Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

مجاہدین جیش نے5بھارتی فوجی واصل جہنم کر دیئے، کئی شدید زخمی

(شمارہ 641)

مجاہدین جیش نے5بھارتی فوجی واصل جہنم کر دیئے، کئی شدید زخمی

ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،لام کے جنگل میں مجاہدین کی موجودگی پربھارتی فوج کو آپریشن مہنگا پڑ گیا، فورسز کی جانب سے نشاندہی کیلئے ہیلی کاپٹروں کا استعمال
ہلاک اور زخمیوں میں سی آرپی ایف اور 42 آر آر اور پولیس کے اہلکار شامل،بچی قتل کیخلاف مظاہروں پر بھارتی فوسز کا دھاوا، 20 سے زائد زخمی
متعدد علاقوں میں طلبا سمیت سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے،مجرموں کو کڑی سزا،مظاہرین کے آزادی کے حق میں نعرے،پاکستانی جھنڈے لہرائے
بارہمولہ،شوپیاں،گاندربل اور پلوامہ میں شدید جھڑپیں،مودی کی جمہوریت خوف بن گئی،مسلمانوں کا قتل عام ہندو ریاست کیلئے ہے، برطانوی اخبار

سرینگر،ترال(نیٹ نیوز) مقبوضہ کشمیر کے علاقے ترال کے جنگل میں مجاہدین جیش محمدﷺ اور بھارتی فورسز کے درمیان خونریز معرکہ، جیش کے جانبازوں میں 5 بھارتی فوجیوں کو واصل جہنم کردیا جبکہ کئی شدید زخمی ہوگئے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،خونریز لڑائی میں4 مجاہدین بھی جام شہادت نوش کرگئے، مجاہدین نے قابض فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا۔مجاہدین کی نشاندہی کے لئے ہیلی کاپٹروں کا استعمال جاری ہے دوسری جانب بھارتی مظالم کے خلاف مقبوضہ وادی میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے،کمسن آصفہ کے قتل کے خلاف متعدد علاقوں میں طلبا سمیت سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے،مجرموں کو کڑی سزا،مظاہرین کے آزادی کے حق میں نعرے،پاکستانی جھنڈے لہرائے، بارہمولہ،شوپیاں، گاندربل اور پلوامہ میں شدید جھڑپیں، برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت میں مودی کی جمہوریت خوف بن گئی،مسلمانوں کا قتل عام ہندو ریاست کے لئے کیا جارہا ہے۔ تفصیلات  کے مطابق  ترال میں بھارتی فوج اور مجاہدین جیش کے درمیان معرکہ  میں  پانچ بھارتی فوجی ہلاک اور کئی شدید زخمی ہوگئے، ترال کے علاقہ لام کے جنگل میں بھارتی فوج سی آر پی ایف، 42  آر آر اور اور جموں وکشمیر پولیس نے مجاہدین کی موجودگی کی  اطلاع پر علاقے کا محاصرہ کرکے سرچ اپریشن شروع کیا جو ایک معرکے   میں تبدیل ہوگیا ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق معرکے میں  جیش محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے  بہادر جانباز مجاہدین نے پانچ بھارتی فوجیوں کو واصل جہنم جبکہ ر کئی کو  شدید زخمی کردیا ، ان کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔بھارتی قابض فوج  مجاہدین کی نشاندہی کے لیے ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی کر رہی  ہے ۔ آخری اطلاعات  آنے  تک معرکہ تک جاری تھا۔ادھر مقبوضہ کشمیر میں کٹھوعہ کی آٹھ سالہ آصفہ بانو کے قتل کے المناک واقعے کے خلاف سرینگر اور دیگر تمام بڑے قصبوں میں آج بھی زبردست احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں طلبہ سمیت بیسیوں افراد زخمی ہو گئے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سرینگر، بڈگام، ناگام، چاڈورہ، گاندربل، کنگن، شوپیاں، پلوامہ، اسلام آباد، بارہمولہ، سوپور، بونیار، رفیع آباد،ڈلنہ، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اجس اور دیگر علاقوں میں سکولوں اور کالجو ں کے طلباء سمیت بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور کم سن بچی کے مجرموں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے اور پاکستانی جھنڈے لہرائے۔ بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے مختلف علاقوں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ چلائے اور آنسو گیس کے گولے داغے جس کے بعد فورسز اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ قابض فورسزکی طر ف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال سے طلبہ سمیت بیسیوں افراد زخمی ہو گئے۔مقبوضہ کشمیرمیں بیشتر کالج اور ہائر سکینڈری سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل رہنے کے باوجود کمسن آصفہ کی عصمت ریزی اور قتل کے خلاف وادی میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ اس دوران شوپیاں میں بدترین تشدد بھڑک اٹھا جس کے دوران شیلنگ اور پیلٹ سے 18 افراد زخمی ہو گئے۔ دیگر علاقوں میں ایک پولیس اہلکار سمیت 6طلباء زخمی ہوئے۔ مقبوضہ کشمیر میں اسلام آباد(اننت ناگ) کے ڈگری کالج کھنہ بل کے طلبا نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا۔ اس دوران بھارتی فورسز اور کشمیریوں کے مابین شدید جھڑپیں ہوئی۔ بھارتی فوج اور سی آر پی ایف کے درندوں نے کمسن طلباء کو بھی نہ بخشا اور لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور پیلٹ گن کے چھرے برساتے ہوئے کئی طلباء کو زخمی کر دیا۔ بھارتی فورسز اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ بھی کی جاتی رہی۔احتجاجی طلباء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی حکومت اور فوج کیخلاف تحریریں درج تھیں۔ بارہمولہ، شوپیاں، بانڈی پورہ، گاندربل اور پلوامہ کے مختلف علاقوں میں بھی طلباء اور بھارتی فوج کے مابین زبردست جھڑپیں ہوئی ہیں۔ آخری اطلاعات آنے تک طلباء کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا۔علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی خواتین کو بااختیار بنانے کے ادارے کے سربراہ نے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے ساتھ غیرانسانی رویئے کی مذمت کی ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online