Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

ختم نبوت کے باغیوں کی ناکامی اور مسلمانوں کی کامیابی (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 658 - Naveed Masood Hashmi - Khatm e Nabuwat k Baghi

ختم نبوت کے باغیوں کی ناکامی اور مسلمانوں کی کامیابی

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 658)

عقیدۂ ختم نبوت اور آبروئے مصطفیﷺ وہ قیمتی ترین متاع ہے کہ اگر ان کی حفاظت کیلئے پوری اُمت مسلمہ بھی ذبح ہو جائے۔۔۔ تب بھی اس کی حفاظت کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔

جہنم مکانی، مرزا غلام احمد قادیانی کے چیلوں کو ہمارے کالموں سے بڑی تکلیف ہے، اور وہ اپنے گورے آقاؤں کو ہماری شکایتیں لگاتے ہیں ۔۔۔ لیکن ہم بھی کیا کریں۔۔۔ منکرینِ ختمِ نبوت کی مذمت میں کالم لکھنا تو معمولی بات ہے ۔۔۔ ہم تو دفاع ختم نبوت کیلئے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لئے پھرتے ہیں( الحمدللہ)

7ستمبر 1974ء کا دِن ہماری قومی اور ملی تاریخ میں اس لئے اہمیت کا حامل ہے ۔۔ کیونکہ اس دن شہدائِ ختم نبوت کے مقدس خون کی برکت اور مسلمانوں کے پُرزور مطالبے پر ختم نبوت کے باغی ڈاکووں، یعنی فرنگی سامراج کے خود کاشتہ پودے قادیانی ٹولے کو قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر پارلیمانی بنیاد پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ کیا تھا،44سالوں سے دہلی، واشنگٹن، برطانیہ، اسرائیل سے لیکر پاکستان میں موجود ان کے راتب خوروں تک۔۔۔ ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود جہنم مکانی مرزا قادیانی کے دجال پیروکاروں کو مسلمانوں کی صفوں میں شامل نہیں کروا سکے۔۔۔ یہ عجیب تما شا ہے، امریکہ ہو، برطانیہ ہو، فرانس ہو، بھارت ہو یا اسرائیل،یہ اپنے ملک میں تو کسی کو پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر داخل نہیں ہونے دیتے، مگر انہوں نے اسلام کو’’لاوارث‘‘ مذہب سمجھ رکھا ہے کہ اس کے ساتھ وہ جس طرح سے چاہیں کھلواڑ کر لیں؟( نعوذ باللہ)

لیکن کفریہ طاقتوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ امت مسلمہ کی بنیاد بھی عقیدۂ ختم نبوتؐ اور محبت رسولﷺ پر ہے، اس کا عروج اور اس کی بقاء کا راز بھی تحفظ ختم نبوت اور عشق رسولﷺ میں مضمر ہے۔1853ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کے جذبہ جہاد کی شدت کو دیکھ کو۔۔۔ فرنگی سامراج کو مرزا غلام احمد قادیانی کی ضرورت محسوس ہوئی تھی۔۔۔ اور مرزے بدمعاش نے بھی

اب چھوڑ دو دوستو جہاد کا خیال

دین میں حرام ہے جنگ اور قتال

جیسے کفریہ نظریئے کو پیش کر کے۔۔۔ انگریز کی’’ضرورت‘‘ کو پورا کرنے کی کوشش بھی کی، مگر مسلمانوں نے متحد ہو کر، انگریز خود کاشتہ پودے، قادیانی ٹولے کو ’’کینسر‘‘ کے پھوڑے کی طرح نکال باہر کیا۔

یاد رکھئے! عقیدہ ختم نبوت آسمانی اور قرآنی عقیدہ ہے۔۔۔ ناموس رسالتﷺ کا تحفظ بھی ۔۔۔ قرآنی عقیدہ ہے، چودہ سو سالوں سے، جب جب کسی بھی موذی نے ختم نبوت یا ناموس رسالتﷺ پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔۔۔ مسلمانوں نے اس کے ناپاک وجود سے زمین کو پاک کر ڈالا۔

قادیانی، مسلمانوں کا’’فرقہ ‘‘ نہیں۔۔۔ بلکہ بدترین’’فتنہ‘‘ ہیں ، قادیانی، فرانس میں بھی ہیں، ہندوستان ، جرمنی، لندن ، امریکہ اور اسرائیل میں بھی ہیں۔۔۔ لیکن مرزائی، قادیانی، لاہوری، احمدی، دنیا میں جہاں بھی رہیں، ا نہیں کافر، مرتد اور زندیق ہی کہا اور سمجھا جائے گا۔۔۔ ’’مسلمان‘‘ وہی کہلانے کا حق دار ہے کہ جس کا عقیدہ، ختم نبوت پر ایمان ہے،2مئی 1974ء کا نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر چناب نگر(ربوہ) اسٹیشن پر قادیانیوں کا حملہ۔۔۔ نہ صرف تمام مکاتبِ فکر کے علماء اور مذہبی، سیاسی جماعتوں پر مشتمل مجلس علم تحفظ ختم نبوت کے قیام کی بنیاد بنا، بلکہ آگے چل کر فتنۂ قادیانیت کے خلاف ایک بھر پور تحریک کا محرک بھی ثابت ہوا۔

لیکن ذرا ٹھہریئے۔۔۔ صرف29مئی1974ء میں ربوہ اسٹیشن پر قادیانیوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے طلباء ہی نہیں۔۔۔ بلکہ1953ء کے وہ عشاق رسولﷺ بھی کہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں کی سڑکوں پر جن کے خون کو انتہائی ظالمانہ انداز میں بہایا گیا تھا، فتنہ قادیانیت کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا ان سب کی جیت ثابت ہوئی:

یہ جیت ان کی ہے ، جو خوں میں نہائے تھے

جو جرأتوں کے نشاں ، عظمتوں کے سائے تھے

صداقتوں کے اُفق پر جو جگمگائے تھے

جنہوں نے ختم رسل کے علم اُٹھائے تھے

آج جو سیاست دان! سیاست میں فوج کی مداخلت پر گلے پھاڑ، پھاڑ کر چیختے ہیں۔۔۔ کوئی ان سے پوچھے کہ1953ء میں جنہوں نے مارشل لاء لگا کر عشاقِ مصطفیٰﷺ کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کروایا تھا۔۔۔ وہ کون تھے؟

شورش کشمیری مرحوم نے بالکل درست لکھا تھاکہ’’ اگر اس وقت (1953ء) کے سیاسی حکمران مارشل لاء کی مشق نہ کرتے تو ملک اس حال کو نہ پہنچتا، جس حال کو بعد میں پہنچا، اور نہ ہی جمہوری سیاست اس طرح پامال ہوتی‘‘(تحریک تحفظ ختم نبوت)

یقینا قادیانی، مرزائی فتنے کی اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف سازشیں جاری ہیں۔۔۔ اور ہر چڑھنے والے سورج کے ساتھ ان سازشوں میں اضافہ بھی ہو رہا ہے، لیکن ہمیں مایوس ہونے کی بجائے، ان قادیانی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے ، اس لئے کہ قادیانی ایک ایسا فتنہ ہے کہ جس کی رگیں ہندو، صلیبی اور یہودی فتنے سے ملی ہوئی ہیں۔

کئی’’فتنوں‘‘کے ساتھ مکس ہونے کی وجہ سے قادیانی فتنے کا زہریلا پن بڑھ جاتا ہے۔۔۔ لیکن جہاں تک فتنہ مرزائیت کی ناکامی اور ذلت و رُسوائی کا تعلق ہے تو ذرا مرزا بشیر الدین لعنتی کی اس پیشین گوئی کو دیکھئے کہ جس میں اس نے سال1952ء کو قادیانیوں کا سال قرار دیتے ہوئے۔۔۔ بلوچستان کو احمدی (قادیانی ) صوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

بلوچستان، الحمدللہ آج بھی اسلامی نظریاتی مملکت پاکستان اور ختم نبوت کے پروانوں کا ہی صوبہ ہے۔۔۔ قادیانی(احمدیوں) نے بھارت کے ساتھ مل کر بلوچستان میں بڑی شورشیں برپا کرنے کی کوششیں کیں، مگر ہمارے سیکورٹی اداروں کے بہادر جوانوں نے ان فتنہ پروروں کو کچل کر رکھ دیا۔

ملعون چوہدری ظفر اللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ’’احمدیت (قادیانیت) ایک ایسا پودا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود لگایا ہے، اب وہ جڑ پکڑ گیا ہے، اگر یہ پودا اُکھاڑ دیا گیا۔۔۔ تو اسلام ایک زندہ مذہب کی حیثیت سے باقی نہ رہے گا، بلکہ ایک سوکھے ہوئے درخت کی مانند ہو جائے گا۔۔۔ اور دوسرے مذاہب پر اپنی برتری کے ثبوت فراہم نہ کر سکے گا‘‘(بحوالہ بیان خواجہ ناظم الدین، منیر انکوائیر کمیشن)

ہا، ہا، ہا، قادیانیوں کے ترجمان مرزا سلیم کو چاہئے کہ۔۔۔ وہ ملعون چوہدری ظفراللہ خان۔۔۔ کی قبر پر جا کر، گلا پھاڑ، پھاڑ کر اسے یہ بتا دے 7ستمبر1974ء کو تاریخ ساز فیصلے کو گزرے چوالیس برس بیت گئے، ان چوالیس سالوں میں۔۔۔ اُمت مسلمہ تقریبا ًایک ارب60کروڑ تک جاپہنچی، قادیانیوں کو مشرق و مغرب، شمال و جنوب میں بسنے والے مسلمانوں نے کافر اور مرتد ڈکلیئر کر دیا۔۔۔ ’’اسلام‘‘ کا درخت روز اول سے ہی ہرا بھرا تھا اور قیامت تک ہرا بھرا ہی رہے گاچونکہ قادیانی(احمدی) انگریز کا لگایا ہوا پودا تھا، اس لئے مسلمانوں میں جڑ نہ پکڑنے کی وجہ سے۔۔۔اب وہ ٹنڈ، منڈ، سوکھے، سڑے درخت کی طرح۔۔۔ کبھی ہندوؤں، کبھی یہودیوں اور کبھی صلیبیوں کے ملکوں میں پناہ گاہیں تلاش کرتا پھر رہا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online