Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

پاکستان کا مطلب کیا،لا الہ الا اللہ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 655 - Naveed Masood Hashmi - Pakistan ka matlab kia

پاکستان کا مطلب کیا،لا الہ الا اللہ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 655)

14 اگست1947ء میں پاکستان کا بن جانا۔۔۔ پاکستان کے نام سے ایک آزاد ریاست کا قیام، بیسیویں صدی کا محیر العقول اور اہم ترین واقعہ قرار دیا جائے۔۔۔ تو یقینا غلط نہ ہو گا۔۔۔ قیام پاکستان کی نظریاتی اساس اسلامی نظریہ حیات پر مشتمل تھی۔۔۔ بانی پاکستان قائدمحمد علی جناحؒ دو قومی نظریہ کے زبردست حامی تھے اور وہ ہر لحاظ سے مسلمانوں کو الگ قوم کا درجہ دیتے تھے، چنانچہ29دسمبر1940ء کو احمد آباد میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’پاکستان صدیوں سے موجودرہا ہے، شمال مغرب مسلمانوں کا وطن رہا ہے، ان علاقوں میں مسلمانوں کی آزاد ریاستیں قائم ہونی چاہئیں تاکہ وہ اسلامی شریعت کے مطابق زندگی بسر کریں‘‘۔

 ایک دوسرے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ’’پاکستان تو اسی روز وجود میں آگیاتھا۔۔۔ جب پہلاہندو مسلمان ہوا‘‘، اگر اس بات کو کسوٹی مان لیا جائے تو برصغیر میں حضرت محمد بن قاسمؒکی آمد کے ساتھ ہی اسلام ایک سیاسی طاقت کی حیثیت ابھرنا شروع ہو گیا تھا، 712ء میں محمد بن قاسمؒ کے سندھ پر حملے نے اسلام کو سیاسی طاقت بخشی۔۔۔ برصغیر میں اسلام اپنے ساتھ بہت سی نعمتیں اور برکتیں لایا، یہ اسلام کے اصولوں کا منطقی نتیجہ تھا کہ یہاں کے مذہی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظم میں بہت سی تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔

 گیارہوں صدی عیسوی میں حضرت سلطان محمود غزنویؒ نے برصغیر پر سترہ حملے کئے، جس کے نتیجے میں پنجاب اور ملتان کو اپنی سلطنت میں شامل کیا، غیات الدین بلبن کا دور اسلام کے فروغ اور ارتقاء میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، یہ وہ دور تھا کہ جب اسلام برصغیر کے جنوب تک پہنچا، برصغیر میں اشاعت اسلام کے حوالے سے سب سے اہم کردار صوفیاء کرام اور علماء کرام نے ادا کیا۔۔ ان کی پاکیزہ زندگی، بلند کردار اور حسن اخلاق اسلام کو برصغیر میں پھیلانے میں بڑے معاون ثابت ہوئے، حضرت سیدنا علی ہجویریؒ، حضرت شیخ اسماعیلؒ لاہوری، حضرت سخی سرورؒ، حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ، حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ ملتانی، حضرت لال شہباز قلندرؒ، حضرت مجدد الف ثانیؒ اورشاہ عبدالطیف بھٹائیؒ ان میں سب سے نمائیاں نظر آتے ہیں۔

برصغیر جنوبی ایشیاء میں مسلمانوں کا اقتدار712ء میں محمد بن قاسمؒ کی فتح سندھ سے شروع ہوا۔۔۔ اور1707ء میں اورنگزیب عالمگیرؒ کی وفات کے بعد ۔۔۔۔ اس میں زوال کے آثار نمودار ہوئے۔۔۔ سیاسی سطح پر انگریزوں نے تجارتی کمپنی کے نام پر اپنا اثر و رسوخ خوب بڑھایا،1757ء میں بنگال کے نواب سراج الدولہ نے انگریزوں کا راستہ روکنا چاہا۔۔۔ لیکن وہ اپنوں کی سازشوں کی وجہ سے جنگ پلاسی میں شکست سے دوچارہوئے۔۔۔1799ء میں میسور کے مجاہد حکمران سلطان فتح علی ٹیپوؒ اپنوں کی بیوفائی اور غداری کے سبب جام شہادت نوش کر گئے۔ اسی دوران حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ایک مصلح کی شکل میں علمی محاذپر زبردست کام شروع کیا،1831ء میں سید احمد شہیدؒ اور ان کے رفیق خاص سید اسماعیل شہیدؒ بالاکوٹ میں سکھوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔۔۔1857ء کی جنگ آزادی مسلمانوں کی سیاسی احیاء اور اسقلال کی ایک اور کوشش تھی، سیاسی احیاء کے حوالے سے دینی احیاء کی توقع پرعلماء کی بھاری اکثریت نے اپنی الگ لشکر بندی کر کے، شاملی کے محاذ پربڑی بے جگری سے انگریزوں کا مقابلہ کیا۔

مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اس لشکر کے سپہ سالار تھے۔۔۔قائداعظمؒ نے29دسمبر1940ء کو احمد آباد میں خطاب کرتے ہوئے جو یہ فرمایاتھا کہ’’پاکستان صدیوں سے موجود رہا ہے‘‘ وہ مسلمانوں کی اسی تاریخ کی طرف اشارہ تھا۔۔۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا یہ فرمان بھی بالکل درست تھا کہ دو قومی نظریئے کی بنیاد اسی روز پڑ گئی تھی کہ جب پاکستان میں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔۔۔ مطلب یہ کہ ’’نظریہ پاکستان‘‘ کوئی ۔۔۔ وقتی، ہنگامی یا نظریہ ضرورت کے تحت نہ تھا۔۔۔ بلکہ قائدین پاکستان نے۔۔۔ ’’نظریہ پاکستان ‘‘ اسلامی نظریہ حیات سے منتخب کر کے قوم کے سامنے پیش کیا تھا۔ قائداعظمؒ کی بے لوث قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے۔۔۔جان و مال اور عزت و آبرو کی بے بہا قربانیاں پیش کر کے پاکستان تو حاصل کرلیا۔۔۔ اور شہداء پاکستان کے نظریات اور خواہشات کے مطابق پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست نہ بنا سکے، مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ میڈیا اور دانشوری کے افق پہ ایسی کالی قوتیں قابض ہو کر بیٹھ گئیں کہ جو نہ صرف یہ کہ۔۔۔’’نظریہ پاکستان‘‘ کی زبردست مخالف بلکہ’’سیکولر پاکستان‘‘ کی حامی بھی تھیں۔

حالانکہ نظریہ پاکستان کی مخالفت۔۔۔14اگست1947ء کے دن لاکھوں قربانیاں پیش کرنے والے ، شہداء پاکستان کے مقدس لہو سے غداری کے مترادف ہے،14اگست1947ء کے دن۔۔۔ قائداعظمؒ محمد علی جناح کی قیادت میں آگ اور خون کا سمندر عبور کر کے پاکستان آنے والے مسلمان پاکستان کو اسلامی نظریہ حیات کے مطابق تشکیل دینا چاہتے تھے۔۔۔14اگست1947ء کو پاکستان بنانے کے جرم میں ماؤں کی آنکھوں کے سامنے ان کے جوان بیٹے خاک و خون میں تڑپائے گئے،بہنوں کی آنکھوں کے سامنے ان کے بھائیوں کو ماراگیا، ہزاروں بیویوں کے سہاگ چھین لئے گئے، ماؤں کی گودیوں میں پڑے ہوئے معصوم بچوں کو نیزوں کی انیوں پہ اچھالا گیا۔

ہزاروں ماؤں، بہنوں، بیٹیوں نے اپنی عصمتیں بچانے کیلئے۔۔۔ دریاؤں اورکنوؤں میں کود کر جانیں قربان کر ڈالیں۔۔۔14اگست1947ء کے دن ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک ایسی خونی تاریخ رقم کی۔۔۔ کہ جس کو سیکولر اور لبرل دنیا کی کالی طاقتیں بے حیائی، فحاشی اور عریانی کو میڈیا کے ذریعے پروان چڑھا کر بھلانا بھی چاہیں تو کوئی بھی ’’حلالی بیٹا‘‘ بھول نہیں سکتا۔

بدی کی سیکولر قوتوں کے بعض نمائندے۔۔۔ آج کل نجی چینلز پر یہ ہرزہ سرائیاں کر رہے ہیں کہ’’پاکستان کو بنایا تو مسلمانوں کے لئے ہی گیا تھا ۔۔۔ مگر اسلام کیلئے نہیں‘‘(لا حول ولا قوۃ الا باللہ)

بدی کے ان نمائندوں کی یہ جاہلانہ گفتگو ٹی وی چینلز کے ذریعے پاکستان میں جان بوجھ کر پھیلائی جاتی ہے سوال یہ ہے کہ بقول ان کے اگر پاکستان مسلمانوں کیلئے ہی بنایا گیا تھا تو کیوں؟ کیا اس لئے کہ یہاں جاگیرداروں، زمینداروں، لٹیروں، انگریز کے ذہنی غلاموں کو سیکولر اور لادینیت بدبو پھیلانے کے مواقع فراہم کئے جائیں؟

یہ جاہل، قیام پاکستان کے70سال بعد بھی پاکستان کے19کروڑ عوام کے دل و دماغ سے یہ نعرہ نہیں مٹا سکے کہ۔۔۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔۔۔ اور یہ نعرہ قیامت تک بھی ساری شیطانی طاقتیں اس لئے نہیں مٹا سکتیں۔۔۔ کیونکہ قیام پاکستان کا سب سے مقبول نعرہ یہی تھا۔۔۔ اور اس نعرہ کو لگاتے ہوئے۔۔۔ برصغیرکے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔۔۔ بدی کی قوتوں کے جن نمائندوں خواہ وہ حکمران تھے، سیاست دان تھے، ڈکٹیٹر تھے، یا دانشور اور صحافی، نے بھی نظریہ پاکستان کو جھٹلانے اور شہداء پاکستان کو بھلانے کی کوشش کی،وہ خود حرف غلط کی طرح مٹ گئے، رمضان المبارک27شب کو بننے والا ملک پاکستان صرف برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ہی نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ کیلئے اللہ کا خاص انعام ہے۔

14اگست1947ء کے دن لاکھوں جانیں قربان کر کے پاکستان کوحاصل کرنے والے شہداء پاکستان، پاکستان کو ایک فلاحی اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ آج70سال بعد اگر کوئی گروہ یہود ونصاریٰ اور ہندو کے اشارے پر پاکستان کوسیکولر بنانا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ۔۔۔وہ پاکستان سے نکل کردوبارہ ہندوستان جا بسے۔۔۔ اور وہاں پھر سیکولرپاکستان کی تحریک شروع کر کے ہندوستان میں اپنے لئے’’ نیاسیکولر پاکستان‘‘ قائم کرلے۔۔۔ تاکہ اس گروہ کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو سکے۔

…٭…

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online