Bismillah

581

 ۱۹تا۲۵جمادی الاولیٰ۱۴۳۸ھ   ۱۷ تا۲۳فروری۲۰۱۷ء

’’حلب‘‘ میں ایرانی، اسدی اور روسی شیطانوں کی درندگی (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 573 - Naveed Masood Hashmi - Halab

’’حلب‘‘ میں ایرانی، اسدی اور روسی شیطانوں کی درندگی

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 573)

کیاعالم اسلام مر چکا؟ دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان اور7ارب کے لگ بھگ انسانوں سے’ ’ انسانیت‘‘ ختم ہو گئی؟ رب کی دھرتی سے اِنصاف بالکل ہی مفقود ہو گیا؟ اگر نہیں توپھر شام کے تاریخی شہر’’حلب‘‘ میں ایرانی حزب اللہ اور بشار الاسد کے درندے روسی فضائیہ کے تعاون سے جو شیطانی کھیل کھیل رہے ہیں وہ کیسے ممکن ہوا؟ افسوس صد افسوس مسلمان۔۔۔۔ مسلمان نہ رہے، مسلمان ملکوں کے حکمران امریکی، صہیونی غلام بن گئے، ورنہ اگر ان میں ضمیر، غیرت، حمیت ہوتی تو ایرانی اور اسدی شیطانوں کو نشان عبرت بنایا جا سکتا تھا

جہاد سے دوری اور دنیا کی محبت نے مسلمانوں کے دلوں کو زنگ آلود کر ڈالا، اگر ’’امت مسلمہ‘‘ جہاد کی دعوت پہ آچکی ہوتی تو شائد ہمیں آج یہ سیاہ دن نہ دیکھنا پڑتے

رپورٹ آئی ہے کہ ’’حلب‘‘ اسدی فوج اور ایرانی حزب اللہ کے شیطانوں کی بپا کردہ قیامت صغریٰ کے متاثرہ باشندوں نے مسلم علماء کی انٹرنیشنل آرگنائزیشن کو فتویٰ بھیجا ہے جس میں ان سے اپنی خواتین کو اسدی فورسز اور ایرانی ملیشیا کے ہاتھوں درندگی کا نشانہ بننے سے محفوظ رکھنے کی خاطر قتل کرنے کا فتویٰ طلب کیا ہے

وہ’’حلب‘‘ کہ جو سیدنا عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کے11صوبوں میں سے ایک تھا، اس’’حلب‘‘ میں روس نے خوفناک بمباری کر کے اسدی اور ایرانی ملیشیاء کی جیت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی،روس نے خوفناک بمباری کے ذریعے سینکڑوں بچوں اور عورتوں کو شہید کر ڈالا

’’حلب‘‘نے تو ایرانی اور اسدی شیطانوں کو لوہے کے چنے چبواڈالے تھے۔۔۔’’حلب‘‘ کے ’’ شیروں‘‘ نے تو قربانی و استقامت کی ایسی ایسی لازوال مثالیں قائم کی تھیں کہ’’شیطانی فورسز‘‘ کو دانتوں تلے پسینہ آگیا۔۔۔ حلب کے شیر دل مجاہدین نے ایرانی اور اسدی فرقہ پرست شیطانوں کا مقابلہ 5برسوں تک جاری رکھا

ان5برسوں میں کیا امریکہ، کیا ایران، اور کیا روس، کس کس نے ان کے خلاف سازشیں نہیں کی ہوں گی؟ مگر وہ نہتے ہونے کے باوجود ڈٹے رہے، فرقہ پرست شیطانوں اور ان کے ہمنواؤں سے لڑتے رہے، مجھے یقین ہے کہ سب شیطانوں نے مل کر ان چند ہزار’’ سرفروشوں‘‘ پر کامیابی پائی ہے۔۔۔ وہ ان شاء اللہ عارضی ثابت ہو گی

 اور وہ دن ضرور آئے گا کہ جب اس ’’شیطانی اتحاد ثلاثہ‘‘ سے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب ضرور لیا جائے گا، ایرانی ملیشیا، اسدی فورسز اور روسی درندگی نے ثابت کر دیا کہ نہ ان میں’’انسانیت‘‘ ہے اور نہ ہی شرافت۔۔۔ بلکہ ان کے ناپاک وجود ’’خباثتوں‘‘ سے بھرے ہوئے ہیں۔۔۔ حلب میں اتحاد ثلاثہ کے شیطانوں نے اتنا ظلم کیا ہے کہ حلب کے معصوم بچوں کے آنسو بھی خشک ہو چکے ہیں، معصوم بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں ڈھیروں کی شکل میں جا بجا بکھرے ہوئی ہیں۔۔۔ میں نے ایک بچے کی تصویر دیکھی کہ جو آٹھ، دس لاشوں کے درمیان خون میں لت پت تڑپ رہا ہے، اس بچے کی عمر شائد5یا چھ سال کی ہوگی

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک خط کا کچھ حصہ آپ بھی پڑھ لیجئے۔۔۔ حلب کی بیٹی لکھتی ہے کہ ’’میں ان خواتین میں سے ایک ہوں جنہیں چند لمحوں بعد زیادتی کا نشانہ بنایا جائے گا۔۔۔ کیونکہ اب ہمارے اور ان درندوں کے بیچ کوئی ہتھیار یا’’مرد‘‘ نہیں بچے، ہمارے سب مرد لڑتے لڑتے شہید ہو چکے ہیں

مجھے آپ لوگوں سے کچھ بھی نہیں چاہئے۔۔۔ حتیٰ کہ میں آپ سے دعا بھی نہیں چاہتی، کیونکہ میں ابھی اس قابل ہوں کہ بول سکوں۔۔۔۔ اور میرے خیال میں میری دعا آپ کے الفاظ سے زیادہ سچی ہے۔۔۔ میں خود کشی کرنے جارہی ہوں۔۔۔ اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ تم مجھے’’جہنمی‘‘ کہو۔۔۔ لیکن یہ خود کشی میں بغیر کسی وجہ کے نہیں کر رہی۔۔۔ بلکہ میں اس لئے جان دے رہی ہوں کہ بشاری اور ایرانی فورسز کے درندے میری عصمت سے کھلواڑ نہ کر سکیں

یوم قیامت حلب میں بپا ہو چکا، اور میں جانتی ہوں کہ آپ سب میرے جہنم میں داخلہ پر متفق ہوں گے۔۔۔ لیکن مجھے اس کی کوئی پرواہ اس لئے نہیں کیونکہ جب آپ یہ پڑھ رہے ہوں گے۔۔۔ میں پاکدامنی کے ساتھ مر چکی ہوں گی‘‘

’’حلب‘‘ کے شہریوں پر مظالم، اور ان مظالم پر عالم اسلام کی مجرمانہ خاموشی اس کھلی حقیقت کو واضح کر رہی ہے کہ غیروں کی غلامی نے اسلامی حمیت سے حکمرانوں کے وجود خالی کر دیئے۔۔۔ یہ دیکھنے میں اسلامی ملکوں کے حکمران ہیں۔۔۔ مگر اندے سے بالکل خالی اور ان بے جان بتوں کی طرح کہ۔۔۔ جو اپنی ناک پر بیٹھنے والی مکھی اڑانے کی سکت بھی نہیں رکھتے۔۔۔ گزشتہ سال اس بات کا بڑا شور تھا کہ سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی ممالک کی افواج کا مشترکہ فوجی اتحاد قائم ہوا ہے کہ جو ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کے راستے میں مزاحم ہو گا۔۔۔اسلامی ممالک کے اس مشترکہ فوجی اتحاد کا کیا بنا؟ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو سکی، اگر وہ اتحاد کہیں پہ ہے تو اسے لاشوں سے اٹا ہوا حلب نظر کیوں نہیں آتا؟ افسوس صد افسوس۔۔۔ او آئی سی سمیت اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے عالم اسلام کو سوائے مایوسیوں کے کچھ اور نہیں دیا، عالم اسلام کے ان بے جان بت نما حکمرانوں سے کوئی توقع بھی نہیں ہے

امت مسلمہ پر آج بڑا سخت وقت آیا ہوا ہے، افغانستان، عراق، شام، یمن میں امریکہ اور دیگرصہیونی طاقتوں نے آگ کے جو شعلے بھڑکائے تھے۔۔۔ وہ شعلے، اب پاکستان، ترکی، لبنان اور سعودی عرب کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا چاہتے ہیں

مگر حکمرانوں اور سیاست دانوں کو ابھی یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی، وہ ابھی بھی

بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

کے عادی بنے ہوئے ہیں، افسوس صد افسوس کہ حلب میں فرقہ پرستوں نے ظلم و ستم کی تمام حدیں پار کر لیں، مگر پاکستان کی وزارت خارجہ نے ان مظلوموں کے حق میں سنگل کالم بیان دینا بھی گوارا نہ کیا

’’حلب‘‘ کے مسلمانوں کے یہ دن بھی گزر ہی جائیں گے، لیکن ان پرہونے والے بے پناہ مظالم پر خاموش رہنے والے رب کے حضور کیا جواب دیں گے؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online