Bismillah

586

۲۴تا۳۰جمادی الثانی۱۴۳۸ھ       بمطابق  ۲۴تا۳۰مارچ۲۰۱۷ء

راولا کوٹ کے شیطان رُشدی (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 571 - Naveed Masood Hashmi - Rawlakot k Shaitan Rushdi

 راولا کوٹ کے شیطان رُشدی

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 571)

مجاہد آباد راولاکوٹ میں منعقد ہونے والی کل جماعتی غزوۂ ہند کانفرنس میں شرکت کیلئے راولاکوٹ پہنچا تو جہادِ کشمیر کے سرگرم رہنما مفتی مسعود الیاس نے راولاکوٹ میں’’فتنہ دہریت‘‘ سے منسلک مٹھی بھر گروہ کی شیطانی حرکتوں کے بارے میں آگاہ کیا، میرے لئے یہ نئی بات تھی کہ’’دہریہ‘‘ فتنے سے تعلق رکھنے والا شیطانی گروہ۔۔۔ اس حد تک بدمعاشی اور غنڈہ گردی پر اُتر چکا ہے کہ۔۔۔ اب اسی نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے حوالے سے گستاخانہ سوالات گھڑ کر24سوالات پر مشتمل ایک پمفلٹ مسلمانوں کی مساجد میں پھینکنے شروع کر دیئے۔۔۔ مجاہد آباد کی مسجد کے خطیب مولانا اتفاق حسین نے ’’دہریوں‘‘ کا وہ گستاخانہ پمفلٹ مجھے دیا۔۔۔ تو سچی بات ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔۔۔ اورمیرے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ’’ہم ایک سلمان رشدی ملعون پر لعنت بھیجتے تھے۔۔۔ راولاکوٹ میں تو شیطان ’’رشدیوں‘‘ کے پورے گروہ نے’’دہریت‘‘ کے فتنے میں پناہ ڈھونڈ لی ہے‘‘

میرے لئے خوشی کی بات یہ تھی کہ راولاکوٹ کے علماء، تمام مذہبی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور انجمن تاجران کے قائدین’’دہریت‘‘ کے اس موذی فتنے کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کر رہے تھے، مقامی روزنامہ’’پرل ویو‘‘ کے ایڈیٹر شفقت ضیاء صاحب کہ جنہوں نے پُرتکلف کھانے کے اہتمام کے ساتھ ساتھ اپنے اخبار کے دفتر میں مقامی صحافیوں کو اس خاکسار کی گفتگو سننے کیلئے جمع کر رکھا تھا،نے مجھے بتایا کہ دہریت کے اس’’فتنے‘‘ کا اصل لیڈر شوکت علی کشمیری نامی بھگوڑا ہے، جو کچھ عرصہ پہلے یہاں سے فرار ہو کر اپنے غیر ملکی اصل آقاؤں کے پاس پہنچ گیا تھا، اسلام آباد کے ایک اور سینئر صحافی دوست راجہ بشارت سے جب میں نے اس’’فتنے‘‘ کے حوالے سے بات کی تو انہوں نے معلومات میںمزید اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ شوکت علی انڈیا کا ایوارڈ یافتہ اور’’را‘‘ فنڈڈ ہے۔۔۔ اپنے انہیں کرتوتوں کی وجہ سے پاکستانی سیکورٹی اداروں کو مطلوب بھی۔۔۔ اس پر ایک دوسرے صحافی حنیف لودھی نے تڑکا لگاتے ہوئے کہا کہ شوکت علی کے’’دہریہ‘‘ گروپ کے خیالات و نظریات پاکستان اور اسلام کے حوالے سے نہایت متفق ہیں، اس گروہ سے منسلک کارندے فیس بک پر بھی مذہب اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کے حوالے سے گستاخانہ مواد اپلوڈ کرتے رہتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اس فتنہ پرور گروہ کو انڈیا کے ساتھ ساتھ گورے کی بھی مکمل اشیرباد حاصل ہے۔

یہ سب سن کر مجھے ایسا لگا کہ ایک اسلامی نظریاتی اور ایٹمی ملک میں رہتے ہوئے بھی جیسے ہم مسلمان ریت کے صحرا میں کڑک دھوپ میں کھڑے ہیں۔۔۔ آخر ہر قسم کے موذی فتنوں نے پاکستان کو ہی منتخب کیوں کر رکھا ہے؟

ذرا سوچئے کہ اگر۔۔۔ کوئی مسلمان عیسائیوں یا ہندوؤں کی مقدس شخصیات کے حوالے سے گستاخانہ پمفلٹ بنا کر گرجوں یا مندروں میں پھینک دیتا تو اب تک پاکستان میں کیا کچھ نہ ہو چکا ہوتا؟ الیکڑانک میڈیا سے لیکر حکمرانوں اور سیاست دانوں تک ہر کوئی اسلام اور مذہبی جماعتوں پر چڑھائی کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتاہے، مگر راولا کوٹ کے ’’دہریوں‘‘ نے بدترین فتنہ بازی کا ثبوت دیتے ہوئے اللہ، رسولﷺ، قرآن اور صحابہ کرامؓ کے حوالے سے پمفلٹوں اور خطوط کے ذریعے، اور سوشل میڈیا پر گستاخیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر رکھا ہے،جس کی وجہ سے صرف راولاکوٹ ہی نہیں بلکہ پورے آزاد کشمیر کے مسلمانوں میں انتہائی بے چینی کی سی کیفیت نظر آرہی ہے،2دسمبر جمعہ کے دن راولاکوٹ کے صابر شہید اسٹیڈیم میں تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کے زیر اہتمام’’فتنہ دھریت‘‘ سے منسلک گروہ کی طرف سے کی جانے والے توہین رسالت، توہین قرآن اور توہین صحابہؓ کے خلاف کئے جانے والے شدید ترین احتجاجی مظاہرے کو اس خاکسار نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس احتجاج میں دینی، مذہبی، سیاسی ، تنظیموں کے علاوہ ٹریڈ یونینز، انجمن تاجران اور ٹرانسپورٹروں کے علاوہ شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کر کے راولاکوٹ انتظامیہ اور حکومت آزاد کشمیر کو انتباہ کیا کہ ایک مٹھی بھر دہریہ گروہ انتہائی منظم سازش کے تحت توہین خدا، توہین مصطفیٰﷺ ، توہین صحابہؓ کا مرتکب ہو کر آزاد کشمیرمیں نفرتوں کی آگ بھڑکا رہا ہے۔۔۔ مگر حکمران اس موذی گروہ سے مسلسل صرف نظر برت رہے ہیں، اگر غیر ملکی فنڈڈ اس مٹھی بھر گروہ کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہ کیا گیا تو حالات کی خرابی کی ذمہ داری حکومت آزاد کشمیر پر عائد ہو گی۔

میں ہوٹل کی چھت پر کھڑا تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کے اسٹیج پر موجود محبت رسولﷺ سے سرشار روشن خیال، روشن ضمیر چہروں کو دیکھ رہا تھا، ان میں داڑھیوں،پگڑیوں اور ٹوپیوںوالے بھی تھے اور کلین شیو، ننگے سروالے بھی۔۔۔ وہ سب دیوانہ وار انداز میں’’اسلام‘‘ زندہ باد،’’دہریت‘‘ مردہ باد کے نعرے بلند کر رہے تھے، وہ سارے فرقہ واریت کے بتوں کو پاش پاش کر کے ناموس رسالت کے تحفظ کیلئے’’فتنہ دہریت‘‘ کے خلاف متحد ہوئے تھے۔

مجھے محبت رسولﷺ سے سرشار یہ ہزاروں دیوانے اور پروانے بہت بھلے لگ رہے تھے، یہ سب وہ تھے کہ جواپنے طور پر اور اپنے اپنے خرچے پر یہاں جمع ہو کر’’دہریوں‘‘ کی شیطانی حرکتوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔۔۔ اور میں راولاکوٹ کے مسلمانوں کے غصے اور شدید جذبات کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ۔۔۔ کشمیر کے بارڈروں پر بھارتی فوج گولہ باری کررہی ہے، مقبوضہ کشمیر میں پچھلے چار ماہ سے کرفیو لگا ہوا ہے۔۔۔ جبکہ بیس کیمپ آزاد کشمیر میں’’دہریئے‘ نفرتوں کی آگ کو بھڑکا رہے ہیں۔۔۔۔ یہ سارا سلسلہ کہیں ایک ہی تو نہیں ہے؟

مفتی مسعود الیاس اور سینئر صحافی شفقت ضیاء بھی میرے ان خیالات کی تائید کرتے ہوئے نظر آئے، ان کا کہنا تھا کہ شوکت کشمیری کی طرح یہ چند درجن’’دہرئیے‘‘ بھی لندن، برسلز، اور امریکہ کی گود میں جانے اور وہاں کی نیشنلٹی حاصل کرنے کیلئے۔۔۔۔یہ سب شیطانی حرکتیں کر رہے ہیں۔۔۔مگر راولاکوٹ کی انتظامیہ اتنی اندھی، گونگی، بہری کیوں بنی بیٹھی ہے کہ جواب تک ان گستاخ فتنہ پروروں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے تیار نہیں ہے؟ میرے نزدیک کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔۔ یا کشمیر بنے گا’’خود مختار‘‘ محض ایک سیاسی اور فروعی اختلاف ہے، جس پر مذاکرات بھی ہو سکتے ہیں اورمکالمہ بھی، اور یہ دونوں قسم کے افراد قابل احترام بھی ہیں اور محب وطن بھی، لیکن توہین خدا، توہین قرآن ، توہین رسالتؐ اور توہین صحابہؓ کا ارتکاب کرنے والے خناس اور بے غیرت ہیں۔۔۔ کہ جنہیں ایک مہذب معاشرے میں کھلے عام پھرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سوال یہ بھی ہے کہ آخر بہار بگٹی اور شوکت کشمیری جیسے بدبخت اور غدار’’قانون‘‘ والوں کی نظروںسے بچ کر ملک سے فرار ہونے میں کیسے کامیاب ہو جاتے ہیں؟ انہیں انٹر پول کے ذریعے ملک میں واپس لا کر مثالی سزائیں دے دی جائیں تو پاکستان سے بہت سے فتنے خودبخود ختم ہو جائیں گئے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online