Bismillah

591

۳۰رجب تا۶شعبان ۱۴۳۸ھ        بمطابق       ۲۸اپریل تا۴مئی۲۰۱۷ء

سندھ اسمبلی کاکالا قانون (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 570 - Naveed Masood Hashmi - Sindh Assembly ka Kala Qanoon

 سندھ اسمبلی کاکالا قانون

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 570)

سندھ اسمبلی نے اقلیتوں کے تحفظ کے بل کے نام پر اکثریتی مسلمانوں کے حقوق کو پامال کرڈالا، سندھ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے جاگیردار، وڈیرے، نواب اور رسہ گیر یہ بات بھول گئے کہ موجودہ سندھ محمد بن قاسمؒ اور اس کے پیروکاروں کا ہے۔۔۔راجہ داھر کا نہیں

کراچی سے لیکر پشاور اور گلگت بلتستان سے لیکر مکران تک کے مسلمان اس وقت پریشانی سے سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ جب انہوں نے سنا کہ سندھ اسمبلی نے ہندو نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے۔۔۔جبری تبدیلی مذہب کا بہانہ بنا کر’’اسلام‘‘ کی اشاعت کو روکنے کا قانون منظور کر کے شہداء پاکستان کی روحوں کو تڑپا کر رکھ دیا۔۔۔ مسلمانوں کو تحفظ ختم نبوت کے قانون کا تحفہ دینے والے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی پیپلز پارٹی اس حد تک نیم مردہ، لاغر اور ناتواں ثابت ہو کرہنود اور صہیونی طاقتوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گی یہ تو کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔

سندھ اسمبلی کے منظور کردہ کالے قانون کے مطابق’’ 18سال سے کم عمر افراد کا اسلام قبول کرنا معتبر نہیں ہو گا۔۔۔ اور18سال سے زائد عمر کا شخص اگر اسلام قبول کرے گا، تو مذہب تبدیل کرنے کے بعد اسے21دن تک سیف ہاؤس میں مقید رکھا جائیگا، زبردستی مذہب تبدیل کرانے یعنی کلمہ طیبہ پڑھانے اور شادی کرانے یعنی نکاح خواں کے لئے7سال اور سہولت کار کو5سال سزا دی جائے گی‘‘

اگر سندھ اسمبلی میں کوئی ایک بھی صاحب بصیرت یا روشن ضمیر ہوتا تو اسے چاہئے تھا کہ وہ۔۔۔ سب سے پہلے یہ سوال اٹھاتا کہ صوبہ سندھ میں آج تک کتنے غیر مسلموں کو زبردستی تبدیلی مذہب پر مجبور کیا گیا؟ پہلے ان کے نام میڈیا کے سامنے لائیں جائیں۔۔۔ کوئی ایک بھی نہیں۔۔۔69سالوں میں کسی ایک بھی غیر مسلم مرد یا عورت کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔۔۔ لیکن چونکہ بلاول زرداری خود کو عالمی صہیونی طاقتوں کے سامنے قابل قبول بنانا چاہتے ہیں

بلاول زرداری کو’’بھٹو‘‘ بنا کر سیاسی اکھاڑے میں اتارنے والے جانتے ہیں کہ صوبہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔۔۔ گزشتہ9سالوں سے مسلسل سندھ کی حکمرانی کے باوجود۔۔۔ کراچی سمیت پورے سندھ کی سڑکیں اورمیدان کھنڈرات کے مناظرپیش کر رہے ہیں۔۔۔ اس لئے ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں سندھ بھی۔۔۔ ہاتھوں سے نکل جائے۔۔۔ لہٰذا اسلام آباد کے اقتدار تک رسائی کا مختصر ترین راستہ یہی ہے کہ اکثریتی مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ زنی کر کے’’اقلیتوں‘‘ کے تحفظ نام پر’’کالے ‘‘ قوانین کو پروان چڑھایا جائے۔۔۔ ورنہ سندھ اسمبلی کے جاگیر دار، وڈیرے اور نواب کیا اس تاریخی حقیقت سے ناواقف ہیں کہ بچوںمیں سب سے پہلے جنہوں نے کلمہ پڑھا تھا۔۔۔ ان کا نام نامی اسم گرامی حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہے

سندھ اسمبلی کے دوغلے پن کی انتہا دیکھئے کہ اس اسمبلی کے ’’ناخدا‘‘ آزادی اظہار کا تو دعویٰ کرتے ہیں مگر ’’کالے قوانین‘‘ بنا کر آزادی مذہب کے خلاف سازشیں کرتے ہوئے نہیں شرماتے۔۔۔ روئیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن کا یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ’’سندھ اسمبلی کا بل آرٹیکل31کے بھی خلاف ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کو قرآن وحدیث پر عمل پیرا ہونے کے لیے موافق حالات فراہم کئے جائیں۔۔۔ مذکورہ بل کے ذریعے موافق حالات کجا، الٹا اپنی خوشی سے اسلام قبول کرنے والوں پرپابندیاں لگائی جارہی ہیں۔۔۔‘‘

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کہتے ہیں کہ ’’سندھ اسمبلی نے اقلیتوں کے حقوق کے عنوان سے بل منظور کیا ہے، جس کی رو سے غیر مسلموں کے اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے اسلام لانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔۔۔ اور اسے قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے، یہ قانون شریعت اسلامیہ اورعدل و انصاف کے تمام تقاضوں کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔۔۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ قرآن کریم کی رو سے اگر کوئی سمجھدار بچہ جو دین و مذہب کوسمجھتا ہو، اسلام لے آئے تو اس کے ساتھ مسلمانوں والا سلوک اہم ہے۔۔۔ نیز اسلامی شریعت کی رو سے بچہ پندرہ سال کی عمر میں بلکہ بعض اوقات اس سے پہلے بھی بالغ ہو سکتا ہے۔۔۔ ایسی صورت میں اسے اسلام قبول کرنے سے تین سال تک روکنا سراسر ظلم اور بدترین زیادتی کے مترادف ہے، انہوں نے کہا کہ اٹھارہ سال کے بعد بھی اسلام قبول کرنے کیلئے21دن مہلت دینا بھی ناقابل فہم ہے۔۔۔ مولانا تقی عثمانی نے سوال اٹھایا کہ اگر دو میاں، بیوی اسلام قبول کر لیں تو کیا ان کے بچے18سال کی عمر تک غیر مسلم ہی تصور کئے جائیں گے، کیونکہ اس عمر سے پہلے تو اسلام قبول کرنے کی اجازت نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں تمام مسلمانوں، دینی مدارس اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ محض غیر مسلموں کو خوش کرنے والے اس شرمناک قانون کو منسوخ کروانے کیلئے اپنی صلاحیتیں استعمال کر کے دینی فریضہ ادا کریں‘‘۔۔۔

ایک ہندو رکن اسمبلی کے پیش کردہ اس شرمناک بل کو منظور کر نے سے پہلے پیپلز پارٹی کی سندھ اسمبلی نے اس بات پر غور تو کیا ہوتا کہ’’مذہب کی جبری تبدیلی‘‘ تو محض’’را‘‘ فنڈڈ این جی اوز کا وہ جھوٹا پروپیگنڈا ہے کہ۔۔۔ جس کا مقصد ایک اسلامی نظریاتی مملکت کے چہرے کو مسخ کر کے دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔۔۔ کراچی اور سندھ میں’’را‘‘ کے اثر و رسوخ سے کون ہوش مند منکر ہو سکتا ہے۔۔۔ آج تک اندرون سندھ جتنی بھی ہندو لڑکیوں نے اسلام قبول کر کے مسلمانوں کے ساتھ شادیاں کیں۔۔۔ ان میں سے بعض بچیوں کو ان کے والدین،ہندو کمیونٹی اور میڈیا کے بے پناہ دباؤ کی وجہ سے کبھی ہائیکوٹ اور کبھی سپریم کورٹ کے کٹہرے میں بھی کھڑا کیا گیا

مگر ان نو مسلم بچیوں نے سپریم کورٹ کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر چیف جسٹس کے سامنے یہ بیانات ریکارڈ کروائے کہ’’انہوں نے اپنی خوشی، برضاء و رغبت اسلام قبول کیا ہے‘‘۔۔۔ یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ ان نو مسلم بچیوں نے عدالتوں میں پیش ہو کر یہ بھی کہا کہ ان کے والدین، عزیز و اقارب اور ہندو کمیونٹی کے لوگوں سے تو ان کی جانوںکو خطرات لاحق ہیں۔۔۔ مگر کسی مسلمان سے انہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، اندرون سندھ بعض ایسی غیر مسلم بچیوں نے بھی اسلام کو پڑھ اور سمجھ کر قبول کیا کہ جو ڈاکٹرزتھیں، اسلام قبول کرنے والوںمیں ایسی خواتین بھی شامل ہیں کہ جو ٹیچرز کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں

میرا وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سمیت سندھ اسمبلی اور لادین میڈیا کے پنڈتوں کو کھلا چیلنج ہے کہ وہ سندھ کے شہروں سے لیکر گاؤں،گوٹھوں تک سے کوئی ایک ایسا واقعہ تلاش کر کے قوم کے سامنے ثبوتوں کے ساتھ پیش کریں کہ جس میں اسلام قبول کرنے والے کسی مرد یا عورت نے کسی عدالت، تھانے یا صحافتی فورم پر یہ بیان ریکارڈ کروایا ہو کہ اسے زور، زبردستی کر کے یا ڈرا کر اور لالچ دیکر اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا؟ جب کوئی ایک بھی نہیں۔۔ توپھر’’مذہب کی جبری تبدیلی‘‘ کی خودساختہ اصطلاح جاری کر کے اسلام کی اشاعت کو روکنے کیلئے’’کالے ‘‘ قوانین کو بنانا اسلام دشمنی نہیں تو پھر اور کیا ہے؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online