Bismillah

581

 ۱۹تا۲۵جمادی الاولیٰ۱۴۳۸ھ   ۱۷ تا۲۳فروری۲۰۱۷ء

محمدﷺ کا روضہ قریب آرہا ہے! (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 572 - Naveed Masood Hashmi - Muhammad ka Roza Qareeb Aa Raha hay

 محمدﷺ کا روضہ قریب آرہا ہے!

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 572)

ہماری بنیاد کلمہ ہے، ہماری اصلیت پیغمبر امن عالمﷺ کی غلامی ہے۔۔۔ ہمیں ایک نہ ایک دن اپنی’’اصل‘‘ کی طرف لوٹنا پڑے گا۔۔۔ خاتم النبینﷺ کی چوکھٹ کو چھوڑ کر۔۔۔ یہود و ہنود اور نصاریٰ کے ملکوں سے’’سکون‘‘ اور’’امن‘‘ تلاش کرنے والے احمقوں کو کوئی بتائے کہ’’سکون اورامن‘‘ کا راز تو صرف اور صرف محمد کریمﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے میں ہی پوشیدہ ہے۔

حضور ﷺ کی چوکھٹ کو چھوڑ کر دھکے،رسوائیاں اور ذلتیں تو ملیں گی مگر نہ عزت ملے گی، نہ سکون ملے گا اورنہ ہی امن ملے گا۔

کوئی انسانیت کو پہچاننا چاہتاہے، اگر کوئی خواتین کے حقوق کی پہچان چاہتا ہے، اگر کوئی ماں،باپ کا احترام سیکھنا چاہتا ہے، اگر کوئی’’انسانی حقوق‘‘ کو منوانا چاہتا ہے۔۔۔ اگر کوئی استاد اور شاگرد کے درمیان تعلق کی پہچان چاہتاہے۔۔۔ اگر کوئی کفر و شرک کی ذلت سے نکلنا چاہتا ہے۔۔۔ اگر کوئی ظلم و جہالت کے اندھیروں سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔۔۔اگر کوئی’’لادینیت‘‘ کے بتوں کو گرانا چاہتا ہے؟ اگر کوئی چھینا چھپٹی اور لوٹ کھسوٹ سے عاجز آچکا ہے۔۔۔اگر کوئی حرص وہوا، لالچ اور ہوس پرستی کے ’’قطب میناروں‘‘ سے بچنا چاہتا ہے۔۔۔ اگرکوئی ضعیفوں اور کمزوروں کو ظالموں کے ظلم سے بچاناچاہتا ہے،اگر کوئی معاشرے کو قبائلی نسل پرستی، اورلسانی عصبیت کے بدبودار نعروں سے بچانا چاہتا ہے، اگر کوئی ’’فرقہ واریت‘‘ کے جنونیوں کو راہ راست پر لانا چاہتا ہے۔۔۔ اگر کوئی اپنے معاشرے کے بچوں کو تعلیم یافتہ اور تہذیب آموختہ بنانا چاہتاہے۔۔۔۔ اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ ’’ڈاکٹر‘‘ قصائی نہ بنے،’’انجینئر‘‘ ٹارگٹ کلر نہ بنے، ’’ملاں‘‘صرف حلوائی نہ بنے، حکمران غیروں کے غلام نہ بنیں، تاجر اپنی ہی قوم کی کھال نہ اتارے،’’خطیب‘‘ زبان کو قینچی بنا کر امت کو پارہ پارہ نہ کرے، ’’مولوی‘‘ پیٹ پالنے کی خاطر’’حق‘‘ کو نہ چھپائے۔۔۔

وطن عزیز سے بے حیائی، فحاشی ،بے غیرتی،جھوٹ، چغل خوری اور بددیانتی کا خاتمہ ہو، اگر کوئی چاہتا ہے کہ ٹی وی ’’اینکر‘‘ گورے اور کالے کافروں کا’’کنٹینر‘‘ نہ بنے، یعنی ان کی تہذیب، کلچر، بودو باش اور تعلیمات کو ہم پر مسلط نہ کرے، کوئی ’’اینکرنی‘‘ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف’’ماسی مُصیبتے‘‘ کا کردار ادا نہ کرے۔۔۔ اگر کوئی حقیقی تبدیلی کا خواہاں ہے، اگر کوئی دلوں کو قرآن وسنت کے’’نور‘‘ سے منور کرناچاہتا ہے تو پھر آقا و مولیٰﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنا پڑے گا،’’اسلام‘‘ سے ہٹ کر کچھ بھی نہیں۔۔۔ نہ کوئی نظام اور نہ ہی کوئی عقیدہ اور مذہب، میں تمام ادیان کااحترام کرتا ہوں۔۔۔ مگرمجھے مر مٹنے کی حد تک محبت اللہ کے سب سے پسندیدہ دین اسلام سے ہے۔

’’اسلام‘‘ میں سب کچھ ہے،’’اسلام‘‘ نہیں تو کچھ نہیں۔۔۔ ہمیں اپنے دلوں میں محبت رسولﷺ کو بھی اجاگر رکھنا ہے، کیوںکہ محبت رسولﷺ ہی کامیابی کی ضمانت ہے اور محبت کا سب سے ادنیٰ تقاضہ ہے کہ ان کے فرامین مقدسہ کو حرف آخر سمجھ کر ان کی پیروی کی جائے

میلاد النبیﷺ کے نام پر ہندوؤں کی طرز پر جشن منانے والوں کو کوئی بتائے کہ سب سے پہلے’’میلاد‘‘ منانے والوں میں ابو لہب بھی شامل تھا۔۔۔ مگر اس کا دل محبت رسولﷺ سے خالی اور زندگی اطاعت رسولﷺ سے عاری رہی، جس کی وجہ سے وہ راندہ درگار ٹھہرا۔

حضور اکرمﷺ کی آمد کی جسے خوشی نہیں وہ شیطان ہے، اور’’آمد مصطفیٰﷺ‘‘ کے نام پر جو رسومات، بدعات، خرافات اور جہالت کو پروان چڑھاتا ہے۔۔۔ وہ بھی شیطان ہی کا پیروکار کہلائے گا،میرا پیغمبرﷺ تو عظیم تر ہے، اور عظیم بھی اس قدر کہ انﷺ کا ہر بول انمول اور قول بے مثل ہے، بلکہ آپﷺ فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے ’’جوامع الکلم‘‘ سے نوازا۔۔۔ ’’جوامع الکلم‘‘ کا مطلب ہے کہ الفاظ مختصر ہوں، مگر ان میں معانی و مطالب کا ایک اتھاہ سمندر موجزن ہو

سن لو! کان کھول کے سن لو! قیامت کی صبح تک صدیق اکبرؓ، فاروق اعظمؓ، عثمان ذی النورینؓ، حیدر کرارؓ، حسنؓ و حسینؓ، معاویہ بن ابی سفیانؓ سے بڑھ کر سچا عاشق رسولﷺ اور ان سے بڑھ کر محبت رسولﷺ کا خوگر کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا،

ولادت مصطفیٰ ﷺ کے دن کو انہوں نے کس طرح سے منایا؟ اسے ہر حال میں پیش نظر رکھنا پڑے گا، صحابہ کرامؓ کی مقدس جماعت تو محبت رسولﷺ میں اپنی جانیں نچھاور کر گئی۔۔۔ اور حلوے، مانڈے والی’’ملاں مافیا‘‘ محبت رسولﷺ اور جشن میلاد کے عنوان پر اپنے پیٹوں اور گردنوں کو موٹا کرنے میں لگی ہوئی ہے۔۔۔ رسومات، بدعات اور خرافات کی نشاندہی کرنا’’فرقہ واریت‘‘ نہیں، بلکہ دینی معاملات پر رسومات اور بدعات کا غلاف چڑھانایہ’’فرقہ واریت‘‘ ہے۔۔۔۔ اور میں اصلاح کی نیت سے سے اپنے’’قلم‘‘ کو بدعات، رسومات اور خرافات کے خلاف’’تلوار‘‘ بنائے رکھوں گا( ان شاء اللہ)

سیدنا زید تو عشق رسولﷺ میں پھانسی چڑھ گئے، سیدنا خبیبؓ تو عشق مصطفیؓ میںتختہ دار پرجھول گئے۔۔۔ اور جب کافروں نے ان دونوں سے پوچھا کہ’’تمہارا‘‘ دل تو کرتا ہوگا کہ آج تمہاری جگہ پر محمد(ﷺ) ہوتے اور انہیں سولی پر لٹکایا جاتا(نعوذ باللہ) تو ان عشاق مصطفیٰﷺ کا جواب تھا کہ’’اللہ کی قسم،ہمیں تو یہ بھی پسند نہیں کہ ہمارے بدلے میں ان کے پاؤں مبارک میں کانٹا بھی چبھے‘‘۔۔۔ صحابہؓ تو عشق مصطفیٰؓ کا سودا ذہنوں میں سمائے۔۔۔ میدان بدر میں اترے، میدان احد میں نکلے، انہوں نے خندق کی کھائیوں کو اپنے لہو سے سیراب کیا۔۔۔ خیبر میں یہودیوں کو عبرتناک انجام سے دو چار کیا، عشق رسولﷺ کی دولت سے مالا مال صحابہؓ نے تو مکہ فتح کر کے وہاں اسلام کے پرچم کو لہرایا

اور آج کل کہ یہ ’’عاشق‘‘ کہاں سے در آئے ہیں کہ جو حضورﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کیلئے تیار تو نہیں ہے، حضورﷺ کے جہاد کو تونہیں مانتے۔۔۔ ہاںالبتہ، وہ سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں جھنڈیاں ضرور لگاتے ہیں، راستے بند کر کے عوام کو تو مشکلات میں ڈالتے ہیں، مگر رنگین پہاڑیاں ضرور سجاتے ہیں، وہ جو پڑھا کرتا تھا کہ

محمد ﷺ کا روضہ قریب آ رہا ہے

بلندی پہ اپنا نصیب آ رہا ہے

اور کبھی بڑے سوز و گداز کے ساتھ

میرا دل بدل دے ، میرا دل بدل دے

گناہ و حرص والا دل بدل دے

بدل دے میرا رستہ بدل دے

روتے ہوئے پڑھا کرتا تھا۔۔ وہ جنید جمشید حویلیاں میں طیارے کے ایک حادثے میں شہادت کے منصب پر فائز ہوا تو۔۔۔ کفن چور شیطان کا ایک مخصوص گروہ سوشل میڈیا پر اس سچے عاشق رسولﷺ کے خلاف گٹر کے کیڑوں کی طرح اُبل پڑا۔۔۔۔

اگر ہم غازی ممتاز قادری شہید کے لادین مخالفوں کو اپنے’’قلم‘‘ کی طاقت سے ناک آؤٹ کر سکتے ہیں تو داعی اسلام جنید جمشید شہید کے مخالف کفن چور’’مسخروں‘‘ کے مکروہ چہروں کو بھی عوام کے سامنے بے نقاب کر سکتے ہیں، ان شاء اللہ

کدھر ہیں وہ نیشنل پلان والے؟ کہاں ہیں وہ سائبر کرائمز بل پاس کرنے والے؟ کیا ایک سچے عاشق رسولﷺ کے خلاف گھٹیا کمپیئن چلانا فرقہ واریت نہیں ہے؟ کیا سوشل میڈیا کے ذریعے جنید جمشید جیسے داعی اسلام کے خلاف ہفوات بکنا سائبر کرائم کے زمرے میں نہیں آتا؟

میں انہیں کہتا ہوں کہ’’بس‘‘ کردو’’بس‘‘ بہت ہو گیا، دھرتی ظلم سے بھر چکی ہے۔۔۔ اگر’’ظلم‘‘ دھرتی کے کناروں سے چھلکنا شروع ہو گیا تو پھر ہر طرف آگ، دھوئیں اور کھنڈرات کے مناظر چھا جائیںگے۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online