Bismillah

655

۲۱تا۲۷ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۰تا۶ااگست۲۰۱۸ء

جینوئن حکمران اور حقیقی مجاہد (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 645 - Naveed Masood Hashmi - Ramzan ul Mubarak k Mujrim

جینوئن حکمران اور حقیقی مجاہد

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 645)

فلسطینی وزیراعظم عباس کی اپیل پر پاکستان میں بھی18مئی کو یوم یکجہتی فلسطین منایا گیا۔۔۔ اور18مئی ہی کے دن ترکی کے شہر استنبول میں تُرک صدر رجب طیب اردوان نے فلسطینیوں کے ساتھ اِظہار یکجہتی کیلئے ایک ریلی کا بھی اِہتمام کیا۔۔ فرق بس اتنا سا ہے کہ یہاں ، ن لیگی وزیراعظم کی اپیل پر مسلم لیگی سڑکوں پر نکلے، جبکہ اِستنبول میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا کہ جس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی جینوئن صدر رجب طیب اردوان نے اُمت مسلمہ کی ترجمانی کا حق ادا کرتے ہوئے کہا کہ’’القدس صرف ایک شہر نہیں۔۔ ایک علامت ایک امتحان اور ایک قبلہ ہے، القدس کے امتحان میں صرف عالَم اِسلام ہی نہیں پوری دنیا ناکام رہی۔۔۔ القدس پرقبضے پر خاموشی اِختیار کرنے والی اقوام متحدہ ظلم و ستم میں برابر کی شریک ہے، اگر قبلہ اول کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو پھر خانہ کعبہ کے تحفظ پر کیسے مطمئن ہو سکتے ہیں۔‘‘

تُرک صدر نے لاکھوں انسانوں کی اِحتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’ اِسرائیلی جارحیت کے خلاف کھڑا ہونے کا وقت آگیا ہے۔۔۔ میں تمام مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اُن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ۔۔۔ جنہوں نے اپنی یہودی جنونیت کی خاطر ہمارے خطے اور دُنیا کو تباہی میں ڈال رکھا ہے، انہوں نے مسلم دنیا پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت میں عظیم اتحاد کا مظاہرہ کرے‘‘

کراچی سے ایک دوست نے فون کر کے مجھ سے کہا کہ کیا ’’حقیقی‘‘ اور ’’مصنوعی‘‘ حکمران میں فرق سمجھ آیا؟میں نے حیرت سے پوچھا وہ کیا؟ وہ بولا کہ پاکستانی وزیراعظم کی اپیل پر خود اس کی جماعت کے لوگ فلسطین کے ساتھ اِظہار یکجہتی کیلئے نہیں نکلے۔۔۔ جبکہ ترک صدر کی اپیل پر انسانوں کا ٹھاٹھیںمارتا ہوا ایک سمندر تھا کہ جو اسرائیل کی دہشتگردی کے خلاف بھرپور جذبات کا اظہار کر رہا تھا۔

پاکستانی حکمران چونکہ مصنوعی جمہوریت کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔۔۔ اس لئے ان کی زبانیں۔۔ فلسطینیوں کے ساتھ لیکن دِل واشنگٹن کے ساتھ ہوتے ہیں۔۔ 70سالوں میں مصنوعی جمہوریت اور آمریت نے کبھی غلام اِسحاق پیدا کئے۔۔ کبھی معین قریشی اور شوکت عزیز پیدا کئے، کبھی نواز شریف ، پرویز مشرف اور آصف علی زرداری پیدا کئے۔۔۔ لیکن افسوس کہ 70سالوں میں پاکستان۔۔ ایک طیب ایردوان پیدا نہ کر سکا۔

امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی اور فلسطین پر اسرائیل کے خوفناک مظالم کے خلاف ترکی نے جس طرح سے قائدانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔۔۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اگر طیب ایردوان جیسی جرأت و بہادری اور ایمانی جذبات رکھنے والے آٹھ، دس مزید حکمران اِسلامی دنیا کو مل جائیں تو ظالم، جابر اور دہشتگرد کفریہ طاقتوں کو لوہے کی لگام ڈالی جا سکتی ہے۔

18مئی کہ جس دن ن لیگی وزیراعظم نے پاکستان میں یوم یکجہتیٔ فلسطین منانے کا اعلان توکر دیا۔۔۔ مگر پاکستانی قوم کو اسرائیل کے خلاف اِحتجاج کیلئے سڑکوں پر نکالنے کیلئے پوری حکومت نے ذرہ برابر بھی محنت نہ کی۔۔۔عین اُسی دن استنبول میں ترک صدر طیب ایردون نے نہ صرف لاکھوں انسانوں کو۔۔۔ اسرائیل کے خلاف سڑکوں پر نکالا۔۔۔ بلکہ18مئی جمعۃ المبارک کے ہی دن اسلامی ملکوں کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا۔۔۔ اس اجلاس میں پاکستان سمیت پچاس سے زائد اسلامی ملکوں کے حکمران اور نمائندے شریک ہوئے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر طیب ایردوان نے کہا کہ ’’ بیت المقدس مسلمانوں کا مشترکہ حسَّاس ترین مذہبی مقام ہے۔۔۔ جس کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہے۔۔ اسرائیل عالمی قوانین کو پاؤں تلے روند رہا ہے۔۔۔ امت مسلمہ فلسطینی مسلمانوں کا شکریہ ادا کرتی ہے کہ۔۔۔ جو اپنے خون سے قبلۂ اول کی حفاظت کر رہے ہیں‘‘

ترکی کے دارالحکومت استنبول میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) کے ساتویں ہنگامی اجلاس نے اپنے مشترکہ اِعلامیے میں کہا کہ’’امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی مجرمانہ قدم۔۔۔ اقوام متحدہ کے چارٹر ، عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے خطرات پیدا کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے، القدس کی تاریخی و قانونی حیثیت کے تحفظ کیلئے ہر ممکن قدم اُٹھایا جائے گا۔

مشترکہ اِعلامیے میں کہا گیا کہ رمضان المبارک کے دوران او آئی سی کے تمام رُکن ممالک میں فلسطینیوں کے لئے اِمدادی مہم چلائی جائے گی۔۔۔ او آئی سی کے مشترکہ اِعلامیے میں نہ صرف اسرائیلی جارحیت ، اور نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی گئی۔۔۔ بلکہ فلسطینیوں کی حفاظت کیلئے عالمی فوج بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا‘‘

او آئی سی کی استنبول کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ اُمت مسلمہ پر زبردستی مسلط کئے جانے والے ظلم کے اندھیروں میں روشنی کی کرن بن سکتا ہے۔۔۔ لیکن اگر او آئی سی کے تمام رکن ممالک اس مشترکہ اعلامیے پر خود بھی عمل کریں ۔۔۔ اقوام متحدہ ہو، امریکہ ہو یا اسرائیل۔۔۔۔ ان سے مسلمانوں کے حق میں کلمۂ خیر کی توقع رکھنا فضول ہے۔۔۔ فلسطینیوں کی مظلومیت سے صرف یہ خاکسار ہی نہیں بلکہ پوری دنیا واقف ہے اور اس بات سے بھی کہ امریکہ سینہ زوری کے ذریعے۔۔۔ امریکی سفارت خانہ بیت القدس میں منتقل کر چکا ہے۔

جب سپر پاور امریکہ انصاف کا جنازہ خود نکالے ۔۔ اور اقوام متحدہ انصاف کے جنازے کو اپنے کندھوں پر اُٹھا کر۔۔۔ قبرستان میں پہنچائے تو پھر اُمت مسلمہ کے ہر فرد پر مسجد اقصیٰ کی حفاظت کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانا فرض ہو جاتا ہے۔۔۔میں یہ مانتا ہوں کہ میرا تعلق مظلوم اُمت مسلمہ سے ہے۔۔ لیکن میں یہ نہیں مان سکتا کہ۔۔۔ اگر امت مسلمہ متحد ہو کر ’’جہاد و قتال‘‘ والی عبادت پر عمل پیرا ہو جائے تو ظالم، جابر اوردہشتگرد یہود وہنود اور نصاریٰ کو چھٹی کا دودھ یاد نہ کروایا جا سکے؟

فلسطین کے بیٹے اوربیٹیاں۔۔۔ مسجدِ اقصیٰ کی عزت و حرمت پر پروانوں کی طرح۔۔۔ جانیں نچھاور کر رہے ہیں۔۔۔ ہم بھی مسلمان ہیں۔۔۔ مسجد اقصیٰ سے محبت کا دعویٰ ہم بھی رکھتے ہیں۔۔۔ کیا ہمارے نوجوان نواز شریف، عمران خان، زرداری یا دیگر سیاستدانوں کے نعروں پر ہی مرتے رہیں گے؟ مسجد اقصیٰ اگر ایک ارب 70 کروڑ سے زائد مسلمانوں کی ہے تو۔۔۔ جانیں صرف فلسطینیوں کی ہی قربان کیوں ہو رہی ہیں؟

اُتار ڈالئے منافقت کے چولے کو۔۔۔ یہ کفر کے لشکر مٹی کے گھروندے ہیں اگر مسلمان حقیقی’’مجاہد‘‘ کا روپ دھار لیں۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، فلسطین کی صورتحال وقت اور حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ۔۔۔۔ ’’جہاد‘‘ جب تک حکمرانوں کے فیصلوں کا محتاج رہے گا۔۔۔ تب تک یہود و ہنود اور نصاریٰ فلسطین سے لے کر کشمیر تک۔۔۔ مظلوم مسلمانوں کا خون بہاتے رہیںگے، اللہ کی عبادت کو ایسے حکمرانوں کے حکم کا محتاج قرار دینے والے درباری، ملاں اگر مسجد اقصیٰ یا کشمیر کی آزادی کا جہاد کے علاوہ بھی کوئی راستہ ہے تو بتاتے کیوں نہیں؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online