Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

عثمانؒ! اللہ دے حوالے (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 668 - Naveed Masood Hashmi - Usman Allah de Hawale

عثمانؒ! اللہ دے حوالے

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 668)

عظیم باپ کا عظیم بیٹا۔۔۔ عظیم دادا کا عظیم پوتا۔۔۔ عظیم چچا کا عظیم بھتیجا، عظیم خاندان کا عظیم چشم وچراغ، وہ خوش بخت اور سعادت مند تو تھا ہی مگر غیرت مند، شجاع اور صبر و استقامت کا پیکر بھی نکلا۔۔۔ ذرا سوچئے، جب پلوامہ کے علاقے ترال میں 18 سالہ عثمان ابراہیم شدید زخمی ہونے کے باوجود، سارا دن پلید ہندو فوج کے ساتھ بر سر پیکار رہا ہو گا تو اس کے صبر و استقامت اور شجاعت کا عالَم کیا ہو گا؟

نہیں جانوں، بھلا میں کیوں دمِ دیدار رقصاں ہوں

مگر ناز اس پہ ہے مجھ کو، کہ پیش یار رقصاں ہوں

تو وہ قاتل! بہائے خون تماشے کے لئے میرا

میں وہ زخمی! کہ زیر خنجر خونخوار رقصاں ہوں

 میں اس کے عظیم دادا حضرت اللہ بخش صابرؒ، بابا ابراہیم اور چچا مولانا محمد مسعود ازہر کو بڑا جانتا ہوں، پھر اس کا نام عثمانؒتھا، وہ حافظ اور قاری قرآن بھی تھا، جب اتنی ساری عظمتیں اور نسبتیں ایک ہی وجود میں جمع ہو جائیں تو پھر کیا ہندو فوج اور کیا اس کی طاقت؟

مجاہد کے جوتے کی نوک دہلی کی ساری طاقت پہ بھاری پڑ جایا کرتی ہے۔۔۔میری اس سے  ایک ہی ملاقات ہوئی۔۔۔ کوئی تیسرا تعارف کروانے لگا، لیکن میں نے اسے روک دیا اور براہ راست اس سے مخاطب ہو کر کہا: آپ بھائی ابراہیم کے لخت جگر ہو؟

اس کے خوبصورت چہرے پر معصومانہ مسکراہٹ بکھر گئی اور اس نے احترام سے بھرپور لہجے میں اُلٹا مجھ سے ہی سوال پوچھ لیا کہ حضرت! آپ نے کیسے پہچانا؟ ارے اس میں حیرت والی کیا بات ہے؟ اگر میں بھی نہیں پہچانوں گا تو پھر کون پہچانے گا؟ جی! اس نے سعادت مندی سے گردن جھکا دی۔

پھر میں نے اسے سینے سے لگا لیا، پھر ہم مرکز کی مسجد کے صحن میں بیٹھ گئے۔۔۔ میں کچھ دیر کیلئے خاموشی کے ساتھ اس کی چمکتی ہوئی پیشانی کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔۔ میری خاموشی بھانپ کر وہ بولا: آپ چپ کیوں ہیں؟ کچھ نصیحت ہی کر دیں، میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ تم جس عظیم باپ کے بیٹے ہو، اس کے ہاتھوں سے کافر اور لفظوں کی گولہ باری سے مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔ سوچتا ہوں کہ’’بول‘‘ کر کہیں پھنس ہی نہ جاؤں؟

میرا یہ جملہ سن کراس کے چہرے کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی، اس کی شہادت کے بعد سے اب تک اس کے جتنے کارناموں کی تفصیل پہنچی تو وہ تفصیل سن کر مجھے ذرا برابر بھی حیرت نہیں ہوئی وہ’’ابراہیم‘‘ جیسے بہادر جرنیل کا بیٹا تھا، اس کے چچا مولانا محمد مسعود ازہر کا نام سن کر ہی بھارتی سورماؤں کی راتوں کی نیند اُڑ جاتی ہے۔۔۔

عثمانؒ ابراہیم نے کشمیر میں بہادری کے جتنے جوہر بھی دکھائے وہ میرے حسب توقع ہی تھے۔۔۔ میری آنکھوں میں آنے والے آنسو پلکوں تک آئے تو میں نے انہیں جلدی سے صاف کر لیا۔۔۔ میرے کانوں میں شہید کشمیر کے اس آخری پیغام کے الفاظ گونجنے لگے کہ جو اس نے شہادت سے قبل اپنی پیاری امی جان کو دیا تھا،’’اچھا امی! ان شاء اللہ،اللہ جی نال ملاقات دا وقت قریب آگے۔۔۔ اللہ دے حوالے سارے۔‘‘

واہ عثمانؒ ابراہیم تو نے تو محاذ کشمیر پر اپنی ساری نسبتوں کی لاج رکھ لی، نہ کسی نوبیل پرائز کی تمنا اور نہ کسی اعزازی شیلڈ یا نشان کی خواہش۔۔۔ نہ اخبارات میں شہ سرخیاں لگوانے کا شوق۔۔۔ اور نہ ہی ٹی وی چینلز پر ٹیکر چلوانے کا ذوق، مولانا محمد مسعود ازہر اوران کے خاندان نے کشمیر کی آزادی کیلئے قربانیوں کی جو تاریخ مرتب کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔۔۔

دین کے نام پر کھا کھا کرگردنیں موٹی کرنے والے تو ہو گئے’’ اللہ والے‘‘ اور اپنے جگر گوشوں کو کشمیر کے جہاد میں قربان کرنے والے سارے ہو گئے’’ایجنسی‘‘ کے ایجنٹ۔۔۔ جب انسان ذہن کی بجائے’’شکم‘‘ سے سوچنا شروع کر دے تو پھر گمراہی سوچ کے ساتھ بغلگیر ہو ہی جایا کرتی ہے۔۔۔

پہلے بھانجا طلحہ رشیدؒ اور اب بھتیجا عثمانؒ ابراہیم،مولانا ازہر نے خاندان کے اپنے ہونہار فرزندوں کو ایم این اے، ایم پی اے یا کونسلر بنانے کی بجائے میدان جہاد کا مجاہد بنایا، مولانا محمد مسعود ازہر نے تو کبھی کسی مذہبی یا سیاسی شخصیت کو منفی انداز میں موضوع بحث نہیں بنایا۔۔۔ انہوںنے یا ان کے ملک بھرمیں پھیلے ہوئے لاکھوں چاہنے والوں نے کبھی کسی ہم مسلک جماعت یا کسی کی ’’ذات‘‘ پر کیچڑ نہیں اچھالا۔۔۔

نہ انہوں نے کبھی کسی کے خلاف فتوے دیئے، لیکن اس کے باوجود کشمیر کے جہاد میں جانیں نچھاور کرنے والوںکو’’ایجنسیوں‘‘ کے طعنے دے کر شہدائِ کشمیر کی قربانیوں کا مذاق اڑانے والے۔۔۔ آگ سے کھیلنا  ترک کر دیں۔۔۔ وگرنہ نفرتوں کی یہ آگ مزید پھیلی تو دامن ان کا بھی نہیں بچے گا:

لٹتا ہوا جلتا ہوا گھر دیکھ رہا ہوں

اپنوں کا ستم اور ہنر دیکھ رہا ہوں

کرتے ہیں خلاؤں میں سفر آج کے طوطے

شاہین کے ٹوٹے ہوئے پَر دیکھ رہا ہوں

 میں جہادیوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کہ جو’’غیر‘‘ بن جانے والے’’اپنوں‘‘ کے بھی سوکنوں والے طعنے و تشنیع کے تیر سہہ کر بھی بھارت اور امریکہ کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں۔۔۔ سوشل میڈیا کو ہتھیار بنا کر مسلمان جماعتوں یا مذہبی شخصیات کو گالیاں دینے اور ان پر بھونڈے الزامات لگانے کی بجائے۔۔۔ انہوں نے اپنا ٹارگٹ نریندر مودی اور اس کی ہندو فوج کو بنا رکھا ہے،کسی کو اچھا لگے یا برا لگے مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔۔۔ لیکن اس سچائی کو تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ہے کہ جس جیش محمدﷺ کے قیام کا اعلان شہید مفتی نظام الدین شامزئیؒ نے کراچی پریس کانفرنس میں اپنی زبان مبارک سے کیا تھا اور ان کے ساتھ اس وقت شہید مفتی محمد جمیل خانؒ بھی موجود تھے۔۔۔ وہ’’جیش‘‘ اس کے’’امیر‘‘ اور کارکن آج بھی خالص جہادی بنیادوں پر ڈٹ کر کھڑے ہیں۔۔۔

نائن الیون کے بعد حالات نے پلٹا کھایا، گرم اور سرد ہوائیں بھی ان کی طرف لپکیں، طوفانی تھپیڑوں نے بھی انہیں گرانے کی کوششیں کیں، بعض’’اپنوں‘‘ نے بھی جور و جفا کے تیروں سے انہیں چھلنی کرنے کی کوششیں کیں، دجالی میڈیا ان پر پِل پڑنے میں صف اول پہ رہا، مگر وہ مردان باصفا تن کر کھڑے رہے، پھر دنیا نے دیکھا کہ جو اِن کے گرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔۔۔ وہ اسی’’چوٹی‘‘ سے لڑھکتے، لڑھکتے جب ان کے قدموں میں گرے تو ان کی’’ایڑی‘‘ کرچی کرچی ہو چکی تھی۔۔۔جو غیروں سے چراغ لے کر ان کی جہادی دعوت کو روکنا چاہتے تھے۔۔ پھر ان چراغوں میں روشنی نہ رہی، کوئی روک سکتا ہے توروک لے۔۔۔ جہادی زمزمے گونج رہے ہیں۔۔۔ جہادی قافلے رواں دواں ہیں۔۔۔ جہادی نظریات کی ’’گونج‘‘ سے جہنم مکانی مرزاقادیانی کی قبر کی آگ شعلے مار ہی ہے۔۔۔

اور دور کہیں اُفق کے اُس پار۔۔۔ آسمان شہادت پر کھڑا ہمارا عثمانؒ اپنے حسین چہرے پہ دلکش مسکراہٹ سجائے ہماری طرف ہاتھ ہلا ہلا کر کہہ رہا ہے کہ

’’اللہ دے حوالے سارے‘‘

سانسوں میں بغاوت کا سخن بول رہا ہے

تقدیر کے فرزند کا دل ڈول رہا ہے

افلاک کی وسعت پہ تلاطم ہی تلاطم

شاہین ابھی پرواز کو پر تول رہا ہے

چیتے کی گرجدار صدا ، قومی ترانہ

شیروں کا شروع سے یہی ماحول رہا ہے

پرواز کی قیمت پہ ملے رزق تو لعنت

غیور پرندوں کا یہی قول رہا ہے

وما توفیقی الا باللّٰہ

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online