Bismillah

602

۲۵شوال المکرم تا۱ذیقعدہ ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۱تا۲۷جولائی۲۰۱۷ء

لاہور سے حلب تک۔آہیں،سسکیاں اور آنسو! (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 576 - Naveed Masood Hashmi - Lahore se Halb tak

 لاہور سے حلب تک۔آہیں،سسکیاں اور آنسو!

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 576)

لاہور کے جناح ہسپتال میں قصور کی زہرہ بی بی ٹھنڈے فرش پر بغیر علاج کے ہی ایڑیاں رگر رگڑ کر مر گئی۔۔۔ اسلام آباد کے ایک جج کے گھر میں دس سالہ طیبہ پر کیا جانے والا خوفناک تشدد۔۔۔ سپریم کورٹ کے کٹہرے میں’’شریف‘‘ حکمرانوں کے زیر بحث بیرون ملک فلیٹس و دیگر اثاثے۔۔۔ وزارت صحت کا یہ انکشاف کہ اسلام آباد، راولپنڈی سمیت ملک کے پانچ شہروں کے تعلیمی اداروں کا سروے کروایا گیا تو پتہ چلا کہ۔۔۔ صرف یونیورسٹیوں، کالجز میں ہی نہیں۔۔۔بلکہ منشیات کی لعنت اسکولوں تک پہنچ چکی ہے۔۔۔ صرف طلباء ہی نہیں۔۔۔ بلکہ طالبات بھی۔۔۔ چرس، ہیروئن، شراب اور کوکین کی عادی بنتی چلی جارہی ہیں۔۔۔ یہ سارے واقعات اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ مغربی طرز کا جمہوری نظام ایسے ہی جرائم کی پرورش کرتا ہے۔۔۔ نہ پانامہ کے ہنگامے میں کوئی’’جہادی‘‘ ملوث ہے،نہ ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کا تعلق کسی مذہبی فرقہ واریت سے ہے۔۔۔ نہ طیبہ جیسی لاکھوں بچیوں اور بچوں کو علم سے محروم رکھ کر گھریلو غلام بنانے میں کوئی مدرسہ ملوث ہے۔۔۔ اور نہ ہی تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات کو منشیات کاعادی بنانے میں کوئی مولوی شامل ہے۔۔۔ ان سارے مظالم کو مغربی جمہوریت کا حسن قرار دے دیا جا ئے تو بے جا نہ ہوگا۔۔۔ یہ نظام اور اس ’’نظام‘‘ کے ’’پاسداران‘‘ قوم کو اسلامی نظام کی طرف جانے ہی اس لئے نہیںدینا چاہتے۔۔۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جس دن پاکستان میں اسلامی نظام عملاً نافذ ہو گیا۔۔۔ وہ دن ان کی لوٹ مار، مالی و اخلاقی کرپشن اور عیاشیوں کا آخری دن ہوگا، پاکستان بڑا پیارا ملک ہے۔۔۔میری قوم دنیا کی عظیم قوم ہے۔۔۔ لیکن اس ملک اور قوم کو کرپشن کی سونڈیوں نے اجاڑ ڈالا ہے، پاکستان کو’’مذہب اسلام‘‘ سے جدا کرنے کی کوششیں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔۔۔ نئی نئی سازشیں جنم لے رہی ہیں۔۔۔ مکارصہیونی طاقتیں اور ان کے عیار پاکستانی ایجنٹ پاکستان کی نئی نسل کو لہو ولعب، رقص و موسیقی اور ہیروئن و شراب کے نشے میں دھت کر کے ان کے حیاء و ایمان پر ڈاکہ مارناچاہتے ہیں۔۔۔ ان صہیونی ہتھکنڈوں سے بچنے کا طریقہ صرف ایک ہی ہے۔۔۔ کہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوطی کے ساتھ مذہب اسلام کے دامن کے ساتھ وابستہ ہو جائیں۔۔۔ علماء حق،مدارس و مساجد اور جہاد اور دیگر عبادات کے حوالے محبت پہلے سے بھی دو چند ہو جانی چاہئے۔۔۔ جو ظلم دیکھ کر جہادجیسی عبادت سے پھر جائے۔۔۔ گرفتاری سے ڈرکر نظریات کا سودا کر لے۔۔۔ یا ڈالروں کی خاطر امریکی ،برطانوی این جی اوز کا مہرہ بن جائے۔۔۔ ایسے’’بونوں‘‘ کے شر سے بچنا بھی ضروری ہے

اب آتے ہیں بھارت کی طرف۔۔۔ بھارت کی سرزمین مسلمانوں کے لئے’’قید خانہ‘‘ بنتی جاری ہے، سینکڑوں کم سن بچیاں اور خواتین ہندو بھیڑیوں کے ہاتھوں بے عزت ہو کر اپنی جان گنوا بیٹھی ہیں۔۔۔یا پھر ہمیشہ کیلئے اپاہج بن جاتی ہیں، اس سلسلے کا تازہ ترین واقعہ بھارت کے شہر بنگلور میں پیش آیا کہ جہاں ایک برقع پوش مسلم خاتون کی آبروریزی میں ناکامی کے بعد۔۔۔ درندہ صفت ہندو بدمعاشوں نے اس کے ہونٹ اور زبان کاٹ ڈالی۔۔۔بھارت کے انتہا پسند ہندو دھرتی کا بوجھ بن چکے ہیں۔۔۔ ان دہشتگردوں کا علاج صرف جہاد ہی سے ممکن ہے۔۔۔ اللہ جزائے خیر دے مولانا محمد مسعود ازہر کو کہ جنہوںنے مشکل ترین حالات میں بھی۔۔۔ ’’جہاد‘‘ کے دیپ جلا رکھے ہیں۔۔۔ اور انڈیا کے ظالم حکمرانوں اور دہشت گرد بھارتی فوجیوں کے دلوں پر مولانا مسعود ازہر خوف بن کر مسلط ہیں۔۔۔ بھارت مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف سازشوں میںرات دن لگا ہوا ہے، لیکن ابھی تک اسے ناکامی کا سامنا ہے، اگر اللہ کی مدد شامل حال رہی تو دنیا اسی طرح گاہے، بگاہے بھارتی طاقت کے بتوں کوپاش پاش ہوتا دیکھے گی۔ ان شاء اللہ

طاقت کے بھارتی مراکز سے دھواں اٹھتا ہی رہے گا، تا آنکہ، کہ بھارت ٹکڑوںمیں تبدیل نہ ہو جائے۔۔۔ امت مسلمہ خوش ہے کہ۔۔۔ آخر کوئی تو ہے کہ جس کا خوف ہندو انتہا پسندوں کو نفسیاتی مریض بنا رہا ہے۔۔۔ سب کو گھڑے کی مچھلی سمجھنے والا ذلیل’’مودی‘‘ آخر کسی کے نام سے تو ڈرتا ہے۔۔۔ پوری پاکستانی قوم کو چاہئے کہ وہ مولانا محمد مسعود ازہر کی حفاظت کے لئے دعاؤں کا اہتمام کرے۔

ایرانی اور اسدی دہشت گردوں کے ہاتھوں’’حلب‘‘ کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے بے پناہ مظالم نے تڑپا کررکھ دیا ہے، اس حوالے سے انڈیا کی ایک شاعرہ نے ’’حلب کی زخمی تنہا بچی‘‘ کے عنوان سے جو شاعری کی ہے۔۔ اس کے چند اشعار لکھ رہا ہوں۔۔۔ شائد کسی کے آنسوؤں سے تر دعا حلب والوں کے حق میں قبول ہو جائے

حلب کی زخمی تنہا بچی کہتی ہے کہ

میں اکیلی ہی کیوں رہی زندہ

مجھ کو ان کے ساتھ ہی مرنا تھا

بجھ گئے آنسوؤں سے کیوں شعلے

ان کو کچھ دیر اور جلنا تھا

خاک و خون میں تلاش کر لیتی

امی، ابا سے کاش مل لیتی

بھائی بہنوں سے پیار کر لیتی

گھر کے ملبے تلے دفن ہیں سب

مجھ کو دنیا میں چھوڑ کر امی

جا بسی ہو بہار جنت میں

سرخ جوڑا پہن لیا میں نے

اب تو مجھ کو بلاؤ جنت میں

مجھ کو اپنے خدا سے ملنا تھا

اپنے رب کو بتاؤں گی جا کر

خون ارزاں ہوا ہے دنیا میں

جسم جلتے ہیں بے گناہوں کے

آج چیخیں سنائی دیتی ہیں

میں نے دیکھی ہیں عصمتیں لٹتی

بنتِ حوا کا سینہ چھلنی ہے

سوئی امت مگر نہیں اٹھتی

گودیں ماؤں کی ہو گئیں سونی

زخمی زخمی ہیں پھول سے چہرے

کچھ کو گودیوں میں مار ڈالا ہے

کچھ پر اب بھی ہیں ہزار پہرے

آج ایوبیؒ کو آنا تھا

وہ حلب سے ہماری کچھ بہنیں

معتصم کو صدائیں دیتی ہیں

کون سنتا ہے آج امت میں

کس کی آخر دہائی دیتی ہیں

آج دیکھو حسینؓ کی بیٹیاں

اپنا سب کچھ ہار بیٹھی ہیں

آج دیکھو بلکتی بہنوں کو

اپنے پرکھوں کی لاج کی خاطر

کیسے ناموس کی حفاظت میں

جان دیتی ہیں اسلام کی خاطر

سرزمین حلب کی وہ بہنیں

آج نوحہ کناں ہیں امت پر

آج تاریخ بھی ہوئی حیراں

بزدلی ہے عظیم امت پر

اس سے بدتر کچھ نہ ہونا تھا

بھوک سے تلملا رہ۔ بچے

گوشت مردوں کا کھا رہے بچے

کون ان کی مدد کو آئے گا

تجھ کو یا رب! بلا رہے بچے

پھول کچلے گئے ہیں گلشن میں

خون کب تک بہے گا آنگن میں

میں اکیلی ہی کیوں رہی زندہ

مجھ کو ان کے ساتھ ہی مرنا تھا

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online