Bismillah

677

۱۱ تا۱۷جمادی الاولیٰ۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۸تا۲۴جنوری۲۰۱۹ء

تُف ہزار بار تُف؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاش)

Qalam Talwar 676 - Naveed Masood Hashmi - Tuff Hazar Bar Tuff

تُف ہزار بار تُف؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 676)

تُف ہزار بار تُف، بھارت کے اُن غلیظ ہندوؤں پر کہ حو گائے کا تو پیشاب پیتے ہیں…مگر اِنسانوں کو پتھروں،آہنی راڈوں اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنا کر اِنتہائی ظالمانہ انداز میں شہید کر دیتے ہیں۔

تُف ہزار بار تُف، بھارت کے ان ملیچھ ہندوؤں پر کہ جو"سانپ"کی تو پوجا کرتے ہیں…مگر مسلمانوں کو اس بے دردی کے ساتھ شہید کرتے ہیں کہ انسانوں کی روح تک شرمندہ ہو جائے۔

تُف ہزار بار تُف، بھارت کے ان انتہا پسند ہندوؤں پر کہ جو "بندر"کو تو "رام" مانتے ہیں مگر اشرف المخلوقات "انسان"کو ظلم و جبر کی چکی میں پیس ڈالتے ہیں۔

تُف ہزار بار تُف، بھارت کے اُن شدت پسند ہندوؤں پر کہ حو "گائے" جیسے جانور کو تو "ماتا" تسلیم کرتے ہیں…مگر مسلمان (ماتاؤں)کو چوکوں اور چوراہوں پر بہیمانہ انداز میں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں…

تُف ہزار بار تُف، اُس نریندر مودی پر کہ جس کے دور اقتدار میں پورے بھارت سے انسانیت کا جنازہ تک نکل گیا…

تف ہزار بار تف، اس نریندر مودی پر کہ جس نے وزیراعظم بننے کے بعد خود تسلیم کیا کہ اس نے 1971 میں پاکستان کو توڑنے اور بنگلہ دیش بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا…

تف ہزار بار تف، اُس نریندر مودی پر کہ جس نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار پاکستان پر حملے کی دھمکیاں دیں…کبھی کہا پاکستان کو سبق سکھائیں گئے،اور کبھی کہا پاکستان ایک جنگ سے نہیں سُدھرے گا…

تف ہزار بار تف، بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت پر کہ جس نے کشمیر میں مظاہرین کے پتھراؤ کا جواب گولی سے دینے کا حکم جاری کیا…

تف ہزار بار تف، اُس بھارت پر کہ جہاں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر ظلم و تشدد کرنا سرکاری پالیسی بن چکا ہے…اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر قبضے کرنا، اقلیتوں کو سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ نہ دینا، اقلیتوں پر تعلیم کے دروازے بند رکھنا، جس بھارت کا طرۂ امتیاز بن چکا ہو، میں اس پر ہزار بار لعنت نہ بھیجوں تو پھر کیا کروں؟

جہاں سے مسلمان بیٹیاں اپنے گھروں پر ہونے والے ہندوؤں کے حملوں، اپنے بھائیوں کی کٹی پھٹی لاشوں اور اپنے زخموں سے چور چور جسموں کی ویڈیو بنا کر واٹس ایپ پر بھیجیں… میں اس بھارت، وہاں کے حکمرانوں، وہاں کے میڈیا، وہاں کی فوج اور وہاں کے غلیظ ہندوؤں پر ہزار بار لعنت نہ بھیجوں تو پھر کیا کروں؟

صرف مقبوضہ کشمیر پر کیا لکھوں؟نریندر مودی نے تو پورا بھارت ہی مسلمانوں کیلئے مقبوضہ کشمیر بنا دیا ہے… مودی اور اس کے غلیظ ہندوؤں کے انسانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم نے حیوانوں کو مات کر دیا ہے، ایک نہیں ایسے درجنوں ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں، جس میں بھارت کے مسلمان مردوں اور عورتوں کو کبھی گائے ذبح کرنے،کبھی گائے چوری کرنے اور کبھی گائے کا گوشت پکانے کا جھوٹا الزام لگا کر خوفناک انداز میں شہید کیا جا رہا ہے…

ستم در ستم، ان خوفناک مظالم کو بھارت کا کوئی قانون اور کوئی عدالت روکنے کیلئے  بھی تیار نہیں، شہریوں کی سماجی و معاشرتی آزادی کے حوالے سے سرگرم تنظیم آر ٹی آئی کے استفسار پر بھارتی وزیر دفاع نے جو معلومات جاری کی ہیں…انہیں پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بھارت کی سرزمین ایک دفعہ پھر شدت کے ساتھ کسی محمود غزنویؒ کا انتظار کر رہی ہے، بھارت کی سرزمین مجاہدین کے جہادی نعروں اور جہادی ترانوں کو سننے کی بڑی شدید آرزو مند ہے…

بھارتی وزیر دفاع کی رپورٹ کے مطابق 2004ء سے 2017ء ملک بھر کے مسلمانوں کے خلاف ایک ہزار تین سو ننانوے تشدد کے واقعات رونما ہوئے … جن میں 1605افراد قتل اور تین ہزار سات سو 23 زخمی ہونے … یہ تو وہ رپورٹ ہے جو بھارت کی وزارت دفاع نے خود جاری کی، نجانے تشدد اور قتل کے کتنے واقعات ہیں جنہیں چھپا لیا گیا ہو گا؟ لیکن اگر اسی رپورٹ پر یقین کر لیا جائے تو کیا نریندر مودی کا بھارت مسلمانوں کے لہو کا پیاسا نظر نہیں آتا؟

سوال یہ ہے کہ جو امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کی نئی قیادت سے ملنے اور پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کی خواہش کا اظہار کر رہا ہے… اس سمیت اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی آنکھوں سے انسانوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم پوشیدہ ہیں؟ یہ خاکسار یہاں یہ بات لکھے بغیر بھی نہیں رہ سکتا کہ آج اگر ٹرمپ جیسا خونخوار پاکستان کی نئی قیادت سے ملنے کا خواہشمند ہے تو اس میں "نئی قیادت" کا کوئی کمال نہیں ہے…بلکہ یہ سارا کمال افغانستان کے ان جہادی طالبان کا ہے کہ جن کی جہادی یلغارنے ٹرمپ کے دماغ میں گھسے ہوئے طاقت کے کیڑے کو جھاڑنے میں اہم کردار ادا کیا، اگر نئی قیادت کے کسی ترجمان کو یقین نہ آئے تو 3 جنوری کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کابینہ کے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کو پڑھ لینا چاہیے …جس میں وہ افغانستان میں امریکی فوج کی ناکامی کا واضح اعتراف کرتے ہوئے اپنے فوجی جرنیلوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے افغانستان میں جنگ کے باعث سوویت یونین کے ٹوٹنے کا ذکر کرتا ہے…جو اس جیسی صورتحال کے باعث امریکہ کے ٹوٹنے کا خوف ظاہر کر رہا تھا ، ٹرمپ نے کہا جرنیلوں کو وہ تمام رقم فراہم کی گئی جو انہیں درکار تھی، تاہم انہوں نے افغانستان میں بہترین کام نہیں کیا، ٹرمپ نے افغانستان کے مسئلے پر امریکہ کے ملوث ہونے کے بارے میں بھی سوال کھڑے کر دیئے اور کہا کہ روس، بھارت اور پاکستان وہاں کیوں نہیں ہیں؟ہم اپنے وطن سے 6ہزار میل دور وہاں کیوں ہیں؟

صدر ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ یہ سوال صحافیوں سے پوچھنے کی بجائے کروسیڈی مائنڈ سیٹ کے حامل ڈبلیو بش اور ہو سکے تو رسوا کن امریکی غلام پرویز مشرف کو بھی اسی کٹہرے میں بش کے ساتھ کھڑا کر کے ان کے سامنے یہ سوالات اٹھائے تو ممکن ہے کہ اسے جواب مل جائے۔

یہ خاکسار اوپر لکھا ہوا جملہ آخر میں ایک دفعہ پھر اس لئے لکھ رہا ہے تاکہ سند رہے ، بھارت کی سرزمین بڑی شدت سے کسی محمود غزنویؒ کا انتظار کر رہی ہے…امریکہ کو افغانستان میں ہونے والی عبرت ناک شکست اس بات کا پتہ دے رہی ہے کہ سرزمین بھارت کو شائد اب زیادہ دیر تک انتظار نہ کرنا پڑے۔(ان شاء  اللہ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online