Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

لمز یونیورسٹی، ریاستی رِٹ کہاں ہے؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 665 - Naveed Masood Hashmi - LUMS University

لمز یونیورسٹی، ریاستی رِٹ کہاں ہے؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 665)

دینی مدارس کے کردار پر تو بڑی بحث کی جاتی ہے۔۔۔ آج ذرا یونیورسٹیوں کے کردار پر بھی تھوڑی سی بحث کر لیتے ہیں۔۔۔ کیا ہماری یونیورسٹیوں میں طلباء کو ملکی آئین کا وفادار بنایا جاتا ہے یا باغی؟ با اَخلاق اور باکردار بنایا جاتا ہے یا پھر بداَخلاق اور بدکردار؟ کیا یونیورسٹیوں کے اساتذہ کرام اور پروفیسر کی سوچ بھی نظریہ پاکستان اور ملکی آئین کے تابع ہے یا پھر ان میں سے بعض کی جڑیں ڈالر خور این جی اوز کی معرفت امریکہ اور یورپی یونین سے جا ملتی ہیں؟ سنا ہے کہ اسلام آبادکی لمزLUMS یونیورسٹی دنیا کی پہلی50یونیورسٹیوں میں اپنا مقام بنانا چاہتی ہے، یہ مقام اگرعلم، تحقیق اور سائنسی ترقی کی بنیاد پر ہو تو اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے۔۔۔ بلکہ اس سے سب سے زیادہ خوشی اور مسرت بھی ہم پاکستانیوں کو ہی ہو گی، لیکن گزشتہ کئی دنوں سے پاکستان کے عوام یہ خبریں سن کر نہایت پریشان ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں تیمور الرحمان جیسے پروفیسر بھی موجود ہیں کہ جو یونیورسٹی کے طلباء کو آئین پاکستان کا باغی بنانے کی ٹریننگ دے رہے ہیں۔

عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ سوات کے ملا فضل اللہ ، صوفی محمد اور لمز کے اسٹنٹ پروفیسر تیمور الرحمان میں فرق کیا ہے؟ صوفی محمد نے بھی آئین کی بغاوت کی تھی۔۔۔ اور پروفیسر تیمور الرحمان نہ صرف آئین کی بغاوت کرتا ہے بلکہ اپنے طلباء کو بھی آئین کاباغی بننے پر اُکساتا ہے، تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ۔۔۔ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنس(لمز) اسسٹنٹ پروفیسر تیمور الرحمان یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کا ایک گروپ تیار کرتے ہیں اور پھر’’رنگ‘‘ نامی این جی او کی معرفت طلباء و طالبات کے اس گروپ کو لے جا کر چناب نگر(ربوہ) میں قائم ختم نبوت کے باغی ٹولے قادیانیوں کے مرکز میں جا پہنچتے ہیں۔۔۔ جس کو مطالعاتی دورہ کا نام دیا جاتا ہے، اس متنازعہ دورے میں قادیانی مرکز میں طلباء کو پروجیکٹر کے ذریعے قادیانیوں کی سرگرمیاں دکھائی جاتی ہیں۔۔۔ طلباء کو بعض دفاعی پروگراموں سے روشناس کروایا جاتا ہے۔۔۔ اور سوشل میڈیا پر تویہاں تک کہا جارہا ہے کہ طلباء و طالبات کے اس گروپ کو ’’قادیانیت‘‘ سے روشناس کروانے کیلئے یہ سارا کھڑاک کیا گیا۔

اورایک معاصر اخبار نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’قادیانیت کے پرچار پر آئینی پابندی کے باعث اب قادیانی تعلیمات کی طرف راغب کرنے کیلئے ڈالر خور این جی اوز کو استعمال کر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات تک رسائی حاصل کر کے انہیں گمراہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں‘‘۔

پاکستان کے عوام اس صورت حال سے نہایت پریشان ہو چکے ہیں کہ ان کے بچوں اور بچیوں کو گمراہ کرنے کی کوششیں کرنے والے کوئی اورنہیں بلکہ بعض وہ استاد اور پروفیسرز ہی ہیں کہ جو ملکی آئین یا اسلام سے بڑھ کر ڈالر خور این جی اوز سے وفاداری نبھا رہے ہیں۔۔۔ پاکستانی قوم کو اب اپنی آنکھیں کھلی رکھنی پڑیں گی، اس لئے کہ عالمی صہیونی طاقتوں کی وفادار این جی اوز کے ذریعے۔۔۔ قادیانیوں نے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا ہے اور اس کام میں سیکولر شدت پسند بعض پروفیسرز کی انہیں مکمل معاونت حاصل ہے، ہرذی شعور پاکستانی اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ آئین پاکستان قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیتا ہے۔۔۔ لیکن اسرائیل، برطانیہ، بھارت اور امریکہ کا لے پالک یہ گروہ آئین پاکستان کی بغاوت کا ارتکاب کرتے ہوئے زبردستی،سینہ زوری اور ہٹ دھرمی کے ذریعے مسلمانوں کی صفوں میں گھسنے کی کوششیں کرتا ہے، اگرآئین پاکستان کی بغاوت کرنے والے صوفی محمد کے سوات میں قائم مرکز کا اس وقت کسی کالج یا یونیورسٹی کے طلباء و اساتذہ مطالعاتی دورہ کر لیتے تو پھر لنڈے کے لبرلز اورسیکولر شدت پسندوں کا کیا ردعمل ہوتا؟ حالانکہ صوفی محمد کے مسلمان ہونے میں کسی کو بھی شک نہیںہے۔

لیکن اگر تیمور الرحمان لمز یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کے ایک گروپ کو چناب نگر میں قائم۔۔۔ قادیانی مرکز کا دورہ کروائیں۔۔۔ توپاکستان کے 21کرورڑ عوام کا اپنی حکومت سے یہ سوال بالکل بجا ہے کہ وزیر تعلیم شفقت محمود اور وزیراعظم عمران خان نے ابھی تک۔۔۔ اس بات کا نوٹس کیوں نہیں لیا؟

ایسے ٹیچرز اور پروفیسر کا محاسبہ کون کرے گا کہ جو ’’آئین‘‘ سے زیادہ’’این جی اوز‘‘ کے وفادار ہیں، مذہب اسلام سے بڑھ کر، لادینیت اور قادیانیت سے انہیں پیار ہے۔

مجھے چناب نگر کے قادیانیوں سے نہ کوئی شکوہ ہے اور نہ شکائیت۔۔۔ میرا سوال تو اس وزیراعظم عمران خان سے ہے جو قوم کو یکساں نظام تعلیم کی خوشخبریاں،سناتے تھے۔۔۔ کیا یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کا آئین کے باغی کسی بھی گروہ کے مرکز کے مطالعاتی دورے کرنے سے۔۔۔ پاکستان میں آئین اورقانون کی بالا دستی قائم کی جا سکتی ہے۔

 مدارس والوں پر تو سیکولر شدت پسند، منہ پھاڑ ، پھاڑ کر یہ الزام لگاتے نہیں تھکتے کہ جی وہاں فرقہ واریت کی تعلیم دی جاتی ہے ، حالانکہ یہ الزام بھی غلط ہے، لیکن کیا ختم نبوت کے باغیوں کے مرکز کاد ورہ کرکے لمز یونیورسٹی کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر نے اپنے طلباء و طالبات کو آئین اورعقیدہ ختم نبوتؐ کے خلاف تعلیم نہیں دی؟

لمزیونیورسٹی کا جو اسسٹنٹ پروفیسر عقیدہ ختم نبوت کی عظمت و اہمیت کو نہیں سمجھتا۔۔۔ جس میں ختم نبوت کے باغیوں اور وفاداروں میں تمیز کرنے کی حس ہی موجود نہیں ہے، ایسے بدتمیز شخص کوکیا ایک اسلامی ملک کی کسی یونیورسٹی کا استاد ہونا چاہئے؟ صوفی محمد اگر آئین کا انکار کرکے، یا اپنے پیروکاروں کو آئین کی بغاوت پر اُکسائے۔۔۔تو ریاست اپنی رِٹ منوانے کیلئے سوات میں تو بارود کا مینہ برسائے۔۔۔ ریاست کی رِٹ بحال کرنے کے نام پر پرویز مشرف جامعہ حفصہؓ کی پاکباز بیٹیوں کو فاسفورس بموں سے زندہ جلا ڈالے، اورپاکستان میں خواتین کی سب سے بڑی دینی یونیورسٹی جامعہ حفصہؓ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے،لیکن لمز یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں کو این جی اوز کے ذریعے ختم نبوت کاباغی گروہ اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لے، مگریہاں ریاستی ’’رِٹ‘‘ بھنگ پی کر سو جائے تو کیوں؟کسی بھی ملک میں’’ریاستی رِٹ‘‘ کا یہ دوہرا معیار۔۔۔ ملک و قوم کے لئے انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔

…٭…

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online