Bismillah

655

۲۱تا۲۷ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۰تا۶ااگست۲۰۱۸ء

پیاری امی جانؒ اور یوم العید (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 648 - Naveed Masood Hashmi - Piyari Ami Jaan aur Eid

پیاری امی جانؒ اور یوم العید

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 648)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ سے ایک آدمی نے دریافت کیا کہ میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’تیری ماں‘‘۔۔۔ اس نے پھر پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ آپﷺنے فرمایا’’تیری ماں‘‘۔۔۔ اس نے تیسری مرتبہ پھر دریافت کیا اس کے بعد کون ہے؟ آپﷺ نے پھر ارشاد فرمایا’’تیری ماں‘‘۔۔۔ اس نے پھر پوچھا کہ اس کے بعد کون ہے؟ آپﷺ نے فرمایا’’تیرا باپ‘‘

 اس عید۔۔۔ سعید کے موقع پر میری  امی جانؒ ہمارے پاس نہیں ہوںگی، اللہ ان کی قبر مبارک پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔۔۔ وہ9رمضان المبارک1439ھ کو اپنے پروردگار کے حضور پیش ہو چکی ہیں۔۔۔ والدہ محترمہ کی وفات کا غم شائد اب کبھی کم نہ ہو، والدہ محترمہ مرحومہ مغفورہ کی جدائی کی دکھ کی دوا۔۔۔ نہ کسی ڈاکٹر کے پاس ہے نہ حکیم کے پاس۔۔۔ ’’ماں‘‘ تو محبتوں کی ایسی آبشار ہے  کہ اولاد چاہے ماں کی گستاخ اور نافرمان ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ مگر ماں کی ’’محبت‘‘ پھر بھی اس کے گرد اپنا حصار قائم رکھتی ہے۔

والدہ محترمہ تو انتقال فرما گئیں۔۔۔ مگر نظام کائنات اپنی ڈگر پر چلتا چلاجا رہا ہے۔۔۔ چنانچہ رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں، مغفرتوں،  اور رعنائیوں کے ساتھ الوداع ہونے کو ہے۔۔۔’’آہ‘‘9رمضان المبارک 25 مئی کی شام افطاری سے قبل امی جانؒ کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے الوداع کہنا پڑا۔۔۔ اور رب کا مہمان، ہم سب کا پیارا رمضان بھی ہمیں الوداع کا داغ دیکر رخصت ہو گیا۔

’’عید الفطر‘‘ کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔۔۔ ’’درد‘‘ چاہے ’’دل‘‘ کا روگ بنے۔۔۔’’عید الفطر‘‘ کو تو پھر بھی سینے سے لگانا ہے۔

کیوں؟ اس لئے کہ’’عید الفطر‘‘ وہ انعام ہے کہ اُمت مسلمہ کو رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں والے مہینے کے بعد عطاء ہوتا ہے۔۔۔ ہم مسلمان ہیں، اور مسلمانوں کی خوشی ہو یا غم، بیماری ہو یا تندرستی، حتیٰ کہ مرنا ہو یا جینا یہ سب خدا کیلئے ہوتا ہے۔

چنانچہ ارشاد ربانی ہے کہ (ترجمہ) ’’کہہ دے کہ میری نماز، میری تمام عبادات، میرا مرنا، جینا جو کچھ ہے اللہ کیلئے ہے‘‘

 حضرت سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا’’ جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام(آسمانوں پر) لیلۃ الجائزۃ ( انعام کی رات) لیاجاتا ہے۔۔۔ اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں ۔۔۔ یہ زمین پر اُتر کر تمام گلیوں، راستوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔۔۔ اور ایسی آواز سے جن کوجنات اورانسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے ۔۔۔ پکارتے ہیں کہ اے اُمتِ محمدﷺ اس رب کریم کی ’’درگاہ‘‘ کی طرف چلو۔۔۔ جو بہت زیادہ عطاء فرمانے والا ہے۔۔۔ اور بڑے سے بڑے قصور معاف فرمانے والا ہے۔

 اور پھر جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام کر چکا ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کابدلہ یہی ہے۔۔۔ کہ اس کی مزدوری پوری پوری دی جائے۔۔۔ تو اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ اے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تروایح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطاء کر دی۔۔۔ اور بندوں سے خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اے میرے بندو! مجھ سے مانگو۔۔۔ میری عزت کی قسم، میرے جلال کی قسم! آج کے دن اپنے اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے عطاء کروں گا۔۔۔ دنیا کے بارے جو سوال کرو گے۔۔۔ اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروںگا۔۔۔ میری عزت کی قسم! جب تک تم میرا خیال رکھو گے میں تمہاری لغزشوں پر ستاری  کرتا رہوں گا۔۔۔ اور ان کو چھپاتا رہوں گا۔۔۔ میری عزت کی قسم ! اور میرے جلال کی قسم! میں تمہیںمجرموں اور کافروں کے سامنے رُسوا نہیں کروں گا۔۔۔بس، اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ۔۔۔ تم نے مجھے راضی کر لیا اور میں تم سے راضی ہو گیا،۔۔۔ بس فرشتے اس اجر و ثواب کو دیکھ کر جو اس امت کو’’عید‘‘ کے دن ملتا ہے خوشیاں مناتے ہیں اور کِھل جاتے ہیں۔۔۔(رواہ ابو الشیخ  فی کتاب الثواب)

’’عید‘‘ کو لہو و لعب، معصیت کاری، گانے بجانے، ڈرامہ اور فلم بینی کی نذر کرنے والے اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے وہ ظالم ہیں کہ جن کی عقلوں پر جہالت کے پردے پڑے ہوتے ہیں۔

ہم مسلمان ہیں۔۔۔ ہمیں عید الفطر کی خوشیوں میں اپنے غریب مسلمان بھائیوں کو بھی یاد رکھنا چاہئے

یہ غریب مسلمان بھائی۔۔۔ ہمارے دائیں، بائیں، اڑوس پڑوس، گلیوں اور محلوں میں ہی پائے جاتے ہیں ، عید سعید کے اس با برکت موقع پر ہمیں افغانستان، کشمیر، فلسطین، برما، اری ٹیریا۔۔۔ شام، عراق کے مظلوم مسلمانوں کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا چاہئے۔

ہم تو عید کی خوشیاں منانے میں مصروف ہوں گے۔۔ لیکن مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمان کہ جو بھارتی فوج کی سنگینوں کے سائے میں زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔۔۔ ہمیں عید کے موقع پر انہیں بھی یاد رکھنا چاہئے۔۔۔ کشمیر کا جہاد جاری ہے۔۔۔ جہاد و’’قتال‘‘ کے عُشَّاق کشمیر کے پہاڑوں پر اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔۔۔ہمیں عید کے موقع پر ان جہادیوں کو بھی یاد رکھنا چاہئے۔

اسلام دین فطرت ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے صاحب نصاب مسلمانوں پر زکوٰۃ اور صدقہ فطر واجب کر کے یہ آفاقی پیغام دیا ہے کہ ’’عید‘‘ کے موقع پر اپنی زکوٰۃ، صدقات کے ذریعے غریبوں اور مسیکنوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کرنا چاہئے۔

…٭…

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online