Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

پیاری امی جانؒ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 646 - Naveed Masood Hashmi - Piyari Ammi Jaan

پیاری امی جانؒ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 646)

یہ جمعۃ المبارک25مئی2018ئ؁ بمطابق 9رمضان المبارک1439ھ تقریبا صبح 9بجے کا وقت تھا کہ جب میری پیاری امی جان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔۔۔ میں نے اپنے بڑے بھائی جان طارق محمود ہاشمی کی طرف اور انہوں نے میری طرف خالی، خالی نگاہوں سے دیکھا۔۔۔ اور پھر ہم دونوں کی نظریں۔۔۔ امی جان کے چہرے پر جم گئیں کہ جہاں سکون ہی سکون تھا۔۔۔ اطمینان کی بہاریں تھیں، ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے دنیا کے غموں اور بیماریوں سے چھٹکارہ پاکر ان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری ہوئی ہو۔۔۔ چھوٹا بھائی وحید مسعود ہاشمی کہ جو گزشتہ کئی دنوں اور راتوں سے ۔ اَمی جان کے ساتھ جاگ کر ان کی خدمت کی سعاد ت حاصل کر رہا تھا۔۔۔ اچانک مجھ سے مخاطب ہوا کہ ’’یہ اَمی مسکرا کیوں رہی ہیں؟‘‘

شاید اس لئے کہ وہ ہمیں بتانا چاہ رہی ہیں کہ میرے بچو تم ڈریپوں، دوائیوں،سرنجوں اور مشینوں کے ذریعے مجھے بچانا چاہتے تھے۔۔ لیکن اللہ پاک نے رمضان المبارک کی مقدس ساعتوں میں مجھے اپنے پاس بلا لیا۔

اَب میں وہاں پہنچ چکی ہوں کہ جہاں نہ ڈاکٹروں کی دوائیوں کی ضرورت ہے اور نہ حکیموں کی۔۔ تمہیں اب میری فکر میں رات، رات بھر جاگنا بھی نہیں پڑے گا۔۔ ۔ڈاکٹرز مافیا کی فرعونیت کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا۔

’’ماں‘‘ تو کہتے ہی اسے ہیں کہ جو خود مرتے مر جائے مگر اپنی اولاد کوگرم ہوا بھی نہ لگنے دے۔۔۔’’ماں‘‘ تو کہتے ہی اسے ہیں کہ جو سخت سردی میں خود گیلے بستر پر لیٹ جائے اوراپنے لخت جگر کو سوکھی جگہ پر لٹائے۔

پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں، یہاں کے ڈاکٹرز، نرسوں بالخصوص ینگ ڈاکٹرزکے شر سے خدا دشمنوں کی ماؤں کی بھی حفاظت فرمائے۔۔۔۔ امی جان چاہے سخت علیل تھیں۔۔۔ مگر وہ یہ سب دیکھ اور سمجھ تو رہی ہوں گی۔۔۔ اولاد تکلیف میں اور’’ماں‘‘سکون کے ساتھ رہے یہ کیسے ممکن ہے؟’’امی‘‘ کے چہرے کی مسکراہٹیں اپنے بچوں کو پیغام دے رہی تھی کہ انتقال کے بعد جب میں پُرسکون ہو چکی ہوں تو پھر تم رو، رو کر ہلکان کیوں ہو رہے ہو؟

تقریباً دس سوا دس بجے ہم امی جان کو لے کر گھر پہنچے۔۔۔ سچی بات ہے کہ میں توسوائے چیف ایڈیٹر روزنامہ اوصاف محترم مہتاب خان کے کسی دوست کو اطلاع بھی نہ کر سکا۔۔۔ ہاں البتہ میرے دوستوں مولانا محمد نعمان حاشر، سینئر رپورٹر عمرفاروق اور حافظ رشید نے۔۔۔ میسجز کے ذریعے جنازے کے ٹائم کی تشہیر ضرور کی۔۔۔ نماز عصر کے متصل بعد جامع مسجد مرحبا میں جنازے کا اہتمام کیا تھا۔

اللہ جزائے غیر دے راولپنڈی اسلام آباد کے علمائ، صلحائ، طلبائ، اہل علاقہ اور صحافتی برادری کے دوستوں کو۔۔۔ کہ جنہوں نے شدید گرمی کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے جوق در جوق امی جان کے جنازے میں شرکت کر کے یہ بات ثابت کر دی کہ خاندان، برادری یا دولت و ثروت نہیں بلکہ دین اسلام کا رشتہ سب سے مضبوط رشتہ ہے۔۔۔ امیر محترم حضرت اقدس، شیخ طریقت مولانا محمد مسعود ازہر نے ’’مکتوب خادم‘‘ بھی جاری فرمایا۔۔۔ جس میں مسلمانوں سے والدہ محترمہ کیلئے قرآن مجید کی تلاوت کے  ہدئیے بھجوانے کی نصیحت فرمائی۔۔۔

ہمارا چونکہ یقین ہے کہ ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چھکنا ہے۔۔ اس لئے پیاری امی جان کے انتقلال پُرملال کے بعد صبر کی چٹان کے نیچے’’دل‘‘ رکھ ریا۔۔۔ اور کوشش کی کہیں خلاف شرع کوئی کام نہ ہوجائے، والدہ محترمہ مرحومہ مغفورہ کی رحلت کے بعد۔۔۔ مذہب اسلام  اور اس کی بنیادی تعلیمات پر یقین مزید پختہ ہوا۔۔۔ میں اکثر اپنے کالموں میں سیکولرز اور دیسی لبرلز کے منافقانہ کردار کو بے نقاب کرتا رہتا ہوں۔۔۔ لیکن آج صرف لبرلز نہیں بلکہ مذہب پسندوں سے بھی گزارش ہے کہ ہم سب کا انجام بالآخر’’موت‘‘ ہے۔۔۔ یاد کیجئے اس دن کو جب ہمیں کفن اوڑھا کر چارپائی پر ڈالا جائے گا۔۔۔ اور پھر چارپائی کو کندھوں پر اٹھا کر پہلے جنازہ گاہ اور پھر قبرستان پہنچایا جائے گا۔۔۔ اور پھر ہمارے عزیز و اقارب ہمارے جسد خاکی کو اٹھا کر قبر کی لحد میں رکھ دیں گئے، پھر پتھر کی سیلوں کے ذریعے۔۔۔ اور سلوں کو مٹی کے ساتھ بند کر دیا جائیگا۔۔۔سوچیئے۔۔۔ ذرا سوچیئے کہ قبر کے اس ہولناک اندھیرے میں تن تنہا ہم پر کیا بیتے گی؟

فلاں مر گیا، فلاں کا انتقال ہو گیا، فلاں کودفن کر دیا۔۔۔ یہ بہت آسان ہے۔۔۔لیکن’’فلاں‘‘، ’’فلاں‘‘ کی جگہ ہر بندہ اپنے آپ کو رکھ کر سوچے تو ممکن ہے کہ۔۔۔ہمارے دل و دِماغ شیطانی ہتھکنڈوں سے بچ کر صراط مستقیم کی طرف چل نکلیں۔

دنیا کے کچھ’’بندے‘‘ ہمیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیںکہ دنیا بہت ترقی کر چکی ہے۔۔ ٹیوب لائٹ ، بلب اور پنکھوں کی ایجادات کا حوالہ دے کر سائس کی ترقی سے اسلام اور مسلمانوں کو ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنی ’’سائنس‘‘ سے پوچھیں کہ ساری دنیا مل کر بھی۔۔۔ ابھی تک وہ آلہ یا پیمانہ ایجاد کیوں نہ کر سکی۔۔۔ کہ جس کے ذریعے’’ماں‘‘ کی محبت کو تولا یا ماپا جا سکے؟

’’ماں‘‘ کی محبت کے سامنے تو سمندروں کی وسعتیں اور گہرائیاں بھی ماند پڑ جایا کرتی ہیں،’’ماں‘‘ کی محبت کے سامنے تو صرف ایک زمین نہیں۔۔۔ بلکہ ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمان بونے ثابت ہوتے ہیں۔۔۔ ’’ماں‘‘ کو کمزور یا کمتر سمجھنے والے بیوقوفوں کو کوئی بتائے کہ’’ماں‘‘ کی بیقراری اس کے معصوم بچے کی ایڑی کے نیچے پانی’’زم، زم‘‘ کا ابلتا ہوا چشمہ جاری کر دیا کرتی ہے،’’ماں‘‘ کی عظمت کی گواہی قرآن یوں دیتا ہے (ترجمہ) اور ہم نے تاکید کر دی انسان کو اس کے ماں باپ کے واسطے۔۔ اس کی ماں نے اس کوتھک تھک کر پیٹ میںرکھا۔۔۔ اور اس کا دودھ چھڑانا ہے دو برس میں اسلئے کہ اے انسان تو میرا شکر کر، اور اپنے والدین کا شکر کر، آخر تو نے مجھ تک ہی آنا ہے‘‘(سورۂ لقمان)

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور پاکﷺ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! ساری دنیا کے انسانوں میں سب سے زیادہ میرے حسن سلوک کا مستحق کون ہے؟ میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ اچھا سلوک کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔۔۔ تمہاری ’’ماں‘‘۔۔۔ یعنی سب سے زیادہ اچھے سلوک کی مستحق تمہاری ماں ہے، ان صاحب نے پھر پوچھا کہ ماں کے بعد کون میرے حسن سلوک کا مستحق ہے؟ تو آپﷺ نے پھر جواب ارشاد فرمایا کہ تمہاری’’ماں‘‘۔ تیسری دفعہ پھر پوچھنے پر آپﷺ کا جواب’’ماں‘‘ ہی تھا۔۔۔ البتہ جب چوتھی بار اس نے یہی سوال کیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ تمہارا باپ۔۔۔ گویا کہ حسن سلوک اور محبت و مروت اور خدمت میں ماں کے تین حصے اور باپ کا ایک حصہ ہے۔

میری پیاری امی جان انتہائی صابرہ، شاکرہ اور متقیہ خاتون تھیں۔۔۔ سخت بیمار رہیں۔۔۔ لیکن بیماری کے عالَم میں بھی دوپٹہ سر سے سرک جائے، یہ انہیں گواراہ نہ تھا، ہم الحمدللہ پانچ بھائی اور دو بہنیں ہیں۔۔۔ انہیںسب سے ہی پیار تھا۔۔۔ لیکن یہ خاکسار چونکہ دینی پروگراموں اور دیگر مصروفیات کی بناء پر اکثر گھر سے باہر رہتا تھا۔۔۔ اس لئے ان کی پُرخلوص محبت میں اضافہ ایک فطری امر تھا۔۔۔ محبتوں کی’’کہکشاں‘‘ کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اُتارکر۔۔۔ قبر پر سیمنٹ کی سلیں رکھ کر اوپر مٹی ڈالنا۔۔۔ کوئی آسان کام نہیں ہے۔۔۔ لیکن یہ مشکل کام اپنی زندگی میں ہر بیٹے کو کرنا پڑتا ہے۔۔۔ سو ہم نے بھی یہ کام اپنے ہاتھوں سے سرانجام دیا۔

بے شک میرے محبوبﷺ کا فرمایا ہوا بالکل سچ اور برحق ہے کہ ۔۔۔اللہ کے نزدیک دنیا کی حیثیت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں، امی جان! کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارنے کے بعد سے ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے ہمارا’’دل‘‘ بھی وہیں کہیں رہ گیا ہو، ماں کی جدائی کا درد ایسا درد ہے کہ جس درد کی دنیا میں کہیں کوئی دوا بھی نہیں، اس لئے اس خاکسار کا عزم بالجزم ہے کہ جب تک زندگی رہی۔۔۔ اِعلائِ کلمۃ اللہ اور دین اسلام کی سربلندی کے لئے ۔۔۔یہ قلم وقف رہے گا۔۔۔ (ان شاء اللہ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online