Bismillah

591

۳۰رجب تا۶شعبان ۱۴۳۸ھ        بمطابق       ۲۸اپریل تا۴مئی۲۰۱۷ء

دانش چور اقبالؒ سے چڑتے کیوں ہیں؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 568 - Naveed Masood Hashmi - danish chor iqbal se chirte kion

دانش چور اقبالؒ سے چڑتے کیوں ہیں؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 568)

ن لیگی حکومت سے یہ کریڈٹ اب کوئی نہیں چھین سکتا کہ اس حکومت نے9نومبر علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کے یوم پیدائش پرچھٹی کوختم کر دیا۔۔۔ ن لیگی وزیراعظم میاں نواز شریف چونکہ لبرل ازم کے دعویدار ہیں، اس لئے قوم کو انتظار کرنا چاہئے اس دن کا کہ جب حکومت ’’ہولی‘‘ اور’’دیوالی‘‘ پر قوم کو’’چھٹی‘‘ کا تحفہ دے گی

ویسے بھی اقبالؒ کو شاہین پسند تھا۔۔۔ اسی لئے ان کی شاعری میں کبھی عقاب، کبھی شاہین اور کبھی شاہباز کا ذکر کثرت سے ملتا ہے

علامہ اقبالؒ نے چیونٹی اورعقاب سے مکالمے کا ذکر اپنے اشعار میں یوں کیا ہے، چیونٹی عقاب سے سوال کرتی ہے کہ

میں پائمال و خوار و پریشاں و درد مند

تیرا مقام کیوں ہے ستاروں سے بھی بلند

’’عقاب‘‘ جواب دیتا ہے کہ

تو رزق اپنا ڈھونڈتی ہے خاک راہ میں

میں نہ شہپر کو نہیں لاتا نگاہ میں

بال جبرئل میں حضرت اقبالؒ نے شاہین کو یوں پیش کیا ہے:

خیابانیوں سے ہے پرہیز لازم

ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ

حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں میں

کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ

جھپٹنا ، پلٹنا ، پلٹ کر جھپٹنا

لہو گرم رکھنے کا ہے اِک بہانہ

یہ یورپ، یہ پچھم ، چکوروں کی دنیا

میرا نیلگوں آسماں بے کرانہ

پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں

کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ

علامہ اقبالؒ عجیب ایمانی کیفیات والے شاعر تھے۔۔۔ ان کی شاعری کو جس نے بھی ڈوب کر پڑھا۔۔۔ وہ ان کاگرویدہ ہوتا چلا گیا،’’کرگسوں‘‘ کی نہ جہادیوں سے کبھی بنی اور نہ ہی اقبالؒ سے۔۔۔ اگر کسی کو یقین نہ آئے تو اسے چاہئے کہ وہ’’کرگسی‘‘ صفات کے حامل حسن نثار کے اقبالؒ کے حوالے سے خیالات جاننے کی کوشش کرے تو اسے اندازہ ہو جائے گا کہ اقبالؒ کے’’شاہین‘‘ سے اس دور کے ’’کرگس‘‘ کتنے خوفزدہ رہتے ہیں، شائد اسی لئے اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ:

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گبند پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

آج جب میں جہاد دشمن، غیرت دشمن اور اسلام مخالف’’کرگسوں‘‘ کو ٹی وی چینلز پر چھایا ہوا دیکھتا ہوں، جاوید غامدی سے لیکر عامر لیاقت اورحسن نثاروں سے لیکر چکوال کے بال ٹھاکرے تک نجانے اقبالؒ کے اس’’پیغام‘‘ پر کان دھرنے کو تیار کیوں نہیں ہیں؟

آتی ہے دم صبح صدا عرش بریں سے

کھویا گیا کس طرح تیرا جوہر ادراک

کس طرح ہوا کند تیرا نشتر تحقیق

ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک

مہر و مہ و انجم نہیں محکوم تیرے کیوں

کیوں تیری نگاہوں سے لرزتے نہیں افلاک

افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو

دیکھے نہ تیری آنکھ نے فطرت کے اشارات

تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے  ازل سے

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

اقبالؒ کی شاعری پڑھ کر موجودہ دور کے’’دانشور‘‘ ،’’فتنہ گر‘‘ کالم نگار،’’قلم فروش،’’تجزیہ نگار‘‘، ’’نظریات‘‘ فروش لگتے ہیں، اور ان سے نفرت سی محسوس ہونے لگتی ہے،یہ کبھی امریکہ کے طفیلی بنتے ہیں، کبھی لندن، فرانس اور بھارت کی تہذیب کے گماشتے، جبکہ اقبالؒ تو وہ تھے کہ جو سچے عاشق رسولﷺ تھے۔

وہ دانائے سبل، ختم رُسُل، مولائے کل

 جس نے غبار ِراہ کو بخشا، فروغ وادیٔ سینا

علامہ اقبالؒ، رسولﷺ کا امتی ہونے پر فخرمحسوس کیا کرتے تھے، وہ انگلستان کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم رہنے اور مغرب کی رنگین و سنگین فضاؤںمیں رہنے کے باوجود نہ محبت رسولﷺ بھولے، اور نہ اسلامی تہذیب اورطیبہ کی خاک کو بھلا پائے چنانچہ فرماتے ہیں کہ:

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش افرنگ

سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی

نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحر خیزی

آئیے آج کے’’قلم تلوار‘‘ کا اختتام اقبالؒ کے ان اشعار پر کرتے ہیں:

خیر تو ساقی سہی لیکن پلائے گا کسے

اب نہ وہ میکش رہی باقی نہ میخانے رہے

رو رہی ہے آج اک ٹوٹی ہوئی مینا اسے

کل تلک گردش میں جس ساقی کے پیمانے رہے

آج ہیں خاموش وہ دشت جنوں پرورجہاں

رقص میں لیلیٰ رہی نہ لیلیٰ کے دیوانے رہے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online