Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

مینارۂ نور (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 651 - Naveed Masood Hashmi - Meenara e Noor

مینارۂ نور

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 651)

بہاولپور کے سینے پر قائم مسجد عثمانؓ و علیؓ اور مسجد’’سبحان اللہ‘‘ صرف بہاولپور یا پنجاب ہی نہیں ۔۔۔ بلکہ پورے پاکستان میں ’’مینارۂ نور‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔۔ یہاں قال اللہ و قال الرسولﷺ کی صدائیں تو گونجتی ہی ہیں مگر ساتھ ہی نوجوانوں کی روحانی تراش، خراش کر کے انہیں’’انسانیت نوازی‘‘ کے اوصاف سے مزین بھی کیا جاتا ہیِ۔

گزشتہ ہفتے بہاولپور کے ان دونوں دینی مراکز میں اس خاکسار کا جانا ہوا۔۔۔ وہاں ہوتے ہوئے دین کا کام دیکھ کر روح سرشار ہو گئی۔۔۔ کبھی ’’بہاولپور‘‘ کو نواب آف بہاولپور کے نام سے جانا جاتا تھا۔۔۔ مگر اب دنیا میں’’بہاولپور‘‘ مولانا محمد مسعود اَزہر کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔۔۔ مولانا محمد مسعود ازہر کہ جن کا نام سن کر دہلی اور ممبئی کے دہشتگرد بدمعاشوں کی دھوتیاں گیلی ہو جاتی ہیں، وہ غالبا1968ء میں بہاولپور میں انتہائی محترم شخصیت حضرت اللہ بخش صابرؒ کے گھر میں پیدا ہوئے تھے۔۔ مولانا محمد مسعود ازہر اب کہاں ہیں؟ پہاڑوں پر ہیں؟ جنگلوں میں ہیں یا ریگستانوں میں؟ یہ میں تو نہیں جانتا ۔۔۔ ہاں البتہ میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ مولانا اَزہر اور ان کے جانثاروں کے کارناموں سے نریندر مودی جیسے بدنام زمانہ قاتل اور شدت پسند ہندو کی چیخیں ضرور نکلتی رہتی ہیں۔

قارئین محترم میں کوئی انٹرنیٹ، وائس آف امریکہ، وائس آف جرمنی بی بی سی یا دیگر یہودی میڈیا مارکہ کالم نگار یا صحافی نہیں ہوں۔۔۔ امریکہ کا نیو ورلڈ آرڈر ہو یا بے حیائی و فحاشی پر مبنی روشن خیالی، کا بھونڈا منصوبہ۔۔۔ میرے نزدیک ان کی پرکاہ برابر بھی کوئی حیثیت نہیںہے۔

کیونکہ میرے نزدیک روشن خیالی اور حکمت و بصیرت کا اصل مرکز و محور قرآن مجید فرقان حمید ہے،اس لئے زمینی حقائق کو بیان کرنا میری اَخلاقی، شرعی اور صحافتی ذمہ داری ہے۔۔۔ اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی فوج کے بے پناہ مظالم کی کسک صرف بہاولپور تک ہی نہیں۔۔ بلکہ گوادر سے لیکر پشاور تک محسوس کی جارہی ہے۔۔۔ اسلام آباد کے حکمران اور پاکستان کے سیاست دان تو محض تاجر ہیں۔۔ تاجر پاکستان کے مسلمان ہوں یا مقبوضہ کشمیر کے مسلمان۔۔۔ وہ کشمیر میں جاری جہاد کے حوالے سے مولانامحمد مسعود اَزہر جیسے۔۔۔ قائدین کی طرف دیکھتے ہیں۔

مسجد عثمانؓ و علیؓ میں تقریباً28سالہ پرانے دوست بھائی رشید کامران سے ملاقات ہوئی تو اس خاکسار نے انہیں خوبصورت، خوب سیرت بیٹے طلحہ رشیدؒ کی بھرپور شباب کے موسم میں شہادت عظمیٰ جیسی نعمت ملنے پر مبارک باد پیش کی تو۔۔۔ انہوں نے مبارک بادی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہم میاں، بیوی نے طلحہ رشیدؒ کو پال پوس کر جوان کیا ہی اس دن کے لئے تھا کہ وہ اللہ کے راستے میں قربان ہو جائے‘‘۔۔۔۔ بھائی رشید کامران نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج سے لڑتے ہوئے شہادت کا جام نوش کرنے والے اپنے پیارے بیٹے طلحہ رشیدؒ کی زندگی کے اور بھی کئی واقعات بیان کئے، معروف کالم نگار مولانا طلحہ السیف، مدثر جمال تونسوی اور عبدالحفیظ امیر پوری سمیت مولانا مجاہد عباس، مولانا خادم قاسمی، مولانا امداد اللہ، مولانا اشفاق احمد، بھائی فیض اللہ جاوید ان سب دوستوں سے بھی خوب  ملاقاتیں رہیں۔۔۔ یہ سب جہادی مشن اور کاز کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔۔۔ اللہ ان سب کو یونہی کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں دل  وجان سے وابستہ رکھے۔

بھائی مجاہد عباس نے کہا کہ نواز شریف کو اور کوئی بھی سزا نہ دی جائے، بس صرف شریف خاندان کا نام’’فورتھ شیڈول‘‘ میں ڈال دیا جائے ۔۔۔ تاکہ ’’شریفوں‘‘ کو پتہ چلے کہ بے گناہ علماء اور جہادیوں کو’’فورتھ شیڈول‘‘ میں ڈلوا کر انہوں نے’’انسانیت‘‘ کو کس قدر بے توقیر کیا تھا۔

مرکز عثمانؓ و علیؓ اور جامع مسجد سبحان اللہ میں دینی علوم کی تعلیم کے علاوہ تزکیۂ نفس پر بھی زور دیا جاتا ہے۔۔۔ دینی مدارس آسمانی علوم کے مراکز ہیں۔۔۔ میرے نزدیک  دینی مدارس میں آکسفورڈ یا لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کو گھسانے سے صرف ان کا حسن ہی ماند نہیں پڑے گا بلکہ’’روحانیت‘‘ بھی گھائل ہو جائے گی۔۔۔ پرائمری،مڈل، میٹرک، ایف اے، بی اے، ڈاکٹریٹ وغیرہ کے سرکاری سرپرستی میں اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں موجود ہیں، نائن الیون کے واقعات کے بعد ہم نے اَغیار کے دباؤ پر موجود’’دینی مدارس‘‘ کو بھی انگلش کلچر میں رنگنے کی کوششیں کی۔۔ میری دانست میں یہ بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کے اس قول کی نفی ہے کہ جس میں انہوں نے فرمایا تھاکہ’’میری خواہش ہے کہ دارالعلوم کا ہر فیض یافتہ انگریز کے محل میں شگاف کر دے۔۔۔ اور اس مدرسہ کا ہر طالب علم ہر قسم کے سامراج کے لئے زہر قاتل بن جائے، انگریز کے خلاف بغاوت کے جرم میں خواہ دارالعلوم کی اینٹ سے اینٹ بھی بج جائے۔۔۔ جنگ بہرحال جاری رہے گی‘‘

یہ خاکسار انگلش تعلیم حاصل کرنے کا مخالف نہیں ہے۔۔۔ لیکن اس کیلئے عصری تعلیمی ادارے موجود ہیں۔۔۔ ہاں البتہ دینی مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد قرآن و حدیث کے علوم کو پڑھانا ہے۔۔۔ دینی مدارس کو جن مقاصد کیلئے معرض وجود میں لایا گیا تھا۔۔۔اگر یہ مدارس اسی بنیاد پر رہے تو دنیا کی کوئی طاغوتی طاقت ان کے سامنے نہیں ٹھہر سکے گی، میرے لئے یہ خبر کسی خوشخبری سے کم نہیں تھی۔۔۔ کہ الرحمت ٹرسٹ کے زیر اہتمام۔۔۔ اب تک پاکستان میں91مساجد پایہ تکمیل تک پہنچ چکی ہیں اور ان مساجد سے اکثر کے ساتھ دینی مدارس بھی خوب کام کر رہے ہیں... اللہ جس سے خوش ہوتے ہیں۔۔۔ اس سے اپنے دین کا کام لیتے ہیں۔۔۔ مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ مولانا محمد مسعود اَزہر کی زیر اِمارت جہادی محاذ تو گرم ہیں ہی۔۔۔ لیکن پاکستان میں بھی ان کی زیر قیادت، مساجد ، مدارس کے علاوہ دینی ، تعلیمی، تربیتی، روحانی کام نہایت مثبت انداز میں جاری و ساری ہیں۔

بہاولپور سے واپسی کا ارادہ کیا۔۔۔ ہمارے دوست محمد علی درانی کا فون آگیا۔۔۔ وہ احمد پور شرقیہ میں اپنے بیٹے حسین درانی کی الیکشن کمپین میں مصروف تھے۔۔۔ انہوں نے بڑے پیار سے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملاقات کئے بغیر واپس گئے تو پھڈا ہو جائے گا۔۔۔ چنانچہ بہاولپور سے احمد پور شرقیہ اورپھر احمد پور شرقیہ سے واپسی ہوئی، تفصیلات پھر کبھی سہی۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online