Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

شوق شہادت (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 666 - Naveed Masood Hashmi - Shoq-e-Shahadat

شوق شہادت

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 666)

شوق شہادت توغیرت ایمانی کا مظہر ہے۔ جو  دل شوق شہادت سے خالی ہوں، وہاں منافقت ڈیرے ڈال لیا کرتی ہے، ہفتے کی شب اسلام آباد میں طلبہ المرابطون کے زیراہتمام مختلف کالجز اور یونیورسیٹز کے طلباء کے درمیان "شوقِ شہادت" کے عنوان سے ہونے والے تقریری مقابلے میں25طلباء نے حصہ لیا، تقریری مقابلے کا یہ اجتماع اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اس میں کشمیری شہداء کے کئی ورثاء بھی شریک تھے،اور تقریری مقابلے میں اول،دوئم،سوئم آنے والے نوجوانوں میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔

نوجوان طلباء کے اس مبارک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس خاکسار نے عرض کیا کہ" میرا دل تو چاہتا ہے کہ "شوق شہادت" کے عنوان پر تقریر کرنے والے ہر نوجوان کو اول قرار دے دیا جائے کیونکہ شہادت کی تڑپ اور شوق رکھنے والا کوئی شخص کبھی دو نمبر ہو ہی نہیں سکتا مگر مجبوری  یہ ہے ،کہ آج کے تقریری مقابلے میں باقاعدہ "ججز" بھی موجود ہیں، اور آجکل کے "ججز" سے ڈر کر رہنا بھی ضروری ہے۔

طلبہ المرابطون  کے ذمہ داران اس لحاظ سے بھی مبارک باد کے مستحق ہیںکہ یہ کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلباء کی دینی اور اصلاحی تربیت کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں، بدقسمتی سے ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں،کہ حکمرانوں سے لیکر دانشوروں اور میڈیا تک سب کی کوششیں مسلمان نوجوانوں کے دل و دماغ سے دین اسلام کی محبت ختم کرنے پر صرف ہو رہی ہیں۔

کالجز اور یونیورسٹیوں میں علماء کے بیانات پر تو پابندی عائد ہے، مگر ڈالر خور این جی اوز کے گماشتے  کالجز اور یونیورسٹیز کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ کر نوجوان طلباء و طالبات میں گُم راہی پھیلانے کے مشن پر گامزن ہیں، کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، کشمیر میں جہاد عروج پر ہے مگر کالج اور یونیورسٹیوں کے طلباء وطالبات میں کشمیر کے جہاد میں شریک مجاہدین کو تو بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، ہاں البتہ جہاد کشمیر کی مخالف انڈین پٹاری  سے وابستہ خواتین و حضرات کھل کر وہاں بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، لیکن انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔

یونیورسٹیوں کی صورت حال اس حد تک دِگرگوں  ہو چکی ہے کہ ڈالر  خور این جی اوز کے "کھونٹے" سے بندھے ہوئے بعض پروفیسر، طلباء وطالبات کے اَخلاق و کردار کے ساتھ ساتھ ایمان تباہ کرنے پر بھی تلے ہوئے ہیں۔ لمز یونیورسٹی سے اسسٹنٹ پروفیسر تیمور الرحمان کا طلباء وطالبات کے ایک وفد کو دجال قادیانیوں کے مرکز میں لے کر جانا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

ان حالات میں طلبہ المرابطون کا علماء حق کی زیرسرپرستی عصری طلباء کو ہر قسم کی مذہبی و سیاسی فرقہ واریت، لسانیت، صوبائیت، اور دیگر تمام تعصبات سے پاک، خالص دینی اور اصلاحی ماحول فراہم کرنا نہایت خوش آئند بات ہے، شوق شہادت عطیہ خداوندی ہے۔ شوق شہادت، ایمانی کیفیات کی معراج ہے، شوق شہادت ایمان کی سلامتی کا ضامن ہے، جذبہ شوق شہادت، غیرت و حمیت کی علامت ہے۔ ایک لاکھ 24 ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ میں سے کوئی ایک صحابی رضی اللہ عنہ ایسے نہ تھے کہ جن کے دل میں شہادت کا شوق نہ ہو۔

سیدالانبیاء حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں تو ایسا شوق شہادت تھا کہ ٹرپ، تڑپ کر اللہ کے حضور "شہادت" کی دعا فرمایا کرتے تھے۔

اسلام کی سوا چودہ سو سالہ تاریخ میں کوئی ایک بھی مسلمان لیڈر،راہنما یا مسلم جرنیل ایسا نہیں گزرا کہ جسے شہادت کی تمنا اور شوق نہ ہو، طلبہ المرابطون نے "شوق شہادت" کے عنوان پر تقریری مقابلہ کروا کر نوجوانوں میں جذبہ شوق شہادت کو ابھارنے کی کوشش کی ہے، اللہ ان کی اس کوشش کو قبول فرمائے۔‘‘

طلباء کے اجتماع میں المرابطون پاکستان کے ذمہ داران ڈاکٹر اسامہ، عنایت الرحمان مرکز الجمیل الاسلامی کے متولی مولانا اشتیاق کے علاوہ ابو الشہداء بابا دین محمد بھی شریک تھے، اس خاکسار  نے اپنے خطاب میں مزید عرض کیا کہ ’’جذبہ شوق شہادت چھیننے اور جہاد و قتال کی عبادت کو گھٹانے کیلئے عالم کفر پورا زور لگا رہا ہے لیکن جہاد و قتال کی عبادت کا تذکرہ چونکہ قرآن کے اوراق پر موجود ہے اس لئے "جہاد و شہادت" کے دشمنوں کا دنیا و آخرت میں منہ کالا ہو کر رہے گا۔

پاکستان کی حکومت اور مسلمانوں سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں نے ہالینڈ کے گستاخ ملعون کو احتجاج کے ذریعے گستاخانہ حرکت سے باز رکھنے کی کوشش کی مگر اس ملعون پر ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے احتجاج کا ذرا بھر بھی اثر نہ ہوا، نہ ہی ہالینڈ کا وہ ملعون اپنی غلیظ حرکت سے باز آیا۔ پس آج کے حالات نے بھی ثابت کر دیا کہ ہالینڈ کے ملعون جیسے شیطانوں کا علاج بھی صرف اور صرف جہاد کے ذریعے ہی ممکن ہے،شوق شہادت اور جذبہ جہاد کے مخالفین  دراصل "طاغوت" اور طاغوتی طاقتوں کے وہ سہولت کار ہیں کہ جو ڈالروں اور وقتی مفادات کی خاطرپوری ملت اسلامیہ کا سودا کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

اب بڑھتے ہیں ایک دوسرے موضوع کی طرف چیف جسٹس ثاقب  نثار نے سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ"بھارت ہمارا پانی روک کر ہمیں پیاسا مارنا چاہتا ہے اور ہم اس کے ڈرامے اور فلمیں دکھائیںکیا غیرت مر گئی ہے؟کوئی ہمارے ڈیم بند کروا رہا ہے اور ہم اس کے چینل بھی بند نہ کریں،ایسا نہیں ہو سکتا، عدالت عظمی نے انڈین فلمیں،ڈرامے اور دیگر مواد دِکھانے پر جو پابندی عائد کی ہے،اللہ کرے کہ یہ پابندی اب مستقل ثابت ہوحکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انڈین مواد دکھانے اور انڈین کلچر کو پروان چڑھانے والوں کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online