Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

روزے کی حفاظت اور ماں کی یاد (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 693 - Naveed Masood Hashmi - Roze ki Hifazat

روزے کی حفاظت اور ماں کی یاد

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 693)

ہم اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف ہم نے لوٹ کر جانا ہے۔۔۔ رمضان المبارک کا برکتوں، رحمتوں اورمغفرتوں کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔۔۔ اس ماہ مبارک کی فرضیت، اہمیت اور فضیلت قرآن وسنت سے ثابت ہے۔ خالق کائنات کا ارشاد ہے کہ:

’’ اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسا کہ تم سے پہلوں پر فرض کیا گیا تھا،( اور اس کا مقصد یہ ہے کہ) تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ،( سورۃ بقرہ)

حضرت سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے رمضان المبارک کے روزے محض اللہ تعالیٰ کے واسطے ثواب سمجھ کر رکھے تو اس کے اگلے سب گناہ بخش دیئے جاتے ہیں(بخاری)

ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ’’ابن آدم کے ہر نیک عمل کا اجر و ثواب دس گنا سے لیکر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، لیکن اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ روزہ اس سے مستثنیٰ ہے، اس لئے کہ وہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود(اپنی شان کے مطابق) اس کا بدلہ دوں گا کیونکہ روزہ دار میری خاطر نفسانی خواہشات اور کھانے پینے کو قربان کرتا ہے، روزہ دار کے لئے دو فرحتیں ہیں۔۔۔ ایک فرحت اِفطار کے وقت ملتی ہے۔۔۔ اور دوسری فرحت اپنے رب سے ملاقات کے وقت نصیب ہو گی اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ اور پسندیدہ ہے(صحاح ستہ)

ماہ رمضان شروع ہوتے ہی جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔۔۔ جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں(بخاری و مسلم)

 ایک دوسری حدیث مبارک میں ارشاد نبوی ہے کہ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جو’’باب الریَّان‘‘ کہلاتا ہے۔۔۔ روزہ داروں کو اس طرف بلایا جائے گا(کہ اس دروازے سے داخل ہو جائیں)چنانچہ تمام روزے دار اس سے داخل ہوں گئے۔۔۔ اور جو اس سے داخل ہو گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا( بخاری و مسلم)

خاتم الانبیاءﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے روزہ دار کو روزہ افطار کروایا اسے بھی روزے دار جتناہی اجر ملے گا۔۔۔ لیکن روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہ آئے گی۔۔۔

9رمضان المبارک۱۴۳۹ھ بمطابق25مئی2018ء بروز جمعۃ المبارک میری والدہ محترمہ مغفورہ کا انتقال ہوا تھا۔۔۔ ماں جیسی عظیم ہستی کی وفات اولاد کے لئے سب سے بڑا سانحہ ہوا کرتی ہے اور میری والدہ ماجدہ تو ابر رحمت کی طرح تھیں، شدید علالت کے عالم میں بھی ان کی زبان ذکر اللہ سے غافل نہ ہوئی۔

امی جان کو رمضان المبارک کا انتظار رہتا تھا، رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ان کا تعلق قرآن پاک سے بھی مزید مضبوط ہو جاتا تھا۔۔۔ رمضان المبارک میں دو مرتبہ قرآن پاک کا ختم فرمایا کرتی تھیں۔۔۔ گزشتہ رمضان المبارک کے پہلے دن ہی امی جان پر بیماری نے یلغار کر دی۔۔۔ بخار اور کمزوری کی وجہ سے ہم نے انہیں روزہ نہ رکھوایا۔

افطاری کے دسترخوان پر ہمیں بیٹھا دیکھ کر انتہائی نقاہت بھرے لہجے میں فرمایا، نوید!’’توں مینوں روزہ کیوں نہیںرکھوایا‘‘ یعنی تم نے مجھے روزہ کیوں نہیں رکھوایا، اور پھر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے، اللہ میری والدہ محترمہ کی قبر کو نور سے بھر دے(آمین)سب قارئین سے گزارش ہے کہ ہ میری والدہ محترمہ کے لئے دعائِ مغفرت فرمائیں اللہ آپ کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے گا( ان شاء اللہ)

مطلب یہ کہ اللہ جل شانہ رسول کریمﷺ، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ، تبع تابعین، اولیاء،صلحاء، صوفیاء، اتقیاء، علماء، اکابرین امت، مشاہیر اسلام سے لیکر ہر مسلمان ماں، باپ تک، سب نے ایمان والے انسانوں کو رمضان المبارک کی عظمت و فضیلت سے آگاہی دی، اور یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ رمضان المبارک کا احترام اس کے شایان شان کرنا۔

رمضان المبارک محض انفرادی عبادت کا ہی نام نہیں بلکہ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی درس دیتا ہے،تبھی تو خاتم الانبیاءﷺ روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ روزہ افطار کروانے کی فضیلت بھی بیان فرمائی ہے، روزہ کا لغوی معنی’’رُک جانا‘‘ اصطلاح شریعت میںروزہ نام ہے ، کھانے،پینے اور بیوی کے قریب جانے سے صبح صادق سے لیکر غروب آفتاب تک رکے رہنے کا۔

اگر روزہ زبان کا بھی ہو، کان کا بھی ہو، آنکھ کا بھی ہو، توپھر کیا ہی کہنے؟ رمضان المبارک میں گرمی،گرمی،گرمی کاشور مچا کر روزہ رکھنے سے بچنے کی کوشش کرنے والے ذرا یاد کریںقبر کی اس گرمی اور اندھیرے کو کہ جہاں نہ پنکھا ہو گا، نہ ہوا ہو گی اورنہ روشنی، اگر آج کوئی بدنیتی کی وجہ سے گرمی کا بہانہ بنا کر روزہ نہیں رکھے گا تو قبر میں’’روزہ‘‘ اس کی ڈھال بننے سے انکار کر دے گا۔

روزہ رکھ کر اے سی والے کمرے میں دراز ہو کر ۔۔۔ سارا دن ٹی وی چینلز کی خرافات میں کھوئے رہنا یہ بھی روزے کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔

اللہ کے بندو! روزہ عبادت ہے، کوئی وقت گزارو پالیسی نہیں، روزہ رحمت ہے۔۔۔ کوئی زحمت نہیں، ’’روزہ‘‘ تو دلوں کو پاکیزگی بخشتا ہے، روزہ تو تقویٰ عطا کرتا ہے، روزہ تو انسانی دلوں کو جوڑنے کا سبب بنتا ہے، روزہ تو انسانیت سے پیار اور محبت کا درس دیتا ہے، اس لئے ہم سب کو بحیثیت مسلمان روزہ اس کے تمام لوازمات سمیت رکھنا چاہئے، کچھ لوگ روزے کے لوازمات میں پکوڑے، سموسے، انواع و اقسام کے مشروب، دھلی بھلے، چنا چاٹ، فروٹ چاٹ، وغیرہ وغیرہ حالانکہ روزہ تو ایک کھجور سے بھی افطار کیا اور کروایا جا سکتا ہے، روزے کے اصل لوازمات یہ ہیں کہ جھوٹ بولنے، دھوکا دینے، اور دیگر لغویات سے بچ کر روزے کی حفاظت کی کوشش کی جائے۔

٭……٭……٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor