Bismillah

677

۱۱ تا۱۷جمادی الاولیٰ۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۸تا۲۴جنوری۲۰۱۹ء

کشمیر کی ننھی پری صباء نثار (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 673 - Naveed Masood Hashmi - Kashmir ki Nani pari

کشمیر کی ننھی پری صباء نثار

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 673)

وہ کرتار پورہ راہداری کھول کر بھارت سے لوسٹوری شروع کرنے والے حکمران کہاں ہیں؟ کیا اُنہیں مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی درندوں کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی گرتی ہوئی لاشیں نظر نہیںآتیں؟ صرف ایک دن میں دو سو چالیس کے لگ بھگ زخمی اور15شہادتیں اسلام آباد کے ’’انصاف‘‘ پسند حکمرانوں سے پوچھ رہی ہیں کہ کرتار پورہ راہداری سے شروع ہونے والی تمہاری لوسٹوری کا کیا ہوا؟ بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے حکم جاری کیا ہے کہ کشمیر میں پتھراؤ کا جواب گولی سے دیا جائے۔۔۔ کشمیریوں کے قتل عام کا یہ حکم کرتارپورہ لوسٹوری کا منہ چڑا رہا ہے۔

آخر کب ہم بھارت کے پلید ہندوؤں کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی شہادتوں کے بعد سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے؟ اب تو مقبوضہ کشمیر کا ایک، ایک بچہ آزادی کی راہ پر چل نکلا ہے۔۔۔ وہاں اکثر گھرانے ایسے ہیں کہ جن کا ایک بیٹا شہید، دوسرا بیٹا جیل میں جبکہ باپ جہادی میدانوں کا شہسوار۔۔۔ اور مائیں، بہنیں آنچل پھیلائے ان کی سلامتی اور کشمیر کی آزادی کے لئے اللہ سے دعائیں مانگتی نظر آتی ہیں۔

بدنام زمانہ اُجرتی قاتل نریندر مودی کی دجالی فوج آزادی کا حق مانگنے کے جرم میں عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور مریضوں کی تمیز کئے بغیر کشمیر کے مظلوم مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم ڈھا رہی ہے۔۔۔بھارتی فوج کا بزدل چیف جنرل بپن راوت خود تو مجاہدین کے خوف سے تھر تھر کانپتا ہے۔۔۔ لیکن اپنی دجالی فوج کوحکم دیتا ہے کہ وہ پتھراؤ کرنے والے مظاہرین کو گولی مار دیں۔

انسانوں کے قتل عام کا یہ حکم دنیا کے کس قانون کے مطابق ہے؟ اس انسانیت کش حکم کے بعد بھی جنرل بپن راوت کو’’انسان‘‘ کہلانے کی اجازت حاصل ہونی چاہئے؟ اگر جنرل بپن راوت انسان ہے تو پھر۔۔۔ سانپ اور کالے بچھوؤں کا کیا قصور ہے؟

کالا ناگ ہو، کالا بچھو یا جنگل کے درندے اتنے ظالم اور خطرناک تو شائد وہ بھی نہ ہوں، جتنا خطرناک اور ظالم ۔۔۔ جنرل بپن راوت کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کیلئے بنا ہوا ہے۔

افسوس کہ کشمیری مجاہدین کو پاکستانی حکومتوں کی منافقانہ پالیسیوں نے کمزور کر دیا۔۔۔ ورنہ کشمیری مجاہدین تو بپن راوت کی اس دھمکی کا جواب دہلی میں دینے کی طاقت رکھتے تھے، بھارتی فوج اس حد تک درندگی پر اُتر آئی ہے کہ اب کشمیر کی معصوم بچیاں بھی اس کے ظلم سے محفوظ نہیں ہیں۔

کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیاں کے ایک گاؤں پر بھارتی فوج کے درندے حملہ آور ہوتے ہیں۔۔۔ اورپھر بے گناہ انسانوں پر ظلم کا بازار گرم کر دیتے ہیں۔۔۔ آزادی کے نعرے بلند کرتے ہوئے انسانوںپر آنسو گیس کے شیلوں کی بارش کرتے ہیں۔۔۔ یہاں سے ننھی پری’’ صباء نثار‘‘ پر ظلم کی داستان شروع ہوتی ہے۔۔۔ 19ماہ کی ’’صباء‘‘ کی والدہ بتاتی ہیں کہ’’ میں ناشتہ بنانے کی تیاری کر رہی تھی کہ اتنے میں آنسو گیس کا بدبودار دھواں گھر میں داخل ہوا۔۔۔ میرے پانچ برس کے بیٹے اور19ماہ کی ننھی بیٹی کا آنسو گیس کی وجہ سے برا حال ہو گیا۔۔۔ چند منٹ کے اندر ہی انہوں نے الٹیاں کرنا شروع کر دیں۔۔۔ میں اپنے معصوم بچوں کو کیا سنبھالتی کہ آنسو گیس کے زہریلے پن نے مجھے بھی بُری طرح متاثر کر ڈالا تھا۔ حالت غیر ہونے پر میں نے بڑی مشکل سے ننھی بیٹی’’صباء نثار‘‘ کو سینے سے چمٹایا اور 5سالہ بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے باہر سڑک کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔۔۔ جب بھاگتی ہوئی سڑک پر نکلی تو بھارتی فوجی نے پیلیٹ گن سے فائر شروع کر دیئے، میں نے بیٹے کو اپنے پیچھے کر دیا۔۔ جبکہ اپنے ہاتھوں سے ننھی صباء کے چہرے کو چھپانے کی کوشش کی، لیکن پیلیٹ گن کا فائر میرے ہاتھوں پر لگا۔۔۔ میرے ہاتھ تو زخمی ہوئے ہی لیکن ایک چھرا ننھی پری’’صباء‘‘ کی دائیں آنکھ میں جا لگا۔۔۔ ’’صباء نثار‘‘ نے چیخ ماری، اس کی آنکھ سے خون بہنا شروع ہوا تو مجھے احساس ہوا کہ میں اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اپنی لخت جگر کی آنکھ نہ بچا سکی۔۔۔ معصوم بیٹی کی آنکھ سے خون اُبلتا دیکھ کر میں بے ہوش ہو گئی۔۔۔ ہوش اس وقت آیا کہ جب مجھے میرے بچوں سمیت گاؤں کی ایمبولینس میں سرینگر کے ہسپتال میں لے جایا جا رہا تھا۔۔۔ ہائے افسوس کہ میری معصوم صباء کی آنکھ ضائع ہو گئی‘‘۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دجال معصوم’’صباؤں‘‘ کی آنکھیں نوچ رہے ہیں اور پاکستان کے ٹی وی چینلز کے سٹوڈیوز میں بیٹھ کر پاک انڈیا دوستی کے راگ الاپے جارہے ہیں۔۔۔ ہندوستان کے پلید فوجی کشمیری مسلمانوں پر قیامت خیز مظالم ڈھا رہے ہیں اور سرزمین پاک پر بیٹھے ہوئے کچھ ضمیر فروش بھارت سے آلو اور پیاز کی تجارت کے لئے مرے جارہے ہیں۔

پیلٹ ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ محمد اشرف وانی نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹیٹ رائیٹس کمیشن نے پیلٹ گنز سے زخمی اور نابینا ہونے کے3800 کیسز رجسٹرڈ کئے ہیں، جبکہ سینکڑوں کیسز ایسے بھی ہیں جو فورسز کی درندگی سے ڈر کر کہیں رجسٹرڈ نہیں کرواتے۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت کی درندہ صفت دجالی فوج نے جان بوجھ کر7ہزار کے لگ بھگ کشمیریوں کو نابنیا بنا دیا ہے۔۔۔ ان نابینا بنائے جانے والوں میں19ماہ کی صباء نثار بھی شامل ہے، بدنام زمانہ اُجرتی قاتل نریندر مودی اور بدترین قاتل جنرل بپن راوت کشمیری مسلمانوں پر۔۔۔ ظلم کی تمام حدیں پار کر چکے ہیں، کشمیر کے مظلوم مسلمانوںنے بھی پاکستان سے محبت اور وفا میںتمام انتہاؤں کو چھولیا ہے۔

پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے۔۔۔ جوان جب شہادت کا جام نوش کرتے ہیں تو پھر انہیں سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر ہی سپرد خاک کر دیا جاتا ہے۔۔۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوںکہ اگر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے دلوں میں پاکستان کی جو محبت موجزن ہے۔۔۔ اگر اس کا دسواں حصہ بھی پاکستانیوں پر تقسیم کر دیا جائے تو پوری قوم آپس میں شیر و شکرہو جائے۔۔۔پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستان سے محبت کرنے والے کشمیری آج بھارتی فوج کی درندگی کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں، کشمیر کی بیٹیاں دُکھی دل کے ساتھ یہ اَشعارپڑھتی ہیں :

روتی ہے کشمیر کی دھرتی روتے ہیں انسان

شائد ہم کو بھول چکی ہے ارضِ پاکستان

پاک وطن سے اپنی الفت ہے دیوانہ وار

لیلیٰ مجنوں میں بھی شائد نہ تھا اتنا پیار

بھول نہ جانا قربانی برباد نہ ہو ایثار

اپنی آنکھیں پھیر نہ لینا اے اہلِ ایمان

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online