Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نئے پاکستان میں مدارس دشمنی کی پرانی وَباء (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاش)

Qalam Talwar 675 - Naveed Masood Hashmi - Naye Pakistan mein Madaris Dushmani

نئے پاکستان میں مدارس دشمنی کی پرانی وَباء

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 675)

نیا پاکستان، نیا سال انڈوں اورکتوں پر مبنی نئی معاشی پالیسی، گستاخِ رسول کی یاد میں ہندووانہ تہوار’’بسنت‘‘ منانے کا اِعلان۔۔۔84سینماؤں کو بڑھا کر گیارہ سو تک تعداد پہنچانے کا اعلان،’’یوٹرن‘‘ عظیم قیادت کی نشانی۔۔۔ پرویز مشرف کو دیکھو تو عدالتی مفرور، آلِ شریف کو دیکھو تو کرپشن کا بہتا دریا۔۔۔ آلِ زرداری کو دیکھو تو انمٹ کرپشن کی عجب کہانیاں۔۔۔ بقول وزیر داخلہ اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کی75فیصد لڑکیاں اور45فیصد لڑکے نشے کے عادی۔۔۔ سکولوں کے کیفے میں آئس ہیروئن دستیاب ، معاشرہ تباہی و بربادی کا شکار، چیف جسٹس کا سوال کہ بتایا جائے تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات کو نشہ کہاں سے ملتا ہے؟ مگر جواب ندارد۔۔۔ ہاںالبتہ پابندی دینی مدارس پر لگنی چاہئے۔

کوائف مدارس کو جمع کروانا پڑیں گے۔۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن میں روڑے اٹکائے جائیں گئے۔۔۔ بدنام دینی مدارس کو کیا جائے گا، الزامات اور میڈیا ٹرائل دینی مدارس کا کیا جائے گا۔۔۔ بگاڑ کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء میں پیدا ہو گا اور کٹہرے میں دینی مدارس کے طلباء کو کھڑا کیا جائے گا، آئین کی بغاوت کرتے ہوئے مسلمان طلباء کو گمراہ کرنے کیلئے لمز یونیورسٹی کا ایک پروفیسر قادیانیوں کے مرکز کا دورہ کروائے گا۔۔۔ مگر دہشتگردی کے الزامات دینی مدارس کے اساتذہ پر لگائے جائیں گئے، عمران خان کے ’’نئے‘‘ پاکستان کا یہ پرانا اور بوسیدہ مزاج بتا رہا ہے کہ ابھی تک یہاں کچھ بھی نہیں بدلہ۔

وہی عالمی صہیونی طاقتیں ہیں اور انہیں کا ایجنڈا ہے، وہی فرسودہ نظام ہے اور اسی کی شہہ سرخیاں ہیں، دماغوں میں گھسی ہوئی وہی مدارس دشمنی، لبرل اور سیکولر لادینیت کے وہی پرانے انداز، میڈیا، پاک فوج اور عدلیہ کے وقار کے حوالے سے پہلے سے محتاط۔۔۔ مگر بے حیائی، فحاشی اور دین دشمنی کو پروان چڑھانے میں اب بھی آزاد، پانامہ کیس ہو یا ملکی خزانے کو لوٹنے اور منی لانڈرنگ کے دیگر کیسسز دینی مدراس کے کسی ایک شخص کا بھی نام شامل نہیں، مگر اس کے باوجود حکمرانوں کا نشانہ دینی مدارس ہی رہیں گے۔

لیکن اگر کوئی غیر ملکی طالب علم دین کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے آنا چاہے تو راستے مسدود کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں تو کیوں؟

وفاق المدارس کے اکابر حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مفتی اعظم مفتی رفیع عثمانی، مولانا قاری حنیف جالندھری دھائیاں دیتے ، دیتے تھک گئے ہیں کہ دینی مدارس تو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے پیغام محبت کو عام کرنے کا بیٹرہ اٹھائے ہوئے ہیں۔۔۔ لیکن اس کے باوجود مدارس دینیہ کے خلاف حکومتی طرز عمل انتہائی افسوسناک ہے،اکابر علماء کہتے ہیں کہ دینی مدارس ، ملکی آئین اور قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔۔۔ لیکن اس کے باوجود حکومت دینی مدارس کے خلاف یکطرفہ فیصلے کرتی ہے۔

دینی مدارس کی خدمات کو دنیا بھر کے عام مسلمان تو سراہ رہے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مدارس انسانیت ساز فیکٹریاں ہیں، دینی مدارس بہترین تعلیمی صلاحیتوں کے مظہر ہیں، لیکن اس سب کے باوجود حکومتی قہر و جبر کا نشانہ دینی مدارس کو ہی بنایا جاتا ہے۔

میں نے اپنے دوست مولانا طلحہ رحمانی بن مفتی احمد الرحمنؒ جو خیر سے وفاق کے ترجمان بھی ہیں سے پوچھا کہ عمران خان کے نئے پاکستان میں دھڑا دھڑ پیغام مدارس کانفرنسوں کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ ان کا جواب تھا کہ دینی مدارس اور پاکستانی قوم یک جان دوقالب ہیں۔۔۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ پندرہ، بیس سالوں سے حکومتوں اور میڈیا نے عالمی قوتوں کی زیر سرپرستی دینی مدارس کو بدنام کرنے کی طرح طرح کی سازشیں کیں، لیکن پاکستانی قوم نے دینی مدارس اورعلماء کرام پر مکمل اعتماد کا اظہار کر کے ان سازشوں کو ناکام بنا دیا، پیغام مدارس کانفرنسوں کے ذریعے علماء یہ بتا رہے ہیں کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور ان مدارس کی آزادی سلب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاکستان کے عام مسلمانوں کا دینی مدارس کے تعلیمی سسٹم اور علماء کرام پر بے پناہ اعتماد کا اندازہ کیجئے کہ صرف وفاق المدارس العربیہ کے زیر اہتمام بیس ہزار دینی مدارس کے35لاکھ سے زائد طلباء و طالبات کے تعلیمی مصارف کیلئے اپنے عطیات وغیرہ دینے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے، لیکن حکومتوں کا دینی مدارس سے سوکنانہ پن ملاحظہ کیجئے کہ عوام کے عطیات، زکوٰۃ، صدقات سے چلنے والے دینی مدارس سے بھی بجلی اور گیس کے بلوں کے نام پر کروڑوں روپے اینٹھ لیتی ہیں، ایک طرف حکمران تسلیم کرتے چلے آرہے ہیں کہ دینی مدارس طلباء کی کفالت کے بہترین ادارے ہیں۔۔۔ اور دوسری طرف دینی مدارس سے بھی نوٹ کمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے ضائع نہیں ہونے دیتے۔

کالج یا یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پرنسپل کو کرپشن کے جرم میں ہتھکڑی لگ جائے تو پورا نظام ہل جاتا ہے۔۔۔ لیکن دوسری طرف اپنے غریب طلباء کیلئے قربانی کی کھالیں جمع کرنے والے جید علماء کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر عدالتوں میں گھسیٹنے تک ہی محدود نہیں رکھا جاتا۔۔۔ بلکہ انہیں آناً، فاناً سزائیں بھی سنا دی جاتی ہیں، مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ’’پاکستان‘‘ نیا ہے تو پھر مدارس دشمنی کی پرانی وباء اس نئے پاکستان میں کہاں سے درآئی ہے؟ تعلیمی اداروں، اساتذہ کرام، طلباء و طالبات کو تحفظ فراہم کرنا تو حکومت کا کام ہوتا ہے، لیکن ہر دور میں دینی تعلیم کے ادارے، دینی تعلیم دینے والے اساتذہ کرام اور دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء وطالبات ہی عدم تحفظ کا شکار کیوں رہتے ہیں؟

پرانا پاکستان ہو یا نیا پاکستان۔۔۔ یہاں انڈیا کے اداکار، اداکاریں، آئیں تو انہیں پروٹوکول دیا جاتا ہے، امریکہ یا لندن سے آنے والے گوروں کو مکمل پروٹوکول دیا جاتا ہے۔

مولانا طلحہ رحمانی کی بات سن کر مجھے ماہنامہ بنیات میں لکھا ہوا حضرت بنوریؒ کا ایک واقعہ یاد آگیا۔۔۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک دفعہ محدث العصر حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ’’مولانا‘‘ آپ بہت اچھلتے ہو، میں تمہارے مدرسہ پر پابندی لگا دوں گا۔۔۔حضرتؒ نے فرمایا بھٹو صاحب! تم میرے مدرسہ پر تو پابندی لگا دو گے، ’’بنوری‘‘ پر تو نہیں لگا سکتے۔۔۔ بند کر دو میرا مدرسہ، میں دور کہیں، کسی درخت کے نیچے بیٹھ جاؤں گا، لوگوں سے کہوں گا کہ آؤ مجھ سے دین سیکھو۔۔۔

دین سیکھنا صرف’’تعمیرات‘‘ میں نہیں ہے، میں چٹائی پر درخت کے سائے کے نیچے بیٹھ جاؤں گا۔۔ اور اللہ کا دین خدا کے بندوں کو سکھاؤں گا، کوئی کلمہ سیکھے گا، کوئی سورہ فاتحہ سیکھے گا۔۔۔ دین صرف بخاری شریف پڑھانے کا نام نہیں، وہ اپنی جگہ بڑا کام ہے، اس کا انکار نہیں، لیکن دین تو سورہ فاتحہ پڑھانے کا نام بھی ہے، دین تو ایک مسئلہ بتانے کا نام بھی ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor