Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ہندوستان میں طلوع ہوتا جہادی سورج؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 670 - Naveed Masood Hashmi - Hindustan mein Jihadi Sooraj

ہندوستان میں طلوع ہوتا جہادی سورج؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 670)

جس طرح سے ہندوستان میں نریندر مودی کی حکومت بننے کے بعد ہندوتنظیموں اور ہندو لیڈروں نے اسے ہندو ازم کے عروج کی علامت۔۔۔ سمجھنا شروع کر دیا تھا۔۔۔ بالکل اسی طرح پاکستان میں عمران خان کی حکومت بننے کے بعد سے، تل ابیب سے لیکر واشنگٹن ،لندن اورقادیان تک کے کالے، گورے کافروں کی بانچھیں کِھلی ہوئی ہیں، تو کیوں؟

آخر یہود و نصاریٰ کو عمران خان حکومت سے یہ اُمید کیوں ہے کہ وہ ان کے ایجنڈے پر من وعن پورا اتریں گے؟ مقبوضہ کشمیر کے  بے گناہ مسلمانوں پر خوفناک بھارتی مظالم کے باوجود کرتار پورہ بارڈر کھولنے کا حکومتی اعلان۔۔۔ اور اس تقریب میں بھارتی وزیر خارجہ کو دی جانے والی دعوت اور پھر اس دعوت کو بھارت کی طرف سے پایۂ حقارت سے ٹھکرانا، پاکستان میں ناموس رسالتؐ اور ختم نبوت کے کارکنوںکے گھروں پر چھاپے مارنا، ہزاروں علماء اور مذہبی کارکنوں کو گرفتار کرنا۔۔۔ ان حکومتی اقدامات پر ہالینڈ کے ملعون گیرٹ ویلڈر سے لیکر دیگر یہودی اور نصرانی ظالموں کا خوشی کا اِظہار کرنا،کرتار پورہ سرحد کھولنے کے فیصلے پر قادیانیوں کا اظہار مسرت کرنا۔۔۔ یہ سب اِقدامات اس بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ حکومتی دال میں بہت کچھ کالاہے۔۔۔

ملعونہ آسیہ کے رہائی کے فیصلے نے گویا عالمی صہیونی طاقتوں کے ہاں جشن کا سا سماں پیدا کر دیا تو آخر کیوں؟

اگر توہینِ عدالت جرم ہے تو پھر توہین رسالتؐ جرم کیوں نہیں؟ حکومت ہر طلوع ہونے والے سورج کے ساتھ۔۔۔ اپنے بعض متنازعہ اِقدامات کی وجہ سے پاکستانی قوم میں بے نقاب ہوتی جارہی ہے۔۔۔میںیہ بات محسوس کر رہا ہوں کہ پاکستان میں بسننے والے مسلمانوں میں ختم نبوتؐ اور ناموس رسالتؐ کے حوالے سے حکومتی اقدامات کی وجہ سے بے چینی بڑھتی چلی جارہی ہے، اگر کسی کو شوق ہے کہ اس کا فرمایا ہوا سند بن جائے تو پھر اسے اپنی زندگی کو خاتم الانبیاء ﷺ کے اُسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالنا پڑے گا، گرفتاریوں، ہتھکڑیوں، بیڑیوں اور پھانسیوں کے زور پر نہ کسی گستاخ رسول کو معاف کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی رہائی کے فیصلے کو قبول کیا جا سکتا ہے۔۔۔

یہ زندگی اللہ کی امانت ہے۔۔۔ یہ دنیا پیغمبرﷺ کے بابرکت وجود کی وجہ سے بنائی گئی ہے،اگر کوئی ہم سے ناموس رسالتﷺ اور گستاخان رسولﷺ کے معاملات پر کسی گنجائش یا نرمی کی توقع رکھتا ہے۔۔ تووہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے،’’پاکستان‘‘ کو چاہئے کہ اگر یہود ونصاریٰ اس کی حکومت سے۔۔۔ اپنا صیہونی ایجنڈا منوانا چاہتے ہیں تو انہیں صاف، صاف بتا دے کہ پاکستان کے 22 کروڑ مسلمان کبھی بھی صیہونی ایجنڈے کو قبول نہیں کریں گے۔۔۔

پاکستان میں عمران خان کی حکومت کو قائم ہوئے ابھی تقریباً ساڑھے3ماہ ہی ہوئے ہیں۔۔۔ لیکن بھارت میں نریندر مودی کی حکومت کئی سالوں سے قائم ہے۔۔۔۔ نریندر مودی ہی کی دہشت گرد تنظیم جس کا نام آر ایس ایس ہے ایک دفعہ پھر ہندوستانی مسلمانوں پر فساد مسلط کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، آر ایس اسی جیسی ہندو دہشت گرد تنظیمیں نریندر مودی کے اقتدار کو ہندو شدت پسندوں کے لئے رحمت سمجھتی ہیں۔۔۔

اس لئے ان کی کوشش ہے کہ1992ء میں بابری مسجد کو جو شہید کیا گیا تھا۔۔۔ اور اس کا مقدمہ سپریم کورٹ چل رہا ہے۔۔۔ وہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر ہی وہاں ہر قیمت پر رام مندر تعمیر کرنا چاہتے ہں۔۔۔۔ ایودھیا میں 6دسمبر1992؁ء تک ایک عالیشان مسجد تھی۔۔۔۔ اور مسلمان وہاں عبادت کیا کرتے تھے۔۔۔ لیکن بال ٹھاکرے، ایل کے ایڈوانی اور اوما بھارتی سمیت نریندر مودی کے دیگر دہشت گرد ہندوؤں نے زبردستی اس عالیشان مسجد پر حملہ آور ہو کر۔۔۔اسے انتہائی سفاکانہ انداز میں شہید کر دیا۔۔۔

صرف یہی نہیں بلکہ ہندوؤں نے سفاکیت کی نئی تاریخ مرتب کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے سینکڑوں مسلمانوں کو بھی شہید کر ڈالا۔۔۔6دسمبر1992ء سے لے کر30 نومبر2018ء؁ تک ان26سالوں میں ہندو۔۔۔ شہیدبابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ ہندوؤں نے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات سے لے کر امریکہ، لندن اور افریقہ تک کے ہندوؤں سے رام مندر کی تعمیر کیلئے اربوں روپے کا چندہ جمع کر رکھا ہے۔۔۔

اور اب ہندوستان سے یہ خبریں آرہی ہیں کہ۔۔۔ جیسے، جیسے دسمبر قریب آرہا ہے۔۔۔ ویسے، ویسے بھارتی شہر ایودھیا میں ہندو شدت پسند ایک دفعہ پھر جمع ہونے شروع ہو چکے ہیں، شیوسینا کا موذی سربراہ ادھوٹھاکرے اپنے ہزاروں شرپسندوں کے ساتھ ایودھیا میں داخل ہو چکا ہے۔۔۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ آر ایس ایس، وشوا ہندو پریشد اور شیوسینا جیسی دہشت گرد تنظیمیں اس مرتبہ ایک دفعہ پھر لاکھوں ہندو شدت پسندوں کو۔۔۔ ایودھیا میں اکٹھا کرنا چاہتی ہیں تاکہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کیلئے نریندر مودی کی حکومت پر۔۔۔ پارلیمنٹ میں آرڈیننس لانے کیلئے دباؤ ڈالا جا سکے، حیرت کی بات ہے ایودھیا میں بسنے والے مسلمانوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات ملعونہ آسیہ مسیح کی رہائی پر خوشیاں منانے والے یہود ونصاریٰ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔۔۔ لیکن اس کے خلاف کوئی ایک لفظ بھی بولنے کیلئے تیار نہیں ہے۔۔۔

اطمینان بخش بات یہ ہے کہ26سال گزرنے کے بعد بھی مخلص مسلمانوں کو بابری مسجد آج بھی پہلے ہی دن کی طرح یاد ہے۔۔۔ الحمدللہ مسلمان ہندوستان میں اقلیت میں ہونے کے باوجود بابری مسجد کو دوبارہ سے وہیں پر تعمیر کرنے کے متمنی ہیں۔۔۔

یقینا جب نریندر مودی جیسے دہشت گرد تمام قانونی اور اخلاقی ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے۔۔۔ زور، زبردستی سے اپنے ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں رام مندر تعمیر کروانے کی کوشش کرے گا تو پھر مجبوراً بھارتی مسلمانوں کو رام مندر کی ناجائز تعمیر کو رکوانے کیلئے جہاد کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا،اگر دنیا میں کوئی انصاف پسند نام کی ’’چڑیا‘‘ پائی جاتی ہے۔۔۔

بقیہ صفحہ ۵ پر

 تو اسے چاہئے کہ وہ فی الفور آر ایس ایس، بی جے پی،وشواہندو پریشد اور شیوسینا کے شیطانوں کو ایودھیا میں بدمعاشی اور غنڈہ گردی سے روک دے۔۔۔

تاریخی حقائق سے بات ثابت ہے کہ بابری مسجد کی زمین مسلمانوں کی ملکیت ہے۔۔۔ لیکن  مسلمان اقلیت کی عبادت گاہ مسجد کی جگہ پر اگر زور زبردستی سے رام مندر تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر دنیا ہندوستان کے اندر جہادی سورج کو طلوع ہونے سے روک نہ پائے گی۔۔۔ ہندوستان میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو۔۔۔ کوئی جتنا مرضی دیوار سے لگانے کی کوشش کرے۔۔۔ اس کے باوجود وہاں موجود لاکھوں مسلمان بابری مسجد کے دفاع کیلئے اپنی جانیں نچھاور کرنے کیلئے تیار ہیں۔

ہم نریندرمودی اور اس کے خبیث چیلوں کو آگاہ کئے دیتے ہیں کہ یہ1992ء؁ نہیں بلکہ2018 ء؁ ہے۔۔۔ ہندوستان کے مسلمانوںپر اتنے مظالم مت ڈھاؤ کہ وہ تمہارے لئے ’’قیامت‘‘ بن جائیں۔۔۔ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ضرور ہیں۔۔۔ مگر وہ لاوارث نہیں ہیں ، مجھے یاد ہے کہ 6دسمبر1992ء؁میں جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا۔۔۔ تو اس کے بعد نامور جہادی قائد مولانا محمد مسعودازہر نے بال ٹھاکرے کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ تم وہاں رام مندر تعمیر نہیں کر سکو گے۔۔۔وہ مولانا محمد مسعود ازہر ابھی زندہ ہیں(الحمدللہ) اور ان کے جہادی عزائم پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہیں، بھارت ہوش کے ناخن لے اور رام مندر کو زبردستی تعمیر کرنے کی کوشش کرکے ہندوستان کے امن کو آگ لگانے کی کوشش نہ کرے۔۔۔

وما توفیقی الا باللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor