Bismillah

686

۱۴تا۲۰رجب المرجب۱۴۴۰ھ  بمطابق ۲۲تا۲۸مارچ۲۰۱۹ء

ملا محمد عمر مسکرا رہا ہے (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاش)

Qalam Talwar 674 - Naveed Masood Hashmi - mulla-umar-muskura-raha-hay

ملا محمد عمر مسکرا رہا ہے

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 674)

جہاد کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے۔۔۔ اور جہاد مخالف، جہادی کرنوں کی تپش سے بچنے کیلئے چمگادڑوں کی طرح اُلٹے لٹکے ہوئے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔ امریکہ کا صدر ٹرمپ پاکستانی وزیراعظم کوخط لکھنے پر مجبور ہوا کہ اس کے افغانستان میں موجود فوجیوں کوزندہ واپس نکل جانے میں مدد فراہم کرے، امریکہ مذاکرات پر مذاکرات کر رہا ہے۔۔۔ افغان طالبان کے قیدیوں کو ہاتھ جوڑ کر رہا کررہا ہے۔

 17سال قبل امریکی فرعون جارج ڈبلیو بش نے جس صلیبی جنگ کے آغاز کا اِعلان کرتے ہوئے افغانستان پر حملہ کیا تھا، آج اسی بش کا جانشین’’ٹرمپ‘‘ پاکستان کی منت ترلے کر کے افغان طالبان کو راضی کر رہا ہے، تجزیہ نگار جو مرضی تجزیئے کرتے رہیں، کہنے والے جو مرضی کہتے رہیں، لیکن اس خاکسار کا دل پُکار پُکار کر کہہ رہا ہے کہ ملامحمد عمر مجاہد نور اللہ مرقدہ کے طالبان کابل کے دروازے پر ایک دفعہ پھر پورے جذبۂ ایمانی کے ساتھ دستک دینے والے ہیں۔

جو بھاگنے کی تیاریوں میں ہیں،ممکن ہے کہ وہ بھاگ جائیں۔۔۔ لیکن جو باقی رہ گئے جہاد کی تپش سے وہ بھی نہ بچ سکیں گے..’’ٹرمپ‘‘ التجائیں کر رہا ہے۔۔۔ وائٹ ہاؤس طالبان کی جہادی یلغار سے لرز رہا ہے، صلیبی دنیا پر سکتہ طاری ہے۔۔ یقینا ملا محمد عمر مجاہدؒ کی پاک روح مسکرا رہی ہو گی۔

اس موقع پر مجھے ملا ربانیؒ یاد آرہا ہے۔۔۔ ملا مشرؒ اور ملا بور جانؒ یاد آرہا ہے، مفتی معصوم اور ملا ضعیف کی یاد آرہی ہے۔۔۔ اورسب سے بڑھ کر یہ کہ الشیخ اسامہ شہیدؒ اور سلطانِ عادل جلال الدین حقانیؒ کی یاد آنسوؤں میں ڈھل رہی ہے۔

سلام… شہدائِ افغانستان پر! بالآخر اُن کا قیمتی خون رنگ لا رہا ہے۔۔۔ سلام شہداء افغانستان پر کہ جنہوں نے اِعلائِ کلمۃ اللہ کیلئے اپنی جانوں کو نچھاور کیا۔۔۔ سلام ان مجاہدین اور شہداء افغانستان پر کہ جنہوں نے روسی دھریت کے بتوں کو پاش پاش کیا.. سلام۔۔۔ اُن طالبان اور شہدائِ کرام پر کہ جنہوں نے امریکہ کی طاقت کا جنازہ نکال کر اسے دُم دَبا کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

سلام۔۔۔ اُن غازیوں اور شہیدوں پر کہ جنہوں نے نہ گھنی ڈاڑھیاں چھوٹی کروائیں اور نہ بھاری پگڑیوں کا رنگ بدلہ، نہ نظریات بدلے،نہ فکر اور سوچ بدلی۔۔۔ ہاںالبتہ انہوں نے اپنے جذبۂ ایمانی اور جہادی طاقت سے صلیبیوں اور اُن کے ہمنوا منافقین کے باطل نظریات اور گمراہ سوچ پر بجلیاں ضرور گرا دیں، اب امریکی پٹاری کی اینکرنیاں، اینکرز، کالم نگار اور دانشور کیا کریں؟ بھاگتے ہوئے امریکہ کی تعریف کیسے کریں؟

فاتحِ اَفغان طالبان کی تعریف کس منہ سے کریں؟ افغان طالبان اورمجاہدین کے خلاف لکھنے اور بھوکنے کیلئے ہی تو امریکہ ان کے منہ میں’’ڈالر‘‘ ٹھونسا کرتا تھا۔۔۔ وہ جو امریکی ٹینکوں اور توپوں سے افغان طالبان کو ڈرایا کرتے تھے۔۔۔ جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے قصیدے سنا سنا کر مجاہدین پر تبرا کیا کرتے تھے، جو کہا کرتے تھے کہ امریکہ پاکستان کا’’آملیٹ‘‘ بنا دے گا۔۔۔ امریکہ پاکستان کا’’تورا بورا‘‘ بنا دے گا۔

جو لکھا کرتے تھے کہ داڑھیوں اور پگڑیوں کے ساتھ ڈرون حملوں اور’’بموں کی ماں‘‘ جیسے اسلحے کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ امریکہ نے اکتوبر2001ء میں افغانستان پر حملہ کیا تو افغان طالبان پہاڑوں میں غائب ہو گئے۔۔۔ تو امریکی پٹاری کے ڈالر خور قہقہے بلند کرتے ہوئے نخوت بھرے انداز میں یہ فقرے کَسا کرتے تھے کہ’’بڑے آئے جہادی ملا‘‘۔۔۔ اب کدھر گئے؟ ان کا علاج ہی یہ ہے کہ انہیں مار دیا جائے، لیکن آسمان کا سورج آج یہ منظر حیرت سے دیکھ رہا ہے کہ ان سب تبرا بازوں کے منہ بند ہیں، ان کے تبصروں اور تجزیوں پر پھٹکار برس رہی ہے۔

امریکہ کے کھائے ہوئے ڈالر حلال کرنے کی آخری صورت انہیں یہی نظر آرہی ہے کہ افغان طالبان کی شاندار فتح کے اثرات کو خاموش رہ کر کم سے کم کیا جا سکے۔

امریکہ نے افغان طالبان کی جہادی طاقت کو تسلیم کر لیا ہے تو مجھے یقین ہے کہ یہ بھی بہت جلد مان جائیں گئے، اگر نہیں مانتے تو پھر اس خاکسار کا انہیں مشورہ ہے کہ گزشتہ17سالوں میں انہوں نے جہاد، مجاہدین اور افغان طالبان کے خلاف جتنے کالم لکھے، تجزیے اور تبصرے کئے۔۔۔ امریکہ کی حمایت میں جتنا پروپیگنڈا کیا۔۔۔یا تو اس سے رجوع کر کے اعلانیہ توبہ، تائب ہو جائیں یاپھر ان کالموں ، تبصروں اور تجزیئوں سمیت چلو بھر پانی میں ڈوب مریں۔

لعنت ایسی سوچ اور فکرپر کہ جو مسلمانوں کے مقابلے میں امریکہ کی حمایتی تھی۔۔۔ لعنت اس کالم نگاری اور دانشوری پر جو جہاد اور مجاہدین کے مقابلے میں یہود و نصاریٰ کی حامی تھی۔۔۔ ہزار بار لعنت اس مائینڈ سیٹ پر کہ جس مائینڈ سیٹ میں امریکیوں کوپھول پیش کرنا سعادت اور افغان طالبان کے خلاف نفرت بھرے تیرپھینکنا فرض سمجھ لیا گیا تھا۔

توبہ کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔۔۔ میری دعا ہے کہ جنہوں نے جہاد اور مجاہدین کے خلاف امریکی ٹولہ بن کر جوکردار بھی ادا کیا۔۔۔ اللہ کرے کہ وہ توبہ کر لیں۔۔۔ ورنہ پھر یہی گھوڑا اور یہی میدان! آسمان پرطلوع ہونے والے سورج کا رب میرا بھی پروردگار ہے۔۔۔ آسمانوں سے ضیائیں بکھیرنے والے چاند کا رب بھی میرا پروردگار ہے۔۔۔ ستاروں کو جگمگاہٹ عطاء کرنے والا بھی میرا پروردگار ہے۔

جہاد مقدس کو عبادت قرار دے کر قرآن بنانے والا۔۔۔ آقا و مولیٰ ﷺ کو 27غزوات کے حسن سے جمال بخشنے والا۔۔۔ صحابہ کرامؓ کو جہادی میدانوں کا شہسوار بنانے والا بھی میرا پروردگار ہی ہے، دنیا کے چار ارب سے زائد کافر اور مسلمانوں کی صفوںمیں گھسے ہوئے یہود و نصاریٰ کے سہولت کار منافقین سارے مل کر بھی جہاد کو نہ روک سکتے ہیں، نہ متنازعہ بناسکتے ہیں، اور نہ ہی حقیقی مجاہدین کو ڈرا، جھکا یا دبا سکتے ہیں۔

17سال قبل امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ افغان طالبان کے خلاف مدد کرو ورنہ پتھر کے زمانے میں دھکیل دیئے جاؤ گئے۔۔۔17سال بعد دسمبر2018ء میں۔۔۔ امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ترلے کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس سے قبل کہ چودہ ہزار امریکی فوجی پتھروں میں دفن ہو جائیں۔۔ طالبان سے بچ کر افغانستان سے نکلنے میں امریکہ کی مدد کرو۔۔۔ یہ جہاد کی کرامت ہے کہ پاکستان بھی سرخرو ٹھہرا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online