Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

فتح مکہ کے دن کو عالمی سطح پر منایا جائے (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 647 - Naveed Masood Hashmi - Fatah Makka Ka din

فتح مکہ کے دن کو عالمی سطح پر منایا جائے

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 647)

لائے کوئی دنیا کی تاریخ سے ڈھونڈ کر ایسی ’’فتح‘‘ کہ جیسے پروردگار عالم نے بھی ’’فتح مبین‘‘ قرار دیا ہو؟

فتح مکہ ایسی ’’ فتح مبین‘‘ تھی کہ جس میں توحید و رسالتؐ اور انسانیت کا سربلند ہونے والا پرچم قیامت تک سربلند رہے گا (ان شاء اللہ)

کاش کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان...ترکی کے صدر طیب اردگان‘ پاکستان ‘ اندونیشیا‘ ملائیشیا سمیت دنیا کے 56اسلامی ملکوں کے حکمران مل بیٹھ کر ہر سال ’’فتح مکہ‘‘ کے تاریخ ساز دن کو اجتماعی طور پر عالمی سطح پر منانے کا اعلان کرتے... ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ ہو‘ مزدوروں کا عالمی دن ہو یا اس قسم کے دوسرے ’’ڈے‘‘ یہ سارا کھڑاک ہے مغربی دنیا کا۔

لیکن ’’ٰفتح مکہ‘‘ کی خوشیاں تو صرف زمین پر ہی نہیں بلکہ آسمانوں پر بھی منائی گئی تھیں...  احساس کمتری کے مریض دانشورو! یورپ سے متاثر کالم نگارو! مغرب کے مریض سیاستدانوں اور حکمرانوں ... کہ جب اسلامی لشکر بروز جمعہ 20  رمضان المبارک 8 ہجری گیارہ فروری 630  ء کو ’’کدا‘‘ کی طر ف سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوا ‘ تو پھر کیا ہوا؟

 جنت المعلیٰ نامی مکہ مکرمہ کا مشہور قبرستان بھی ہے ‘ وہیں آنحضرتﷺ کیلئے خیمہ نصب کیا گیا‘ حضرت زبیر بن العوامؓ کو حکم دیا کہ وہ اس راستے سے بڑھیں جو وادی فاطمہ سے آتا ہے اور مکہ مکرمہ کی مغربی جانب واقع ہے ‘ اسی راستے میں جدہ کا راستہ بھی مل  جاتا ہے‘ پھر  جنوبی اور  مغربی گوشے سے یہ مکہ میں داخل ہو جاتا ہے ‘ سعد بن عبادہؓ کا لشکر اسی راستے سے کدا کی طرف مڑا تھا اور رسول اللہﷺ کی خیمہ گاہ  میں پہنچ گیا تھا‘  حضرت خالد بن ولید ؓ کو ہدایت کی گئی کہ وہ مسفلہ یعنی مکہ مکرمہ کے زیریں حصہ سے جو کہ جنوبی جانب ہے شہر میں داخل ہوں‘ مکہ مکرمہ اور حوالی کے نقشہ سے یہ ظاہر ہو سکتا ہے کہ اس طرح شہر میں آنے والے تمام راستوں پر قبضہ کر لیا گیا تاکہ خونریزی کا کوئی امکان باقی نہ رہے ‘ اسی طرح حکیم بن خرام کے گھر کو بھی جائے امن قرار دیا گیا تھا ‘ اسی طرح غیر مسلح لوگوں پر حضرت ابوعبیدہؓ کو مقرر کیا جوبطن وادی میں تھے‘  آنحضرتﷺ خود اپنی ایک جماعت میں تھے۔

 علامہ ابن قیمؓ نے لکھا ہے کہ آنحضرتﷺ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو یہ حکم بھی دیا تھا کہ اگر قریش کا کوئی آدمی آپ سے معترض ہو یعنی لڑنے کی کوشش کرے تو اسے کاٹ  ڈالو اور ہم سے صفا پر آکر ملو۔

 عکرمہ بن ابی جہل ‘ صفوان بن امیہ ‘ حماس بن قیس اور سہیل بن عمرو چند بے وقوف اور اوباش لوگوں پر مشتمل ایک جتھہ تیار کر کے ’’ جبل خندمہ‘‘ پر جا بیٹھے جو ’’ جبل ابوقبیس‘‘ کے  مشرقی جانب مکہ مکرمہ کا مشہور پہاڑ ہے‘ ان لوگوں نے حضرت خالد بن ولیدؓ کے لشکر میں سے کرحضرت زید بن  الفہریؓ اورحضرت قفس بن خالد بن ربیعہؓ  کو شہید کر ڈالا جو لشکر سے الگ ہو کر دوسر ے راستے سے جا رہے تھے‘ حضرت خالد ؓ کو جب پتہ چلا تو پلٹے اور فتنہ انگیزوں کو قتل کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ ان شرپسندوں کے بارہ تیرہ آدمی مارے گئے اور باقی بھاگ گئے ‘ حماس بن قیس بھی بھاگ گیا۔

حماس بن قیس کا بھاگنا  تو لطیفہ  بن گیا ‘ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ یہ جب بڑے اہتمام سے اپنے آلات کو درست کر رہا تھا تو اس کی عورت نے پوچھا کہ یہ کس سے لڑنے کی تیاری ہو رہی ہے‘ حماس  نے کہا محمدﷺ اور اس کے ساتھیوں سے ‘ بیوی نے کہا کہ محمدﷺ اور ان کے اصحابہؓ کے سامنے یہ کچھ تو کام نہ آئے گا اس نے کہا دیکھ تو میں آج قوم کی کیسی خدمت کرتا ہوں اور ایک شعر پڑھا  جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر وہ لوگ آج آئے تو دیکھ لیں گے کہ مجھ میں کچھ نقص نہیں‘ کامل ہتھیار اور تمام آلات حرب میرے پاس ہیں‘ جب یہ بھاگ کر گھر پہنچا تو بیوی نے کہا کہ تیرے دعوے کہاں گئے اس نے پھر اشعار پڑھے جن کا مطلب یہ ہے۔

’’ کاش تو خندمہ میں ہوتی‘ صفوان اور عکرمہ سب بھاگ گئے

 ایسی تلواریں ہم پر جھپکیں جو بازوئوں اور سروں کو اڑا رہی تھیں

 ہمارے اطراف میں دلیروں کا ہجوم تھا اور ضربات کی صدا کے سوا کوئی آواز نہ تھی

 اس وقت میری ملامت میں کچھ نہ کہو۔

حرم میں داخلہ اور کعبہ کی صفائی

 حضورﷺ کا علم مبارک حجون میں جس کو جنت المعلیٰ کہتے ہیں مسجد فتح کے قریب نصب کیا گیا‘ پھر آنحضرتﷺ بیت اللہ شریف کی طرف چلے۔

 خاص مہاجرین و انصار آپﷺ کے آگے پیچھے اور اطراف میں ساتھ تھے‘ نیزہ آپﷺکے ہاتھ مبارک میں تھا‘ مسجد حرام میں  داخل ہو کر سب سے پہلے آپؐ نے حجر اسود کو استلام کیا اسکے بعد اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا ‘ طواف کے دوران نیزہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں تھا‘ بت پرستوں نے بیت اللہ  میں تین سو ساٹھ بت نصب کئے ہوئے تھے‘ آپؐ نیزہ سے بت کی طرف اشارہ کرتے جاتے اور فرماتے جاتے۔

جا ء الحق و زھق الباطل

 سچائی کا  ظہور ہوا اور باطل دور ہوا ‘  پیٹھ کی طرف اشارہ کرتے تو منہ کے بل وہ بت گر جاتا اور اگر منہ کی طرف اشارہ کرتے تو پیٹھ کے بل گر جاتا۔

 ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرتﷺ نے جب  حجرا سود کو بوسہ دیا تو ساتھ ہی نعرہ تکبیر بھی بلند  کیا لشکر اسلام نے نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے یہاں تک کہ لشکر اسلام  کے نعروں سے پورا مکہ گونج اٹھا۔ سبحان اللہ کیا ہی روح پرور اور ایمان افروز منظر ہوا ہو گا  صحابہ کرامؓ اسی جوش و خروش میں نعرے لگا رہے تھے کہ آنحضرتﷺ نے انہیں منع فرمایا اور پھر طواف کیا۔

 مکہ کے مشہور بتوں کا حشر

 بعض روایتوں میں آتا ہے کہ اس روز مکہ کے دوسرے بڑے بڑے بت بھی توڑے گئے‘ صفا پر ’’ اساف‘‘ اور مروہ پر ’’ نائلہ‘‘ یہ دو قدیم بت تھے ‘ قریش کا ان کے متعلق خیال تھا کہ قوم جر ہم کے یہ دو عورت اور مرد تھے انہوں نے بیت اللہ میں زنا کیا تھا اس لئے اللہ نے ان کو مسخ کر دیا یہ  جاننے کے باوجود ان کی پوجا کرتے تھے مکہ میں ایک بڑا بت تھا ’’ہبل‘‘ یہ جب توڑا گیا تو حضرت زبیر بن عوامؓ نے حضرت ابوسفیانؓ سے کہا کہ یہی وہ معبود ہے جس پر تجھ کو بڑا ناز تھا اور تو غزہ احد کے دن کہتا تھا۔ اعل ھبل ‘ حضرت ابوسفیانؓ نے کہا اب اس قصہ کو  چھوڑو اور اس خیال رفتہ پر سرزنش نہ کرو‘ ہم سمجھ چکے ہیں کہ اگر محمدﷺ کے خدا کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو وہ ضرور ہماری مدد کرتا اور آج ہماری یہ حالت نہ ہوتی کعبہ کی دیوار پر جو بت زیادہ بلندی پر نصب تھے اور وہاں آپﷺ کا ہاتھ مبارک نہیں پہنچ سکتا تھا انہیں گرانے کیلئے حضرت علیؓ کو آپؐ نے اپنے دوش مبارک پر کھڑا کیا اور انہوںنے ان کو توڑا پھر آپﷺنے حاجب خانہ کعبہ حضرت عثمان  بن طلحہؓ کو بلایا ‘ ان سے کنجی لیکر دروازہ کھولا اور اندر تشریف لے گئے اور وہاں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام اور فرشتوں کی تصاویر بنی ہوئی تھیں اور ان دونوں بزرگوں کے ہاتھ میں مشرکین نے قمار کی تیریں بنائی ہوئی تھیں۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا: خدا ان کافروں کو غارت کرے ‘ یہ دونوں جلیل القدر نبی ہیں انہوں نے کبھی جو ا نہیں کھیلا ان کے ساتھ لکڑی کے دو کبوتر بھی بنے ہوئے تھے ان کو آپﷺنے اپنے ہاتھ سے توڑا اور تصویروں  کو مٹانے کا حکم دیا چنانچہ اسی وقت مٹا دی گئی اسی طرح نواح مکہ میں عزیٰ ‘ سواع ‘ منات وغیرہ بھی مسمار کر دئیے گئے اس طرح حرم پاک کی تطہیر  پایہ تکمیل کو پہنچ گئی اور قریش مکہ پر بھی آشکارا ہو گیا کہ بت کسی کو نفع نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

 پھر آپﷺنے بیت اللہ کے اندر نماز چاشت ادا کی ہجوم چونکہ بہت زیادہ تھا اس لئے آپﷺنے بیت اللہ کا دروازہ بند کروا دیا‘ اور چابی عثمان بن طلحہ کو واپس کر دی‘ اندر آپﷺکے ساتھ صرف حضرت بلالؓ اور حضرت اسامہؓ رہ گئے۔ پھر حضرت بلالؓ کو آپﷺ نے حکم دیا اور  انہوں نے پہلی مرتبہ بیت اللہ  میں اذان دی۔

 خطبہ نبوی اور شان رحمتﷺ کا ظہور

 قریش مسجد کے صحن میں دھڑکتے دلوں اور کانپتے جسموں کے ساتھ  اپنے متعلق ہونے والے فیصلوں کے منتظر تھے۔ انہیں اپنے سارے کرتوت اور مظالم رہ رہ کر یاد آرہے تھے جوان کے خوف میں مسلسل اضافہ کر رہے تھے کہ اتنے میں رحمت عالمﷺ اپنے صحابہؓ کے جھرمٹ میں جلوہ افروز ہوئے ’ قریش اپنی گردنیں جھکائے خوف اور شرمساری کے عالم میں آپؐ کے سامنے مجرمانہ انداز میں کھڑے تھے‘ آپؐ نے بیت اللہ کے چوکھٹ کو دونوں بازوئوں کیساتھ پکڑ کر تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا۔

’’ اللہ  ایک ہے جس کا کوئی شریک نہیں اس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا ‘ اپنے بندے کی مدد کی اور سارے گروہوں کو شکست دی‘  کسی شخص کیلئے جائز نہیں جو اللہ اور اسکے رسولؐ پر ایمان لایا کہ وہ مکہ میں خونریزی کرے یا کسی سر سبز درخت کو کاٹے ‘ میں نے زمانہ جاہلیت کی تمام رسموں کو اپنے پائوں  کے نیچے پامال کر دیا‘ صرف حرم کعبہ کی تولیت اور حاجیوں کو زمزم پلانے کا انتظام باقی رکھا جائیگا۔  اے گروہ قریش تم کو اللہ نے  جاہلیت کے  تکبر اور آباء پر فخر کرنے سے منع فرما دیا ہے‘ تمام انسان آدمؑ کی  اولاد ہیں اور آدمؑ مٹی سے بنائے گئے ‘  پھر آپؐ نے کفار کی ایک جماعت کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا۔

 اے قریش‘ آج تم مجھ سے کس قسم کے برتائو کی امید رکھتے ہو؟ انہوں نے بیک زبان ہو کر کہا کہ ہمیں آپؐ سے اچھے برتائو کی امید ہے ‘  آپ ہمار ے شریف بھائی کے بیٹے ہیں‘ رحمت عالمؐ نے فرمایا آج میں وہی کہتا ہوں جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا  تھا لاتثریب علیکم الیوم‘  آج میری طرف سے تم پر کوئی سرزنش نہیں‘ جائو تم سب آزاد ہو۔

 انسانی تاریخ کے اوراق  کھنگال ڈالئے اس کمال حسن سلوک کی مثال آپ کو کہیں نہیں ملے گی ‘ یہ رحمت ان لوگوں پر ہو رہی تھی جو اکیس سال سے حضورﷺ  اور آپؐ کے صحابہؓ کو  تکلیفیں ‘ اذیتیں ‘ دکھ اور مصائب کے دینے کا  کوئی مواقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔

 ان کی تلواریں ‘ ان کی برچھیاں‘ ان کے نیزے اور تیر مسلسل آپؐ اور آپؐ کے  ساتھیوں پر برستے رہے تھے۔ کیا خوب فرمایا مولانا آزاد مرحوم نے اسوہ حسنہؐ کے متعلق کہ ’’ مظلومی میں صبر‘‘ مقابلے میں عزم‘ معاملے میں راست بازی اور طاقت و اختیار میں درگزر تاریخ انسانی کے وہ نو ادر ہیں جو کسی ایک زندگی کے اندر اسطرح کبھی جمع نہیں ہوئے‘‘

 یہی اسوہ حسنہ قیامت تک ہر انسان کیلئے  دنیا و آخرت میں خوزوصلاح کی ابدی دستاویز ہیں۔

 اس موقع پر ایک ایسا واقعہ بھی پیش آیا جس سے آپؐ کی شان رحیمی و کریمی کا اور بھی حسن مزید نکھر کر سامنے آتا ہے ‘ ایک شخص حضورﷺ سے کوئی بات کرنے کیلئے آرہا ہے سامنے پہنچا تو ہیبت نبوت سے اس پر لرزہ طاری ہو گیا‘ آنحضرتﷺ نے یہ کیفیت دیکھی تو آپؐ نے ارشاد فرمایا۔

’’ بھائی ڈرو مت میں کوئی بادشاہ نہیں بلکہ قریش کی ایک غریب عورت کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کھاتی تھی‘‘

 اس خطبہ سے فارغ ہو کر  آپ  کوہ صفا پر تشریف لے گئے اور لوگوں سے بیعت لینی شروع فرمائی ‘ مردوں کو آپؐ نے بذات خود بیعت فرمایا اور عورتوں کی بیعت کیلئے حضرت عمرؓ کو مامور فرمایا اور خود عورتوں کیلئے استغفار فرماتے رہے۔

 بیت اللہ کی حرمت کا اعلان

 فتح مکہ کے دوسرے دن بنو خزاعہ نے بذیل کے ایک آدمی کو قتل کر دیا‘  آنحضرتﷺ نے پھر ایک پراثر خطبہ ارشاد فرمایا۔

 لوگو ‘ اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمان و زمین  پیدا فرمائے اسی روز مکہ کو حرمت کا مقام قرار دیا یہ اس وقت سے آج تک مقام حرمت چلا آرہا ہے اور تاقیامت اسی طرح رہے گا‘ جو بھی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان  رکھتا ہے اس کیلئے جائز نہیں کہ مکہ میں کسی کا خون بہائے یا یہاں سے کوئی درخت کاٹے ‘ میرے لئے بھی جو وقتی طور پر حلال ہوا اس سے مقصود اہل مکہ پر اظہار غضب تھا‘  سن  لو‘ اسکی حرمت کل کی طرح لوٹ آئی ہے جو بھی یہاں میری بات سن رہا ہے اس کو چاہیے کہ میری بات ان لوگوں تک  پہنچا دے جو میری بات نہیں سن رہے۔

 پھر بنو خزاعہ کی طرف مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا۔

’’ کہ قتل بہت ہو چکا اس میں کوئی فائدہ نہیں تم نے جو قتل کئے اسکا خون بہا میں دوں گا‘ اس کے مقتول کے وارثوں کو اختیار ہو گا چاہے تو قصاص لیں چاہے خون بہاوصول کر لیں۔‘‘

 عفو عام سے مستثنیٰ لوگ

 جو لوگ عام معافی سے مستثنیٰ  رہے ان کی تعداد تقریباٍ سترہ بتائی جاتی ہے جن میں سے گیارہ مرد اور چھ عورتیں تھیں‘ کیونکہ ان کے ذمہ خاص جرائم تھے۔ یہ لوگ خصوصی مجرم  تھے۔

1 ۔ عبد العزیٰ بن خطل ۔  یہ مسلمان ہو گیا تھا آنحضرتﷺ نے ایک  انصاری صحابی کے ساتھ صدقات کی وصولی کیلئے اس کو بھیجا ‘طبیعت کا تیز اور غصہ ناک پر تھا‘  ساتھی سے کوئی  کوتاہی ہوئی تو اسکو شہید کر کے سارا مال لے کر فرار ہو گیا ‘ آنحضرتﷺ نے اس کے قتل کا فتویٰ صادر فرمایا۔

2 ۔ صفوان بن امیہ ۔ یہ اسلام اور مسلمانوں کا بدترین دشمن تھا جبل خندمہ کی شرانگیزی میں بھی پیش پیش تھا‘ فتح مکہ کے بعد  بھاگ  کر یمن جارہا تھا کہ جدہ میں حضرت عمیر بن وھبؓ  نے حضورﷺ سے صفوان کیلئے امن کی درخواست کی ‘آنحضرتﷺ نے قبول فرمایا ‘ حضرت عمیرؓ نے معافی کیلئے  کسی نشانی کا مطالبہ کیا تاکہ صفوان کویقین دلا سکیں‘ تو آنحضرتﷺ نے  کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے  اپنا عمامہ مبارک عطا فرمایا۔ چنانچہ صفوان بارگاہ نبوت میں پہنچا آپؐ نے اس کو اسلام کی دعوت دی  اس نے دوماہ تک کہ مہلت مانگی آپؐ نے چار ماہ کی مہلت دے دی  لیکن حضرت صفوانؓ نے چند دن بعد ہی اسلام قبول کر لیا ‘ اس کی بیوی  حضرت فاختہ بن ولیدؓ  پہلے ہی مسلمان ہو چکی تھیں‘ غزوہ حنین کے موقع پرصفوان  نے ایک 100زرعیں آنحضرتﷺ کو عاریتہ پیش کی تھیں۔

3 ۔ عکرمہ بن ابی جہل ۔ اسلام کے سب سے بڑے دشمن کا بیٹا جو فتح مکہ تک اسلام مخالف تحریک میں پیش پیش رہا پھر بھاگ کر یمن چلا گیا ‘ اسکی بیوی ام حکیم بنت حارث بن ہشام جو کہ اسکی چچا زاد بہن بھی تھی مسلمان ہوئی اور اپنے شوہر عکرمہ کو لیکر حاضر خدمت ہوئی اور معافی کی درخواست کی آنحضرتﷺ نے معاف فرما دیا عکرمہؓ کلمہ پڑھ کر حلقہ بگوش  اسلام ہو گئے اور پھر اسلام کے ممتاز  مجاہدین میں شمار ہوئے  جنگ یرموک میں جام شہادت نوش کیا۔

4 ۔ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح۔ یہ حضرت عثمانؓ کا رضاعی بھائی تھا اسلام قبول کیا پھر کاتب وحی رہا‘ پھر مرتد ہو کر اسلام کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کرتا رہا‘ اس نے حصرت عثمانؓ کے پاس پناہ لی‘ حضرت عثمانؓ کی سفارش پر اس کو معافی ملی پھر مسلمان ہوئے اور باقی زندگی اسلام کی خدمت کیلئے وقف کردی۔

5 ۔ ھباربن الاسود۔ یہ وہ شخص تھا جس نے آپؐ کی صاحبزادی حضرت زینبؓ کو ہجرت کے وقت ایسی تکلیف پہنچائی کہ پھر وہ جانبر نہ ہو سکیں ‘ فتح مکہ کے بعد چھپ گیا ‘ بالآخر بارگاہ اقدسؐ میں حاضر ہو کر اقبال جرم کے ساتھ ساتھ معافی کا طلبگار ہوا رحمت عالمﷺ نے اپنی رحمت کی چادر اس پر بھی پھیلا دی۔

6 ۔ کعب بن زھیر۔  فتح کے  وقت فرار ہو گیا ایک سال بعد اپنے بھائی کے ہمراہ حاضر خدمت ہو کر مشرف بہ اسلام ہوا اور پھر آپؐ کی خدمت میں ایک عربی قصیدہ پیش کیا‘ آنحضرتﷺ نے ان کو اپنی چادر عنایت فرمائی۔

7 ۔  وحشی بن حرب ۔ حضرت حمزہؓ کا قاتل بھاگ کر طائف چلا گیا‘ آپؐ نے اس کو بلایا ‘  یہ بڑی بحث کے بعد حاضر خدمت ہو کر معافی کا خواستگار ہوا ‘ آپؐ نے معاف فرما دیا ‘  مگر فرمایا میرے سامنے نہ آنا‘ اسکے بعد مختلف جنگی معرکوں میں شریک رہا‘ مسیلمہ کذاب کو وحشیؓ نے ہی واصل جہنم کیا تھا۔

8 ۔ عبداللہ بن زبعریہ ۔  یہ بھی مفروروں میں شامل تھے۔  حاضر خدمت ہوئے  تو معافی مل گئی ‘ اسکے علاوہ تین اور آدمیوں کے نام بھی مختلف روایتوں میں آئے  ہیں وہ رحمت عالمﷺ کے دربار رحمت میںنہ پہنچ سکے اور باہر ہی باہر قتل ہو گئے اسی طرح حارث بن ہشام اور زبیر بن امیہ بن مغیرہ جن کو ام ہانی ؓ نے پناہ دی تھی حضرت علیؓ انہیں قتل کرنا چاہتے تھے‘ حضرت اُم ہا نیؓ نے معاملہ حضورﷺ کی خدمت میں پہنچایا آپؐ نے فرمایامیں ان کو بھی معاف کرتا ہوں۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online