Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

آزادی اور جدوجہد آزادی کی بحث (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 656 - Naveed Masood Hashmi - Pakistan ka matlab kia

آزادی اور جدوجہد آزادی کی بحث

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 656)

اللہ تعالیٰ پاکستانی قوم کی حالت پر رحم فرمائے (آمین) 25جولائی کے انتخابات میں ہارنے والوں نے الزام لگایا کہ انہیں زبردستی ہرایا گیا۔۔۔ لہٰذا وہ انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کرتے۔۔۔ اور14اگست کو جہدوجہد آزادی کے طور پر منائیں گئے، ان کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کی جانے والی باتوں کو بنیاد بنا کر علمائِ کرام بالخصوص اَکابر علماء دیوبند کے خلاف وہ گند بکا جارہا ہے کہ ’’الامان الحفیظ‘‘ ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے ساون کے موسم میں گندے جوہڑوں میں گندگی پر پلنے والے کیڑے مکوڑوں نے یلغار کر دی ہو!

ساون بھادوں کے ان موسمی کیڑے مکوڑوں سے کوئی پوچھے کہ۔۔۔ کہاں عاشق رسولﷺ حضرت سید حسین احمد مدنیؒ اور کہاں25جولائی2018ء کے انتخابات؟

کہاں حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ؟ کہاں امام الہند ابو الکلام آزاد؟ اور کہاں25جولائی کا انتخابی عمل؟ ان اولیائِ کرام کا ان انتخابات سے کیا واسطہ اور تعلق؟

سچی بات ہے میں ذاتی طور پر نہ اس مغربی جمہوریت کا قائل ہوں اور نہ ہی۔۔۔ ووٹ ڈالنے کا۔۔۔ جو مغربی جمہوری سسٹم گھوڑے اور گدھے میں، ایک زانی ، شرابی، قاتل اور ’’شیخ الحدیث‘‘ میں تمیز کرنے سے قاصر ہو۔۔۔ وہ مغربی جمہوری سسٹم اس ملک و قوم کو تباہیوں اور بربادیوں کے سوا کچھ نہیں دے سکتا۔

لیکن جو علماء اور مذہبی حلقے اس جمہوریت، اس کے بوسیدہ اور بدبودارسسٹم میں کود پڑنے کو ہی اصل اسلام قرار دیتے ہیں۔۔۔ ان کے تمام تر احترام کے ساتھ میرا ان سے سوال ہے کہ اَکابر علمائِ دیوبند کو گالیاں دِلوانا، جنت مکیں بزرگوں کے خلاف گز گز بھر لمبی زبانیں نکالنے والے خارش زدہ جانوروں سے بھی بدتر بدمعاشوں کو بھونکنے دینا کیا اسی کا نام ’’جمہوریت‘‘ ہے؟

علمائِ حق کے خلاف بھونکنے والے خارش زدہ جانوروں سے بھی بدتر، بدمعاشوں سے کوئی پوچھے کہ اگر علماء دیوبند پاکستان بنانے کے مخالف تھے۔۔۔ توپھر حضرت اقدس مولانا علامہ شبیر احمد عثمانی اور حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی نوَّرَا للہ مرقدہما کون تھے؟

مسٹرقائدمحمد علی جناح نے پھر ان کے مقدس ہاتھوں سے مشرقی اور مغربی پاکستان میں پرچم کشائی کیوں کروائی تھی؟

کیا آج کے یہ خارش زدہ جانور!قائدمحمد علی جناح سے بھی بڑے عقلمند اور محب پاکستان ہیں؟

یہاں فوج کے خلاف پوسٹ شیئر کرنے والے کے خلاف قانون حرکت میں آجاتا ہے۔۔۔عدلیہ کے خلاف نعرے لگانے والوں پر دہشت گردی کے مقدمات قائم ہو جاتے ہیں۔۔۔ لیکن علمائِ حق کے خلاف بھونکنے والوں کو مکمل آزادی اور کھلی چھٹی دی جاتی ہے!

کیا جشن آزادی علمائِ حق کے خلاف بھونکنے کا نام ہے؟ کیا جشن آزادی موٹر سائیکلوں کے سلنسر نکال کر گلیوں اور بازاروں میں اودھم مچانے کا نام ہے؟

کیا جشن آزادی گاڑیوں اور گھروں کی چھتوں پر سبز ہلالی پرچم لگا کر۔۔۔ اندر انڈین گانوں پر ناچنے کا نام ہے؟

یقینا14اگست1947ء کوپاکستان انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے آزادہوا تھا۔۔۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔۔۔ لیکن کیا حکمرانوں، سیاست دانوں اور مقتدر حلقوں نے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کی قدر بھی کی ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟

برصغیر کے مسلمانوں نے20لاکھ سے زائد جانیں قربان کر کے جس پاکستان کو حاصل کیا تھا۔۔۔

 وہ ’’پاکستان‘‘ آج تک نظامِ اسلام کے نفاذ کی نعمت سے محروم کیوں چلا آرہا ہے؟

14 اگست1947ء کے دن سیکولر اور لبرل بھارت کو لات مار کر آگ اورخون کا سمندر عبور کر کے برصغیر کے مسلمان لُٹے کٹے انداز میںجس پاک سر زمین پر پہنچے تھے۔۔۔ اس’’پاکستان ‘‘ کو70سال بعد سیکولر اور لبرل بنانے کے اِعلانات کرنا، کوششیں کرنا، کیا جشن آزادی اس کا نام ہے؟

کاٹھے انگریز، اگر اسلامی پاکستان میں بے حیائی ، فحاشی اور عریانی کو پروان چڑھائیں گے، ہندوؤں کی ثقافت کو رواج دیں گے۔۔۔ مساجد اورمدارس، پگڑی ، ڈاڑھی ودیگر شعائرِ اسلام کا مذاق اڑائیں گئے۔۔۔ علماء کو بے وقار کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے تو پھر ہر سچے پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ آزادی کے مقاصد کے حصول کے لیے ہر ’’پُر امن جدوجہد‘‘ جاری رکھے۔

 انڈین فلمیں خرید، خرید کر بھارت کو کروڑوں کا مالی فائدہ پہنچانے والے۔۔۔ انڈین اداکاروں کی طرز پر اپنا لباس اور بالوں کا اسٹائل بنانے والے۔۔۔ سال میں صرف14ااگست کا دن جھنڈیاں لگا کر اور سال کے364 دن انڈین فلمیں اورانڈین گانوں کی مستیوں میں جھومتے ہوئے گزارنے ہیں تو پھر14 اگست1947ء کے 20لاکھ سے زائد شہیدوں کے خواب پورے کرنے کیلئے’’جدوجہد‘‘ تو کرنا پڑے گی۔

لوٹ آئیے!اس جمہوری تماشے سے۔۔۔ جمہوریت پر کالی بلا اور اسلام اور علماء اسلام کی دوستی کبھی نہیں ہو سکتی۔۔۔ پہلے تو جھونگے میں دوچار وزارتیں دے کر پورے مذہبِ اسلام کو مغربی جمہوریت کی زنجیروں میں جکڑنے کی کوششیں کی جاتی تھیں،مگر اب تو جمہوریت کی کالی بلا نے علماء کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر کے یہ بات ثابت کر دی ہے۔۔۔کہ مولوی اس کی برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔۔۔ چلئے اب ہی سہی۔۔۔ آئیے جدوجہد تیز کر دیں اور14اگست1947ء میں حاصل شدہ آزادی کی نعمت کو نفاذِ اسلام کی خوشبوؤں سے معطر کر کے زمانے کو مہکا ڈالیں۔

ہندوستان کے25کروڑ سے زائد مظلوم مسلمان بھی ہمارے منتظر ہیں۔۔۔ کشمیر کے پہاڑ اور کوچہ و بازار بھی۔۔۔ مجاہدوں کی شجاعت کے گواہ ہیں۔۔۔ پاکستان کے سکیورٹی ادارے اس ملک کی سرحدات کے محافظ اِدارے ہیں۔۔۔ اسی طرح علمائِ کرام اسلام کے چوکیدار اور مسلمانوں کے ایمانی نظریات کے محافظ ہیں۔۔۔ اس لئے میری دانست میں ان دونوں میں نہ کوئی مقابلہ ہے اور نہ موازنہ اور نہ ہی کسی کو ایک دوسرے کی محبت کی آڑ لے کر علمائِ کرام یا ’’قومی اداروں‘‘ کے درمیان نفرتوں کو عام کرنا چاہئے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online