Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جیش کہاں ہے؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 683 - Naveed Masood Hashmi - Jaish kahan hay

جیش کہاں ہے؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 683)

اللہ کی ذات سب سے بڑی طاقت ہے،بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مزید سو فوجی کمپنیاں تعینا ت کرنے کا فیصلہ کیا ہے … اگر بھارت آٹھ لاکھ فوجیوں کے ذریعے کشمیریوں کے دلوں سے آزادی کا جذبہ ختم نہیںکرسکا تو ان سو کمپنیوں کی تعیناتی  سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

پلوامہ میں ہونے والے فدائی حملے کی آڑ میں بھارت مگرمچھ کے آنسو بہا کر اگر تحریک کشمیر کو بھلانا یا پاکستانی قوم کو ڈرا کر اس تحریک سے پیچھے ہٹانا چاہتاہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے‘ مقبوضہ کشمیر کا بچہ بچہ طے کرچکا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف اور صرف ’’آزادی‘‘ ہے۔

جب بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے پتھروں کا جواب گولی سے دینے کا آرڈر جاری کیا تھا اس خاکسار نے تب بھی لکھا تھا کہ جنرل بپن نے یہ آرڈر جاری کرکے بھارتی فوج کے خلاف سازش کی ہے … آج ایک دفعہ پھر میں یہ بات لکھنے پر مجبور ہوں کہ بھارت کے شہروں میں کشمیریوں پر ظلم و ستم اور تشدد ڈھاکر نریندر مودی نے سرینگر کی جنگ کو بھارت کے اندر منتقل کرلیا ہے‘ ہر عمل کا ردعمل ہوا کرتا ہے اور جہاں عمل ہو وہیں سے ردعمل کے چشمے پھوٹا کرتے ہیں۔

بھارت اور دیگر عالمی صیہونی طاقتوں کا الزام تھا کہ بہاولپور شہر میں جیش محمدﷺ کا ہیڈ کوارٹر موجود ہے … میں جب بھارت کی یہ چیخ و پکار سنتا تھا تو یہ جھوٹ سن کر میری ہنسی نکل جاتی تھی ‘ اس لئے کہ یہ خاکسار دیگر کالم نگار د وستوں کے ساتھ مدرسۃ الصابر اور جامع مسجد سبحان اللہ کا دورہ کرچکا تھا‘ چند سال قبل پرویز مشرف دور کے وزیر اطلاعات محمد علی دورانی کی ہمراہی میں بھی ان دونوں مقامات کا تفصیلی دورہ کرنے کے بعد محمد علی درانی نے اپنی پریس کانفرنس اور اس خاکسار نے اپنے کالموں میں لکھا تھا کہ مدرسۃ الصابر ہو یا جامع مسجد سبحان اللہ‘ یہاں نہ تو اسلحے کے ڈپو ہیں اور نہ ہی کوئی ٹریننگ سینٹر،بلکہ یہاں صرف تعلیم و تعلم‘ تزکیہ نفس اور قرآن و حدیث کے علوم کی ترویج کی جاتی ہے ‘ گزشتہ دنوں نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے اعلیٰ حکام نے جامع مسجد سبحان اللہ اور مدرسۃ الصابر کا اچانک دورہ کرنے کے بعد وہاں ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا اعلان تو کیا‘ مگر وزارت داخلہ کے ترجمان سے لے کر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری تک نے اس بات کا برملا اعتراف کیا کہ ’’مسجد اور مدرسہ کا تفصیلی وزٹ کرنے پر نہ تو وہاں سے اسلحہ برآمدہوا‘ نہ کوئی ٹریننگ سینٹر پکڑا گیا بلکہ وہاں700 کے لگ بھگ قوم کے بچے زیر تعلیم ہیں … جن کو پڑھانے والے اساتذہ اور انتظامیہ کی تعداد ستر کے لگ بھگ ہے ‘ وزارت داخلہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ اہلیان بہاولپور کی بڑی تعداد اس مدرسہ کے بچوں کی کفالت اپنے صدقات اور عطیات کے ذریعے کرتی ہے‘ اس کے علاوہ ان کو چاول اور گندم وغیرہ عوام فری دیتے ہیں‘‘ اندازہ کیجئے بھارت کی بیوقوفی اور ڈھٹائی کا ‘کہ بہاولپور کے جس مدرسہ اور مسجد کو وہ دنیا بھر میں جیش کا ٹریننگ سینٹر ہونے کا پروپیگنڈہ کرتا رہا وہاں صرف قرآن و حدیث کے علوم  پڑھائے جاتے ہیںاور مسلمانوں کا تزکیہ نفس کیا جاتاہے۔

نریندر مودی کو بہاولپور میں سات سو غریب الدیار طلباء کی تعلیمی کفالت کرنے والا مدرسہ تو دہلی میں نظر آجاتا ہے …مگر مقبوضہ کشمیر کی وہ مرکزی مسجد نظر نہیں آتی کہ جہاں گزشتہ تین روز قبل میر واعظ کے خطاب کے دوران ہزاروں کشمیری والہانہ انداز میں نعرے لگا رہے تھے کہ ’’جیش‘‘ والو قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ پاکستان سے رشتہ کیا ! لا الہ الا اللہ‘ سرینگر میں وہ سڑکیں نظر نہیںآتیں ہیں کہ جن سڑکوں پر سینکڑوں کشمیری نوجوان جمع ہوکر ’’بھارت تیری موت آئی، جیش آئی ‘ جیش آئی‘‘ کے فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے جوانوں کے یہ جذباتی نعرے سن کر ایسے لگتا ہے کہ جیسے ہر کشمیری نوجوان جیش محمدﷺ میں شامل ہو چکا ہے۔

جیش محمدﷺ کو پاکستان میں ڈھونڈنے والے نریندر مودی اور بھارتی میڈیا نے جس دن حقیقت پسندانہ نظروں سے مقبوضہ کشمیر کا جائزہ لینے کی کوشش کی تو انہیں وہاں ہر طرف جیش محمدﷺ کے مجاہدین ہی نظر آئیں گئے، مقبوضہ کشمیر کے جوانوں کا سرینگر کی سڑکوں پر ’’بھارت تیری موت آئی۔۔۔ جیش آئی جیش آئی‘‘ کے نعرے بلند کرنا، مودی کے منہ پر طمانچے کے مترادف ہے۔

یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ مسلمان بھارت، اس کی فوج، اس کی تہذیب، اس کے کلچر پر تھوکنا بھی گوارا نہیں کرتے۔۔۔ جیش محمدﷺ اگر کشمیری بہنوں کی امیدوں کا مرکز و محور بن چکی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کا کوئی ظالمانہ حربہ بھی کشمیریوں کے دلوں سے ’’آزادی‘‘ کا جذبہ ختم نہیں کر سکتا، بھارت کو مولانا محمد مسعود ازہر اور جیش محمدﷺ کی تلاش ہے۔۔۔ دوسری طرف بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بھی کہتا ہے، مگر نریندر مودی، جنرل راوت، سشما سوراج، راجناتھ سنگھ جیسے سومناتی بندروں کو کشمیر کے پہاڑوں اور سڑکوں پر مولانا محمد مسعود ازہر قدم بڑھاؤ۔۔۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں جیسے گونجنے والے فلک شگاف نعرے سنائی نہیں دیتے تو انہیں اپنے کانوں کا علاج کروانا چاہئے۔

جیش محمدﷺ،کشمیر کے پہاڑوں پر ہے۔۔۔جیش محمدﷺ کشمیر کی گلیوں اور بازاروں میں ہے،جیش محمدﷺ کشمیری نوجوانوں کے دلوں میں ہے۔۔۔جیش محمدﷺ، مظلوم کشمیری ماؤں، بہنوں کے آنسوؤں میں ہے۔۔۔ جیش محمدﷺ کشمیر کے ناتواں بوڑھوں کی دعاؤں میں ہے۔۔۔جیش محمدﷺ پہلگام کے جنگلوں میں ہے ۔۔۔ جیش محمدﷺڈل جھیل کے حسن میں ہے۔۔۔جیش محمدﷺ جنت نظیر وادی کے مہکتے ہوئے پھولوں میں ہے،جیش محمدﷺ وادی کشمیر کے حسن کی تصویر ہے۔۔۔جیش محمدﷺ، شہداء کے قبرستانوں کا مکین بننے والوں کے کارناموں میں ہے۔۔۔جیش محمدﷺ، افضل گوروؒ کے دل کی دھڑکنوں میں ہے۔۔۔جیش محمدﷺ عادل ڈار کے بکھرے ہوئے ٹکڑوںمیں ہے۔

ان سارے شواہد اور حقائق کی روشنی میں یہ کہنا بالکل ٹھیک ہے کہ بھارت کا جیش محمدﷺ کے حوالے سے پاکستان پر الزام تراشی کرنا‘ پاکستان کو دباؤ میں لانے کی بھارتی سٹریجڈی کا حصہ ہے … بھارت یہ چاہتا ہے کہ وہ پاکستان میں جس پر ہاتھ رکھے‘ حکومت اسے گرفتار کرکے پھانسی دے دے۔

ماضی کی حکومتوں میں بھارت کو راضی کرنے کے لئے پاکستان میں بلاجواز گرفتاریاں کی جاتی رہیںاور کشمیر کے جہاد سے محبت کرنے والوں پر دہشت گردی کے پرچے کاٹ کر انہیں سالہا سال تک گرفتار ضرور رکھا گیا‘ وزیراعظم عمران خان کا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے یہ کہنا کہ وہ امن کو ایک اور موقع دیں ‘ بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہے۔

’’مودی‘‘ اور امن دو متضاد چیزیں ہیں اگر مودی امن چاہتا  تو اسے چاہیے تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے اپنے فوجی واپس بلالیتا‘ مگر اس نے 100 مزید کمپنیوں کو مقبوضہ کشمیر میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کی عزت ‘ سلامتی اور بقاء نریندر مودی کی منت ترلے میں نہیںبلکہ مظلوم کشمیریوں کے دفاع میں ڈٹ کر کھڑا ہونے میں ہے ‘ کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں ‘ نریندر مودی اور جنرل بپن راوت اپنی حماقتوں کی وجہ سے کشمیر کی جنگ کی چنگاریاں بھارت کے اندر منتقل کرچکے ہیں۔

کل کلاں کو اگر پھر کوئی کشمیری ‘فدائی بن کر بھارتی درندوں پر ٹوٹ پڑتا ہے تو دنیا کو یہ بات باور کروانے کی ضرورت ہے کہ اس میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں ہوگا۔

بھارت کے حکمران‘ فوج اور ہندو شدت پسند ‘کشمیریوں یا دیگر ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ جیساسلوک کریں گے ویسا ہی انہیں جواب بھی ملے گا۔

مقبوضہ کشمیرکے بچے‘ بوڑھے ‘ جوان‘ مردو خواتین چلتی گولیوں میں’’پاکستان‘‘ زندہ باد کے نعرے بلند کرتے ہوئے نہیں ڈرتے‘ اگر مقبوضہ کشمیر کے جوان سنگینوں کے سائے میں بھی بھارت تیری موت آئی! جیش آئی ‘ جیش آئی کے نعرے بلند کرنے سے خوفزدہ نہیں ہوتے‘ اگر کشمیر کی عفت مآب بیٹیاں پیلٹ گنوں سے اپنی آنکھیں زخمی کروا کر بھی ’’آزادی‘‘ کے نعرے سے پیچھے نہیں ہٹتیں ‘تو پھر ہمیں بھارت کی گیدڑ بھبھکیوں سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ مودی سے امن کی بھیک مانگنا ’’امن‘‘ کو داغدار کرنے کے مترادف ہے‘ نریندر مودی ایک ظالم ‘ جابر‘ وحشی‘ قاتل اور دہشت گرد ہے‘ میرے نزدیک ایسے بدنام زمانہ کو ’’انسان‘‘ کہنا بھی انسانیت کی توہین کے مترادف ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor