Bismillah

656

۲۸ذوالقعدہ تا ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۷تا۳۰اگست۲۰۱۸ء

5 امریکیوں سمیت 140 اتحادی ہلاک،2 ہیلی کاپٹر تباہ

(شمارہ 633)

5 امریکیوں سمیت 140 اتحادی ہلاک،2 ہیلی کاپٹر تباہ

موسم بہارشروع ہوتے ہی طالبان کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کی تیاریاں،جنگ تیز کرنے کے لئے 800 امریکی فوجی مشیر کابل پہنچ گئے،35 ہزار اہلکاروں پر مشتمل نئی ملیشیا فورس کو تربیت دیں گے
طالبان کیخلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کی تیاریاں،جنگ تیز کرنے 800 امریکی فوجی مشیر کابل پہنچ گئے،35 ہزار اہلکاروں پر مشتمل نئی ملیشیا فورس کو تربیت دینگے
نیٹو ہیڈ کوارٹرز اور امریکی سفارتخانے کے قریب پیدل بمبار نے فورسز کی گاڑی اڑائی، ہلمند میں پولیس ہیڈکوارٹرز، آرمی بیس سے بارود بھری گاڑیاں ٹکرائی گئیں
سینکڑوں مجاہدین کا فراہ کے اہم فوجی اڈے پر دھاوا، گھمسان کی جنگ کے دوران 25  اہلکار نشانہ بنے، 3 ٹینک تباہ،کابل اور ہلمند میں انٹیلی جنس دفاتر پر دھماکے
نہر سراج میں اسلحہ سے بھرے اڈے پر قبضہ،فراہ میں مجاہدین حملوں میں33 اہلکار ہلاک ،فاریاب میں 40  فوجی محصور،،کابل وغزنی، چیف ایگزیٹو سمیت 8 ہلاک
کابل میںسابق سینیٹر 2محافظوں سمیت ہلاک،لغمان ، پکتیکا میں 23 اہلکار کام آئے،ہلمندمیں فوجی چوکی ، زابل میں کاروان پر حملہ، 3 رینجرز گاڑیاں بھی تباہ

کابل(نیٹ نیوز) طالبان کے تباہ کن اور وسیع حملوں سے افغانستان لرز اٹھا، 5 امریکیوں سمیت 140 اتحادی ہلاک،2 ہیلی کاپٹر تباہ،درجنوں چوکیوں پر مجاہدین کا قبضہ، سینکڑوں مجاہدین کا فراہ کے اہم فوجی اڈے پر دھاوا، گھمسان کی جنگ کے دوران 25  اہلکار نشانہ بنے، 3 ٹینک تباہ،کابل اور ہلمند میں انٹیلی جنس دفاتر پر دھماکے، نہر سراج  میں اسلحہ سے بھرے اڈے پر بھی قبضہ دوسری جانب موسم بہارشروع ہوتے ہی طالبان کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کی تیاریاں،جنگ تیز کرنے کے لئے 800 امریکی فوجی مشیر کابل پہنچ گئے جو35 ہزار اہلکاروں پر مشتمل نئی ملیشیا فورس کو تربیت دیں گے،فراہ میں مجاہدین حملوں میں33 اہلکار ہلاک ،فاریاب میں 40  فوجی محصور،ہتھیار ڈالنے کی صورت میں چھوڑنے پر طالبان رضامند، بالابلوک کے بازار میں شدید لڑائی،کابل وغزنی، چیف ایگزیٹو   سمیت 8 ہلاک۔ تفصیلات کے مطابق طالبان کے تابڑ توڑ حملوں سے افغانستان لرز اٹھا جس کے نتیجے میں 140اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ سیکڑوںمجاہدین نے صوبہ فراہ کے اہم فوجی اڈے پر دھاوا بول دیا۔گھمسان کی جنگ کے دوران 25 فوجی نشانہ بنے اور 3 ٹینک بھی تباہ ہو گئے۔ حملہ آور 2فوجیوں کو ساتھ لے گئے۔ دارالحکومت کابل میں نیٹو ہیڈ کوارٹر اور امریکی سفارتخانے کے قریب پیدل بمبار نے فورسز کی گاڑی اڑا دی۔ ہلمند میں پولیس ہیڈ کوارٹر، خفیہ ادارے کے دفاتر اور عسکری کیمپ سے بارود بھری گاڑیاں ٹکرائی گئیں۔ 3 گھنٹے جاری رہنے والی لڑائی میں افغان فوج کے 3 ٹینک بھی تباہ ہو گئے، جب کہ طالبان نے اسلحہ سے بھرے فوجی اڈے پر بھی قبضہ کر لیا۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے دعویٰ کیا ہے کہ کنسک کے بڑے فوجی اڈے پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے، جس میں بڑی تعداد میں ہلکے و بھاری ہتھیار اور گاڑیاں موجود ہیں۔ لڑائی میں بڑی تعداد میں فوجی ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔افغانستان کے شمالی صوبہ فراہ میں طالبان کے حملوں میں 33سیکورٹی اہلکار ہلا ک ہو گئے جبکہ پولیس نے ضلع بالابلوک پر قبضے کے لئے پیش قدمی شروع کر دی ہے اور آخری اطلاعات تک تین چیک پوسٹوں پر قبضے کے بعد پیش قدمی کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق طالبان نے گزشتہ رات مشرق اور شمال کی جانب سے اچانک حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 33سیکورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 4کوطالبان اپنے ساتھ لے گئے ۔ادھر افغانستان میں طالبان کیخلاف جنگ تیز کرنے کے لئے 800امریکی فوجی مشیر کابل پہنچ گئے ہیں جس کے بعد امریکی فوج نے طالبان کے زیر قبضہ 80فیصد علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے منصوبہ بندی کا آغاز کردیا ہے موسم بہارشروع ہوتے ہی طالبان کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا جائے گا،آپریشن کے لئے امریکی ہدایت پر افغان حکومت نے 35ہزاراہلکاروں پر مشتمل نئی ملیشیا فورس تیار کرنا بھی شروع کردی ہے ملیشیا فورس کو امریکی مشیر تربیت دیں گے اور فورس کو طالبان کے خلاف آپریشن میں اگلے مورچوں پر رکھا جائے گا،دوسری جانب کابل میں افغان چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ کے مشیر اور جمعیت اسلامی افغانستان کے رہنماء رفیع اللہ گل افغان کو دوگارڈز سمیت نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیاہے۔ شمالی صوبہ فاریاب کے ضلع پشتونکوٹ میں طالبان اور افغان فوج کے درمیان جھڑپوں کے بعد 40سے زائد افغان فوجی محاصرے میں آگئے ہیں اور افغان طالبان نے ہتھیار ڈالنے کی صورت میں انہیں جانے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے کابل شہر اور صوبہ غزنی میں کٹھ پتلی دشمن کو نشانہ بنایا۔موصولہ رپورٹ کے کابل شہر کے خیرخانہ کوتل کے علاقے میں مجاہدین نے انتظامیہ کے چیف ایگزیٹو ڈاکٹرعبداللہ کے مشیر  رفیع اللہ گل افغان کو  موت کے گھاٹ اتار دیا۔رپورٹ کے مطابق صوبہ غزنی ضلع گیرو کے مرکز اور آس پاس چوکیوں پر مجاہدین نے ہلکے وبھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جو دیر تک جاری رہا، جس کے نتیجے میں سات اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہونے کے علاوہ دشمن کو بھاری مالی نقصان بھی پہنچا۔منصوری آپریشن کے سلسلے میں صوبہ ہلمند کے صدر مقام لشکرگاہ شہر اور ضلع نادعلی میں فوجی مراکز پر شہیدی حملے ہوئے، مرکز میں 150 فوجی رہائیش پزیر تھے فدائی مجاہد نے بارودی مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے  فدائی  حملہ انجام دی، جس سے مرکز منہدم اور اہم کمانڈروں سمیت سیکڑوں فوجی ہلاک وزخمی ہوئے۔علاوہ ازیں صوبہ ہلمند کے گرشک ونادعلی اضلاع میں چوکی پر حملہ ہوا۔موصولہ رپوٹ کے مطابق ضلع گرشک کے نہر سراج کے علاقے کے دو بند مقام پر واقع چوکی پر حملہ ہوا، جس سے چوکی فتح، 9 فوجی ہلاک، ایک زخمی ہوا۔یاد رہے کہ مجاہدین نے 2 ہیوی مشن گن، ایک راکٹ لانچر، 6 کارمولی اور 2 مارٹرتوپوں سمیت مختلف النوع فوجی سازوسامان غنیمت کرلیا۔ضلع نادعلی سے اطلاع ملی ہے کہ کوچیان اور مالدار کے علاقوں میں دشمن پر حملہ ہوا، جس سے 9 فوجی ہلاک ہوئے۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے صوبہ فراہ کے صدر مقام فراہ شہر میں ائیربیس پر حملہ، جبکہ ضلع بالابلوک میں دشمن فرار ہوا۔ نام نہاد کمانڈوز نے امریکیوں ہمراہ ضلع بالابلوک کے گنج آباد اور گرانہ کے علاقوں میں آپریشن کا آغاز کیا، جن پر مجاہدین نے حملے وبم دھماکے کیے، جس سے پانچ امریکی اور 16 کمانڈوز ہلاک، 6 امریکیوں اور 32 کٹھ پتلی زخمی، جبکہ متعدد فوجی گاڑیاں تباہ ہونے کے علاوہ دشمن نے فرار کی راہ اپنالی۔جہادی ذرائع نے ضلع اناردرہ سے کہا کہ چھوٹا دھنہ میں لیزر گن سے 2 پولیس ہلاک، جبکہ ایک زخمی ہوئے۔ صوبہ فراہ کے صدر مقام شمالگاہ کے علاقے میں واقع چوکیوں پر حملہ ہوا، جس سے 3 چوکیاں فتح، 26 فوجی وپولیس ہلاک، متعدد زخمی، جبکہ 10 گرفتار ہوئے۔صوبہ ہلمند ضلع نادعلی سے اطلاع ملی ہے کہ کوچیان اور مالدار کے علاقوں میں دشمن کے مراکز پر حملہ ہوا، جس سے ایک چوکی فتح، 20 پولیس ہلاک، ایک گاڑی تباہ، جبکہ مجاہدین نے مختلف النوع فوجی سازوسامان غنیمت کرلیا۔طالبان کی جانب سے کئے جانے والے حملوں میں کم از کم 30 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کے یکے بعد دیگرے حملوں میں 30 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔ ترجمان افغان وزراتِ داخلہ نجیب دانش نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ رات گئے سب سے بڑا حملہ مغربی صوبے فرح کے ضلع بالابلوک میں کیا گیا جہاں طالبان نے ایک فوجی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا، طالبان اور اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ صبح تک جاری رہا اور اس خونریز مقابلے میں 25 فوجی ہلاک ہوئے، طالبان نے چیک پوسٹ پر قبضہ کرلیا اور فرار ہوتے ہوئے سرکاری اسلحہ و گاڑیاں ساتھ لے گئے۔افغانستان کی وزراتِ دفاع کے ترجمان کے مطابق طالبان کی جانب سے دوسرا حملہ دارالحکومت کابل کے علاقے شش درک میں کیا گیا جہاں نیٹو کا ہیڈ کوارٹر، امریکی سفارت خانہ،  ملکی خفیہ ادارے کا دفتر اور دیگر ممالک و بین الاقوامی اداروں کے دفاتر بھی قریب ہی تھے، حملہ خود کش تھا اور بمبار نے سخت حفاظتی حصار میں گھرے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 3 سیکورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے۔تیسرا حملہ صوبہ  ہلمند کے لشکر گاہ شہر کے ضلع نادِعلی میں واقع ایک فوجی اڈے کے قریب کیا گیا، سکیورٹی فورسز کے مطابق حملہ آور کو گولی مار دی گئی تھی تاہم حملہ آور نے دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی فوجی اڈے کے مرکزی گیٹ پر اڑادی جس کے نتیجے  میں دو فوجی ہلاک ہوگئے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online