں انڈین آرمی کے ایک درجن فوجی ہلاک اور 8 زخمی ہوگئے،جھڑپ میں قابض فوج کا شدید مالی نقصان بھی ہوا۔اطلاعات کے مطابق پیر کی شام 7 بجے شروع ہونے والی جھڑپ منگل تک جاری رہی جس میں مجاہدین نے دشمن کو شدید نقصان پہنچایا جبکہ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں قابض فورسز کی جانب سے جعلی مقابلوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں 5 افراد کو شہید کردیا جبکہ ایک ٹیکسی ڈرائیور کی لاش بھی مسجد سے ملی جسے فورسز نے ہی نشانہ بنایا۔تفصیلات کے مطابق ترال کے علاقہ لام میں جیش محمد کے مجاہد عمر خطاب جام شہادت نوش کر گئے،ضلع پلوامہ کی تحصیل ترال کے علاقے لام کے جنگل میں مجاہدین کی ایک ہائیڈ آؤٹ تھی جسے مجاہدین کبھی کبھار استعمال کرتے تھے، دشمن نے اطلاع پر وہاں مائن لگا دیئے جس سے مجاہدین بے خبر تھے۔ ایک رات جب مجاہدین ادھر گئے تو اندھیرے میں ایک مجاہد کا پاؤں مائن پر آنے سے دھماکہ ہوگیا جس سے بھائی عمر خطاب موقع پر شہید ہوگئے جبکہ باقی ساتھی بحفاظت وہاں سے نکل گئے۔ شہید مجاہد مشاہد خان عرف عمر طویل عرصہ تک کشمیر کے محاذ پر برسرپیکار رہتے ہوئے جہادی خدمات انجام دیں۔ادھرپیر کی شام مجاہدین جیش محمد اور انڈین   آرمی کے درمیان خون ریز تصادم ہوا،انڈین آرمی CRPF  اورSOGنے شوپیاں کے علاقہ بٹہ مرن اور اس کے ملحقہ 10گاؤں کا محاصرہ کر کے گھر گھر تلاشی شروع کی .محاصرے کی اطلاع ملتے ہی لوگ گھروں سے نکل آئے اورآرمی پر شدید پتھراؤ شروع کر دیا. گاؤں کے کئی مقامات پر شدید تصادم ہوئے .مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آرمی نے بے تحاشہ شیلینگ کی۔رات 7بجے آرمی اور مجاہدین کے درمیان جھڑپ شروع ہوئ.جو تاحال جاری ہے. جس میں دشمن کے بھاری جانی ومالی نقصان کی خبریں موصول ہوئی ہیں ۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جھڑپ میں ایک درجن بھارتی فوجی جہنم واصل کئے گئے جبکہ 8 فوجی زخمی ہوئے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے جعلی مقابلے میں مزید5کشمیری شہید کر دئیے، جب کہ فائرنگ کی زد میں آ کر راہگیر خاتون بھی شہید ہو گئی۔ لوگوں کا احتجاج،پتھراؤ،بھارتی فورسز نے ہندواڑہ اور بارہمولہ میں کارروائی کی، شہداکی شناخت نہ ہو سکی۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے بچھائی گئی بارودی سرنگ سے ٹکرا کر ایک نوجوان شہید ہو گیا ہے جبکہ گزشتہ روز حریت قیادت کا اسلام آباد چلو پروگرام روکنے پر صورتحال دوسرے روز بھی کشیدہ رہی جہاں لوگوں نے بھارتی فورسز کے تشدد اور گرفتاریوں کیخلاف احتجاج کیا اور زیر حراست افراد کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جنوبی قصبہ اننت ناگ میں سنگبازی اور ٹیئر گیس شلنگ کے واقعات رونما ہوئے۔ قصبہ کے کاڑی پورہ میں نوجوانوں نے بندشوں کو توڑتے ہوئے سڑکوں پر آکر، احتجاج کرتے ہوئے پیش قدمی کی تاہم پہلے سے موجود فورسز اور پولیس اہلکاروں نے انکی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ احتجاجی مظاہرین نے فورسز اور پولیس پر سنگبازی کی جبکہ فورسز نے ٹیر گیس کے گولے داغے۔ یہ صورتحال کافی دیر تک جاری رہی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ دوسرے روز بھی انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔ بھارتی فورسز کے ہاتھوں لوگوں پر تشدد اور گرفتاریوں کیخلاف ہفتہ کو دوسرے روز میں صورتحال کشیدہ رہی۔ مختلف علاقوں میں لوگوں نے احتجاج کیا اور ریلیاں نکالیں۔ مظاہرین گرفتار رہنماؤں اور کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس دوران مشتعل مظاہرین نے بھارتی فورسز پر پتھراؤ کیا اور شدید نعرے بازی کی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے مجاہدین کی تلاش کے دوران فائرنگ کر کے غریب ٹیکسی ڈرائیور کو شہید کر دیا ہے جبکہ ترال میں مسجد سے ایک کمبل میں لپٹی لاس برآمد ہو ئی ہے، بھارتی راجستھان میں ایک کشمیری طالب علم کی پر اسرا ر موت ہوئی جسے بھارتی حکام نے خود کشی قرار دیا ہے، وادی میں بھارتی مظالم کیخلاف احتجاج جاری ہے، یاسین ملک کو چار روز بعد ضمانت پر پھر رہا کر دیا گیا۔ دریں اثناء  بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔وادی کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں۔ اس دوران مشتعل مظاہرین نے بھارتی فورسز پر پتھراؤبھی کیا تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔وادی میں کاروباری اور تجارتی مراکز بند ہونے کے باعث لوگوں کو شدید دشواری کا سامنا ہے۔ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بدستور معطل ہے جبکہ ریل سروس بحال کر دی گئی ہے۔ ادھر لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک اور دوسرے افراد جنہیں پولیس نے 10 دسمبر کو گرفتار کرکے سرینگر سینٹرل جیل منتقل کیا تھا کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ بھارتی فوج کی طرف سے بائیس سالہ کشمیری نوجوان کی شہادت کے بعد کپواڑہ میں پرتشدد مظاہرے کیے گئے ،ہزاروں کشمیریوں نے سڑکوں پر نکل کر بھارتی فورسز پر شدید پتھراؤ کیا۔ بھارتی فوج نے بدترین لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ ایس ایس پی کپواڑہ شمشیر حسین نے آصف اقبال کو شناخت کے معاملہ میں غلطی پر شہید کرنے کا اعتراف کیا ہے۔آصف اقبال کی شہادت کے بعد کپواڑہ میں سخت کشیدگی کا ماحول رہا۔ کشمیری مرد و خواتین نے مظاہرے کئے اور بھارتی فورسزاہلکاروں کی درندگی کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی گئی۔بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ نوجوان کراس فائرنگ کے دوران شہید ہوا ہے۔ کشمیری مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے قاتل ہندوستانی فوجی اہلکاروں کی گرفتاری اور انہیں سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔مقبوضہ کشمیر میں برف باری اور بارش کے باوجود بھارتی فوج کا کریک ڈاؤن اور محاصرے،جھڑپوں میں 5افراد زخمی،قابض فورسز مجاہدین کی موجودگی کی آڑ لے لوگوں کو شدید سردی میں بھی کئی گھنٹے گھروں سے باہر کھڑا رکھا،خواتین اور بچوں پر تشدد،گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کی۔مقبوضہ کشمیر میں بنک کی خالی کیش وین پر حملہ،2 سکیورٹی اہلکار ہلاک، ایک زخمی، حملہ آور اسلحہ لے کر فرار، بھارتی فوج کا ہندواڑہ کے 5شہداء کی میتیں مقامی لوگوں کو دینے اور شناخت جاری کرنے سے انکار، جس پر لوگوں نے شدید احتجاج، ہزاروں احتجاجی لوگ سڑکوں پر امڈ آئے، شمالی کشمیر میں انٹرنیٹ سروس منقطع،کاروباری اور تجارتی مراکز بند، نظام زندگی معطل،کولگام تھانے میں ساتھی کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا پولیس اہلکار7روز بعد دم توڑ گیا۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online