Bismillah

586

۲۴تا۳۰جمادی الثانی۱۴۳۸ھ       بمطابق  ۲۴تا۳۰مارچ۲۰۱۷ء

مکہ مکرمہ پر میزائل حملہ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 567 - Naveed Masood Hashmi - Makkah Mukarrama per Mizile Hamla

مکہ مکرمہ پر میزائل حملہ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 567)

28 اکتوبر کے دن یمن کے حوثی باغیوںنے مکہ مکرمہ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کرکے یہ بات ایک دفعہ پھر عملاً ثابت کردی... کہ اُن کا مذہبِ اسلام سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے، امام کعبہ اور حرمین شریفین کی نگران کمیٹی کے چیئرمین الشیخ عبدالرحمن السدیس نے مکہ مکرمہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایرانی حمایت یافتہ یمنی باغیوں نے مکہ معظمہ پر میزائل حملہ کرکے وہاں پر موجود مقدس مقامات کو نشانے بنانے اور ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی مذموم کوشش کی ہے‘‘

الشیخ عبدالرحمن السدیس کا کہنا تھا کہ’’ حوثیوںکا یہ اقدام بدترین جُرم، مکہ مکرمہ کے خلاف ننگی جارحیت اور مسلمانوں کے دلوں کی ٹھنڈک خانہ کعبہ کو نشانہ بنانے کی انتہائی ظالمانہ اور گھٹیا کوشش ہے... انہوں نے کہاکہ خانہ کعبہ کی طرف راکٹ پھینکنے والوں کا کوئی دین، کوئی اصول اور مذہب نہیں ہے‘‘ سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے بھی اپنے بیان میں یہ کہا کہ ’’مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کی سازش کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے‘‘

اسلام آباد میں موجود سعودی سفارتخانے کی طرف سے وزارت خارجہ کا بیان جاری کیا گیا ہے... جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب سمجھتا ہے کہ ایران خطے کے لئے مخالفانہ رویہ رکھتا ہے، اور وہ عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے...جس سے عدم استحکام اور کشیدگی پھیل رہی ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ’’ افسوس کا مقام ہے کہ ایران یمن میں بغاوت کے حامیوں کی معاونت کررہا ہے... اور انہیں ہتھیار، دفاعی مہارت اور راکٹ مہیا کررہا ہے۔‘‘

مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کی پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی مذمت کی ہے، جبکہ...اس حملے کے خلاف پاکستانی قوم میں شدید ردعمل پایا جارہا ہے... اور میں سمجھتا ہوں کہ اس میں وہ حق بجانب بھی ہے... اگر مکہ مکرمہ پر داغے جانے والے میزائلوں کے بعد بھی پاکستانی قوم کی آنکھیں نہیں کھلتیں تو پھر شاید کبھی بھی نہ کھل سکیں

ایران کے حمایت یافتہ حوثی دہشت گردوں نے اس مکہ معظمہ کی طرف میزائل داغا ہے کہ جس مکہ کی تعظیم نبی مکرم ﷺ خود بھی کیا کرتے تھے، جس مکہ سے نبی کریم ﷺ کو بے حد محبت تھی... جس مکہ مکرمہ کے امن کے لئے سیدنا ابراہیم علہ السلام نے دعا مانگی تھی (ترجمہ: پروردگار اس شہر کو امن کا گہوارہ بنا دے(البقرہ آیت نمبر126) جس ’’مکہ‘‘ کی فضاؤں اور صحراؤں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پرندوں اور حیوانات کو مکمل امن حاصل ہے،... جس مکہ کے درخت بھی امن و امان کے ساتھ لہراتے ہیں، کیونکہ انہیں کاٹا نہیں جاتا...دیگر علاقوں کی طرح گری پڑی چیز کو یہاں اٹھانا جائز نہیں ہے... نبی مکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ’’مکہ میں سبزہ نہیں کاٹا جائے گا، یہاں کے درخت نہیں کاٹے جائیں گے، یہاں پر شکار کو بھگایا نہیں جائے گا، اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والے کے لئے اٹھانا جائز ہے۔ (متفق علیہ)

نبی کریم ﷺ نے مال، جان اور عزت و آبرو کی حرمت کو مکہ شہر کی حرمت سے تشبیہ دی... کیونکہ اس شہر کی عظمت اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت زیادہ ہے...چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’تمہاری جان، مال اور عزت و آبرو ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے تمہارے آج کے دن کی حرمت اس شہر اور اس مہینے میں ہے‘‘ (متفق علیہ)

ایران کے مجوسیوں کو کوئی بتائے کہ شہر مکہ کے متعلق بُری سوچ رکھنے والوں پر بھی عذاب خداوندی نازل ہوتا ہے، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے کہ ’’جو بھی یہاں ظلم کرتے ہوئے الحاد کا ارادہ کرے گا ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گئے (الحج25) حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’اگر کوئی شخص شہر میں الحاد پیدا کرنے کی منصوبہ بندی ، عدن ابین (یمن کا علاقہ) میں بیٹھ کر بھی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی دردناک عذاب سے دوچار کرے گا۔‘‘

حرمین شریفین پر قبضے کے خواب دیکھنے والے یہودی گماشتے شاید ان ہاتھی والوں کے عبرتناک انجام کو بھول گئے کہ جنہوں نے بیت اللہ پر چڑھائی کی کوشش کی تو اللہ پاک نے انہیں ابابیلوں کے ذریعے کھائے ہوئے بُھس کی مانند بنا دیا

اگر سعودی عرب اور ایران کے حکمرانوں کے درمیان کوئی لڑائی جھگڑا یا نفرت ہے، انہیں چاہئے کہ وہ اسے فی الفور ختم کردیں ، یا آپس کی رنجشوں کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کریں... لیکن اگر ایسا نہ ہوا اور کسی نے حرمین الشریفین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو پھر ایسے شیطان صفت گروہ کے خلاف دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمان جہاد کرنا اپنا فرض منصبی سمجھیں گے، ایرانی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مکہ مکرمہ پر ہونے والے میزائل حملے میں اپنے کردار کے حوالے سے اُٹھنے والے سوالات کا جواب دے

یاد رہے کہ حوثی دہشت گردوں کے مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کے بعد ایران کا نام تنہا سعودی حکومت نے ہی نہیں لیا، بلکہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاہد نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ایرانی حکومت ایک طرف خود کو عالم اسلام کی نمائندہ قرار دیتی ہے... اور دوسری طرف مکہ مکرمہ پر راکٹ برسانے والے یمن کے باغیوں کی مدد کررہی ہے‘‘ جبکہ مصر کی جامعہ الازہر نے بھی ایرانی اور حوثی باغیوں کی شدید مذمت کی ہے۔

اگر صرف سعودی حکومت کی طرف سے مکہ مکرمہ پر ہونے والے حملے میںایران کا نام لیا جاتا تو ممکن ہے کہ اسے ’’پراکسی وار‘‘ قرار دینے کی کوشش کی جاتی، مگر یہاں متحدہ عرب امارات، مصر سمیت تقریباً دنیا کے تمام اسلامی ممالک شاید پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ یمن کے باغیوں کو دراصل ایران کی سپورٹ حاصل ہے، اس لئے عرب ممالک ایران کی کھل کر مذمت بھی کررہے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online