Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

’’سدھو‘‘ ڈپلو میسی کی ناکامی (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 671 - Naveed Masood Hashmi - Sidhu diplomacy ki nakami

’’سدھو‘‘ ڈپلو میسی کی ناکامی

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 671)

پاکستان سے دوستی کے لئے بھارت نے تو ایک قدم بھی آگے نہ بڑھایا۔۔۔ ہاں البتہ وزیراعظم عمران خان نے بھارت سے دوستی کی خاطر یک طرفہ طور پر ہی دو قدم آگے بڑھا کر کرتار پورہ کا بارڈر کھولنے کے ساتھ  ساتھ بھارت کو اَمن کیلئے مذاکرات کی پیشکش بھی کر دی، جس کے جواب میں بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کا کہنا تھا کہ’’ اگرپاکستان کو بھارت سے تعلقات کو بہتر بنانا ہے تو اسے ایک اسلامی ملک کی جگہ۔۔۔ ایک سیکولر ملک بننا پڑے گا، اس کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی اندرونی حالت دیکھنی ہو گی۔۔۔ پاکستان نے اپنی ریاست کو اسلای ریاست بنا لیا ہے‘‘

وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے ابھی سو دن ہی پورے ہوئے تھے کہ چشم فلک کو یہ نطارہ بھی دیکھنا پڑا کہ ہندو آرمی چیف براہِ راست پاکستان کے اسلامی تشخص پر حملہ آور ہوا۔

غور کرنے کا مقام ہے کہ کہیں یہ ’’نوجوت سنگھ سدھو‘‘ مارکہ دوستی کا کرشمہ تو نہیں؟ نوجوت سنگھ کو محض ایک کرکٹر سمجھ کر’’جھپہ‘‘ مارنے والے یہ کیوں بھول گئے کہ یہ’’کرکٹر‘‘ قادیان کے لعنتی مرزا کی زبان بولتا ہے، صرف انڈیا میںہی نہیں۔۔۔ بلکہ لندن میں بھی منعقدہ قادیانی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے دجال مرزا غلام قادیانی کی تعریفوں کے پُل باندھتا ہے، اور انہیں دنیا میں امن کا علمبردار قرار دیتا ہے، سوال یہ ہے کہ آخر نوجوت سنگھ سدھو کی مسکراہٹوں کو پاکستان کے عوام مکارنہ قرار کیوں دیتے ہیں، پاکستانی عوام میں’’سدھو‘‘ مارکہ ڈپلو میسی کو مشکوک نگاہوں سے کیوں دیکھا جا رہا ہے۔

جب کرتار پورہ بارڈر کھولنے کے بعد بھی نریندر مودی اور جنرل بپن راوت اپنی سابق جارحانہ روش سے باز آنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔۔۔ تو پھر اس بارڈر کو کھولنے سے پاکستان کے عوام کو کیا فوائد حاصل ہوں گے؟ میں آج کے کالم میں اپنی ذاتی رائے دینے کی بجائے عوامی خدشات کو کالم کا حصہ اس لئے بنا رہا ہوں۔۔۔ تاکہ مقتدر قوتوں تک عوام کی رائے بھی پہنچ سکے۔

عوام یہ پوچھ رہے ہیں کہ افغان بارڈر کہ جس کو بانی پاکستان قائداعظمؒ نے بند کرنے کے بجائے۔۔۔ وہاں سے فوجیں ہٹا کر مشرقی بارڈر پر بھیج دی تھیں اور یہ فرمایا تھا کہ اس بارڈر پر ہمیں فوج کی ضرورت نہیں کیونکہ یہان بسنے والے عوام ہی ہماری فوج ہیں۔۔۔ آج اس افغان بارڈر پر تو تاریں لگ رہی ہیں۔۔۔ کیونکہ وہاں سے دہشتگردوں کی دراندازی ہوتی ہے۔۔۔ لیکن نریندر مودی کے جس بھارت نے بلوچستان سے لیکر وزیرستان تک۔۔۔’’کلبھوشنوں‘‘ کے ذریعے دہشتگردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔۔۔ اس بھارت کے کرتار پورہ بارڈرکو کھول کر جشن منایا جا رہا ہے تو کیوں؟

کہا جاتا ہے کہ کرتار پورہ بارڈر سے دنیا بھر کے قادیانیوں کا شہر’’قادیان‘‘ صرف45کلومیٹر پر واقع ہے۔۔۔ یہ تأثر بھی زبان زدِ عام ہے کہ ’’نوجوت سنگھ سدھو‘‘ کے پیچھے دراصل قادیان کی لابی ہے۔۔۔ برصغیر پاک و ہندکے نامور شاعر، حریت پسند قلمکار، جرأت مند ایڈیٹر اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے عظیم سپہ سالار حضرت آغا شورش کاشمیریؒ نے اپنی کتاب’’عجمی اسرائیل‘‘ میں پنجاب کی پاک انڈیا سرحد کے حوالے سے قادیانیوں کے جس منصوبے کی نشاندہی کی ہے وہ بھی چشم کشا ہے، وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ اس کتاب کو ایک دفعہ ضرور مطالعہ کریں۔

کرتار پورہ بارڈر کو اس طرح سے ڈرامائی انداز میں کھولنے کو تاریخ سے جدا کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔۔۔ اور اگر اسے تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو وطن عزیز کے حوالے سے قادیانی سازشوں کو دیکھ کر جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔

اورپھر عوام تبدیلی مارکہ وزیراعظم سے یہ بھی پوچھنا چاہتے ہیں کہ۔۔۔ پاکستان میں ناموس رسالتؐ کے کارکنوں پر تو بغاوت اور دہشتگردی جیسے گھناؤنے الزامات کے تحت مقدمات درج کئے جارہے ہیں ۔۔۔ گزشتہ 3ہفتوں کے دوران تین ہزار سے زائد مذہبی کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔۔۔ لیکن عجیب بات ہے کہ عمران خان اور ان کی ٹیم کو سکھوں پر بڑا پیارآرہا ہے۔۔۔ کہیں’’سکھوں سے پیار اور مسلمانوں کو مار‘‘ والی یہ نئی پالیسی بھی سدھو ڈپلومیسی کاحصہ تو نہیں؟

بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت ایک پلید مشرک اور بدترین ظالم شخص ہے۔۔۔ اگر اس نے پاکستان کے اسلامی تشخص پر وار کیا ہے تو اس کے پیچھے کوئی لمبی کہانی ہو گی؟

یادش بخیر پاکستان میں بھی کئی پٹاریوں کے دانش چور، بعض سیاستدان، موم بتی مافیاء کے ڈالر خور اور اینکرز نما خرکار۔۔۔ ایک مرتبہ نہیں بلکہ متعدد بارپاکستان کو سیکولر بنانے کے مطالبے کر چکے ہیں۔۔۔ پاکستان کا اسلامی تشخص ہندو ہوں، یہود و نصاریٰ یا ان کے مقامی ایجنٹ، سب کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کٹھکتا ہے۔۔۔ اور آج کل تو اسلام کے بعض بھگوڑوں کی ایک پوری کھیپ ہیکہ جس نے جھوٹے اسٹیٹس اور چند ٹکوں کے عوض، دین فروشی کر کے’’لبرلز‘‘ سے بھی بڑھ کر پاکستان کے اسلامی تشخص پر چڑھائی شروع کر رکھی ہے۔۔ ان ’’نئے نویلے‘‘ دانش چوروں نے مدرسوں میں رہ کر یتیموں کا مال کھا کر اپنے آپ کو پروان چڑھایا۔۔۔ ان میں سے بعض کے والدین تو آج بھی مسجدوں اور مدرسوں کے دیئے ہوئے گھروں میں رہ رہے تھے۔۔ مگر پھرکار،کوٹھی، جھوٹے اسٹیٹس اور امریکہ برآنڈ’’دانشوری‘‘ کے چکر میں انہوں نے قلم فروشی اور دانش فروشی کا ایسا دھندہ شروع کیا کہ اب وہ اسلام، اسلام پسندوں، مسجدوں، مدرسوں،مولویوں،جہادیوں اور پاکستان کے اسلامی تشخص کو ہی پاکستان کی ترقی میں اصل رکاوٹ قرار دے رہے ہیں۔

ملا دشمن مافیا سے وابستہ صحافی نما یہ’’لفافی‘‘ لنڈے کے لبرلز اور سیکولرز دراصل بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن راوت کے ہی گماشتے ہیں۔۔۔ کہ جو یہ سب مل کر ایک اسلامی پاکستان کو سیکولر بنانے کے خوفناک منصوبے پر عمل پیرا ہیں، اب جبکہ ہندو آرمی چیف جنرل بپن راوت کے بیان سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان کو سیکولر بنانا بھارتی فوج کا ایجنڈا ہے، تو پاکستان کے آرمی چیف جنرل باجوہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے الیکٹرانک چینلز اور اخبارات میں۔۔۔ پاکستان کے اسلامی تشخص کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے مٹھی بھر گروہ کو فی الفور گرفتار کروائیں۔۔۔ اگر پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے پر۔۔۔ علامہ خادم رضوی اور ان کے تین ہزار کے لگ بھگ ساتھی گرفتار کئے جا سکتے ہیں۔۔۔ تو پاکستان کے اسلامی تشخص کے خلاف کالم لکھنے والے ہوں، ٹاک شوز کرنے والے ہوں یا جلسوں میں تقریریں کرنے والے۔۔۔ جنرل بپن راوت کے ان کارندوں کو گرفتار کرنے میں کون سی چیز رکاوٹ ہے؟

پاکستان کو سیکولر بنانے کی باتیں کرنے والے سیاست دان ہوں یا دانش ور، وہ کبھی بھی پاکستان کے حمایتی نہیں ہو سکتے، بانی پاکستان قائداعظمؒ نے قیام پاکستان کے بنیادی نعرے میں کلمہ طیبہ کو فوقیت دی تھی۔۔۔ بیس لاکھ سے زائد شہداء پاکستان نے14اگست 1947ء؁ کو اپنی جانیں اسلام کے نام پر قربان کی تھیں، دہلی کے جنرل بپن راوت کا مقابلہ تو نہایت آسانی سے کیا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ کھلا دشمن ہے۔۔۔ مگر اسلام آباد میں موجود آستین کے ان سانپوںکو کچلنا ضروری ہے کہ جو مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر پاکستان کے اسلامی تشخص کو مٹاکر اسے سیکولر بنانا چاہتے ہیں۔

(وما توفیقی الا باللہ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor