Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

افضل گوروؒ شہادت کا چھٹا سال (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 681 - Naveed Masood Hashmi - Afzal Goru Shahdat ka 6 saal

افضل گوروؒ شہادت کا چھٹا سال

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 681)

اس خاکسار نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا بھارتی چینل کا ایک کلپ دیکھا جس میں بھارتی اینکر کہہ رہا تھا کہ’’جیش محمدﷺ نے افضل گورو کے نام پر فدائی دستے تیار کئے ہیں۔۔ اور جیش محمدﷺ کا’’سرغنہ‘‘ مولاناعبدالرؤف اصغر’’دلی‘‘ کو دہلانے کی دھمکیاں دے رہا تھا‘‘ بھارتی میڈیا کے اس’’واویلے‘‘ میں کتنی سچائی ہے اور کتنا جھوٹ؟ یہ تو میں نہیں جانتا، لیکن مقبوضہ کشمیر میں اگرافضل گورو کے نام پر فدائی دستے تیار ہو رہے ہیں تو بھارتی میڈیا کے پنڈتوں کو چاہئے کہ وہ چیخ و پکار کرنے کی بجائے اس بات پر غور کریں کہ نریندر مودی اور جنرل بپن راوت نے جو بویا ہے وہ کاٹنا تو پڑے گا۔

جس بھارت کا وزیراعظم ہی دہشتگرد ہو، جس بھارت کا آرمی چیف بھی دہشتگرد ہو، جس بھارت کی فوج کئی دہائیوں سے  بے گناہ کشمیری مسلمانوں کا خون بہا رہی ہو۔۔۔ وہاں اگر افضل گورو کے نام پرفدائین تیار نہیں ہوں گے تو اور کیا  اداکار اور گلوکار تیار ہوں گے؟ اگر بھارت میں میڈیا آزاد ہوتا، نریندرمودی اور بھارتی فوج کا غلام نہ ہوتا تو یہ سوال پوری شدت سے اٹھانا اس کی ذمہ داری تھی کہ  تحریک کشمیر کے عظیم راہنما محمد افضل گوروؒ کو9فروری2013ء کی صبح تہاڑ جیل میں پھانسی کیوں دی گئی تھی؟ جب آزادی کا حق مانگنے والوں کو گولیاں مارو گے۔۔۔پھانسیاں دو گے تو پھر اس کا ردعمل تو آئے گا۔

11فروری1984ء؁ کو تحریک آزادیٔ کشمیر کے مرد حر مقبول بٹ شہید کو تہاڑ جیل میں نیو دہلی میں ظالمانہ انداز میں پھانسی دی گئی۔۔۔ اور پھر شہید مقبول بٹؒ کا جسد خاکی بھی اس کے اہلخانہ کے حوالے نہیں کیا گیا۔۔۔ بھارت کی درندگی ملاحظہ کیجئے یہ مقبول بٹ شہیدؒ کو تہاڑ جیل کے اندر ہی دفن کیا گیا، مقبول بٹ شہیدؒ کی پھانسی کے بعد جہاد کشمیر تھمنے کی بجائے مزید تیز ہوگیا۔۔۔ مقبول بٹ شہیدؒ کی پھانسی کے بعد جہاد کشمیر کی تیزی دیکھ کر ہی بھارتی حکمرانوںکو اندازہ ہو جانا چاہئے تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان گولیوں، اور پھانسیوں سے ڈر کر پیچھے ہٹنے والے نہیں۔۔۔ مگر کم ظرف ہندو بنیؤں نے پھر9فروری2013ء؁ کی صبح ایک دفعہ پھر ظلم و ستم کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے جہاد کشمیر کے ممتاز مجاہد افضل گوروؒ کو نہ صرف پھانسی پر لٹکا دیا۔۔۔ بلکہ اس کی’’میت‘‘ بھی اس کے لواحقین کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا، اور افضل گوروؒ کی قبر مبارک آج بھی تہاڑ جیل نمبر2، دہلی میں موجود ہے، افضل گوروؒ کی شہادت  کے چھٹے سال بعد بھارتی میڈیا اگر مقبوضہ کشمیر میں افضل گوروؒ فدائی دستوں کی تیاری کی خبریں دے رہا ہے، تو یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد مسلمان افضل گوروؒ کی شہادت کو آج تک نہیں بھولے، اگر کشمیر کے نوجوان، بوڑھے، بچے، عورتیں اور مرد مقبول بٹؒ اور افضل گوروؒ کی قربانی کو بھولنے کیلئے تیار نہیںہیں تو اس میں چیخ وپکار کی کیا ضرورت ہے؟

زندہ قومیں اپنے شہیدوں کو کبھی بھی نہیں بھولتیں۔۔۔ اور جو قوم اپنے شہیدوں کو بھول جائے اس کا شمار مردہ قوموں میں ہوجایا کرتا ہے۔۔۔ محمد افضل گوروؒ20نومبر1969 ء؁ کو جاگیردو آب گاہ سوپور مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہوئے۔۔۔ آپ کے والد کا نام حبیب اللہ گورو ہے، افضل گوروؒ نے آزادی کشمیر کی جدوجہد1990ء؁ سے شروع کی، کہ جب وہ ایم بی بی ایس کے طالب علم تھے۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ1998ء؁ میں ان کی ملاقات جیش محمدﷺ مقبوضہ کشمیر کے چیف کمانڈر غازی بابا شہیدؒ سے ہوئی، اورپھر و ہ زندگی کی آخری سانسوں تک مقبوضہ کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزادی دلوانے کی خاطر مصروفِ جہاد رہے۔

محمد افضل گوروؒ اعلیٰ تعلیم یافتہ، معاملہ فہم اور انتہائی سمجھدار انسان تھے، وہ کشمیر کے گرد لپٹی ہوئی بھارتی زنجیروںکو کاٹنا چاہتے تھے، وہ دس سال سے زائد عرصہ بھارتی قید میں رہے، دورانِ قید انہوںنے ایک کتاب لکھی، جو ان کی شہادت کے بعد شائع کی گئی، افضل گوروؒ اپنی کتاب’’آئینہ‘‘ کے صفحہ نمبر126 پر رقمطراز ہیں کہ ’’کشمیری قوم کے پاس دو ہی راستے ہیں ، مزاحمت جس کا سرچشمہ قرآن و سنت، رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ کا طریقہ یا پھر ذلت و غلامی کی زندگی۔۔۔۔ جس میں ہماری جان ، ہماری عزت و عصمت، ہمارا مال سب کچھ غیر محفوط ہے۔۔۔ کیونکہ اب گاؤں، گاؤں، گلی، گلی قابض فوج کی حکمرانی قائم ہے۔۔۔ پانی،کھیت، میدان، باغ ہر جگہ بھارتی فوج کا قبضہ ہے۔

بھارت نواز کٹھ پتلی، بے ضمیر  و بے غیرت سیاست دانوں کا خاتمہ ہماری عسکریت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے۔۔۔ ہماری قوم کے لئے سب سے بدترین دشمن یہی کٹھ پتلی سیاست دان ہیں، ایک مضبوط، خود مختار، خود کفیل، خود انحصار اور خود اعتماد  عسکری تحریک کا اُبھرنا اب ناگزیر ہے۔

سرنڈر کرنا یا تحریک سے دستبردار ہونا اب اجتماعی خود کشمی ہوگی، بھارتی سامراجیت کے سامنے ہتھیار ڈالنا اور ہاتھ کھڑے کرنا، اپنی ماں، بہن،بیٹی کو بھارتی فوج کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔

عسکری مزاحمت اب ایسی  عبادت بن چکی ہے جیسے نماز اور روزہ فرض ہے، ’’جہاد‘‘ فوجی انخلاء تک ہمار نعرہ اور ہدف ہونا چاہئے۔۔۔ اقوام متحدہ ایک دجالی ادارہ ہے، جو دین اسلام اورمظلوم و غریب ممالک کے خلاف یہودی و امریکی اور مغربی سامراجیت کا ادارہ ہے‘‘

محمد افضل گوروؒ کی کتاب تحریک آزادی کشمیر کیلئے ایک ایسے حقیقی’’آئینے‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے کہ اگر تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ جڑاہوا ہر کردار اس ’’آئینے‘‘ کو دیکھ کر اپنا لائحہ عمل طے کر لے تو یقین مان لیں کہ آزادی کی منزل اور نزدیک ہو جائے گی،9فروری2013 ء؁ کی صبح6بجکر25منٹ پر پھانسی سے صرف چند لمحے قبل محمد افضل گوروؒ نے جو آخری وصیت تحریر کی، وہ جہاد کشمیر کا بنیادی نصاب ہونا چاہئے، اس مرد قلندرؒ نے پھندے پر جھولنے سے قبل اپنی وصیت میں تحریر کیا تھا:

محترم اہل خانہ اور اہل ایمان، السلام  علیکم،اللہ پاک کا لاکھ شکریہ کہ اس نے مجھے اس مقام کیلئے چنا۔۔۔ باقی میری طرف سے آپ تمام اہل ایمان کو بھی مبارک ہو کہ ہم سب سچائی اور حق کے ساتھ رہے اور حق و سچائی کی خاطر آخرت پر ہمارا اختتام ہوا‘‘

اس آخری وصیت کو پڑھ لینے کے بعد بھارتی سور ماؤں کو عقل آجانی چاہئے  تھی کہ۔۔۔ جس افضل گوروؒ کو انہوں نے پھانسی کے گھاٹ اتار کر۔۔۔ اس کامزار تہاڑ جیل نمبر2میں بنا رکھا ہے، وہ افضل گوروؒ مرا نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے دلوں میں ہمیشہ کیلئے زندہ ہو چکا ہے۔۔۔ کشمیری مجاہد افضل گوروؒ دستے کے فدائی بن کر بھارتی فوج کے لئے اگر وَبال جان بن رہے ہیں تو اس میں کسی دوسرے کا کیا دوش؟

بھارت کو اپنا بویا ہوا، اب کاٹنا تو پڑے گا:

چھو رہے تھے ظالموں کے سر میرے پاؤں کے ساتھ

کس قدر اونچا تھا میں سولی پہ چڑھ جانے کے بعد

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor