Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

علامہ اقبالؒ…دِلوں کافاتح (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 662 - Naveed Masood Hashmi - Allam Iqbal Dilon ka Fateh

علامہ اقبالؒ…دِلوں کافاتح

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 662)

کچھ نا بغے شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری سے جہاد و قتال کی محبت اور اُمت مسلمہ کے ’’درد‘‘ کو نکالنے کے در پئے ہیں۔۔۔ انہیں مغرب اور مغربی جمہوریت پہ اعتراض کرنے والا اقبالؒ اچھا نہیں لگتا۔۔۔

شعلہ بن کر پھونک دے خاشاکِ غیر اللہ کو

خوفِ باطل کیا کہ ہے غارت گر باطل بھی تو

ان کے نزدیک یہ اَشعار خودکش جہاد کی ترغیب دیتے ہیں۔۔۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاکِ کاشغر

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشا لبِ بام ابھی

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہی مردوں کی شمشیریں

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری

کہ فقر خانقا ہی ہے فقط اندوہ و دل گیری

وہ ان سارے اشعار کی تشریح امریکی روشن خیالی کے تناظر میں کر کے۔۔۔ نوجوانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ حالانکہ اقبالؒ کی شاعری مسلم نوجوانوں کو اپنا کھویا ہوا عروج اور وقار دوبارہ سے حاصل کرنے کی ترغیت دیتی ہے۔۔۔ علامہ اقبالؒ کی شاعری سے’’داعش‘‘ جیسی تنظیموں کی خوراک تلاش کرنے والے ’’نابغوں‘‘ کو کوئی بتائے کہ علامہ اقبالؒ نے تو شاعری کے ذریعے خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی مسلمان قوم کو بیدار کیا تھا۔

علامہ اقبالؒ نے قرآن وسنت کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر شاعری کی، انفرادی زندگی ہو، اجتماعی، مسئلہ فقر ہو یا فلسفۂ خودی۔۔۔ عقل و عشق کی کشمکش ہو یا اَسرار مکان و زمان۔۔۔ بات زندگی کی حقیقتوں کی ہو یا قبر اور حشر کی معنویت کی، بات مادہ پرستی کی ہو یا روحانیت کی باریکیوں کی، حضرت اقبالؒ نے اپنی شاعری کے ذریعے انسانوں کے دلوں میں اتارنے کا ایسا بندوبست کیا کہ مخالفینِ اقبالؒ ان کی محبت کو کم کرنے میں ہمیشہ ناکام رہیں گے۔۔۔

حضرت اقبالؒ مسلمانوں کو مغربی تہذیب و تمدن پر عمل پیرا ہونے سے منع کرتے ہیں۔۔۔ وہ سمجھتے تھے کہ مغرب کا کلچر مسلمانوں کیلئے ایک خطرناک زہر کی حیثیت رکھتا ہے:

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار

قوت مذہب سے مستحکم جمعیت تیری

علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کو نہ تو جدید اور ماڈرن علوم سیکھنے سے روکا، اور نہ ہی وہ روکنا چاہتے تھے۔۔۔ بلکہ اقبالؒ تو مغربی تہذیب و تمدن کے مخالف تھے، وہ مغرب کے علوم کو حاصل کرنے کے حامی تھے ، مگر مغربی کلچر کی بجائے۔۔۔ اسلامی تہذیب و تمدن کو پروان چڑھانے کی حامی تھے۔

چنانچہ وہ فارسی شاعری میں فرماتے ہیں جس کا ترجمہ ہے کہ’’تم غیروں کی پیروی پر فخر محسوس نہ کرو، کیونکہ اقوام مشرق کو اگر کوئی چیز محترم کر سکتی ہے تو وہ ان اقوام کا اپنا علم و ہنر ہی ہے۔۔۔ تو جان لے کہ تو اہل مشرق میں سے ہے، اور مشرق کی زمین اپنے اندر بہت کمالات رکھتی ہے۔۔۔ ورنہ اپنے آپ کو غیر ملکیوں کی طرح سمجھنا دراصل خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔۔۔ تو اہل مغرب سے علم سیکھ اور اسے مشرق میں استعمال کر، کیونکہ اسی علم و ہنر کے استعمال سے ترقی ہو گی‘‘

حضرت اقبالؒ نے اپنی نظموں سے محکوم اور پسے ہوئے عوام کو حوصلے اور بیداری کا درس دیا، اقبالؒ نے زمینداروں اور کسانوں کی کشمکش میں غریب کسانوں کا ساتھ دیا۔۔۔ سرمایہ داروں اور مزدوروں کی کشمکش میں مزدوروں کا ساتھ دیا۔۔۔ امیروں کے مقابلے میں غریبوں کا ساتھ دیا، چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخ امراء کے درو دیوار ہلا دو

گرماؤ غلاموں کا لہو سوزِ یقیں سے

کنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی

اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

علامہ اقبالؒ اپنے اشعار میں نوجوانوں کو جھنجھوڑتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے

امید مرد مومن خدا کے راز دانوں میں

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

اقبال فرماتے ہیں کہ:

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی اِمامت کا

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں

جو ہو ذوق یقیں پیدا، تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

علامہ اقبالؒ کا پیغام ملاحظہ فرمائیے:

یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز سلطانی

اخوت کی جہانگیری، محبت کی فروانی

بُتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا

خودی کا راز داں ہو جا ، خدا کا ترجماں ہو جا

کاش! کہ فکر اقبالؒ کی روشنی میں پاکستان کے حکمرانوں، سیاست دانوں اور دانش وروں نے اپنے مستقبل کا تعین کیا ہوتا تو آج ہم غیروں کے دروازوں پر دھکے نہ کھا رہے ہوتے:

کھول کر آنکھیں میرے آئینہ گفتار میں

آنے والے دور کی دھندلی سی اِک تصویر دیکھ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online