Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

میرا سر بھی تو پڑا ہے میری دستار کے ساتھ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 667 - Naveed Masood Hashmi - Mera sar bhi to para hay

میرا سر بھی تو پڑا ہے میری دستار کے ساتھ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 667)

انہوں نے اپنی آخری تقریر میں ہزاروں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا کہ ’’ہم اس تحریک ناموس رسالت کی (چوکیداری) میں سب سے آگے ہوں گے‘‘ اور وہ قول کے ایسے پکے نکلے کہ اپنے ضعیف وجود پر چھریوں اور خنجروں کے زخم سجا کر جام شہادت نوش کرکے واقعی سب سے آگے نکل گئے۔

اے دوست! ذرا دیکھ میں ہارا تو نہیں

میرا سر بھی تو پڑا ہے میری دستار کے ساتھ

وقت خود ہی یہ بتائے گا کہ میں زندہ ہوں

کب وہ مرتا ہے جو زندہ رہے کردار کے ساتھ

جب تک ان کے جسم میں جان رہی وہ عالم کفر کی آنکھوں میں بری طر ح کھٹکتے رہے اور پھر جب وہ خون میں نہا کر اپنے محبوب پرودگار کے دربار میں پہنچے تو صرف افغانستان میں بیٹھے ہوئے امریکی کٹھ پتلیوں نے ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے شدت پسند ہندوئوں نے بھی ان کی شہادت پر خوشیوں کے شادیانے بجائے' تف ہے کفریہ طاقتوں کی اس گھٹیا سوچ پر 'لیکن ہزاروں رحمتیں برسیں اس مولانا سمیع الحق کی تربت پر کہ جن کا اکیاسی سالہ وجود بھی شیطان صفت کافروں کے لئے خطرہ بنا رہا۔

ہفتہ کے دن جب یہ خاکسار تقریباً ڈھائی تین کلومیٹر پیدل چل کر ان کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے اکوڑہ خٹک پہنچا تو ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے انسانی سروں کا اک جہان آباد ہو' میں نے اپنے دوست مفتی مجیب الرحمن سے سوال کیا کہ انسانوں کے اس قدر رش کو کیا کہا جائے؟ وہ بولے کہ ''انسانوں کا امڈتا ہوا سمندر'' یا ''انسانوں'' کا بحر بے کنار' مناظر بے حد جذباتی' آہیں' سسکیاں' ہر آنکھ اشکبار' مگر احساس ذمہ داری ایسا کہ نہ ہاتھوں میں پتھر نہ کہیں توڑ پھوڑ' نہ جلائو گھیرائو ' واہ شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق آپ کے لاکھوں چاہنے والوں نے آپ کے وجود کو لحد میں اتارنے کے بعد بھی آپ کے پیغام ''امن'' کو ایک لمحے کے لئے بھی نہیں بھلایا' شہید مولانا سمیع الحق کا پیغام  نفاذ اسلام اور دفاع پاکستان تھا … 1947 ء  میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تب وہ دس برس کے تھے ' آج پاکستان 71 برس کا اور مولانا سمیع الحق 81 برس کی عمر میں اپنے پیارے ''پاکستان''' ہی کی گود میں اپنے عظیم والد کے پہلو میں سپرد خاک ہوگئے۔

آپ خالص پاکستانی تھے' پاکستان میں اسلام کا نفاذ آپ کا خواب تھا اس مقصد کے لئے آپ نے اسمبلی میں شریعت بل بھی پیش کیا' لیکن جو اسمبلی ملعونہ عاصیہ مسیح کے حق میں متحد ہو  جائے اس اسمبلی سے شریعت بل کی کامیابی کیسے ممکن ہوسکتی تھی؟

مولانا سمیع الحق چلتا پھرتا پاکستان تھے' اسلام اور پاکستان سے محبت ان کے خون میں رچ بس چکی تھی' وہ زندگی کی آخری سانسوں تک ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے' ان کا دل امت مسلمہ کی دگرگوں صورتحال پر کڑھتا رہتاتھا۔

فلسطینی مسلمانوں پر یہودی مظالم ہوں' یا عراقی اور افغانی مسلمانوں پر امریکی مظالم' مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے انڈین مظالم ہوں یا فاٹا کے مسلمانوں پر کیے جانے والے ڈرون حملے' غرضیکہ مولانا دنیا کے ہر مظلوم کے درد کو پوری شدت سے محسوس کرتے تھے اور مظلوموں کی حمایت میں جو کچھ اختیار میں ہوتا تھا کر گزرتے تھے۔

کیا پاکستان سے قانون ناموس رسالت اور آئین میں موجود قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والی شقوں کو ختم کروانے کی کوششیں کرنے والی عالمی صیہونی طاقتوں نے مولانا کے وجود کو ختم کروایا؟

ملعونہ آسیہ مسیح کی بریت کے فیصلے کے بعد ہزاروں مظاہرین سے کیا جانے والا خطاب سوشل میڈیا پر موجود ہے جس میں مولانا سمیع الحق نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے' باخبر لوگ کہتے ہیں کہ عالمی صیہونی طاقتیں عمران خان کی موجودہ حکومت کے دوران جلد سے جلد ثمرات سمیٹنا چاہتی ہیں اور قانون ناموس رسالت کے خاتمے یا کم از کم اس قانون کو بے ثمر کرنا ان قوتوں کا مرکزی ایجنڈہ ہے۔

اس لئے بدی کی ان قوتوں نے اس راستے میں حائل ہر رکاوٹ کو سازش' لالچ' دھونس'  دھمکی  سے دور کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اگر کوئی لالچ خوف' دھونس' دھمکی سے باہر نہیں آتا تو پھر اسے قتل کرنے سے بھی گریز نہ کیا جائے ''بدی'' کی ان قوتوں نے ہی مولانا سمیع الحق کو اس پیرانہ سالی میں نشانہ بنایا ہے۔

مجاہدین بالخصوص افغان طالبان میں مولانا سمیع الحق کا بہت احترام پایا جاتا تھا اس کی وجہ دارالعلوم جامعہ حقانیہ تھا کہ جہاں متعدد افغان طالبان راہنمائوں نے قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کی تھی' افغانستان پر پہلے سوویت یونین حملہ آورہوا اور پھر امریکہ 'مگر افغان مجاہدین نے سوویت یونین یا امریکہ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہونے کی بجائے ان سے مقابلے کی ٹھان لی۔

انسانی اور اسلامی  ہمدردی کے اصول کے تحت مولانا سمیع الحق نے مظلوم افغان مسلمانوں کی کھل کر حمایت کی ' اس لئے کبھی امریکہ اور کبھی امریکہ کے کٹھ پتلی کابلی حکمران مولانا سمیع الحق کے ذریعے افغان طالبان سے مذاکرات کی کوششوں میں لگے رہے' لیکن مولانا کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے آخری سانسوں تک افغان طالبان کی حمایت جاری رکھی۔

مولانا سمیع الحق پاکستان میں اتحاد امت کی علامت بن چکے ' بریلوی ہوں' اہلحدیث ہوں ' شیعہ ہوں یا دیوبندی 'آپ ہر ایشو پر سب کو ساتھ لے کر چلتے ' اس خاکسار کا مولانا سمیع الحق سے انتہائی نیازمندانہ تعلق تھا۔

پرویز خٹک کی پچھلی حکومت نے مولانا کے مدرسے جامعہ حقانیہ کو 30 کروڑ روپے گرانٹ دینے کا اعلان کیا' تو لنڈے کے لبرلز اور سیکولر فاشسٹوں نے میڈیا میں اس کے خلاف طوفان بدتمیزی اٹھانے کی کوشش کی' تب اس خاکسار نے اوصاف میں اس معاملے پر کالم لکھا اور جامعہ حقانیہ پر طعن و تشنیع کے نشتر چلانے والوں کی خوب خبر لی' وہ کالم پڑھ کر مولانا سمیع الحق  نے اس خاکسار سے فون پر رابطہ کرکے کالم لکھنے پر مبارکباد دینے کے بعد شکریہ ادا کرنے کی بھی کوشش کی' جس پر اس ناچیز نے ان کی خدمت میںعرض کیا کہ ''حضرت'' اس میں شکریے والی کوئی بات نہیں ہے میں نے جو حق سمجھا وہ لکھا اور آئندہ بھی لکھوں گا' مولانا سمیع لاحق ساری عمر جہاد اور جہادیوں سے محبت کرتے رہے لیکن انہوں نے امن و سلامتی کے پرچم کو بھی سربلند رکھا' پس ثابت ہوا کہ امن و سلامتی اور حقیقی جہاد کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے' مولانا سمیع الحق متعدد کتابوں کے مصنف بھی تھے … ہزاروں علماء کے معلم بھی تھے ' لاکھوں عشاق حدیث کے شیخ الحدیث بھی تھے ' ایک عظیم جامعہ کے مہتمم بھی تھے ' ایک مدبر سیاستدان بھی تھے ' لبرل اور مذہبی قوتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے والے ذہین و فتین انسان بھی تھے ' لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کا دل عشق رسولﷺ سے معمور تھا' اور یہی آپ کی سرفراز و سربلندی کا سبب بھی بنا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online