Bismillah

681

۹تا۱۵ جمادی الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۵تا۲۱ فروری۲۰۱۹ء

ہر قتل کے بعد مجھ سے رویا نہیں جاتا (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاش)

Qalam Talwar 678 - Naveed Masood Hashmi - Her Qatal k Baad

ہر قتل کے بعد مجھ سے رویا نہیں جاتا

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 678)

خاتم الانبیاءﷺ کا اِرشاد مبارک ہے کہ’’مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے‘‘(مشکوٰۃ، بخاری) لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر طرف ظلم کا راج ہے۔۔۔ یہاں دوسروں کے خلاف زبانیں بھی قینچی کی طرح چلتی ہیں اور کوئی کسی کے ہاتھوں سے بھی محفوظ نہیں ہے۔

ہر حکومت عوام سے تو توقع رکھتی ہے کہ وہ اسلحے سے پاک ہو جائیں،کرائم سے دور رہیں، عوام کو ناحق قتل کے متعلق وعیدات سنائی جاتی ہیں، عام لوگوں کو تو بے گناہ انسانوںکا خون بہانے سے روکنے کیلئے سیمینار منعقد کئے جاتے ہیں، لیکن خود حکومتی شخصیات، قومی خزانے پر پلنے والے اداروں، نوابوں، وڈیروں اور رسہ گیروںکو انسانی جان کی قدر و قیمت کا ذرا برابر بھی احساس نہیں ہوتا۔

ضلع ساہیوال کے علاقے قادر آباد میں بھری سڑک پر سی ٹی ڈی کے اہلکاروںنے ایک کار کو روک کر جس طرح معصوم بچوں کے سامنے ان کے ماں، باپ،بہن اور کار کے ڈرائیور کو گولیوں سے چھلنی کر کے کبھی اغواء کار اور کبھی داعش کے دہشتگرد قرار دینے کی کوششیں کیں۔۔۔ اس ظلم نے ہر درد مند دل رکھنے والے انسان کو تڑپا کر رکھ دیا۔

سچی بات ہے کہ ابھی تک ظلم کے اس بدتین واقعہ پر میرے آنسو ہی تھمنے میں نہیں آرہے۔۔۔3معصوم بچوں کی دیکھتی آنکھوں کے سامنے ان کے والدین کو یوں بے دردی سے مار ڈالنا۔۔۔ اور پھر بچوں کو پٹرول پمپ پر چھوڑ کر فرار ہو جانا، اگر اس طرح کا ظلم ٹی ٹی پی، داعش کے دہشت گرد کرتے یا امریکی اور بھارتی فوج کے ہاتھوں یہ ظلم سرزد ہوتا تو ممکن ہے کہ میں آنسو بہانے کی بجائے انتقام کے عزم بالجزم کو دوہراتے ہوئے جہاد و قتال کے جذبے کو زندہ کر کے مطمئن ہوجاتا۔۔۔مگر افسوس کہ یہ سب کچھ سی،ٹی ڈی کے اہلکاروں نے کیا تھا، جنہوں نے وردی بھی قوم کے پیسے کی پہن رکھی تھی، جن کے ہاتھوںمیں اسلحہ بھی عوام کے پیسے سے خریدا ہوا تھا، جن کے پاس گاڑیاں اور ان گاڑیوں میں پٹرول بھی قومی خزانے سے ڈالا گیا تھا۔

1995ء سے لے کر2001ء تک سی آئی ڈی یعنی کرائم انوسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ کے نام سے کام کرنے والے ادارے کے بطن سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ یعنی(سی ٹی ڈی) نے جنم لیا۔

سی ٹی ڈی کی ازسر نو تشکیل کامقصد تو دہشتگردی کے چیلنج سے نمٹنا بتایا گیا اور 2015ء؁ میں اسے انٹیلی جنس کا اضافی اختیار بھی دے دیا گیا۔۔۔ لیکن سی ٹی ڈی کا نشانہ بننے والے سینکڑوں انسانوں کے ہزاروں رشتہ دار یہ الزام لگاتے ہیں کہ اس ادارے کو شریف برادران، بالخصوص میاں شہباز شریف نے ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا۔

کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ شریف برادران کی بھارتی حکمرانوں سے گاڑھی چھنتی تھی، صوبہ پنجاب کے 11کروڑ عوام میں کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حوالے سے نرم گوشہ موجود ہے، یہاں سے سینکڑوںنوجوان مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کیلئے پہنچے۔۔۔ شہباز شریف نے انڈین فوج کو مقبوضہ کشمیر میں ریلیف پہنچانے کیلئے جہاد کشمیر سے محبت رکھنے والے نوجوانوں کے خلاف سی ٹی ڈی کو خوب استعمال کیا، کچھ عرصہ قبل اس خاکسار کا گوجرانوالہ، منڈیکی گورایہ، سیالکوٹ، لاہور، ساہیوال، ملتان، بہاولپور،احمد پور شرقیہ، فیصل آباد کا سفر ہوا تو مجھے وہاں بہت سے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا، ان لوگوں نے مجھے سی ٹی ڈی کے ظلم و ستم کے حوالے سے جو داستانیں سنائیں وہ خوفناک اور انتہائی دلخراش تھیں، سی ٹی ڈی ہو، پولیس ہو، آئی بی ہو، سپیشل برانچ ہو، آئی ایس آئی ہو یا دیگر ادارے یہ سب ہمارے قومی ادارے ہیں، ان کو قائم کرنے کا مقصد عوام اور ملک کی حفاظت ہوتاہے، قومی خزانے سے ان پر اربوں روپیہ خرچ کیا جاتا ہے، کوئی بھی محب وطن پاکستانی ان سے نفرت نہیں کرتا۔

سوال یہ ہے کہ آخر سی ٹی ڈی کے حوالے سے قوم میں اتنی نفرت کیوں پائی جاتی ہے کہ سانحہ ساہیوال کے بعد اس کے خلاف لاہور، ساہیوال اور راولپنڈی میں عوام نے مظاہرے کئے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس کے خلاف زبردست کمپین چلائی گئی؟

میری وزیراعظم عمران خان،آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سے گزارش ہے کہ وہ سی ٹی ڈی سے اس عوامی نفرت کا پس منظر جاننے کیلئے کوئی ایسا بااختیار کمیشن قائم کریں کہ جو اُن گھرانوں کا بھی وزٹ کرے کہ گزشتہ دس سالوں میں جن گھرانوں کے بیٹے اس ادارے کے اہلکاروں کا نشانہ بنے۔

شہباز شریف کو جعلی مقابلوں میں بندے مروانے کا خاص ذوق تھا، شہباز شریف کے دس سالہ دور میں پنجاب میں جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے والے حرماں نصیبوں پر بھی اگر بااختیار کمیشن ایک جامع رپورٹ مرتب کرے تو ظلم کے ایسے ایسے اندوہناک واقعات سامنے آئیں گئے کہ جنہیں سن کر چنگیز اور ہلاکو کی روحیںبھی کانپ جائیں گی۔صرف میں ہی نہیں بلکہ پوری قوم ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔۔۔لیکن ’’سی ٹی ڈی‘‘ بھی آگر اسی ریاست کا ہی ادارہ ہے تو اس کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے پوچھا جائے کہ آخر اس ادارے کے اہلکار کس کے ساتھ ہیں؟ کم از کم عوام کے ساتھ تو نہیں ہیں۔۔۔ کیونکہ عوام اس ادارے میں گھسے ہوئے بعض خونخواروں کے ہاتھوںسخت ناراض ہیں۔

ساہیوال میںمحض شک کی بنیاد پر ایک فیملی کو گولیوں سے چھلنی کرنے والے درندوں نے انسانیت کی حرمت کو پامال کیا ہے۔۔۔ یہ خاکسار اس سے قبل بھی انہی صفحات پر سی ٹی ڈی میں گھسے ہوئے بعض خونخواروں کے مظالم کے حوالے سے کالم لکھ چکا ہے،جس کے بعد ساہیوال سے میرے بعض پرانے دوستوںکو اُٹھا کر ان پر بے پناہ تشدد کر کے میرے خلاف بیان دینے کیلئے دباؤ ڈالا گیا لیکن اللہ کے فضل وکرم سے ان دوستوں نے جھوٹا بیان دینے سے انکار کر دیا۔

وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ سی ٹی ڈی سمیت دیگر ریاستی اداروں کے اہلکاروں اور افسروں کیلئے بھی ایسے سیمیناروں کا اہتمام یقینی بنائیں کہ جس میں کبھی مولانا طارق جمیل، کبھی مفتی منیب الرحمان، کبھی مولانا حنیف جالندھری اور کبھی مولانا قاری محمدصادق جیسے جید علماء کے بیانات ہوں، جو ریاستی اداروں کے اہلکاروں کو انسانی جان کی عظمت اور قدر و قیمت قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھا سکیں۔ان سیمیناروں میں علماء کرام کسی بھی بے گناہ شخص کو قتل کرنے والے کے حوالے سے قرآن و سنت کے احکامات پر روشنی ڈالیں گے تو یقینا حکومتی اہلکاروں پراس کے مثبت اثرات مرتب ہوںگے۔ ( ان شاء اللہ)

ہر قتل کے بعد مجھ سے رویا نہیں جاتا

اب لفظ مذمت بھی شرمسار ہیں لوگو!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online