Bismillah

681

۹تا۱۵ جمادی الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۵تا۲۱ فروری۲۰۱۹ء

افغانستان جہاد کا خوبصورت نتیجہ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاش)

Qalam Talwar 679 - Naveed Masood Hashmi - Afghanistan jihad

افغانستان جہاد کا خوبصورت نتیجہ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 679)

قادیانی لابی اور قادیانی ملعون کی تعلیمات سے متاثرہ مائنڈ سیٹ افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں امریکہ کی عبرت ناک شکست کو جہادِ مقدس کا خوبصورت نتیجہ سمجھنے کی بجائے۔۔۔ آئیں،بائیں، شائیں کرتے ہوئے اسے خفیہ ایجنسیوں کے کھاتے میں ڈال رہا ہے، صرف امریکہ، برطانیہ،اسرائیل یا بھارت ہی نہیں بلکہ پاکستان میں بھی اس مخصوص مائینڈ سیٹ والا طبقہ آج بھی موجود ہے کہ جس نے جہاد مقدس اور اس کے عظیم ثمرات کو تسلیم نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے، ان میں سے بعض تو ڈائریکٹ قادیانی ہیں اور بعض قادیانی کی جہاد اور جہادیوں کے خلاف تعلیمات سے متاثرہ ’’دانش چور‘‘ بھی شامل ہیں،28 سال قبل جب مجاہدین افغانستان نے سویت یونین جیسے سرخ ریچھ کا غرور خاک میں ملا کر اسے ٹکڑوں میں تبدیل کیا تھا، تب اس مائینڈ سیٹ نے جہاد اور مجاہدین کی اس عظیم کامیابی کو امریکہ کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ اور آج جب ان کا باپ امریکہ17سالہ جنگ میں طالبان کے ہاتھوں لہولہان اور بھیک منگا ہونے کے بعد ذلیل و رسوا ہو کر افغانستان سے نکل بھاگنے کی تیاریاں کر رہا ہے تو جہاد مخالف’’مائنڈ سیٹ‘‘ طالبان کی اس فتح مبین کوخفیہ ایجنسیوں کے کھاتے میں ڈال کر مجاہدین طالبان کی بے مثال جدوجہد اور لازوال قربانیوں کو جھٹلانے کی کوشش کر رہا ہے، اس بے پرکی اڑانے میں تیسرے درجے کے بعض سیاسی ناعاقبت اندیش بھی شامل ہیں کہ جنہوں نے اسلام کے خوبصورت فلسفۂ حیات کو مغربی جمہوریت کے گند سے آلودہ کرنے کی کوششیں کیں، مگر اس کے باوجود مغربی جمہوریت نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

جب اشتراکیت اور مغربی جمہوریت نے انہیں جوتے مارے تو انہوں نے ایک دفعہ پھر مذہب اسلام اور مسلک میں پناہ تلاش کی، جو خود اپنے قائدین کی جانوں کی حفاظت کی بھیک سرکار اور سرکاری اداروں سے مانگتے ہیں۔۔۔ وہ ملا محمد عمرؒ کے مجاہد طالبان کے ہاتھوں امریکہ کی عبرتناک شکست کو جہاد مقدس کا نتیجہ تسلیم کرنے کی بجائے۔۔۔خفیہ ایجنسیوں کے کھاتے میں ڈال کر قادیانیوں کے ایجنڈے کو پروان چڑھا کر راحت محسوس کرتے ہیں:

گلہ جفائے نما کہ حرم کو اہل حرم سے ہے

کسی بت کدے میں بیاں کروں تو کہے صنم بھی ہری ہری

17سالہ طویل جنگ کے بعد امریکی اور نیٹو افواج کی18ماہ میں واپسی ہوگی، یادش بخیر! جب روس افغانستان سے زخموں سے چور چور اور لہولہان ہو کر نکل رہا تھا تو جاتے جاتے وہ اس قدر اسلحہ چھوڑ گیا کہ بعد میں وہ کئی سالوں تک حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کی آپسی جنگ اور پھر طالبان نے امریکہ کے خلاف استعمال کیا۔۔۔ اب امریکہ بہادر نیٹو افواج کے ہمراہ افغانستان سے بچ بچا کر لڑکھڑاتا ہوا اگلے اٹھارہ مہینوں میں نکل رہا ہے تو دیکھتے ہیں کہ نیٹو اسلحہ کب تک، کس، کس کے کام آئے گا؟

اندر کی خبر یہ ہے کہ طالبان کا اِصرار ہے کہ نیٹو یہ سارا اسلحہ ان کے حوالے کر دے یا پھر اپنے ساتھ واپس لے جائے۔۔لیکن اسلحہ واپس لے جانے کا خرچہ اتنا زیادہ ہے کہ لہولہان امریکہ بے چارہ اس کی فگر، سن کر پریشان ہے، خبر یہ ہے کہ حالیہ ملاقات میں جنرل ووٹل نے وہ اسلحہ پاکستان کو فروخت کرنے کیلئے پیش کیا تھا، لیکن اسلام آباد نے اس میں دلچسپی ہی نہیں لی۔

توبہ، توبہ، توبہ جنرل ووٹل کس قدر احمق تھا کہ جو پاکستان کو اسلحہ فروخت کرنا چاہتا تھا۔۔۔ ارے بھائی الحمدللہ پاکستان میں امن بحال ہو چکا ہے، اب پاکستان میں کیا نیٹو اسلحے کا اچار ڈالنا تھا؟ جو اسلحہ امریکہ اور نیٹو فوجیوں کے کام نہ آیا وہ پاکستان کے بھلا کیا کام آسکتا تھا؟

ہاںالبتہ امریکہ اگر اپنا اسلحہ افغانستان میں ہی چھوڑ گیا۔۔۔ تو ممکن ہے کہ وہ اسلحہ افغانستان میں مداخلت کی کوشش کرنے والی کسی بھی تیسری طاقت کے خلاف مستقبل میں کام آجائے؟ ورنہ افغان، بچے تو تباہ شدہ امریکی طیاروںاور بکتر بند گاڑیوں کے کھلونوں سے ہی آج کل کھیل رہے ہیں۔

یہ خاکسار، افغانستان میں امریکہ کی شکست کو جہا دکی کامیابی کا نتیجہ اس لئے قرار دے رہا ہے۔۔۔ کیونکہ امریکہ اور نیٹو افواج کا مقابلہ افغانستان میں جمہوریت کا نعرہ لگانے والے سیاسی ملاؤں سے نہیں، بلکہ ملا محمد عمرؒ کے طالبان سے تھا، اور ساری دنیا کے عقلمند انسان جانتے ہیں کہ 8اکتوبر2001ء میں جب امریکہ افغانستان پرحملہ آور ہوا تھا تو اس وقت افغانستان کے حکمران امیر المؤمنین ملا محمدعمرؒ نے امریکی اور نیٹو جارحیت کے خلاف سیاسی جلسوں، جلوسوں اور مظاہروں کی بجائے۔۔۔ اعلانِ جہاد کیا تھا۔

جب حامد کرزئی نام کے کٹھ پتلی صدر نے امریکی بیساکھیوں پر حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا۔۔۔ تب، ملا محمد عمر کے طالبان نے کرزئی کا دم چھلہ بننے کی بجائے جہادی میدانوں میں ہی امریکیوں کا مقابلہ جاری رکھا، امریکہ اور اس کے حواریوں نے افغان طالبان کو الیکشن کے اکھاڑے میںاتارنے کی بے پناہ کوششیں کیں، بے انتہا جتن کئے، اشرف غنی جیسے مہرے کو بھی آگے کر کے دیکھ لیا،گلبدین حکمت یار کو بھی اشرف غنی کے دستر خوان پر لا بٹھایا۔۔۔ لیکن آفرین ہے طالبان پر، کہ انہوں نے امریکہ کے ہر دامِ فریب کو مسترد کر کے جہادی میدان سجائے رکھے، خوبصورت اور خوب سیرت جوانوں کی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔

کیوں؟ اس لئے کہ طالبان جانتے تھے کہ۔۔۔ الیکشن، مغربی جمہوریت یہ سب شیطان کا پھیلایا ہوا جال ہے، شائد اسی لئے علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ

الیکشن ممبری کونسل صدارت

بنائے خوب آزادی کے پھندے

اٹھا کے پھینک دو باہر گلی میں

نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

امریکہ طالبان کو اپنے میدان(الیکشن) میں لا کر مارنا چاہتا تھا۔۔۔ مگر طالبان نے امریکی اور نیٹو افواج کو جہاد و قتال کے میدان میں لا کر ان کی طاقت کا دھڑن تختہ کر ڈالا۔

چونکہ افغان طالبان نے جہاد و قتال کی عبادت کے ذریعے امریکہ کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا، اس لئے طالبان کی اس عظیم فتح کو جہادو قتال کی عبادت کا خوبصورت نتیجہ ہی قرار دیا جائے گا، اگر کسی کو سیاسی میدان میں ناکامیوں کا سامنا ہے تو اس کا یہ مطلب کہاںنکلتا ہے کہ وہ جہاد اور مجاہدین کی کامیابیوں سے ہی حسد شروع کر دے۔

میرا، ایسے سیاسی بونوں کومشورہ ہے کہ وہ مجاہد طالبان کی عظیم فتح سے حسد کرنے کی بجائے،محنت کریں۔۔۔ کیونکہ دوسروں کی کامیابی سے جلنے والوں کا صرف منہ ہی نہیں بلکہ دل بھی کالا ہوجایا کرتا ہے۔(وما توفیقی الا باللہ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online