Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تہاڑ جیل دہلی میں پاکستانی قیدی اور جیل (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 680 - Naveed Masood Hashmi - Tehiar jail mein Pakistani Qaidi

تہاڑ جیل دہلی میں پاکستانی قیدی اور جیل

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 680)

5 فروری کو جب پورے پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں جلسے‘ جلوس اور مظاہرے ہورہے ہیں ‘ میں اس موقع پر وزیراعظم عمران خان‘ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی‘ انسانی حقوق کی تنظیموں اور محب وطن میڈیا کی توجہ ایک ایسے مسئلے کی طرف مبذول کروانا چاہتاہوں کہ جس کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے اور وہ یہ کہ بھارت کے دارلحکومت دہلی میں قائم بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں ایسے درجنوں بے گنا ہ پاکستانی قید ہیں کہ جن کو بھارتی عدالتوں سے ملنے والی سزائوںکی مدت پوری ہوچکی۔ یہ وہ پاکستانی بچے تھے کہ جو لاعلمی میں سرحد عبور کرگئے۔ بجائے اس کے کہ انہیں واپس پاکستان پہنچایا جاتا ‘ بھارتی فوج نے انہیں انڈیا کی مختلف جیلوں میں قید کر دیا‘ پھر انہیں خطرناک قیدی ظاہر کرکے عدالتوں سے بیس بیس سال کی سزائیں دلوائی گئیں‘ ان پر بے پناہ تشدد ڈھایا گیا‘ عدالتوں سے ملنے والی بیس ‘ بیس سالہ سزائوں کی مدت پوری کرنے کے باوجود بھارت نے انہیں رہا نہیں کیا بلکہ ان میں سے بعض پاکستانی قیدی گزشتہ25 سالوں سے بھارت کی جیلوں میں بے گناہ گل‘ سڑ رہے ہیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔

اطلاعات کے مطابق تہاڑ جیل میں بند ایک قیدی خالد محمود نے جب غلطی سے سرحد پار کی تھی تو اس کی عمر اس وقت صرف15 سال تھی جس کی تصدیق دہلی ہائیکورٹ نے بھی مگر اس کو طویل سزا سنا دی گی وہ اپنی بے گناہ قید کے 25 سال پوری کرچکنے کے باوجود آج بھی تہاڑ جیل میں بھوک ہڑتال کئے ہوئے ہے۔

ان پاکستانی قیدیوں میں خالد محمود کے علاوہ ناصر آفتاب‘ عبد الرحیم تائب‘ محمد عمران‘ حافظ محمد عبداللہ‘ ضیاء الرحمن‘ امجد علی ‘ نذیر احمد‘ غلام نبی کے علاوہ کئی دیگرز کے نام شامل ہیں ‘ ان گرفتار بے گناہ پاکستانی قیدیوں کو ہر دو ماہ بعد جیل تبدیل کرکے تشدد کانشانہ بنایا جاتا ہے‘ انہیں پاکستان میں اپنے گھر والوں کو خط لکھنے کی بھی اجازت نہیںدی جاتی ‘ اگر ان کے گھر والے ڈاک کے ذریعے انہیں کچھ سامان بھیجنا چاہیں تو سامان کا وہ پارسل یہ بہانہ بناکر واپس بھیج دیا جاتاہے کہ قیدی کسی دوسری جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

یوم یکجہتی کشمیر منانا بھی بڑا ضروری ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ تہاڑ جیل دہلی میں قید ان بے گناہ پاکستانیوں کی حمایت میں نہ صرف طاقتور آواز اٹھائیں بلکہ سفارتی طور پر انہیں رہا کروانے کی بھی کوشش کریں پاکستان میں قید بھارتی قیدیوں کو رہا کرنے کے حوالے سے پاکستان نے ہمیشہ فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔

شمشیر سنگھ سے لے کر کشمیر سنگھ تک ثابت شدہ بھارتی جاسوسوں تک کو جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کیا‘ مگر اس کے برعکس بھارت نے پاکستانی قیدیوں کو بے گناہ ہونے کے باوجود کئی کئی دہائیوں تک قید کیے رکھا۔

اب کوئی بھارت سے پوچھے کہ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے قیدی خالد محمود‘ ناصر آفتاب وغیرہ کو سزائیں پوری ہونے کے باوجود قید میں رکھنے کی کیا تک بنتی ہے؟ سوائے اس کے کہ بھارت کی خواہش یہ ہوسکتی ہے کہ ان قیدیوں کو زندہ پاکستان کے حوالے کرنے کی بجائے انہیں مار کر ان کی لاشیں پاکستانی حکام کے حوالے کی جائیں ؟ اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو‘ کیونکہ ان قیدیوں کے ورثاء آج بھی ان کی رہائی کے منتظر ہیں ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ جن کا انتظار کرتے کرتے ان کے والدین قبرستانوں میں جاسوئے۔

یہ وہ پاکستانی قیدی ہیں کہ جن کے حق میں حکومتی یا میڈیا کی سطح پر آج تک کسی نے آواز اٹھانے کی کوشش ہی نہیں کی ‘ بھار ت نے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے بے گناہ ہزاروں کشمیری بوڑھے‘ بچے‘ نوجوان حتیٰ کہ خواتین تک کو گرفتار کررکھاہے‘ کشمیر کے انٹروگیشن سینٹرز اور نجی ٹارچر سیلوںمیں بے گناہ قیدیوں پر بہیمانہ تشدد ڈھایا جاتا ہے‘ اتوار کے دن بھارت کا قاتل وزیراعظم نریندر مودی مقبوضہ کشمیر کے دورے پر پہنچا تو مقبوضہ کشمیر کے عوام نے شٹر ڈائون ہڑتال اور سیاہ جھنڈے لہرا کر اس کا استقبال کیا‘ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کے وزیراعظم پر تھوکنا بھی گوارا نہیں کرتے ‘ کہا جاتا ہے کہ کشمیر پر قابض انتظامیہ نے بزدلی کی انتہا کر تے ہوئے پوری وادی کو فوجی چھائونی میں تبدیل کیے رکھا ‘ قاتل مودی نے یونیورسٹی آف لداخ کا افتتاح اس حالت میں کیا کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل او ر ہر جگہ گشتی فوجی بنکر قائم تھے‘ مقبوضہ کشمیر کے عوام ہوںیا پاکستان کے عوام یہ یک جان دو قالب ہیں  ان کے درمیان محبت کے رشتوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

مقبوضہ کشمیر کے مسلمان چونکہ بھارت سے آزادی کے متمنی ہیں اس لئے پاکستانی قوم ان کی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گی جب تک وہ بھارت کی غلامی کی زنجیریں کاٹ کر آزادی حاصل کر نہیں لیتے ۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ صرف5 فروری کو جلسے جلوسوں تک محدود رہنے کی بجائے حکمران اور پاکستانی میڈیا بقیہ سال بھی اپنا فوکس کشمیر پر قائم رکھے۔

کشمیر میں جاری تحریک جہاد ہو یا بھارت کی جیلوں میں بند پاکستانی قیدی اگر حکمران‘ پاکستانی میڈیا اور پاکستانی قوم انہیں اپنے احتجاج‘ جلسے ‘ جلوسوں اوردعائوں میں یاد رکھے تو دنیا بھی ان کے حالات کی طرف توجہ دینے پر مجبور ہوگی۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا حکمران ‘ادارے اور پاکستانی میڈیا بھارتی جیلوں میں قید بے گناہ پاکستانیوں اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حقوق کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں؟اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو پھر ہر وقت ‘ ہر حال میں ہر قیمت پر دامے‘ درمے‘ سخنے ان کی مدد جاری رکھنی پڑے گی۔

کشمیریوں کی قربانیوں سے وفاداری کا یہ تقاضا ہے کہ بھارت کے مظالم کو عالمی سطح پر بے نقاب کرکے مضبوط سفارت کاری کے ذریعے دنیا کو بھارت کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کی دعوت دی جائے۔

پاکستانی سرزمین پر میڈیا کے ذریعے بھارتی بولی بولنے والے بے لگاموں کو بھی لوہے کی لگام چڑھائی جائے ‘ مقبوضہ کشمیر کا بچہ بچہ بھارتی استبداد سے آزادی چاہتا ہے اور آزادی کے حصول کے لئے وہ سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہے‘ اس موقع پر حکمرانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھارت سے ڈیل کرنے یا اسے ڈھیل دینے کے مشن سے ہاتھ اٹھا کر کشمیری قوم کی کھل کر مدد کریں۔

(وما توفیقی الا باللہ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor