Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

جلال الدین حقانیؒ(آخری قسط) (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 660 - Naveed Masood Hashmi - Jalaluddin Haqqani

جلال الدین حقانیؒ(آخری قسط)

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 660)

عالم ربانی جلال الدین حقانیؒ۔۔۔ مجاہد کبیر ہونے کے ساتھ ساتھ شجاعت، زہد و تقویٰ، ایثار و محبت، سخاوت اور انسانیت سے پیار کرنے کی عظیم دولت سے بھی مالا مال تھے۔۔۔ ان سے جہاں ایک طرف ماسکو اور واشنگٹن کے غنڈے لرزہ براندام رہتے تھے۔۔۔ وہاں دوسری طرف افغانستان کے مظلوم انسان انہیں اپنے لئے ایک شجر سایہ دار سمجھتے تھے، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مولانا حقانیؒ یا ملا محمد عمر مجاہدؒ نے کسی دوسرے ملک پر حملہ آور ہونے کی کوشش کبھی نہ کی۔۔۔ بلکہ اپنے آپ کو سپر پاور سمجھنے والی دنیا کی دو سلطنتوں نے یکے بعد دیگرے افغانستان پر خوفناک حملے کئے۔۔۔ جلال الدین حقانیؒ نے سویت یونین اور امریکہ کی جارحیت اور خوفناک حملوں سے افغانستان کے انسانوں کو محفوظ رکھنے کیلئے جو تاریخی جدوجہد کی۔۔۔ وہ ہمیشہ یاد گار رہے گی۔

غیر جانبدار مؤرخ جلال الدین حقانی کو انسانیت کا چمکتا ہوا ستارہ اور آزادی کا استعارہ قرار دینے پر مجبور ہو گا، سلطان صلاح الدین ایوبیؒ، سلطان محمود غزنویؒ، محمد بن قاسمؒ ، طارق بن زیادؒ، امام شاملؒ کی طرح مولانا جلال الدین حقانیؒ کا نام بھی جہادی تاریخ میں قیامت تک جگمگاتا رہے گا، جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔۔۔ جلال الدین حقانیؒ کی جہادی طاقت کا جادو، دشمن کے سر چڑھ کر بولا۔

آپ عاجزی و انکساری، محبت و مؤدت اور صبر و استقامت کا پہاڑ تھے۔۔۔ آپ نے انتہائی پُرآشوب دور میں جہاد شروع کیا۔۔۔ ایک ایسا دور کہ جہاں قدم، قدم پر قسما قسم کے فتنے رُکاوٹیں ڈال رہے تھے۔۔۔ لیکن کمال یہ ہے کہ آپ نے اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک، اپنوں کی طرف سے پھینکے جانے والے تیر ونشتر، اور بچھائے جانے والے کانٹوں کو انتہائی حوصلہ مندی سے برداشت کیا، مگر اپنی توجہ امریکی دہشتگردی کا راستہ روکنے پر ہی مرکوز رکھی۔

 اس خاکسار کو1991ء کا وہ سال بھی یاد ہے کہ جب حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر کی خصوصی دعوت پر۔۔۔ مولانا حقانی اپنے کئی درجن ساتھیوں سمیت کراچی کے دورے پر تشریف لائے تو کراچی کے ولی صفت علماء نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔۔۔ انہیں ایئر پورٹ سے اکابر علماء اور چاک و چوبند مجاہد کمانڈوز کے حفاظتی حصار میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن پہنچایا گیا کہ جہاں عظیم الشان جہاد کانفرنس اپنی پوری آب و تاب سے جاری تھی۔۔۔ شہیدِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ، شہید مظلوم حضرت مفتی عبد السمیعؒ، غازی اسلام حضرت ڈاکٹر شیر علی شاہؒ، غرضیکہ علماء حق کا ایک جم غفیر تھا کہ جو مجاہد کبیر جلال الدین حقانیؒ کا خطاب سننے اور ان کی زیارت کرنے کیلئے جامعہ علومِ اسلامیہ میں پہنچا ہوا تھا۔۔۔۔ مولانا محمد مسعود ازہر اور دیگر جہادی۔۔۔’’پیغامِ جہاد‘‘ کو پھیلتا ہوا دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے۔

یہ خاکسار، اس عظیم الشان کانفرنس میں اسٹیج سیکرٹری کی ذمہ داری نبھا رہا تھا، اس لئے27سال پہلے مولانا جلال الدین حقانیؒ کے شاندار استقبال اور پروگراموں کے وہ مناظر آج تک میری نگاہوں کے سامنے گھوم رہے ہیں۔

میں تفصیل میںنہیں جاؤنگا، مگر برکت کیلئے مختصر جھلکیاں ضرور کالم کی زینت بنانا چاہتا ہوں، تاکہ آج کے نوجوان جان سکیں کہ اہل حق سے وابستہ مدارس اور خانقاہوں کا ماضی بھی انتہائی خوبصورت، جرأت مندانہ اور شاندار تھا۔

ابھی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میںجاری کانفرنس میں جلال الدین حقانیؒ اپنے خطاب سے فارغ ہوتے ہیں کہ ایک خانقاہ سے وابستہ’’شخصیت‘‘  کو میں نے دیکھا کہ وہ امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر کے کان میں۔۔۔ کوئی بات کر رہی تھی۔۔۔ وہ بات ایسی تھی کہ جسے سنتے ہی مولانا ازہر کی آنکھیں انتہائی پُرجوش انداز میں چمکنے لگیں، اور انہوں نے نہایت آہستگی سے مجھے فرمایا کہ فقیہ العصر حضرت اقدس مفتی رشید احمد لدھیانویؒ اپنے مریدین کے ایک بڑے قافلے کی صورت میں۔۔۔ مولانا حقانی کو خود لینے کیلئے بنوری ٹاؤن کے باہر پہنچنے والے ہیں۔

یہ ایک ایسی دھماکہ خیز خبر تھی کہ میرے سمیت جس نے بھی سنی۔۔۔ وہ خوشی سے نہال ہو گیا۔۔۔ اور پھر ہم حضرت جلال الدین حقانیؒ کے ہمراہ جامعہ سے باہر نکلے۔۔۔ تو فقیہ العصر حضرت مفتی رشید احمد لدھیانویؒ مولانا حقانی کے استقبال کے لئے بنفس نفیس موجود تھے۔۔۔ غالباً وہ دو ڈھائی سو بڑی چھوٹی گاڑیوں کا جلوس تھا کہ جس کے ’’جلو‘‘ میں مولانا جلال الدین حقانی کو دارالافتاء والارشاد ناظم آباد میںمفتی رشید احمد لدھیانویؒ خود لیکر پہنچے۔

حضرت مفتی رشید احمد کی عظیم خانقاہ اور مدرسے کو۔۔۔ پُرشکوہ اور جدید یونیورسٹی میں تبدیل کرنے والوں کو پتہ نہیں۔۔۔ مگر 27سال قبل اس خاکسار نے اپنے کانوں سے سنا کہ فقیہ العصر حضرت اقدس مفتی رشید احمد لدھیانویؒ نے ۔۔۔ فاتح خوست جلال الدین حقانیؒ کو ’’سلطان عادل‘‘ کا خطاب عطاء کیا تھا۔

جلال الدین حقانیؒ سے اَکابرعلماء اور مشائخ بہت محبت کرتے تھے، اس کا مشاہدہ اس خاکسار نے تب بھی کیا کہ جب امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر، شہید اسلام مفتی محمد جمیل خانؒ اور حضرت اقدس مولانا سید یوسف بنوریؒ  کے فرزند محمد بنوری مرحوم جلال الدین حقانیؒ کے قافلے کو اَشرف المدارس گلشن اقبال لیکر پہنچے، جہاں عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم اخترؒ نے اپنے فرزند حضرت مولانا حکیم محمد مظہر اور مریدین سمیت پُرتپاک  اِستقبال کیا تھا، حضرت شاہ حکیم محمد اختر نور اللہ مرقدہ کی زیر سرپرستی ہونے والے جلسے میں مولانا جلال الدین حقانی کا خطاب نہایت پُر اثر تھا۔

صرف یہیں پر ہی نہیں،  بلکہ جامعہ رحمانیہ بفرزون، نشترپارک میں منعقدہ جمعیت علماء اسلام کی تاریخ ساز آئینِ شریعت کانفرنس میں بھی فاتح خوست مولاناحقانیؒ کا زبردست استقبال اور پُر اثر خطابات ہوئے۔۔۔ مولانا محمد مسعود ازہر  اور مفتی جمیل خان شہیدؒ،’’سلطان عادل‘‘ جلال الدین حقانی کو ساحل سمندر بھی لے گئے۔

واہ۔۔۔۔ وہ کیا خوبصورت دِن تھے کہ جن کی یادیں آج بھی میری روح میں رَچی بَسی ہیں۔۔۔ بہرحال صرف خوست یا گردیز میں ہی نہیں، کراچی میں بھی کئی روز تک اس خاکسار کو جلال الدین حقانیؒ کے قریب رہنے کا موقعہ ملا۔

سبحان اللہ! وہ ایک ایسا مرد قلندر تھا کہ تقویٰ، جس  کا توشہ،بہادری جس کی فطرت اور عاجزی جس کا خاصہ تھا، اس نے صرف افغانستان کے مظلوم انسانوں کو ہی نہیں۔۔۔ بلکہ ’’پاکستان‘‘ کے گرم پانیوں کو بھی سویت یونین سے محفوظ بنانے کیلئے بے مثال جدوجہد کی، انہیں پاکستانیوں سے بڑھ کر وطن عزیز پاکستان سے محبت تھی، وہ پاکستان میں مارا ماری،فرقہ واریت اور ہر قسم کی دہشتگردی کے زبردست مخالف تھے۔۔۔۔’’انسانیت‘‘ سے پیار کرنے والے ایک ایسے عظیم’’انسان ‘‘‘ تھے کہ جنہوں نے مظلوم انسانوں کو امریکی قہر و غضب اور دہشتگردی سے بچانے کیلئے اپنے چار کڑیل جوان بیٹے اللہ کے راستے میں قربان کر دیئے۔۔ مگر’’انسانیت‘‘ کے دشمن امریکہ کے سامنے سر جھکانا گوارا نہ کیا۔

خوبصورت اور خوب سیرت چار جوان بیٹوں کی قربانی کوئی معمولی بات نہیں۔۔۔ بلکہ جہادی تاریخ کا وہ انوکھا واقعہ ہے کہ جس پر تاریخ ہمیشہ نازاں رہے گی۔

یادش بخیر فقیہ العصر مفتی اعظم مفتی رشید احمد لدھیانویؒ نور اللہ مرقدہ، جب مریدین کے ایک بڑے وفد کے ہمراہ افغانستان میں خوست کے دورے پر پہنچے۔۔۔ اور جب قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کو امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر ڈی آئی خان سے کمانڈر جلال الدین حقانی کی دعوت پر خوست کے دورے پر لیکر گئے تھے۔۔۔ تب بھی یہ خاکسار وہاں موجود تھا۔۔۔ ان دونوں اکابرین کا استقبال بھی مولانا جلال الدین حقانیؒ نے کیا تھا، میرے قلب و ذہن میں ان خوبصورت دِنوں کی یادوں کا انمول خزانہ آج تک محفوظ ہے۔۔۔۔

میں ان صحافیوں میںسے نہیں ہوں  کہ جو اپنے ماضی کے جہاد پرشرمندہ، شرمندہ سے، ڈالر خور این جی اوز کے دسترخوان پر راتب خوری میں کامیابی سمجھتے ہیں۔

بلکہ  مجھے اپنے ماضی کے اس ایک، ایک لمحے پر تحدیث بالنعمت کے طور پرفخر ہے کہ۔۔۔جو مجھے اَکابر علماء اور مجاہدین حق کی خدمت میں گزارنے کا موقع ملا۔

جلال الدین حقانیؒ ایک ’’ایسا نایاب‘‘موضوع ہے جس پر کئی کتابیں بھی لکھی جائیں تو اس موضوع کا حق ادا نہیں ہو سکتا:

وہ اِک شخص میری چشم تر میں رہتا ہے

عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے

اِعتذار:

گزشتہ ہفتے کے قلم تلوار کے آغاز میں کمپوزنگ کی غلطی کی وجہ سے 1977کو 1997لکھا گیا،جن قارئین نے توجہ دِلائی اُن کا شکریہ…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online