Bismillah

606

۲۵ذیقعدہ تا۱ذی الحجہ۱۴۳۸ھ  بمطابق    ۱۸تا۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

محترم امام کعبہ سے ملاقات کا ایک منظر (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 589 - Naveed Masood Hashmi - Imam e Kaba se Mulaqat ka aik Manzar

 محترم امام کعبہ سے ملاقات کا ایک منظر

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 589)

اِمام کعبہ پاکستان میں ہوں اور دل ان کی زیارت اورملاقات کیلئے مچل اُٹھے تو اس قابل فہم بات کو یہ کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا کہ’’دل تو پاگل ہے‘‘، خود ہی مچلتے مچلتے ٹھہر جائے گا۔۔۔ اضاخیل نوشہرہ میں جمعیت علمائِ اسلام کے عالمی صد سالہ اجتماع میں شرکت کے بعد دوسرے روز امام کعبہ الشیخ صالح محمدبن طالب اسلام آباد تشریف لا چکے تھے۔۔۔ اسلام آباد کی ہوائیں اور فضائیں اپنے معزز مہمان کی آمد پر مسکراہٹیں بکھیر رہی تھیں۔۔۔ میں ابھی حضرت امام کعبہ سے ملاقات کی منصوبہ بندی کر ہی رہا تھا کہ موبائل کی گھنٹی بج اٹھی۔۔۔ سعودی سفارت خانے کی طرف سے مجھے بتایا گیا کہ رات8بجے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں امام کعبہ کے ساتھ ڈنر میں آپ شریک ہوں گے۔۔۔ یہ فون سننے کے بعد میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ آخر میرے مولیٰ کریم کو پاگل دل پر رحم آہی گیا۔۔۔ رات پونے آٹھ بجے کے لگ بھگ مقررہ ہوٹل میں پہنچا تو مہمان تو بہت سے تشریف فرما تھے۔۔۔ مگر ’’پاگل‘‘ دل جن کی زیارت کے لئے مچل رہا تھا۔۔۔ وہ عظیم ہستی ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔

اور پھر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں امام کعبہ الشیخ صالح محمد بن طالب اسلام آباد میں سعودی سفارتخانے کے اعلیٰ افسروں اور کمانڈوز کے حصار میں تشریف لاتے ہوئے نظر آئے۔۔۔ مگر یہ کیا وہ ہال میں آنے کی بجائے۔۔۔ ہوٹل کے لان کی طرف بڑھ گئے۔۔۔ بتایا گیا کہ پہلے عشاء کی نماز ہو گی۔۔۔ اور پھر ہال میں پروگرام ہو گا، یوں عشاء کی نماز امام کعبہ حفظہ اللہ کے پیچھے پڑھنے کی سعادت حاصل ہوگئی، پھر امام کعبہ الشیخ صالح محمد بن طالب سے صرف مصافحہ ہی نہیں بلکہ اللہ نے معانقے کی سعادت بھی عطاء فرما دی۔۔۔ جیسے ہی معانقہ ہوا۔۔۔ مچلتے ہوئے دل کو جیسے قرار سا آگیا ہو۔

وہاںپاکستان بھر کے ممتاز علماء اور معروف صحافی بھی موجود تھے۔۔۔ اس موقع پر محترم و مکرم امام کعبہ نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ’’ دہشت گردی مسلمانوں کے خلاف ہو رہی ہے، لیکن اس کا الزام بھی انہیں ہی دیا جاتا ہے۔۔۔ عالم اسلام راہنمائی کیلئے سعودی عرب اور پاکستان کی طرف دیکھتا ہے۔۔۔ دشمن مسلمانوں کو تقسیم کرنا چاہتا ہے۔۔۔ اس لئے اتحاد و اتفاق وقت کی ضرورت ہے، علماء کرام نے ہمیشہ انسانی فلاح وبہبود کے لئے کام کیا، اب بھی وہ اپنا قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے عالم اسلام کو بحرانوں سے نکالیں‘‘۔

یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جب جب بھی امام کعبہ یا امام مسجد نبویؐ پاکستان تشریف لائے۔۔۔ توپاکستان کے مسلمانوں نے ان پر محبتیں نچھاور کرنے کا حق ادا کر دیا۔۔۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم مقامات مقدسہ، ان کے خادمین اورائمہ سے ٹوٹ کر محبت کرتی ہے۔۔۔ محترم و مکرم امام کعبہ سے پاکستان کے مسلمانوں کا تعلق کوئی زور زبردستی ، سیاسی یا مالی مفادات کا تعلق نہیں۔۔۔ بلکہ روحانیت پر مبنی ہے۔

روحانی رشتہ ہی د نیا کے تمام رشتوں سے زیادہ مضبوط ہوا کرتا ہے۔۔۔ امام کعبہ الشیخ صالح محمد بن طالب پشاور ایئر پورٹ پر اُترے، اضاخیل نوشہرہ میں خطاب کیا، پھر گورنرKPKکے پروگرام میں شریک ہوئے، اسلام آباد میں، صدر، وزیراعظم، وفاق المدارس کے وفد، صحافیوں کے وفد سے ملاقاتوں کے علاوہ عصر کی نماز پارلیمنٹ کی مسجد میں پڑھائی، جبکہ مغرب کی نمازفیصل مسجد میں پڑھانے کے بعد عشاء کی نماز کی امامت اسلام آباد کے ہوٹل ہی کے لان میں فرمائی، محترم امام کعبہ حفظہ اللہ جہاں بھی گئے، جس پروگرام میں بھی شرکت کی، جس سے بھی گفتگو کی، انہوں نے ہر جگہ، ہر ایک کواتحاد و اتفاق کے ساتھ رہنے کی دعوت دی۔

امت مسلمہ کومتحد کرنے کا پیغام عام کیا،مسلمانوں کے سلگتے ہوئے مسائل کا حل اسلام سے تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔۔۔ ہر خاص و عام کو پیغام دیا کہ مسلمانوں کی کامیابی کا دارومدار اسوہ رسولﷺ پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔۔۔ امریکی پٹاری کے جو دانش فروش ٹی وی چینلز کے ذریعے یہ پروپیگنڈا کرتے نہیں تھکتے کہ پاکستان لبرل، سیکولر ملک ہے، یا یہ کہ پاکستان کے مسلمان لبرل اور سیکولر ملک بنانا چاہتے ہیں۔۔۔ ہاں البتہ ’’مولوی‘‘ زور زبردستی سے پاکستان کو مذہبی ریاست بنانا چاہتے ہیں، کیا وہ یہ بات نہیں جانتے کہ پاکستان کے عوام دین اسلام اورشعائر اسلام سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔۔۔ ’’امام کعبہ‘‘ کے پیچھے نماز کی ادائیگی کیلئے انتہائی شارٹ نوٹس پر۔۔۔ دور دراز کے سفر طے کر کے عوام کا مقررہ مقامات پر پہنچ جانا کیا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ پاکستان کے عوام کو’’امام کعبہ‘‘ سے کس قدر پیار ہے؟

اگر امام کعبہ سے اتنا پیار ہے تو اس قوم کی بیت اللہ کے ساتھ عقیدت و محبت کا عالم کیا ہوگا؟

سعودی عرب کی طرف بڑھتے ہوئے خطرات کو دیکھ کر جب پاکستان کے عوام بے چینی کا اظہار کرتے ہیں تو فرقہ پرور مائینڈ سیٹ رکھنے والے خرکار!اسے’’پروکسی وار‘‘ سے تشبیہ دیتے ہیں۔۔۔ حالانکہ سعودی عرب پر منڈلاتے ہوئے خطرات کے بادل کودیکھ کرپاکستانی قوم کا فکر مند ہونا ایک فطری امر ہے۔۔۔ سعودی عرب میںموجود حرمین الشریفین دین اسلام کے مرکز و محورہیں۔۔۔ حرمین الشریفین سے محبت کرنا ہر مسلمان کا ایمانی حق ہے۔

اورحرمین شریفین کی حفاظت کیلئے کٹ مرناہر مسلمان عین ایمان سمجھتا ہے،ہوٹل کے پروگرام میں اس خاکسار نے یہ منظرپہلی مرتبہ دیکھا کہ سعودی عرب کے سفارت خانے کے قائم مقام سفیر جناب الشیخ مروان بن رضوان محترم امام کعبہ کا پاکستانی مہمانوں سے ذاتی دلچسپی لے کر تعارف اور ملاقاتیں کرواتے رہے۔۔۔ قائم مقام سعودی سفیر الشیخ مروان بن رضوان بن مرداد کا پاکستانیوں کے ساتھ گھلنے، ملنے کا یہ عمل انتہائی دو ررس نتائج مرتب کر سکتا ہے،کیونکہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ امام کعبہ یا حرمین الشریفین سے تشریف لانے والی دیگر شخصیات کو سیکورٹی یا پروٹوکول کے نام پر بے پناہ محبت کرنے والے عوام سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اوران کی سیکورٹی پر مامور پاکستانی گارڈز۔۔۔ان سے مصافحہ کرنے کی تڑپ رکھنے والوں کو دھکے مارنے سے بھی دریغ نہیںکرتے۔۔۔ لیکن قائم مقام سعودی سفیر الشیخ مروان بن رضوان نے اس موقع پر متحرک کردار ادا کر کے پاکستانیوں کو امام کعبہ اورسعودی عرب کے مزیدقریب کرنے کی جوکوشش کی ہے اس پر وہ تحسین کے مستحق ہیں۔

(وماتوفیقی الا باللّٰہ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online