Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

150 سے زائد افغان حفاظ،21کشمیری اور18فلسطینی شہید، سینکڑوں زخمی

(شمارہ 638)

150 سے زائد افغان حفاظ،21کشمیری اور18فلسطینی شہید، سینکڑوں زخمی

قندوز میں دستار بندی تقریب کے دوران مسجدکو امریکی طیاروں نے بمباری کا نشانہ بنایا،200 زخمیوں میں بچے اور خواتین بھی شامل،صوبہ کاپیسا میں اتحادی فورسز کی گھروں میں لوٹ مار،فراہ میں بھی مسجد پر امریکی ڈرون حملہ،15 حفاظ شہید
 شوپیاں میں دہشت گرد بھارتی فورسز نے جعلی مقابلوں میں21 نہتے کشمیریوں کو شہید کردیا، کچدرا اور درا گڑھ میں کیمیکل پھینک کر4 مکانات جلا دیئے گئے،شہادتوں کیخلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، فوجیوں نے گولیاں برسادیں،سینکڑوں زخمی
غزہ میں سفاک صہیونی فوجیوں کی نہتے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ،15 شہید،1400 سے زائد زخمی،آنسو گیس کے شیل پھینکنے کیلئے ڈرونز کا استعمال،اسپتال بھر گئے،7خان یونس میں نشانہ بنے، سرحدی باڑ کیساتھ 5 مقامات پر 17 ہزار فلسطینی جمع
فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں دہشت گرد صہیونی اور قابض مودی فورسز کے مظالم پر اقوام عالم کی بے حسی برقرار ، مسلم ممالک بھی نہ جاگے،نصف افغانستان پر طالبان قبضے کی روسی تصدیق،غزنی میںاتحادی فورسز کا آپریشن ناکام،امارت اسلامیہ میں طالبان نے 55 اہلکاروں کو نشانہ بنایا

کابل(نیٹ نیوز) افغانستان ، کشمیر اور فلسطین لہو لہو،افغانستان کے صوبہ قندوز میں افغانستان کے صوبہ قندوز میں مسجد پر امریکی بمباری سے150 سے زائد حفاظ شہید جبکہ 200 افراد زخمی ہو گئے۔ بمباری اس وقت کی گئی جب فارغ التحصیل حفاظ قرآن کریم کی دستار بندی تقریب ہورہی تھی۔ شہید ہونے والوں میں متعدد بچے اور خواتین بھی شامل ہیں،مسلمانوں پر مظالم کے خلاف اقوام عالم کی بے حسی برقرار جبکہ اسلامی ممالک بھی نہیں جاگے، دوسری جانب مجاہدین نے سخت انتقام لینے کا اعلان کیا اعلان کیا، فراہ میں امریکی ڈرون حملے میں بھی 15 حفاظ نے جام شہادت نوش کیا، امارت اسلامیہ میں طالبان کے مختلف حملوں میں 55 اتحادی   اہلکار مارے گئے۔ تفصیلات کے مطابق افغان صوبہ قندوز کے ضلع دشت ارچی کی مرکزی جامع مسجد پر امریکی طیاروں کی بمباری سے150 سے زائد حفاظ شہید ہو گئے۔ بمباری سے200 افراد زخمی بھی ہوئے ان میں حافظ قرآن اساتذہ۔ نوجوان اور طالبات بھی شامل ہیں۔ بڑی تعداد میں بچیاں ناظرہ پڑھنے کیلئے مسجد و مدرسے میں آئی تھیں۔ضلعی گورنر نصر الدین نے تصدیق کی کہ شہید ہونیو الے تمام افراد حافظ قرآن تھے۔ شہدا کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ قندوز کے پولیس سربراہ حمید اللہ نے بتایا کہ ہم نے بچیوں کی لاشیں بھی نکالی ہیں لیکن زیادہ تعداد لڑکوں کی ہے تاہم امریکیوں نے مدارس کے طلبہ کو جنگجو طالبان سمجھ کر بمباری کی۔میڈیا کے مطابق بڑی تعداد میں زخمی بچیوں کو اسپتال داخل کرا یا گیا ہے۔ادھر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی فوجیوں اور اپنے دیگر اتحادیوں کو سمجھائے کہ جنگجو طالبان اور مدرسے کے عام طلبہ میں فرق ہے اور مقامی لوگ مدارس کے عام طلبہ کو طالبان کہتے ہیں۔ انہوں نے قندوز کے شہدا کا بدلہ لینے کا بھی اعلان کیا۔علاوہ ازیں طالبان کے مطابق امریکی و افغان فوجوں نے صوبہ کاپیسا ضلع تگاب کے سہ پدر کے علاقے میں سویلین آباد پر چھاپہ مار کرگھروں میں لوٹ مار کی، اس دوران ایک نہتے شہری کو شہید جبکہ دس کو حراست میں لیا۔ادھر روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے اعتراف کیا ہے کہ افغانستان کے نصف حصے پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے تاشقند میں افغان امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے افغانستان میں قدم جمالیے ہیں اور روزانہ کی بنیاد ملک کے کسی نہ کسی حصے میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ادھر  صوبہ فراہ میں اکی مسجد میں دستاربندی کی تقریب کے دوران امریکی ڈرون حملے میں 15 سے زائد حفاظ قرآن ، عالم دین شہید ہو گئے۔ قابض امریکیوں پر صوبہ ہلمند ضلع گرمسیر میں بم دھماکہ ہوا۔موصولہ اطلاع کے مطابق شمالانئی کے علاقے میں امریکن ٹینک بارودی سرنگ ٹکراکر تباہ اور اس میں سوار امریکی ہلاک وزخمی ہوئے۔غزنی شہر کے سیدان اور گل سرخ کے علاقوں  میں مجاہدین نے فوجی کاروان پر ہلکے و بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا،  جس کے نتیجے میں 5 اہلکار ہلاک جبکہ 10 سے زائد زخمی  اور ایک ٹینک بھی تباہ ہوا۔کٹھ پتلی فوجوں کے کاروان پر امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے صوبہ غزنی کے  شلگر اور گیلان اضلاع میں حملہ کیا۔آمدہ رپورٹ کے مطابق ضلع شلگر کے زاڑہ شار کے علاقے میں مجاہدین نے فوجی کاروان پر ہلکے و بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو ٹینک تباہ ہونے کے علاوہ چار اہلکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے۔ذرائع کے مطابق دشمن کی آس پاس بیدریغ فائرنگ کے دوران دو مجاہدین اور دو راہ گیر بھی زخمی ہوئے۔دوسری جانب  ضلع گیلان کے چیرلی کے علاقے میں فوجی کاروان پر ہونے والے اسی نوعیت حملے کے دوران ایک ٹینک اور ایک آئل بھرا ٹینکر تباہ ہونے کے علاوہ دشمن کو ہلاکتوں کا سامنا بھی ہوا۔فراہ وروزگان میں متعدد چوکیاں طالبان نے فتح کرلیں،حملے میں 26 کمانڈوز ہلاک وزخمی ہوئے، طالبان نے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود غنیمت کرلیا۔ضلع خاص روزگان کے ضلعی مرکز کے دفاعی خطوط پر مجاہدین نے ہلکے وبھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جو اطلاع آنے تک جاری رہا، جس سے اب تک 2 چوکیاں فتح، 20 اہلکار ہلاک ہوئے۔

سرینگر(نیٹ نیوز) قابض بھارتی فوج کا نہتے کشمیریوں کے خلاف ظلم و ستم کا سلسلہ نہ رک سکا۔فورسز نے مظالم کی انتہا کردی، شوپیاں میں سرچ آپریشن کے دوران جعلی مقابلے میں 21 کشمیریوں کو شہید کردیا، قابض فورسز نے کیمیکل سے 4 مکانات بھی اڑا دیئے،شہادتوں کے بعد وادی بھر میں ہزاروں افراد نکل آئے، قابض فوج نے مظاہرین گولیاں برسا دیں جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد شدید زخمی ہوگئے، بھارتی مظالم کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف بھرپور احتجاج کا سلسلہ جاری،انٹرنیٹ، ٹرین سروس معطل، حریت قیادت نے ہڑتال کا اعلان کر دیا،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے   شوپیاں ہسپتال میں ڈاکٹروں کی جانب سے پیشہ ورانہ امور میں مداخلت کیخلاف اعتراض پرہسپتال کی عمارت میں اندھادھند فائرنگ کر دی جس پر ڈاکٹروں اور مریضوں کے لواحقین نے شدید احتجاج کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 17نوجوانوں کو شہید کر دیا جس سے کہرام مچ گیا۔ شوپیاں کے علاقوں کچدرا اور درا گڑھ میں کیمیکل پھینک کر4 مکانات جلا دئے گئے۔واقعہ کے خلاف کیلئے ہزاروں افراد نکل آئے، قابض فوج نے گولیاں برسا کر100 نہتے کشمیریوں کو زخمی کر دیا۔ ایمبولینسیں روک کر بھی شہریوں پر تشدد کیا گیا،متعدد مقامات پر مظاہرین اور فورسز میں جھڑپیں ہوئیں۔بھارتی حکام نے مقابلے میں 3 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے، احتجاج بڑھنے کے بعد اسلام آباد اور اننت ناگ میں انٹرنیٹ اور ٹرین سروس معطل کر دی گئی۔ حریت قیادت نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی فورسز نے شوپیاں اور اسلام آباد کے اضلاع میں17 کشمیریوں کو شہید اور100 سے زائد کو زخمی کر دیا۔ شوپیاں کے علاقوں کچدرا اور درا گڑھ میں کیمیکل پھینک کر4 مکانات جلا دئے گئے۔ بھارتی فوج کی جانب سے سرچ آپریشن کے نام پر علاقے کا گھیرائو کرنے کے بعد ہزاروں افراد آ گئے تاہم فورسز نے انہیں آگے جانے سے روک دیا اور اندھا دھند فائرنگ اور پیلٹ گن سے چھررے برسا دئے اس کے نتیجے میں4 مظاہرین شہید اور50 ز خمی ہو گئے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق7 نوجوانوں کو درا گڑھ اور 4 کو کچ درا میں شہید کیا گیا۔ ان میں اقبال بھٹ ، جان محمد لون، زبیر احمد بٹ، رؤف بشیر خندے، یاور احمد ، نذیر، عادل ، عبیر شفیع ملا، رئیس ، اشفاق ملک، زبیر تورے ،مشتاق احمد اور دیگر شامل ہیں۔ نوجوانوں کی شہادت کی اطلاع ملتے ہی اسلام آباد اور شوپیاں میں کہرام مچ گیا اور لوگوں کی بڑی تعداد گھروں سے باہر نکل اور بھارتی فوج کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے پتھرا ئو شروع کر دیا۔ بھارتی فوج نے بیرحمانہ انداز میں مظاہرین پر فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے مزید50 افراد ز خمی ہو گئے۔ اطلا عات کے مطابق بھارتی فورسز نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینسوں کو بھی روک کر شہریوں پر تشدد کیا۔ بھارتی مظالم اور نوجوانوں کی شہادت کے خلاف احتجاج پھیلنے کے بعد سرینگر سمیت مختلف مقامات پر مظاہرین اور بھارتی فوج میں جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لگائے۔ شوپیاں میں شہید ہونے والے یاور احمد کی نماز جنازہ میں کشمیریوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر امڈ آیا۔رش اس قدر زیادہ تھا کہ شہید کی نماز جنازہ پانچ مرتبہ ادا کی گئی۔ اس دوران کشمیریوں کی جانب سے بھارتی حکومت، فوج اور کٹھ پتلی حکومت کیخلاف جبکہ پاکستان کے حق میں زوردار نعرے لگائے جاتے رہے۔مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کا نہتے کشمیریوں کے خلاف ظلم و ستم کا سلسلہ نہ رکْ سکا اور ریاستی دہشتگردی کے ایک اور وحشیانہ واقعے میں 4 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا گیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے ضلع راجوری کے علاقے راوارین تالا میں کارروائی کی ، قابض فوج نیعلاقے کو گھیرے میں لینے کے بعد سرچ آپر یشن کی آڑ میں چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھر گھر تلاشی لی اور اس دوران وحشیانہ فائرنگ کرکے 4 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔دوسری جانب پلواما ڈسٹرکٹ میں تلاشی کے دوران بھارتی فوج نے 3 کشمیریوں کو زخمی کردیا ۔ادھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے شوپیاں ہسپتال میں ڈاکٹروں کی جانب سے پیشہ ورانہ امور میں مداخلت کیخلاف اعتراض پرہسپتال کی عمارت میں اندھادھند فائرنگ کر دی جس پر ڈاکٹروں اور مریضوں کے لواحقین نے شدید احتجاج کیا ہے۔ ضلع اسلام آباد میں حملے میں بھارتی سپیشل پولیس کا افسر ہلاک ہوگیا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق نامعلو افراد نے ضلع کے علاقے کھنہ بل میں بھارتی پولیس کی ایک پارٹی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شدید زخمی ہو گیا۔ توراگ سنگھ نامی اہلکار کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ بھارتی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی۔ کئی علاقوں میں بھارتی مظالم کیخلاف مظاہرے کئے گئے‘ بارہمولہ میں بھارتی فوج نے 4 نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ ضلع بارہمولہ اور بڈگام میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید تین نوجوانوں کی تدفین کے بعد وادی میں احتجاجی مظاہرے،جھڑپوں میں 9زخمی،متعدد گرفتار،قابض فورسز کی جانب سے مظاہرین کیخلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال،آنسو گیس لاٹھی چارج کے ساتھ ربڑ کی گولیوں اور پیلٹ گنوں کا بے دریغ استعمال، مظاہرین کی جانب سے قابض اہلکاروں اور فوجی گاڑیوں پر پتھراؤ، مظاہروں میں خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ کریک ڈاؤن میں قابض فورسز نے بیسیوں نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔

غزہ(نیٹ نیوز)اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں کے قتل عام کی 42ویں برسی پر احتجاجی مارچ میں شریک نہتے فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کر دی۔ فلسطین کی تمام سیاسی اور سماجی جماعتوں ،تنظیموں کی اپیل پر ہونے والے اسرائیل مخالف احتجاج میں شریک15افراد مظاہرین شہید جبکہ شدید جھڑپوں میں 1400سے زائد زخمی ہو گئے جن سے اسپتال بھر گئے۔شہدا میں سے 7 خان یونس میں نشانہ بنے جہاں5 سو فلسطینی مظاہرین زخمی ہوئے۔30مارچ1976کو ہزاروں افراد اس فیصلے کیخلاف سڑکوں پر آ گئے تھے جس کے تحت اسرائیل نے فلسطینی آبادیوں کو بے دخل کر کے ان کی اراضی پر قبضے کا اعلان کیا تھاجس کیخلاف احتجاج میں دوران 6 فلسطینی اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہوئے تھے۔ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو قابض اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے اعلان کے بعد سے مظاہروں میں شدت آئی ہے۔غزہ میں اسرائیلی سرحد سے 700 میٹر دور لاکھوں افراد جمع ہوئے۔فلسطینیوں کو بڑھنے سے روکنے کیلئے قابض اسرائیلی فوج نے100 سے زائد نشانہ باز متعین کئے جو مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ ،ربڑ کی گولیاں اور براہ راست فائرنگ کرتے رہے۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فائرنگ سے15فلسطینی شہید ہو گئے جبکہ 1400سے زائد شدید زخمی ہو گئے۔ شمالی غزہ کی پٹی کے علاقہ جبالیہ میں اسرائیلی فائرنگ سے25محمد نجار پیٹ میں گولی لگنے سے شہید ہوئے۔جھڑپوں میں شہید ہونے والے دیگر افراد میں 38 سالہ محمد معمر ،22سالہ ابو عمر دونوں کو رفاہ میں نشانہ بنایا گیا ہے۔19سالہ احمد قدح،33سالہ جہاد فرنیح ،33سالہ سعدی رحمی،22 سالہ عبدالفتح عبدالنبی و20 سالہ ابراہیم ابو شعار شامل ہیں۔ غزہ کے رہائشی کسان عمر وحید ابو سامور اس وقت اسرائیل کی توپ کی گولہ باری کا نشانہ بن گیا جب وہ خان یونس میں واقع اپنے کھیتوں میں کام کر رہا تھا۔اسرائیلی نے خان یونس پر بمباری یا گولہ باری کی ذمہ داری تا حال قبول نہیں کی۔فلسطینی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی زندہ گولیاں لگنے سے ایک ہزار سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے جو مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔غزہ میں 30 مارچ جمعۃ المبارک کو ’یوم الارض‘ عظیم الشان ملین مارچ اور ریلیوں کے دوران اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں زخمی ہونے والا ایک اور فلسطینی چل بسا جس کے بعد شہداء کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔فلسطین میں کئی برس بعد تشدد کے بدترین واقع میں سولہ فلسطینیوں کی شہادت اور ڈیرھ ہزار سے زیادہ کے زخمی ہونے کے ایک دن بعد غزہ اسرائیلی سرحد پر شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم اور اندھا دھند فائرنگ سے ہونے والی 18 شہادتوں اور 1400 سے زائد زخمیوں پر اقوام متحدہ نے منہ پھیر لیا اور نہتے فلسطینیوں پر بدترین ظلم پر اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کے بجائے تحقیقات کے نام پر مٹی ڈال دی ہے جبکہ معاملہ ٹھنڈا کرنے کیلئے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرلیا۔ دوسرے دن بھی مظاہرین پر اسرائیلی فائرنگ سے 13 نہتے معصوم فلسطینی زخمی ہوئے۔صدر محمود عباس کے اعلان پر ہفتہ کو فلسطین میں سرکاری سطح پر قومی یوم سوگ منایا گیا اور ہڑتال کی گئی جبکہ اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہونے والے 17 فلسطینیوں میں سے 16 کی تدفین کردی گئی ہے۔ غزہ میں ہزاروں افراد نے شہدا کے جنازوں میں شرکت کی اور احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر مارچ کیا۔علاوہ ازیں سرائیلی فوج نے دھمکی دی ہے کہ وہ حماس کو نشانہ بنانے کے لیے غزہ کی پٹی کے اندر کارروائی کرسکتے ہیں۔ تیسرے دن بھی غزہ بارڈر پر اسرائیل فوج کی فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جس سے مزید 3 فلسطینی زخمی ہوگئے جبکہ شہدا کے جنازے میں ہزاروں فلسطینیوں نے شرکت کی ہے۔فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصی میں یہودی آباد کاروں کے دھاوے اور مقدس مقام کی مجرمانہ بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کی فول پروف سیکیورٹی میں مزید 92 یہودی آباد کارمسجد اقصی میں داخل ہوئے اور قبلہ اول میں گھس کرنام نہاد مذہبی رسومات کی ادائیگی کی آڑ میں مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔ یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصی میں گھس کر تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کیں اور اشتعال انگیز حرکات کا ارتکاب کیا۔فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی محکمہ اوقاف کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے گزشتہ روز علی الصبح یہودی آباد کار مراکشی دروازے کے راستے قبلہ اول میں داخل ہوئے اور حرم قدسی کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا۔ مذمت کرتے ہیں،یہودی آباد کار مسجد اقصی میں مراکشی دروازے اور باب السلسلہ سے داخل ہوئے۔ شاہدین کے مطابق آبادکاروں کو اسرائیل پولیس کی طرف سے فول پروف سیکیورٹی مہیا کی گئی تھی۔خیال رہے کہ رواں ماہ مارچ کے دوران اب تک 1500 یہودی آبادکاروں نے مسجد اقصی پر دھاوے بولے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔دریں اثناء اسرائیلی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں ایک شہید فلسطینی نوجوان کا  گھر مسمار کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے غرب اردن میں ایک کارروائی کے دوران تین فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔ جب کہ گرب اردن میں مختلف چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 14 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online